• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوئے ہوئے شخص پر روزہ

شمولیت
جون 07، 2014
پیغامات
32
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
36
سلام !

نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا رفع القلم ۔۔۔۔۔ عن النائم۔
i) سوئے ہوئے شخص پر روزہ لازم نہیں ہونا چاہیئے
ii) یہ حدیث صدقہ جاریہ کا انکار کررہی ہے۔

اس متعلق کچھ رہنمائی فرمائیں

بصد شکریہ
شیخ نوید
 

حافظ اختر علی

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
768
ری ایکشن اسکور
732
پوائنٹ
317
سلام !

نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا رفع القلم ۔۔۔۔۔ عن النائم۔
i) سوئے ہوئے شخص پر روزہ لازم نہیں ہونا چاہیئے
ii) یہ حدیث صدقہ جاریہ کا انکار کررہی ہے۔

اس متعلق کچھ رہنمائی فرمائیں

بصد شکریہ
شیخ نوید
محترم آپ نے جو دو سوال پیدا کیے ہیں وہ مریض ذہن کی اختراع ہے ورنہ اس حدیث سے نہ تو یہ سوال پیدا ہو رہے ہیں اور نا ہی ایک حدیث میں کبھی تمام مسائل بیان ہوئے ہیں اس لیے یہاں پر جو مقصود ہے وہ آپ کو بھی سمجھ آ رہا ہے لیکن بات پھر وہی بنے گی یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,552
پوائنٹ
641
سلام !

نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا رفع القلم ۔۔۔۔۔ عن النائم۔
i) سوئے ہوئے شخص پر روزہ لازم نہیں ہونا چاہیئےii) یہ حدیث صدقہ جاریہ کا انکار کررہی ہے۔

اس متعلق کچھ رہنمائی فرمائیں

بصد شکریہ
شیخ نوید
اس روایت کے مطابق انسان اس وقت تک مرفوع القلم ہے جب تک کہ وہ سوئے رہنے کی حالت میں ہو۔ جب وہ بیدار ہو جائے تو فرض اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اس لیے حدیث میں رفع کے لفظ ہیں نہ کہ اسقاط کے۔ یعنی فرض اس سے ساقط نہیں ہوتا ہے بلکہ سوئے رہنے کے وقت تک اٹھ جاتا ہے اور جب انسان دوبارہ بیدار ہوتا ہے تو وہ فرض اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔

حدیث میں صدقہ جاریہ کے انکار والے مسئلے کی ذرا تفصیل بیان کر دیں تو مکالمہ بڑھایا جائے۔ جزاکم اللہ
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,424
پوائنٹ
521
السلام علیکم

نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا رفع القلم ۔۔۔۔۔ عن النائم۔
i) سوئے ہوئے شخص پر روزہ لازم نہیں ہونا چاہیئے
محترم نوید آپ کے سوال کا جواب تو یہاں کی ٹیم ہی دے گی مگر ترجمہ درست کر لیں تاکہ آپکو سوال سمجھنے اور جواب دینے والوں کا آسانی ہو۔

حدیث پاک میں ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

رفع القلم عن ثلاثة
عن المجنون المغلوب علی عقله
وعن النائم حتی يستيقظ
وعن الصبی حتی يحتلم
.

’’تین قسم کے لوگوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا
مجنوں جس کی عقل پر غصہ غالب ہو،
سونے والا جب تک بیدار نہ ہو جائے
اور بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے۔‘‘

حاکم، المستدرک، 2 : 68، رقم 2351، دار الکتب العلمية، بيروت، سن اشاعت 1411ه
ابن حبان، الصحيح، 1 : 356، رقم 143، مؤسسة الرسالة، بيروت، سن اشاعت 1414ه
ابن خزيمة، الصحيح، 4 : 348، رقم 3048، ، المکتب الاسلامی، بيروت، سن اشاعت1390ه
نسائی، السنن الکبری، 4 : 323، رقم 7343، دار الکتب العلمية، بيروت، سن اشاعت 1411ه
ابو داؤد، السنن، 4 : 140، رقم 4401، دار الفکر
دار قطنی، السنن، 3 : 138، رقم 173، دار المعرفة، بيروت، سن اشاعت 1386ه
هندی، کنز العمال، 4 : 98، رقم 10309، دارالکتب العلمية، بيروت، سن اشاعت 1419ه



سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی يستيقظ وعن الغلام حتی يحتلم وعن المجنون حتی يفيق.
’’تین قسم کے لوگوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا سونے والا جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے اور مجنوں جب تک سمجھدار نہ ہو جائے۔‘‘

ابن حبان، الصحيح، 1 : 355، رقم 142، مؤسسة الرسالة، بيروت، سن اشاعت 1414ه
ابوداؤد، السنن، 4 : 141، رقم 4403، دارالفکر
ييهقی، السنن الکبری، 3 : 83، رقم 4868، مکتبة دار الباز مکة المکرمة، سن اشاعت 1414ه



