- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
فَضْلُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
146- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < ائْذَنُوا لَهُ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ >۔
* تخريج: ت/المناقب ۳۵ (۳۷۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۹، ۱۰۰، ۱۲۳، ۱۲۶، ۱۳۰، ۱۳۷) (صحیح)
۱۴۶- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میںنبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ''انہیں آنے کی اجازت دو، طیب و مطیب (پاک و پاکیزہ شخص) کو خوش آمدید''۔
147- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِيئٍ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۰۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶) (صحیح)
۱۴۷- ہانی بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: طیب و مطیب (پاک و پاکیزہ) کو خوش آمدید، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ''مُشَاش'': ہڈیوں کے جوڑ کو کہتے ہیں، جیسے کہنی یا گھٹنے یا کندھے کا جوڑ، مراد یہ ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کے دل میں ایمان گھر کر گیا ہے، اور وہاں سے ان کے سارے جسم میں ایمان کے انوار و برکات پھیل گئے ہیں، اور رگوں اور ہڈیوں میں سما گئے ہیں، یہاں تک کہ جوڑوں میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا ہے، اور اس میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے کمال ایمان کی شہادت ہے جو عظیم فضیلت ہے۔
148- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، (ح) وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ حَبيبِ ابْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < عَمَّارٌ، مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلا اخْتَارَ الأَرْشَدَ مِنْهُمَا >۔
* تخريج: ت/المناقب ۳۵ (۳۷۹۹)، ن/الکبری، المناقب ۳۷ (۸۲۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱۳) (صحیح)
۱۴۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ''عمار پر جب بھی دو کام پیش کئے گئے تو انہوں نے ان میں سے بہترین کام کا انتخا ب کیا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی ہمیشہ دینی اور دنیاوی امور و مسائل میں سے وہ بات اختیار کی جو ان کے اور اتباع کے لئے زیادہ مفید اور نفع بخش ہو بہ نسبت دوسری باتوں کے، سلف صالحین کا ہمیشہ یہی دستور تھا کہ وہ اپنے لئے محتاط بات کو اختیار کرتے تھے، اور دوسروں کو ایسی چیز بتاتے تھے جو ان پر زیادہ سہل اور آسان ہو اس واسطے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ''تم آسانی اور سہولت کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو، تنگی کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے ہو''۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین مسئلہ خلافت میں علی رضی اللہ عنہ حق اور رشد سے زیادہ قریب تھے، اس لئے کہ عمار رضی اللہ عنہ انہی کی رفاقت میں شہید ہوئے، اور نبی اکرم ﷺ نے خبر دی تھی کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی فرقہ قتل کرے گا، اور ان کا قتل معاویہ رضی اللہ عنہ کے لوگوں کی طرف سے ہوا، غرض حق علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتہادی خطا ہوئی جس پر وہ کسی ملامت کے لائق نہیں ہیں، پھر بعد میں امت اسلامیہ کا اتحاد آپ کی قیادت میں اس وقت ہوا، جب حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے اپنا تعلق ختم کر لیا، اور اسے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سونپ دیا، اس طرح امت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر متفق ہو گئی۔