• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورۃ البقرہ 102

شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
18
پوائنٹ
79
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک گزارش ہے کہ نرگسیت میں مبتلا نہ ہوں، بات سمجھنے کی کوشش کریں، آپ کی باتوں سے واضح ہے کہ آپ حدیث ہی نہیں بلکہ قرآن سے بھی لا علم ہیں، اس لیے کوشش کریں، جو علما آپ کو وقت دے رہے ہیں، ان کی بات ماننا نہیں تو کم از کم ان سے سیکھ کر اپنے موقف میں کچھ نہ کچھ بہتری پیدا کرلیں۔
تاکہ آپ کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ میری بات کا علمی جواب نہیں دیا ، اس لیے مختصرا عرض کردیتاہوں، اس آیت میں ’ما‘ صرف ایک جگہ استعمال نہیں ہوا، بلکہ سات آٹھ مرتبہ یہ لفظ آیا ہے، بعض دفعہ یہ لفظ نفی کے لیے استعمال ہوا ہے، بعض دفعہ اثبات ( موصولہ ) کے طور پر۔
جو شخص عربی زبان کے اسلوب سے واقف ہے، وہ اس آیت میں نفی کہاں ہے، اثبات کہاں ہے، فورا پہچان جائے گا، لیکن اگر آپ کی طرح ایک بات پرمصر رہیں، تو میرے بھائی یہ قرآن نہیں رہے گا، بلکہ ایک بچگانہ گفتگو بن جائے گی، جس کا نہ کوئی سر ہوگا نہ پیر۔
جس طرح آپ اصرار کر رہے ہیں کہ ماانزل کا مانافیہ ہے، اسی طرح کوئی اور اصرار کرے کہ ما کفر سلیمان کا ما موصولہ ہے، تو قرآن کریم کی یہ آیات بینات کھلواڑ بن کر رہ جائیں گی۔
میں نے مفسرین کے اقوال دیکھیں، تقریبا سب نے ماانزل کے ما کو موصولہ بنایا ہے۔ ہاں بعض لوگوں نے مانافیہ کا قول نقل کیا ہے۔
آپ راجح مرجوح کی بات کریں، تو کوئی سمجھ میں آئے، سیدھا سیدھا راجح اور قابل اعتماد قول کو غلط کہنا، اور اپنی رائے یا ایک شاذ اور ضعیف قول کو درست کہنا، یہ جرأت لاعلمی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اہل علم کا یہ انداز نہیں دیکھا۔
السلام علیکم! محترم۔شکریہ آپ نے بہت اچھی بات کہی میں آج آپ کی جان چھوڑ دیتا ہوں۔۔لیکن۔صرف یہ کہ اللہ کا کوئی اصول نہیں عام لوگوں کے لئے فرشتے کسی بھی صورت میں تعلیم و تربیت کے لئے اس دنیا والوں کے لئے نازل فرمائے۔۔۔۔۔۔آپ اپنی بات پر میں اپنی ۔قیامت کے دن ان شائ اللہ فیصل ہو جائے گا۔۔۔۔شکریہ۔۔۔۔
میں نے ایک آیت سے دوسری آیت سے تفسیر لے کر آپ سے سامنے رکھی تھی۔۔۔۔بلکل آپ کی بات درست ہے کہ ایک لفظ کے بہت سے معنی ہیں لیکن محترم۔۔۔سیاق و سباق اور دوسری آیات کو سامنے رکھ کر ہم راد اصلی کی طرف جا سکتے ہیں۔۔کیونکہ یہ وہی قرآن ہے جو اللہ نے نازل فرمایا اور اللہ سے بہتر مراد اصلی کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔لیکن خیر۔۔۔۔شکریہ۔۔مہربانی آپ کی۔۔۔
پھر کہتا چلو ۔۔جادو جنتر منتر سے کوئی کسی کو کہیں بھی کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔۔۔۔اگر آپ اس طرح کے جادو کے قائل ہیں تو آپ مشرک ہیں۔۔۔۔
نظر بد نہیں ہے جیسے بدشگونی نہیں ہے اسی طرح نطر بد بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔اللہ کی آیات پر غور فرمائیں۔۔۔۔اور سوچیں آپ کہیں شرک تو نہیں کر رہے ۔۔۔اگر کر رہے ہیں تو اللہ سے دعا کریں اللہ ہدایت دے آپ کو۔۔۔۔۔شکریہ محترم۔۔۔۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,513
پوائنٹ
964
پھر کہتا چلو ۔۔جادو جنتر منتر سے کوئی کسی کو کہیں بھی کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔۔۔۔اگر آپ اس طرح کے جادو کے قائل ہیں تو آپ مشرک ہیں
جاتے جاتے پھر ایک اور بلنڈر کر گئے ہیں۔
کسی کو تھپڑ لگے تو درد ہوتی ہے، اسی طرح جادو کی بھی تاثیر ہے۔
اور یہ سب چیزیں اللہ کی مشیئت کے تابع ہیں، اسے شرک کہنا واضح لاعلمی ہے۔
 
شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47
سورة الحج (22.3)
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِيدٍ
بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وہ بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں (١)۔

سورة النساء (4.35)
وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو (۱) اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا یقیناً پورے علم والا اور پوری خبر والا ہے۔

سورة الأحزاب (33.4)
اللہ تعالٰی حق بات فرماتا ہے۔

سورة البقرة (2.102)
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَآأُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
ا ور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے (١) اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جادونہیں اتارا گیا تھا (٢) وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے (٣) جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں (٤) تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وہبغیر اللہ تعالٰی کی مرضی کے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے (٥) یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نہ نفع پہنچا سکے، اور وہ جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔

نوٹ۔
اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان۔
کہ
وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ (سلمیان نے تو کفر نہ کیا) وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُو (بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا) النَّاسَ السِّحْرَ (لوگوں کو جادو سکھاتے تھے)
کون سکھاتے تھے شیطان۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہ لوگوں کا عقیدہ تھا کہ سلمیان جادوگر تھے اور جادو کی مدد سے بادشاہ بنے اور یہ دو ہاروت ماروت فرشتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کی درستگی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔

کہ سلمیان کوئی جادوگر نہیں تھے جادو تو کفر ہے اور کفر تو شیطان کرتے ہیں یہ میرا نیک اور پاک بندہ ہےاوریہ میری پیروی کرتا ہے میرے حکم کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور وہ دو فرشتے نہیں ہیں جنہیں تم فرشتے کہ رہے وہ شیطان ہیں میں نے کوئی حکم کوئی جادو ان پر نازل نہیں کیا۔۔۔

وَمَآ أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ۔
اور نہیں نازل کیا کوئی حکم بابل میں ہاروت و ماروت نامی فرشتوں پر۔۔۔۔۔

اس آیت میں وَمَآ کا ترجمہ اکثریت نے" اور جو " کیا اور اس کو اسم موصول کہا گیا۔۔۔

جبکہ قرآن مجید سے ہی ثابت ہے کہ اس لفظ (وؐمآ) کواسم نفی کے لئے استعمال بھی کیا جاتا ہے اور جس کا ترجمہ۔۔
اور نہیں ، اور نہ میں آتا ہے۔

مزید دیکھیں یہ آیات۔

سورة الأحقاف (46.9)
سورة طه (20.2)
سورة التبت (111.2)
سورة يوسف (12.3)
سورة فاطر (35.21)
سورة الصافات (37.162)

ان سب آیات میں وَمَآ کا ترجمہ اور نہیں یا اور نہ میں کیا گیا۔۔۔اللہ اکبر

جادو کی تعریف ۔۔۔قرآن مجید سے جو ثابت ہے۔

سورة المائدة (5.110)
  • ان کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام نے گارے سے ایک شکل بناتے پھر اللہ کے حکم سے سچ مچ کا پرندہ بنا دیا۔
  • مردہ کو زندہ کرتے اللہ کے ہی حکم سے زندہ کرتے۔
  • مادر زاد اندھےکو اللہ کے ہی حکم سے اچھا کرتے۔
  • کوڑھی کواللہ کے ہی حکم سے اچھا کرتے۔
تو یہ جواب دیتے یہ صرف جادو ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔

سچ اور حق کو سامنے دیکھتے ہوئے کہا یہ جادو ہے ۔۔۔یعنی کیا مراد ۔۔۔۔یہ حق نہیں ،،،یہ سچ نہیں،،،یہ جھوٹ ہے ۔۔۔۔۔
غور کریں ان کافروں کے ان مشرکوں کے جواب پر۔کہ یہ جادو ہے۔۔۔

اس آیت سے صاف معلوم ہو رہا ہے حق کو جھٹلانے کو جادو کہا جاتا ہے۔

یعنی ہر وہ کام جس کی کوئی حقیقت نہ ہو اور اس کو حقیقت بنا کر سامنے دیکھانے کو جادو کہا جاتا ہے۔

لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور مدد سے کیا وہ سچ اور حق تھا انہوں نے جادو کہہ کر جھٹلا دیا۔

جھوٹ کو جادو کہا جاتا ہے،باطل کو حق بنا کر دیکھانے کی کوشش کو بھی جادو کہا جاتا ہے،

خاوند و بیوی میں جدائی ڈال۔
یہ اللہ تعالیٰ کا کام نہیں(سورۃ النسائ 4:35) کہ فرشتوں کو ایسے کلمات سکھائے کہ خاوند و بیوی میں جدائی ڈالے ۔آزمائش کے لئے بھی اللہ تعالیٰ صرف و صرف حق بات ہی کرتا ہے کفر و شرک کی تبلیغ صرف و صرف شیطان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور پیغمبر صرف و صرف حق و سچ کی تبلیغ کرتے ہیں۔جھوٹ بول کر کوئی گندی بات کوئی بے حیائی کے کلمات کی تہمت لگا کر میاں بیوی میں جدائی ڈالنا تو شیطان کا پہلے بھی طریقہ تھا اور آج بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
سورة البقرة (2.268)
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے (١) اور اللہ تعالٰی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالٰی وسعت والا اور علم والا ہے۔

سورة المائدة (5.91)
إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ
شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کہ ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالٰی کی یاد سے اور نماز سے تمہیں باز رکھے (١)۔ سو اب بھی باز آجاؤ۔

سورة الأنعام (6.43)
فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
سو جب ان کو ہماری سزا پہنچتی تھی تو انہوں نے عاجزی کیوں اختیار نہیں کی، لیکن ان کے قلوب سخت ہوگئے اور شیطاننے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کر دیا (١)

سورة الأعراف (7.30)
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لیا اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ راست پر ہیں۔

سورة النحل (16.63)
تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے (١) وہ شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے (٢) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔


اللہ اکبر۔
غلط ترجمہ کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جادو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔۔۔۔اللہ اکبر وہ باتیں کرتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں۔

اللہ تعالیٰ تو صرف حق کی تبلیغ کرتا ہے سچ کی تبلیغ کرتا ہے اللہ کا فرمان ہے میں اپنے فرشتوں کو صرف حق و سچ کے ساتھ نازل فرماتا ہوں۔۔۔اللہ اکبر۔

باطل کو سچ بتا کر سامنے دیکھنا کیا حق ہے؟
میاں بیوی میں جدائی ڈالنا کیا حق ہے؟
جھوٹ ، فریب ، گالی دینا کیا حق ہے؟
کسی پر تہمت لگانا کیا حق ہے؟
لڑائی جھگڑا کرنا کیا حق ہے؟
نفع و نقصان میں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی گئی کسی چیزشریک کرنا کیا حق ہے؟

جھوٹی روایات کو دیکھ کر وؐمؐآ کا ترجمہ کر دیا گیا ظلم ہے ظلم ہے ۔۔۔۔

مسلمان ذرا سوچ
جھوٹ بول کر کوئی گندی بات کوئی بے حیائی کے کلمات کی تہمت لگا کر میاں بیوی میں جدائی ڈالنا تو شیطان کا پہلے بھی طریقہ تھا اور آج بھی ہے۔
سورة الحج (22.3)
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِيدٍ
بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وہ بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں (١)۔

سورة النساء (4.35)
وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو (۱) اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا یقیناً پورے علم والا اور پوری خبر والا ہے۔

سورة الأحزاب (33.4)
اللہ تعالٰی حق بات فرماتا ہے۔

سورة البقرة (2.102)
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَآأُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
ا ور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے (١) اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جادونہیں اتارا گیا تھا (٢) وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے (٣) جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں (٤) تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وہبغیر اللہ تعالٰی کی مرضی کے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے (٥) یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نہ نفع پہنچا سکے، اور وہ جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔

نوٹ۔
اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان۔
کہ
وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ (سلمیان نے تو کفر نہ کیا) وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُو (بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا) النَّاسَ السِّحْرَ (لوگوں کو جادو سکھاتے تھے)
کون سکھاتے تھے شیطان۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہ لوگوں کا عقیدہ تھا کہ سلمیان جادوگر تھے اور جادو کی مدد سے بادشاہ بنے اور یہ دو ہاروت ماروت فرشتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کی درستگی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔

