• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب إِفْرَادِ الإِقَامَةِ
۶- باب: اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہنے کا بیان​

729- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤْذِنُونَ بِهِ عِلْمًا لِلصَّلاةِ، فَأُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱ (۶۰۳)، ۲ (۶۰۵)، ۳ (۶۰۶)، م/الصلاۃ ۲ (۳۷۸)، د/الصلاۃ ۲۹ (۵۰۸)، ت/الصلاۃ ۲۷ (۱۹۳)، ن/الأذان ۲ (۶۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۰۳، ۱۸۹)، دي/الصلاۃ ۶ (۱۲۳۰) (صحیح)

۷۲۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں کو ایسی چیز کی تلاش ہوئی جس کے ذریعہ لوگوں کو صلاۃ کے اوقات کی واقفیت ہو جائے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے تو کافی ہے، کیونکہ اقامت حاضرین کو سنانے کے لئے کافی ہوتی ہے، اس میں تکرار کی ضرورت نہیں، اور عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث (طحاوی اور ابن ابی شیبہ) یہ ہے کہ فرشتے نے اذان دی، دو دو بار اور اقامت کہی دو دو بار، مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہنا کافی نہیں، اور محدثین کے نزدیک تو دونوں امر جائز ہیں، انہوں نے کسی حدیث کے خلاف نہیں کیا، لیکن حنفیہ پر یہ الزام قائم ہوتا ہے کہ افراد اقامت کی حدیثیں صحیح ہیں، تو افراد کو جائز کیوں نہیں سمجھتے۔

730- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ .
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)

۷۳۰- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔

731- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَعْدٍ، مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَذَانَ بِلالٍ كَانَ مَثْنَى مَثْنَى، وَإِقَامَتَهُ مُفْرَدَةٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۱) (صحیح)
(اسناد میں ضعف ہے کیونکہ اولاد سعد مجاہیل ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، اور اس کا معنی صحیح بخاری میں ہے)
۷۳۱- رسول اللہ ﷺ کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہتے تھے۔

732- حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُعَمَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ ﷺ حَدَّثَنِي أَبِي، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ؛ قَالَ: رَأَيْتُ بِلالا يُؤَذِّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُقِيمُ وَاحِدَةً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۲۴، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۲) (صحیح)
(سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں معمر بن محمد ضعیف ہیں)
۷۳۲- ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار۱؎۔
وضاحت۱؎: ان احادیث سے طحاوی اور ابن جوزی کی یہ روایت باطل ہو گئی کہ بلال رضی اللہ عنہ اقامت کے کلمات دو دو بار کہتے رہے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، یعنی ایک ایک بار اقامت کے کلمات انہوں نے کہے، کیونکہ یہ شہادت ہے نفی پر اور یہ جائز ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کبھی اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے ہوں، اور کبھی دو دو بار اور اس راوی نے ایک ایک بار کہنا نہ سنا ہو، اور اس صورت میں دونوں طرح کی روایتوں میں توفیق و تطبیق ہو جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب إِذَا أُذِّنَ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَلا تَخْرُجْ
۷- باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت​

733- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي، فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ۔
* تخريج: م/المساجد ۴۵ (۶۵۵)، د/الصلاۃ ۴۳ (۵۳۶)، ت/الصلاۃ ۳۶ (۲۰۴)، ن/الأذان۴۰ (۶۸۴، ۶۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۱۰، ۴۱۶، ۴۱۷، ۵۰۶، ۵۳۷)، دي/الصلاۃ ۱۲ (۱۲۴۱) (حسن صحیح)

۷۳۳- ابو الشعثاء کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں مؤذن نے اذان دی، ایک شخص مسجد سے اٹھ کر جانے لگا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا، اس وقت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کی نافرمانی کی۱؎۔
وضاحت۱؎: جو لوگ صلاۃ سے فارغ ہونے تک مسجد میں ٹھہرے رہے انہوں نے آپ ﷺ کی فرمانبرداری کی، نبی اکرم ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ جب مسجد میں اذان ہو جائے، تو پھر بغیر صلاۃ پڑھے نہ نکلے اگر وہ شخص دوسری جگہ کا امام ہو اور کوئی سخت عذر ہو تو نکلنا جائز ہے، صلاۃ پڑھ کر جائے تو بہتر ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ امر جائز ہے کہ ایک شخص جماعت کے ساتھ صلاۃ پڑھ لے، پھر اسی صلاۃ میں دوسرے لوگوں کی امامت کرے، معاذ رضی اللہ عنہ ایسا ہی کیا کرتے تھے، اور ان کی پہلی باجماعت صلاۃ فرض ہوتی تھی اوردوسری امامت والی صلاۃ نفل اور مقتدی ان کے پیچھے فریضہ ادا کرتے تھے۔

734- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <مَنْ أَدْرَكَهُ الأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ، لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ، وَهُوَ لايُرِيدُ الرَّجْعَةَ، فَهُوَ مُنَافِقٌ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۴۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۳) (صحیح)
(تراجع الألبانی: رقم: ۳۸۴)، اس سند میں عبد الجبار صاحب مناکیر ہیں، اور ابن أبی فروہ منکر الحدیث لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ : ۲۵۱۸)
۷۳۴- عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اس کا عمل منافق کے عمل کی طرح ہے کہ وہ صلاۃ پڑھنے کا خیال نہیں رکھتا، اور اس میں سستی کرتا ہے، یہ منافق کی نشانی ہے۔


* * * *
* * *
* *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ 4- كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَالْجَمَاعَاتِ }
۴- کتاب: مساجد اور جماعت کے احکام و مسائل


1- بَاب مَنْ بَنَى للهِ مَسْجِدًا
۱- باب: اللہ کی رضا کے لئے مسجد بنانے والے کی فضیلت​

735- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۰۴، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۰، ۵۳) (صحیح)
(عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
۷۳۵- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''جس شخص نے اللہ تعالی کے ذکر کے لئے مسجد بنائی، اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا''۔

736- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا، بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: م/المساجد ۴ (۵۳۳)، ت/الصلاۃ ۱۲۰ (۳۱۸)، (تحفۃالأشراف: ۹۸۳۷)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۶۵ (۴۵۰)، حم (۱/۶۱، ۷۰)، دي/الصلاۃ ۱۱۳ (۱۴۳۲) (صحیح)

۷۳۶- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لئے مسجد بنوائی، اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ''۱؎۔
وضاحت۱ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے، ویسے ہی اس گھر کو جنت کے دوسرے گھروں پر فضیلت ہو گی، مقصد یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنت میں گھر بنے، اللهم ارزقنا جنة الفردوس، آمين.

737- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ بَنَى مَسْجِدًا مِنْ مَالِهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۵) (ضعیف)
(سند میں ولید میں مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، وہ تدلیس تسویہ میں بھی مشہور ہیں، اور ابن لہیعہ اختلاط کا شکار ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث کثرت کی وجہ سے صحیح ہے)
۷۳۷- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے اللہ تعالی کے لئے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی، تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا''۔

738- حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ، أَوْ أَصْغَرَ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۶) (صحیح)

۷۳۸- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لئے بنوائی، تو اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث میں ''قطاۃ'' کا لفظ ہے، وہ ایک چڑیا ہے، جو دور دراز جنگل میں جا کر گھونسلا بناتی ہے، اور اس کا گھونسلا نہایت چھوٹا ہوتا ہے، اور یہ مبالغہ ہے مسجد کے چھوٹے ہونے میں، ورنہ گھونسلے کے برابر تو کوئی مسجد بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ کم سے کم مسجد میں تین آدمیوں کے صلاۃ پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ چھوٹی بڑی مسجد پر منحصر نہیں خالص نیت سے اگر کوئی نہایت مختصر مسجد بھی بنا دے گا، تب بھی اللہ تعالی اس کو اجر دے گا، اور جنت میں اس کے لئے مکان بنایا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب تَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ
۲- باب: مساجد کے سجانے اور اونچی بنانے کا بیان​

739- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۲ (۴۴۹)، ن/المساجد ۲ (۶۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۷)، حم (۳/۱۳۴، ۱۴۵، ۲۳۰، ۲۸۳)، دي/الصلاۃ ۱۲۳ (۱۴۴۸) (صحیح)

