- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
21- بَاب الاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ
۲۱-ب اب: سجدے میں اعتدال اور میانہ روی
۲۱-ب اب: سجدے میں اعتدال اور میانہ روی
891- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ، وَلا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ>۔
* تخريج: ت/المواقیت ۸۹ (۲۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۵، ۳۱۵، ۳۸۹) (صحیح)
۸۹۱- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے۱؎، اور اپنے دونوں بازووں کو کتّے کی طرح نہ بچھائے''۔
وضاحت۱؎: سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھائے رکھے، اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، حافظ ابن حجر نے کہا: بازوؤں کو بچھانا مکروہ ہے کیونکہ خشوع اور آداب کے خلاف ہے، البتہ اگر کوئی دیر تک سجدے میں رہے تو وہ اپنے گھٹنے پر بازو ٹیک سکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صحابی نے نبی اکرم ﷺ سے سجدے کی مشقت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''گھٹنوں سے مدد لو''۔
892- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: <اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ>۔
* تخريج: ن/الافتتاح ۸۹ (۱۰۲۹)، التطبیق ۵۳ (۱۱۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۷)، وقد أخرجہ: خ/المواقیت ۸ (۵۳۲)، الأذان ۱۴۱ (۸۲۲)، م/الصلاۃ ۴۵ (۴۹۳)، د/الصلاۃ ۱۵۸ (۹۸۷)، ت/المواقیت ۹۰ (۲۷۶)، حم (۳/۱۱۵، ۱۷۷، ۱۷۹، ۱۹۱، ۲۱۴، ۲۷۴، ۲۹۱)، دي/الصلاۃ ۷۵ (۱۳۶۱) (صحیح)
۸۹۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''سجدوں میں اعتدال کرو، اورتم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے''۔