کہ سلمیان کوئی جادوگر نہیں تھے جادو تو کفر ہے اور کفر تو شیطان کرتے ہیں یہ میرا نیک اور پاک بندہ ہےاوریہ میری پیروی کرتا ہے میرے حکم کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور وہ دو فرشتے نہیں ہیں جنہیں تم فرشتے کہ رہے وہ شیطان ہیں میں نے کوئی حکم کوئی جادو ان پر نازل نہیں کیا۔۔۔

وَمَآ أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ۔
اور نہیں نازل کیا کوئی حکم بابل میں ہاروت و ماروت نامی فرشتوں پر۔۔۔۔۔

اس آیت میں وَمَآ کا ترجمہ اکثریت نے" اور جو " کیا اور اس کو اسم موصول کہا گیا۔۔۔

جبکہ قرآن مجید سے ہی ثابت ہے کہ اس لفظ (وؐمآ) کواسم نفی کے لئے استعمال بھی کیا جاتا ہے اور جس کا ترجمہ۔۔
اور نہیں ، اور نہ میں آتا ہے۔

مزید دیکھیں یہ آیات۔

سورة الأحقاف (46.9)
سورة طه (20.2)
سورة التبت (111.2)
سورة يوسف (12.3)
سورة فاطر (35.21)
سورة الصافات (37.162)

ان سب آیات میں وَمَآ کا ترجمہ اور نہیں یا اور نہ میں کیا گیا۔۔۔اللہ اکبر

جادو کی تعریف ۔۔۔قرآن مجید سے جو ثابت ہے۔

سورة المائدة (5.110)
  • ان کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام نے گارے سے ایک شکل بناتے پھر اللہ کے حکم سے سچ مچ کا پرندہ بنا دیا۔
  • مردہ کو زندہ کرتے اللہ کے ہی حکم سے زندہ کرتے۔
  • مادر زاد اندھےکو اللہ کے ہی حکم سے اچھا کرتے۔
  • کوڑھی کواللہ کے ہی حکم سے اچھا کرتے۔
تو یہ جواب دیتے یہ صرف جادو ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔

سچ اور حق کو سامنے دیکھتے ہوئے کہا یہ جادو ہے ۔۔۔یعنی کیا مراد ۔۔۔۔یہ حق نہیں ،،،یہ سچ نہیں،،،یہ جھوٹ ہے ۔۔۔۔۔
غور کریں ان کافروں کے ان مشرکوں کے جواب پر۔کہ یہ جادو ہے۔۔۔

اس آیت سے صاف معلوم ہو رہا ہے حق کو جھٹلانے کو جادو کہا جاتا ہے۔

یعنی ہر وہ کام جس کی کوئی حقیقت نہ ہو اور اس کو حقیقت بنا کر سامنے دیکھانے کو جادو کہا جاتا ہے۔

لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور مدد سے کیا وہ سچ اور حق تھا انہوں نے جادو کہہ کر جھٹلا دیا۔

جھوٹ کو جادو کہا جاتا ہے،باطل کو حق بنا کر دیکھانے کی کوشش کو بھی جادو کہا جاتا ہے،

خاوند و بیوی میں جدائی ڈال۔
یہ اللہ تعالیٰ کا کام نہیں(سورۃ النسائ 4:35) کہ فرشتوں کو ایسے کلمات سکھائے کہ خاوند و بیوی میں جدائی ڈالے ۔آزمائش کے لئے بھی اللہ تعالیٰ صرف و صرف حق بات ہی کرتا ہے کفر و شرک کی تبلیغ صرف و صرف شیطان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور پیغمبر صرف و صرف حق و سچ کی تبلیغ کرتے ہیں۔جھوٹ بول کر کوئی گندی بات کوئی بے حیائی کے کلمات کی تہمت لگا کر میاں بیوی میں جدائی ڈالنا تو شیطان کا پہلے بھی طریقہ تھا اور آج بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
سورة البقرة (2.268)
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے (١) اور اللہ تعالٰی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالٰی وسعت والا اور علم والا ہے۔

سورة المائدة (5.91)
إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ
شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کہ ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالٰی کی یاد سے اور نماز سے تمہیں باز رکھے (١)۔ سو اب بھی باز آجاؤ۔

سورة الأنعام (6.43)
فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
سو جب ان کو ہماری سزا پہنچتی تھی تو انہوں نے عاجزی کیوں اختیار نہیں کی، لیکن ان کے قلوب سخت ہوگئے اور شیطاننے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کر دیا (١)

سورة الأعراف (7.30)
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لیا اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ راست پر ہیں۔

سورة النحل (16.63)
تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے (١) وہ شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے (٢) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔


اللہ اکبر۔
غلط ترجمہ کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جادو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔۔۔۔اللہ اکبر وہ باتیں کرتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں۔

اللہ تعالیٰ تو صرف حق کی تبلیغ کرتا ہے سچ کی تبلیغ کرتا ہے اللہ کا فرمان ہے میں اپنے فرشتوں کو صرف حق و سچ کے ساتھ نازل فرماتا ہوں۔۔۔اللہ اکبر۔

باطل کو سچ بتا کر سامنے دیکھنا کیا حق ہے؟
میاں بیوی میں جدائی ڈالنا کیا حق ہے؟
جھوٹ ، فریب ، گالی دینا کیا حق ہے؟
کسی پر تہمت لگانا کیا حق ہے؟
لڑائی جھگڑا کرنا کیا حق ہے؟
نفع و نقصان میں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی گئی کسی چیزشریک کرنا کیا حق ہے؟

جھوٹی روایات کو دیکھ کر وؐمؐآ کا ترجمہ کر دیا گیا ظلم ہے ظلم ہے ۔۔۔۔

مسلمان ذرا سوچ
جھوٹ بول کر کوئی گندی بات کوئی بے حیائی کے کلمات کی تہمت لگا کر میاں بیوی میں جدائی ڈالنا تو شیطان کا پہلے بھی طریقہ تھا اور آج بھی ہے۔

جادو کا “ٹاپ روبوٹ” :
خاوند اور بیوی میں غیر بنیادی پھوٹ ڈلوانا :
ابلیس اپنے تخت پر اس شیطان کو اپنے ساتھ بٹھاتا ہے اور سب سے زیادہ خوش اپنے اسی ملازم پر ہوتا ہے، حدیث

ذوج سے ہم بستری کی دعا

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ : أَمَا لَوْ أَنَّ احَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأتِي أَهْلَهُ: ’’بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘ ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذٰلِكَ أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا . (أخرجه البخاري).
(صحيح بخاري: كتاب النكاح، باب ما يقول الذوج إذا أتي أهله)

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اہل (بیوی/کنیز (بغیر وراثت والی بیوی)اور خاوند دونوں ایک دوسرے کے اہل ہوتے ہیں) کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے: ’’بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘

“میں اللہ کے نام سے شروع کرتا/کرتی ہوں،اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس رزق سے بھی دور رکھ جو تو ہمیں عطا کرے”
پھر اس عرصہ میں ان کے لئے کوئی اولاد مقدر ہوئی تو اسے شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ سے نکلے ہوئے عربی لفظ “اہل” کا ترجمہ بیوی نہیں ہے !

اللہ نے بیوی کو الْمَرْءِ لکھا ہے اور خاوند کو “الذوج” لکھا ہے :

بیوی/کنیز (بغیر وراثت والی بیوی)اور خاوند دونوں ایک دوسرے کے “اہل” ہوتے ہیں

تحقیق و ترجمہ : مہندس > عالم > استاذ >مسلم اویس میر > ابو انس > اربع اخوان > المقدسی،

حدیث کا ۱۴۴۷ ہجری کا روبوٹ :

نیوروکیم اذواج یہ دعا اپنی آواز میں ریکارڈ کر کے “ایم پی ۳” کان میں ٹھونس کر “ہم بستر” ہوا کریں کیونکہ ذوجین میں تیسرا (=بے غیرت شیطان) ، کلام الاذواج کے سینمے میں تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

حدیث کے کنکر،
نکاح عبادت تحریک

نیوروکیم زنا العین و العقل والی انگریز حمار العلم قوم کی ذوج سے ہم بستری کی دعا

“میں شیطان کے نام سے شروع کرتا/کرتی ہوں،اے شیطان ! اللہ کو مجھ سے دور رکھ اور اللہ کو اس کیمرے سے بھی دور رکھ جو تو ہمیں عطا کرے”
پھر اس عرصہ میں ان کے لئے کوئی کیمرہ مقدر ہوا تو اسے اللہ کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا ؟

تحقیق و روبوٹکس ترجمہ : مہندس عالم استاذ مسلم اویس میر ابو انس اربع اخوان المقدسی،

استاذ فی التناقض فی الاصول فی الدین و الدنیا و القواعد تحت الاصول فی الدین،

عالم ڈیولپر ۱،۵% مہندس المکینیکل روبوٹکس،
تلامذ قرآن>حدیث>امام الحدیث و الجتہاد احمد بن حنبل>امام المجاہدین ابن تیمیہ>امام الحدیث ابن الجوزی>امام المجاہدین صلاح الدین ایوبی>امام القاعدہ محمد بن عبدالوہاب>امام المجاہدین محمد بن قاسم>امام القاعدہ عبدالرحمن کیلانی>امام القاعدہ سید قطب>امام القاعدہ ابو محمد المقدسی> امام المجاہدین فی عراق،ابو مصعب الزرقاوی > امام القاعدہ حامد محمود>امام القاعدہ ابو عمر الکویتی>>>>رحمہ اللہ>حفظہ اللہ>اللهم اجعل الموت على الإيمان.
 