۷۳۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت قائم ہو گی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے''۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں لوگ کہیں گے کہ ہماری مسجد فلاں کی مسجد سے زیادہ عمدہ، بلند اور پرشکوہ ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں پر فخر کرنا قیامت کی نشانی ہے، لیکن مسجدوں کو آراستہ اور بلند کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی، دوسری حدیثوں سے اس امر کی کراہت ثابت ہے، لیکن علماء نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں مصلحتاً مساجد کی بلندی پر سکوت کرنا چاہئے کیونکہ یہود اور نصاری نے اپنے گرجاؤں کو بہت بلند اور عمدہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔

740- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَرَاكُمْ سَتُشَرِّفُونَ مَسَاجِدَكُمْ بَعْدِي كَمَا شَرَّفَتِ الْيَهُودُ كَنَائِسَهَا، وَكَمَا شَرَّفَتِ النَّصَارَى بِيَعَهَا>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۰۸)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۱۲ (۴۴۸) (ضعیف)
(سند میں جبارہ بن مغلس اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ثابت ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۷۳۳)
۷۴۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد مسجدوں کو ویسے ہی بلند اور عالی شان بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے گرجا گھروں کو، اور نصاریٰ نے اپنے کلیساؤں کو بنایا''۔

741- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ،عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا سَاءَ عَمَلُ قَوْمٍ قَطُّ إِلا زَخْرَفُوا مَسَاجِدَهُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۸) (ضعیف)
(جبارہ ضعیف ہے، اور ابو سحاق مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
۷۴۱- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کسی قوم کے اعمال خراب ہوئے تو اس نے اپنی مسجدوں کو سنوارا سجایا''۱؎۔
وضاحت۱؎: سبحان اللہ! آپ کا ارشاد گرامی کتنا درست اور صحیح ہے، اور سچی بات ہے کہ جب سے مسلمانوں نے بلا ضرورت مسجدوں کی زیب و زینت اور آراستگی میں مبالغہ شروع کیا اس وقت سے ان کے اعمال خراب ہو گئے، علم دین کی تعلیم کم ہو گئی، دینی مدرسے سے لوگوں کی دلچسپی کم ہو گئی، دینی طالب علموں کے تعلیمی اخراجات کے بارے میں لوگ غفلت کا شکار ہیں، جہالت کا بازار گرم ہے، بدعات و خرافات اور مشرکانہ افعال و اعمال کا رواج ہو گیا ہے، لیکن مسجدوں کی آرائش روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، مساجد کی بڑی آرائش اور زینت تو یہی ہے کہ وہاں اول وقت اذان دی جائے، امام دیندار اور عالم ہو، صلاۃ سنت کے موافق، شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کی جائے، روشنی بقدر ضرورت کی جائے کہ مصلیان کو اندھیرے کی تکلیف نہ ہو، اس سے زیادہ جو روپیہ بچے وہ علم دین کی ترقی میں صرف کیا جائے، دینی کتابیں چھاپی جائیں، دینی واعظوں کو تنخواہ دی جائے کہ وہ مسلمانوں کو دین کی تعلیم دیں اور کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دیں، طالب علموں کی خبر گیری کی جائے، مدرسین رکھے جائیں، مدرسے کھلوائے جائیں، اگر یہ جانتے ہوئے بھی کوئی شخص اپنا روپیہ پیسہ ان کاموں میں صرف نہ کرے، اور مسجد کے نقش و نگار اور آراستگی اور روشنی اور فرش میں فضول خرچی کرے تو وہ گناہ گار ہو گا، اور آخرت میں اس سے باز پُرس ہو گی کیونکہ اس نے ظاہر کو آراستہ کیا اور باطن کو خراب کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ؟
۳- باب: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟​

742- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ ﷺ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَمَقَابِرُ لِلْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ: < ثَامِنُونِي بِهِ >، قَالُوا: لا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا أَبَدًا، قَالَ فَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ، وَالنَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: <أَلا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ>، قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ۔
* تخريج:خ/الصلاۃ ۴۸ (۴۲۸)، فضائل المدینۃ ۱ (۱۸۶۸)، فضائل الأنصار۴۶ (۳۹۳۲)، م/المساجد ۱ (۵۲۴)، د/الصلاۃ ۱۲ (۴۵۳، ۳۵۸)، ن/المساجد ۱۲ (۷۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۸، ۱۲۳، ۲۱۲،۲۴۴) (صحیح)