امام نسائی اور ابن ماجہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنھا کی روایت کو چند الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ بیان کیا ہے :

رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی يستيقظ وعن الصغيرحتی يکبروعن المجنون حتی يعقل أويفيق.
’’تین قسم کے لوگوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا سونے والا جب تک بیدار نہ ہو جائے، چھوٹا (بچہ) جب تک بڑا (بالغ) نہ ہو جائے اور مجنوں جب تک عقل مند یعنی سمجھدار نہ ہو جائے۔‘‘

نسائی، السنن الکبری، 4 : 323، رقم 7343، دار الکتب العلمية، بيروت، سن اشاعت 1411ه
ابن ماجه، السنن، 1 : 658، رقم 2041، دارالفکر، بيروت

والسلام
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
751
پوائنٹ
290
سلام !

نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا رفع القلم ۔۔۔۔۔ عن النائم۔
i) سوئے ہوئے شخص پر روزہ لازم نہیں ہونا چاہیئے
ii) یہ حدیث صدقہ جاریہ کا انکار کررہی ہے۔

اس متعلق کچھ رہنمائی فرمائیں

بصد شکریہ
شیخ نوید
نوید بھائی
رفع قلم کا مطلب ہے کہ انسان پر گناہ نہیں ہوتا۔ نہ کہ انسان پر وجوب بھی نہیں ہوتا۔

قال السندی فی حاشیتہ علی سنن ابن ماجہ:۔
قوله (رفع القلم) كناية عن عدم كتابة الآثام عليهم في هذه الأحوال وهو لا ينافي ثبوت بعض الأحكام الدنيوية والأخروية لهم في هذه الأحوال كالمتلقات وغيرها فلذلك من فاتته صلاة في النوم فصلى ففعله قضاء عند كثير من الفقهاء مع أن القضاء مسبوق بوجوب الصلاة فلا بد لهم من القول بالوجوب حالة النوم ولهذا أن الصحيح أن الصبي يثاب على الصلاة وغيرها من الأعمال فهذا الحديث كحديث رفع عن أمتي الخطأ مع أن القاتل خطأ يجب عليه الكفارة وعلى عاقلته الدية
1۔629، ط دار الجیل


اسی طرح عون المعبود میں ہے:۔
وحكى بن العربي أن بعض الفقهاء سئل عن إسلام الصبي فقال لا يصح واستدل بهذا الحديث فعورض بأن الذي ارتفع عنه قلم المؤاخذة وأما قلم الثواب فلا
12۔50 ط دار الکتب العلمیہ


علماء کی ایک جماعت کا یہ مسلک بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان تین حالات میں وجوب بھی نہیں ہوتا۔
تو اس صورت میں اس کا جواب وہی ہوگا جو محترم ابو الحسن علوی بھائی نے دیا ہے یعنی:۔
اس روایت کے مطابق انسان اس وقت تک مرفوع القلم ہے جب تک کہ وہ سوئے رہنے کی حالت میں ہو۔ جب وہ بیدار ہو جائے تو فرض اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اس لیے حدیث میں رفع کے لفظ ہیں نہ کہ اسقاط کے۔ یعنی فرض اس سے ساقط نہیں ہوتا ہے بلکہ سوئے رہنے کے وقت تک اٹھ جاتا ہے اور جب انسان دوبارہ بیدار ہوتا ہے تو وہ فرض اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
دوسرا جواب اس کا تھوڑا سا پیچیدہ ہے۔ وہ یہ کہ فرض تو اس پر بوقت بلوغ کتب علیکم کے امر سے ہو گیا تھا۔ اور یہ دنوں کا آنا اس فرض کے وقت کی علامت ہے۔ یعنی جب فلاں دن ہوگا تو تمہیں یہ فرض ادا کرنا ہوگا۔ اب اس وقت بے شک بندہ سو رہا ہو روزہ اس پر بہر حال فرض ہوجائے گا۔ البتہ اس فرض کی ادا کا "مطالبہ" اس وقت ہوگا جب وہ جاگے گا۔

تیسرا مسلک علماء کا اس بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد حد ہے۔ یعنی ان تین افراد پر کسی جرم کے باعث حد لازم نہیں ہوتی۔ جیسا کہ مختلف محدثین نے اسے حد کے بیان میں ذکر کیا ہے اور علامہ ہیثمی نے موارد الظمآن میں اس پر یہ باب قائم کیا ہے: باب فيمن لا حد عليه

صدقہ جاریہ کی وضاحت کے لیے ابن العربی کے یہ الفاظ کافی ہیں:۔
فعورض بأن الذي ارتفع عنه قلم المؤاخذة وأما قلم الثواب فلا
یہی بات ابن حبان وغیرہ نے بھی کی ہے۔ تفصیل کے لیے قوت المغتذی اور عون المعبود دیکھیے۔
واللہ اعلم

محترم بھائی! بجائے "سلام" کے "السلام علیکم" تحریر فرمایا کریں۔
 
Top