Last edited:
شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47

جادو کا “ٹاپ روبوٹ” :
خاوند اور بیوی میں غیر بنیادی پھوٹ ڈلوانا :
ابلیس اپنے تخت پر اس شیطان کو اپنے ساتھ بٹھاتا ہے اور سب سے زیادہ خوش اپنے اسی ملازم پر ہوتا ہے، حدیث

ذوج سے ہم بستری کی دعا

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ : أَمَا لَوْ أَنَّ احَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأتِي أَهْلَهُ: ’’بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘ ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذٰلِكَ أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا . (أخرجه البخاري).
(صحيح بخاري: كتاب النكاح، باب ما يقول الذوج إذا أتي أهله)

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اہل (بیوی/کنیز (بغیر وراثت والی بیوی)اور خاوند دونوں ایک دوسرے کے اہل ہوتے ہیں) کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے: ’’بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘

“میں اللہ کے نام سے شروع کرتا/کرتی ہوں،اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس رزق سے بھی دور رکھ جو تو ہمیں عطا کرے”
پھر اس عرصہ میں ان کے لئے کوئی اولاد مقدر ہوئی تو اسے شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ سے نکلے ہوئے عربی لفظ “اہل” کا ترجمہ بیوی نہیں ہے !

اللہ نے بیوی کو الْمَرْءِ لکھا ہے اور خاوند کو “الذوج” لکھا ہے :

بیوی/کنیز (بغیر وراثت والی بیوی)اور خاوند دونوں ایک دوسرے کے “اہل” ہوتے ہیں

تحقیق و ترجمہ : مہندس > عالم > استاذ >مسلم اویس میر > ابو انس > اربع اخوان > المقدسی،

حدیث کا ۱۴۴۷ ہجری کا روبوٹ :

نیوروکیم اذواج یہ دعا اپنی آواز میں ریکارڈ کر کے “ایم پی ۳” کان میں ٹھونس کر “ہم بستر” ہوا کریں کیونکہ ذوجین میں تیسرا (=بے غیرت شیطان) ، کلام الاذواج کے سینمے میں تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔

حدیث کے کنکر،
نکاح عبادت تحریک

نیوروکیم زنا العین و العقل والی انگریز حمار العلم قوم کی ذوج سے ہم بستری کی دعا

“میں شیطان کے نام سے شروع کرتا/کرتی ہوں،اے شیطان ! اللہ کو مجھ سے دور رکھ اور اللہ کو اس کیمرے سے بھی دور رکھ جو تو ہمیں عطا کرے”
پھر اس عرصہ میں ان کے لئے کوئی کیمرہ مقدر ہوا تو اسے اللہ کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا ؟

تحقیق و روبوٹکس ترجمہ : مہندس عالم استاذ مسلم اویس میر ابو انس اربع اخوان المقدسی،

استاذ فی التناقض فی الاصول فی الدین و الدنیا و القواعد تحت الاصول فی الدین،

عالم ڈیولپر ۱،۵% مہندس المکینیکل روبوٹکس،
تلامذ قرآن>حدیث>امام الحدیث و الجتہاد احمد بن حنبل>امام المجاہدین ابن تیمیہ>امام الحدیث ابن الجوزی>امام المجاہدین صلاح الدین ایوبی>امام القاعدہ محمد بن عبدالوہاب>امام المجاہدین محمد بن قاسم>امام القاعدہ عبدالرحمن کیلانی>امام القاعدہ سید قطب>امام القاعدہ ابو محمد المقدسی> امام المجاہدین فی عراق،ابو مصعب الزرقاوی > امام القاعدہ حامد محمود>امام القاعدہ ابو عمر الکویتی>>>>رحمہ اللہ>حفظہ اللہ>اللهم اجعل الموت على الإيمان.
ملنے کا پتہ :
قریہ : ما کتب اللہ
کرہ > انسان > بقالہ
 
Top