۷۴۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجّار کی ملکیت تھی، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں، نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا: ''تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو''، ان لوگوں نے کہا: ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو (سامان دے رہے تھے) اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ''سنو! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! تو مہاجرین اور انصارکو بخش دے''، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں صلاۃ کا وقت ہو جاتا نبی اکرم ﷺ وہیں صلاۃ پڑھ لیتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: جس جگہ مسجد نبوی بنائی گئی وہ ویران اور غیر آباد جگہ تھی، اسی میں بعض مشرکین کی قبریں تھیں، جن کو رسول اکرم ﷺ نے اکھاڑنے کا حکم دیا، تو قبریں اکھاڑ دیں گئیں، تب آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی، تفصیل بخاری، مسلم، ابو داود وغیرہ کی روایات میں دیکھئے، نیز کوئی خاص جگہ متعین نہ تھی، نبی اکرم ﷺ نے جو فرمایا: ''زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے''، نہایت درست کلام ہے، اگر سچ پوچھیں تو دنیا میں عیش ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی فکر نہ ہو جب بھی مرنے کی اور بیماری کی فکر لگی رہتی ہے، عیش تو اسی وقت سے شروع ہو گا جب کسی کو جنت میں جانے کا حکم ہو جائے گا، اے اللہ تعالی ہم سب کو جنت نصیب فرمائے آمین۔

743- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلالُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَ طَاغِيَتُهُمْ ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۲ (۴۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۶۹) (ضعیف)
(سند میں محمد بن عبد اللہ بن عیاض مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو:ضعیف أبو داود: ۶۶)
۷۴۳- عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا۔

744- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَسُئِلَ عَنِ الْحِيطَانِ تُلْقَى فِيهَا الْعَذِرَاتُ، فَقَالَ: <إِذَا سُقِيَتْ مِرَارًا فَصَلُّوا فِيهَا >، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۱۹، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۹) (ضعیف)
(سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے ہے)
۷۴۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اُن باغات میں صلاۃ پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے، انہوں نے کہا: جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں صلاۃ پڑھ لو۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب الْمَوَاضِعِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاةُ
۴- باب: جن جگہوں پر صلاۃ مکروہ ہے ان کا بیان​

745- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۴ (۴۹۲)، ت/الصلاۃ ۱۲۰ (۳۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۰۶) وقد أخرجہ: حم (۳/۸۳، ۹۶)، دي/الصلاۃ ۱۱۱ (۱۴۳۰) (صحیح)

۷۴۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: ان دو جگہوں کے سوا ہر جگہ صلاۃ پڑھ سکتے ہیں، اس لئے کہ قبرستان کی مٹی مردوں کی نجاستوں سے مخلوط ہے، اور حمام (غسل خانہ) گندگیوں کے ازالہ کی جگہ ہے۔

746- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِي الْمَزْبَلَةِ وَالْمَجْزَرَةِ وَالْمَقْبَرَةِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَالْحَمَّامِ وَمَعَاطِنِ الإِبِلِ وَفَوْقَ الْكَعْبَةِ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۴ (۳۴۶، ۳۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۶۰) (ضعیف)
(محمد بن ابراہیم منکراور زید بن جبیرہ متروک ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۸۷، یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن ان مقامات کے بارے میں دوسری احادیث وارد ہوئی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے)
۷۴۶- ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سات مقامات پر صلاۃ پڑھنے سے منع فرمایا ہے: ''کوڑا خانہ، مذبح (ذبیحہ گھر)، قبرستان، عام راستہ، غسل خانہ، اونٹ کے باڑے اور خانہ کعبہ کی چھت پر'' ۔

747- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <سَبْعُ مَوَاطِنَ لا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلاةُ: ظَاهِرُ بَيْتِ اللَّهِ، وَالْمَقْبَرَةُ، وَالْمَزْبَلَةُ، وَالْمَجْزَرَةُ، وَالْحَمَّامُ، وَعَطَنُ الإِبِلِ، وَمَحَجَّةُ الطَّرِيقِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۷۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۱)، ت/الصلاۃ (۳۴۷ تعلیقاً)
(ضعیف)
(اس سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں، اور سنن ابن ماجہ کے بعض نسخوں میں ساقط ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۸۷)
۷۴۷- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سات مقامات پر صلاۃ جائز نہیں ہے: خانہ کعبہ کی چھت پر، قبرستان، کوڑا خانہ، مذبح، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب مَا يُكْرَهُ فِي الْمَسَاجِدِ
۵- باب: جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان​

748- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <خِصَالٌ لا تَنْبَغِي فِي الْمَسْجِدِ: لا يُتَّخَذُ طَرِيقًا، وَلا يُشْهَرُ فِيهِ سِلاحٌ، وَلا يُنْبَضُ فِيهِ بِقَوْسٍ، وَلا يُنْشَرُ فِيهِ نَبْلٌ، وَلا يُمَرُّ فِيهِ بِلَحْمٍ نِيئٍ، وَلا يُضْرَبُ فِيهِ حَدٌّ، وَلا يُقْتَصُّ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ، وَلا يُتَّخَذُ سُوقًا>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۶۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۰) (ضعیف)
(اس سند میں زید بن جبیرہ ضعیف ہیں، لیکن ''لا يُتَّخَذُ طَرِيقًا'' کا جملہ صحیح ہے، اس لئے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً طبرانی کبیر (۱۲/۳۱۴) سند حسن سے مروی ہے: ''لا تتخذ المساجد طريقاً إلا لذكر الله أو صلاة'' نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۴۹۷، والصحیحہ: ۱۰۰۱)
۷۴۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں، اس کو عام گذرگاہ نہ بنایا جائے، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے، تیر اندازی کے لئے کمان نہ پکڑی جائے، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے، اس میں حد نہ قائم کی جائے، کسی سے قصاص نہ لیا جائے، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے''۔

749- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْبَيْعِ وَالابْتِيَاعِ وَعَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ فِي الْمَسَاجِدِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۲۰ (۱۰۷۹)، ت/الصلاۃ ۱۲۴ (۳۲۲)، ن/المساجد ۲۲ (۷۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۹) (حسن)

۷۴۹- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خرید و فروخت اور (غیر دینی) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: مراد فحش اور مخرب اخلاق اشعار ہیں، وہ اشعار جو توحید اور اتباع رسول وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں، تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔

750- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ ابْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:<جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ، وَمَجَانِينَكُمْ، وَشِرَائَكُمْ، وَبَيْعَكُمْ، وَخُصُومَاتِكُمْ،وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ، وَاتَّخِذُوا عَلَى أَبْوَابِهَا الْمَطَاهِرَ، وَجَمِّرُوهَا فِي الْجُمَعِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۷۲) (ضعیف جداً)
(اس حدیث کی سند میں حارث بن نبہان ضعیف ہیں، اور ابو سعد محمدبن سعید المصلوب فی الزندقہ متروک)
۷۵۰- واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں (پاگلوں)، خرید و فروخت کرنے والوں، اور اپنے جھگڑوں (اختلافی مسائل)، زور زور بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: بچوں کو مسجد میں لانا اس وقت مکروہ ہے جب وہ روتے چلاتے ہوں، یا ان کے پیشاب اور پاخانہ کر دینے کا ڈر ہو، ورنہ دوسری صحیح حدیثوں سے بچوں کا مسجد میں آنا ثابت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ
۶- باب: مسجد میں سونے کا بیان​

751- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ،أَنْبَأَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۱۲)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۵۸ (۴۴۰)، ت/الصلاۃ ۱۲۲ (۳۲۱)، ن/المساجد ۲۹ (۷۲۳)، حم (۲/۱۲)، دي/الصلاۃ ۱۱۷ (۱۴۴۰) (صحیح)

۷۵۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں سوتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: مسجد میں سونا جائز ہے، خصوصاً مسافر کے واسطے مگر جن لوگوں کا گھر بار موجود ہو ان کے لئے ہمیشہ مسجد میں سونے کی عادت کو بعض علماء نے مکروہ کہا ہے، اور جو لوگ صلاۃ کے لئے مسجد میں آئیں وہ اگر وہاں سو جائیں تو درست ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا ہے۔

752- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ يَعِيشَ بْنَ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < انْطَلِقُوا> فَانْطَلَقْنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ وَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنْ شِئْتُمْ نِمْتُمْ هَاهُنَا، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ>، قَالَ فَقُلْنَا: بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ۔
* تخريج: د/الأدب ۱۰۳ (۵۰۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۹، ۴۳۰، ۵/۴۲۶، ۴۲۷) (ضعیف)
(حدیث میں اضطراب ہے، نیز سند میں یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، اور اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
۷۵۲- قیس بن طِخْفَة (جو اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ''تم سب چلو''، چنانچہ ہم سب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، وہاں ہم نے کھایا پیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ''اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ''، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے۱؎۔
وضاحت۱؎: اصحاب صفہ وہ لوگ تھے جو مسجد نبوی کے صفہ یعنی سائباں میں رہتے تھے، گھر بار مال و اسباب ان کے پاس کچھ نہ تھا، وہ مسکین تھے، کوئی کھلا دیتا تو کھا لیتے، ان کے حالات کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ؟
۷- باب: سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟​

753- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، (ح) وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ؟ قَالَ: <الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ>، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: <ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى>، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: < أَرْبَعُونَ عَامًا، ثُمَّ الأَرْضُ لَكَ مُصَلًّى، فَصَلِّ حَيْثُ مَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاةُ >۔
* تخريج:خ/أحادیث الأنبیاء ۱۱ (۳۳۶۶)، ۴۰ (۳۴۲۵)، م/المساجد ۱ (۵۲۰)، ن/المساجد ۳ (۶۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵۰، ۱۵۶، ۱۶۰، ۱۶۷) (صحیح)

۷۵۳- ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''مسجد حرام''، میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر مسجد اقصیٰ''، میں نے پوچھا: ان دونوں کی مدت تعمیر میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''چالیس سال کا، پھرساری زمین تمہارے لئے صلاۃ کی جگہ ہے، جہاں پر صلاۃ کا وقت ہو جائے وہیں ادا کر لو''۱؎۔
وضاحت۱؎: ظاہراً اس میں اشکال ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس میں چالیس برس کا فاصلہ ہے، کیونکہ کعبہ کو ابراہیم علیہ السلام نے بنایا، اور بیت المقدس کو سلیمان علیہ السلام نے اور ان دونوں میں ہزار برس سے زیادہ فاصلہ تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کو آدم علیہ السلام نے بنایا تھا، اور ممکن ہے کہ ان دونوں کی بنا میں چالیس برس کا فاصلہ ہو، پھر ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے اپنے اپنے وقتوں میں ان بنیادوں کو جو مٹ گئی تھیں دو بارہ بنایا، اور ابن ہشام نے سیرت میں بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے کہ پہلے آدم علیہ السلام نے کعبہ کو بنایا، پھر اللہ تعالی ان کو ملک شام لے گیا وہاں انہوں نے بیت المقدس کو بنایا، بہرحال جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، وہ صحیح ہے، اگرچہ تاریخ والے اس کے خلاف یا اس کے موافق لکھیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ہی نے خانہ کعبہ اور بیت المقدس کی تعمیر کی ہو جس میں چالیس سال کا وقفہ ہو، بعض روایات میں بیت المقدس کی تأسیس کے حوالے اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کا نام بھی آیا ہے، جس کا معنی یہ ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کعبہ سے چالیس برس بعد ان کے بیٹے اسحاق علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی تھی اور سلیمان بن داود علیہ السلام نے بیت المقدس کی تجدید و توسیع کروائی تھی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کی بنیادوں پر ہی کعبۃ اللہ کی تعمیر تجدید کی تھی، واللہ اعلم بالصواب۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ
۸- باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان​

754- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ قَدْ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ دَلْوٍ فِي بِئْرٍ لَهُمْ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ السَّالِمِيِّ، وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ بَنِي سَالِمٍ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ﷺ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي، وَإِنَّ السَّيْلَ يَأْتِي فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، وَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَافْعَلْ، قَالَ: <أَفْعَلُ> فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ، بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، وَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، وَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: <أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ؟> فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ احْتَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرَةٍ تُصْنَعُ لَهُمْ۔
* تخريج : خ/الصلاۃ ۴۵ (۲۲۴)، ۴۶ (۲۲۵)، الأذان ۴۰ (۶۶۷)، ۵۰ (۶۸۶)، ۱۵۴ (۸۳۹)، التہجد ۳۶ (۱۱۸۵)، الأطعمۃ ۱۵ (۵۲۰۱)، م/المساجد ۴۷ (۳۳)، ن/الإمامۃ ۱۰ (۷۸۹)، ۴۶ (۸۴۵)، السھو ۷۳ (۱۳۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۵۰، ۱۱۲۳۵)، وقد أخرجہ: ط/ قصر الصلاۃ ۲۴ (۸۶)، حم (۴/۴۴، ۵/۴۴۹) (صحیح)

۷۵۴- محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اکرم ﷺ نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کر دی تھی، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی (جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے تھے) وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اسے پار کرنا میرے لئے دشوار ہوتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں صلاۃ پڑھ دیں، تاکہ میں اس کو اپنے لئے مصلیٰ (صلاۃ کی جگہ) بنا لوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ٹھیک ہے، میں ایسا کروں گا''، اگلے روزجب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی، آپ ﷺ ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا: ''تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لئے وہاں صلاۃ پڑھ دوں؟''، میں جہاں صلاۃ پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا، رسول اکرم ﷺ کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت صلاۃ پڑھائی، پھر میں نے آپ کو خزیرہ (حلیم)۱؎ تناول کرنے کے لئے روک لیا جو ان لوگوں کے لئے تیار کیا جا رہا تھا''۲؎۔
وضاحت۱؎: خزیرہ : یہ ایک قسم کا کھانا ہے جو گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر آٹا ڈال کر پکایا جاتا ہے، موجودہ دور میں یہ حلیم کے نام سے مشہور ہے۔
وضاحت۲؎: اس حدیث سے بہت سی باتیں نکلتی ہیں، گھر میں مسجد بنانا، چاشت کی صلاۃ جماعت ادا کرنا، اندھے کے لئے جماعت سے معافی، غیر کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت لینا، نفل صلاۃ جماعت سے جائز ہونا وغیرہ وغیرہ۔

755- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْمُقْرِى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنْ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فِي دَارِي أُصَلِّي فِيهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَمِيَ، فَجَاءَ فَفَعَلَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۱۴، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۳) (صحیح)

۷۵۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لئے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں صلاۃ پڑھا کروں، اور یہ اس لئے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، اور ان کی مراد پوری کر دی۱؎۔
وضاحت۱؎: انصاری آدمی سے مراد صحابی رسول عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے۔

756- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ ﷺ طَعَامًا، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ هَذِهِ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَكُنِسَ وَرُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ.
قَالَ أَبُو عَبْداللَّهِ ابْن مَاجَةَ: الْفَحْلُ هُوَ الْحَصِيرُ الَّذِي قَدِ اسْوَدَّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۲، ۱۲۸) (صحیح)
(نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۶۶۵)
۷۵۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم ﷺ کے لئے کھانا تیار کیا، اور انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کی کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں، اور اس میں صلاۃ بھی پڑھیں، تو آپ ﷺ تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا، وہ صاف کیا گیا، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، تو آپ ﷺ نے صلاۃ پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ صلاۃ پڑھی۱؎۔
ابوعبد اللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ فحل اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو۔

وضاحت۱؎: اس حدیث سے بوریئے پر صلاۃ پڑھنا ثابت ہوا، اور پرانے بوریئے پر بھی جو بچھتے بچھتے کالا ہو گیا تھا، صرف صفائی کے لئے آپ ﷺ نے اس کا ایک کونہ جھڑوا دیا، اور تھوڑا پانی اس پر چھڑک دیا، اہل حدیث کا طرز یہی ہے کہ وہ ہر فرش پر صلاۃ پڑھ لیتے ہیں، گو وہ کتنا ہی پرانا ہو بشرطیکہ اس کی نجاست کا یقین نہ ہو، اور جب تک نجاست کا یقین نہ ہو وہ پاک ہی سمجھا جائے گا، اس لئے کہ ہر شے میں پاکی ہی اصل ہے۔
 
Top