١۔ یہ چیز مذہبی سیاسی مباحث میں بہت عام ہے کہ اگر کسی کی کوئی بات قابل اعتراض ہو تو یار لوگ قول کی خبر تو بعد میں لیتے ہیں پہلے قائل کا شجرہ نسب اکھاڑنا شروع کر دیتے ہیں ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ پڑھنے سننے والا بندہ انگشت بدنداں رہ جائے اور سوچے کہ اس وقت اس بات کے ذکر کا کیا محل ہے؟
٢۔ اگر کسی ادیب شاعر یا کسی بھی شعبہ زندگی کی معروف شخصیت کی کوئی تحریر تقریر یا جملہ فقرہ قابل اعتراض ہو تو اس کے توڑ کا دائرہ عمل اسی جملے/فقرے/تحریر تک محدود رہنا چاہیے ۔
٣۔ کبھی کبھی کوئی نامور اور مقبول قلمکار بھی لکھتے لکھتے کوئی ایسی فاش غلطی بھی کر جاتا ہے جو اتفاقاً اس کے قلم کے رواں دواں موسم کی سنگینی کے سبب خود اس کی سمجھ سے دور ہو جاتی ہے۔
٤۔ مرحوم اشفاق احمد کی ذاتیات یا ان کے کردار و اعمال سے واقف کرانا فی نفسہ کوئی خراب بات تو نہیں مگر یہ چیز ایک علیحدہ مضمون کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ میڈم نورجہاں کی اصلیت سے واقف کروانے کے لیے صدیقی صاحب نے جب مجلہ محدث میں ایک سیرحاصل مضمون لکھا تو اس کی موزونیت سے کسی کو انکار نہیں ہوا بلکہ اسے پڑھ کر تو کئی لوگ حقائق سے آشنا ہوئے۔
سب سے پہلے تو آپ کے مراسلہ کا پوسٹ مارٹم کرنے پر معذرت کہ آپ کی تحریر میں سے ’’قابل تبصرہ و تنقید‘‘ بات ڈھونڈ ڈھونڈ کر الگ کرنی پڑتی ہے :)
١۔٣ علمی وادبی نشستوں میں علمی اور ادبی شہ پاروں پر گفتگو اسی طرح کی جاتی ہے، جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ وہاں محل بھی دیکھا جاتا ہے اور اپنی گفتگو کو متعلقہ موضوع ،اور زیر بحث تحریر تک محدود بھی رکھا جاتا ہے۔ اوراگر کسی علمی و ادبی شخصیت کے فن اور زندگی پر گفتگو مطلوب ہو تو قد آور شخصیات کی اس قسم کی چھوٹی موٹی لغزشوں کو نظر انداز کرکے صاحب فن کی مجموعی خدمات اور اس کے سماج پر اثرات کی بات کی جاتی ہے۔ اسی رویہ کا اظہار کسی مجلہ (خواہ وہ برقی ہی کیوں نہ ہو) میں کوئی باقاعدہ مضمون لکھتے ہوئے یا ریڈیو اور ٹی وی چینل کے کسی موضوعاتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بھی کیا جاتا ہے۔ ابلاغ عامہ کا ایک باقاعدہ طالب علم ہونے کے ناطے ان "بنیادی باتوں" سے مجھے بخوبی آگہی ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہوں۔ میرے باقاعدہ مضامین میں آپ کو متذکرہ بالا " بے قاعدگیاں" کہیں نظر نہیں آئیں گی :)
لیکن
جی ہاں لیکن ۔۔۔ اگر بات چیت چلتے پھرتے ’’عام پبلک پلیٹ فارم‘‘ پر(آن لائن یا لائیو) ہورہی ہو، جہاں بولنے والے بھی سارے کے سارے متعلقہ فن سے بخوبی آگاہ نہ ہوں، اور خاموش رہ کر سننے والے ہرسطح کے عوام الناس بھی ہوں تو ایسے میں گفتگو کا آغاز بے شک کسی قدآور شخصیت کے کسی ایک مخصوص قول یا فعل سے ہوا ہو ۔۔۔ لیکن اگر اس قول و فعل کے دور رس اثرات کا امکان ہو تو قول و فعل پر تبصرہ کرتے وقت اس شخصیت کا موقع پرہی "کچا چٹھا کھولنا" بہت ضروری ہوتا ہے (موقع محل کا انتظار کرنا ضروری نہیں ہوتا)، یا کم از کم میں ایسا ضروری نہیں سمجھتا :) نیٹ فورمز بھی میری نظر میں ایک جنرل پبلک پلیٹ فارم ہی ہے۔ یہاں لاگ ان ہوکر پڑھنے والے بھی ہوتے ہیں اور لاگ ان ہوئے بغیر بھی خاموش وزیٹر کی کثیر تعداد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹین ایجرز کی کثیر تعداد نیٹ پر ادھر ادھر مٹر گشت کرتی رہتی ہے۔ یہ اگر اس قسم کے قول کہیں پڑھ لیں جو اُن" دل کو بھاجائے" تو وہ اسے دوسرے فورمز، ای میلز اور ایس ایم ایس کے ذریعہ اپنے دوستوں کو فارورڈ کرنا ثواب دارین سمجھتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ صاحب قول و فعل کس "قماش" کا فرد ہے یا تھا :) اس طرح ایک غلط بات دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ بچے اور ٹین ایجرز عموما" اپنی "فرسٹ انفارمیشن" کو مصدقہ ہی سمجھتے ہیں۔ اگر بچے یا کچے ذہنوں کو ملنے والی پہلی اطلاع غلط یا "مضرصحت" ہو تو اسے کاؤنٹر کرنے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے بہ نسبت اس کے کہ پہلی ہی مرتبہ اسے درست اور نافع بات بتلا دی جائے۔
٢۔ اللہ مجھے معاف کرے، پاکستان کے کئی جینیریشن کو خراب کرنے والی اور ناچنے گانے اور پیشہ کرنے والیوں کی سرپرست اعلیٰ (یہ کوئی الزام نہیں بلکہ آن ریکارڈ حقیقت ہے) کی ’’اصلیت‘‘ سے محدث جیسے دینی مجلہ کے اسلام پسند قارئین کو آگاہ کرنے کے لئے کسی سیر حاصل مضمون کی ضرورت پڑے تو پھر ۔۔۔ میں اس پرمزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
اسی حوالہ سے ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ:
ادب کا ایک ادنیٰ طالب ہونے کے ناطے میں مستنصر حسین تاڑڑ کی ادبی خدمات سے بخوبی آگاہ ہوں۔ اور ان کا ایک مستقل قاری بھی۔ لیکن جب کبھی بھی وہ مسلمانوں یا پاکستانیوں کے ’’خلاف‘‘ کچھ لکھتے ہیں یا کسی اسلامی تعلیم کا مذاق اڑاتے ہیں تو ۔۔۔ اگر "موقع واردات ‘‘ پر مجھے گفتگو کا "موقع" مل جائے تو میں عام قارئین و حاضرین کو سب سے پہلے یہ ضرور بتلاتا ہوں کہ موصوف ایک "کٹر قادیانی" ہیں، جن کا ربوہ سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا آپ موصوف کی یہ بات اس "تلخ حقیقت" کے پس منظر میں پڑھئے اور سنئے۔ ایسے موقع پر اگر بھائی (خوش) ذوق یا اُن جیسے اہلِ ذوق موجود ہوں تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ بیچ میں قادیانیت کہاں سے آگئی۔ ادیب کا مذہب اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ آپ موضوع سے ادھر اُدھر نہ جائیں ۔ کیا پاکستانیوں اور مسلمانوں میں یہ یہ اور یہ خامیاں نہیں پائی جاتیں، تاڑڑ صاحب نے کیا غلط کہا ہے۔ آپ کو علمی و ادبی گفتگو کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر میں ایسی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اُڑا دیتا ہوں:) لیکن اگر کسی باقاعدہ ادبی مضمون میں یا کسی ادبی نشست میں تاڑڑ صاحب کے فن اور شخصیت پر یا ان کی کسی کتاب پر کچھ لکھنا یا کہنا پڑے تو ظاہر ہے کہ وہان مجھے یہ کہنے کی چندان ضرورت نہیں پڑے گی کہ وہ ایک قادیانی ہیں یا ایسے ویسے ہیں۔ آخر کومیں دیگر ادیان کے ادباء و شعراء کی تحریریں بھی تو بڑے ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں۔