• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سچ

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,013
پوائنٹ
289
اگر کسی شعر یا ادبی شہ پارہ کو ادبیت کے حوالے سے جانچنا ہو تو اس میں غیر ادبی عالم کی بجائے ادباء وشعراء کی رائے کو ہی فوقیت ہوگی۔

لیکن!

اگر ان پر شرعی حوالے سے بات ہو تو علماء کی رائے ہی فیصلہ کُن ہوگی۔
مثلاً اعضاء کی پیوند کاری کے حوالے سے اگر طریقہ کار پر بحث ہو تو ڈاکٹر حضرات کی بات کی اہمیت ہوگی۔
لیکن اگر جواز وعدم جواز کی بات ہو تو ظاہر ہے کہ یہ فیلڈ علماء کرام ہے، وہی کتاب وسنت کی روشنی میں فتویٰ دیں گے۔
فقہی معاملات میں درست رہنمائی تو علمائے کرام کے اجماعی یا اتفاقی فیصلے سے ہی ملتی ہے جو براہ راست یا بالراست قرآن و سنت سے ماخوذ ہوتی ہے۔ اس میں بھلا کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے :)
لیکن ۔۔۔ چونکہ میں نے "فقہی معاملہ" کہا ہے لہذا شرعی جواز یا عدم جواز کا فیصلہ بھی اس وقت ممکن ہے جب اس معاملے کی تمام تفصیل متعلقہ ماہرین کے ٹھوس علمی و تحقیقی مواد کے ذریعے علمائے کرام کے سامنے واضح ہو۔ اس لحاظ سے ایسے معاملات inter-related ہونا چاہیے۔
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,013
پوائنٹ
289
آپ تو مجھے وہی باتیں بتلا رہے ہیں، جو میں اکثر لوگوں سے کہتا رہتا ہوں۔ اصولی طورپر آپ کے خیالات و نظریات مجھ سے یا میرے آپ سے ملتے جلتے ہیں۔ لہٰذا ان ’’اصولوں‘‘ پر ہمارا آپس ڈیبیٹ کرتے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ (ابتسامہ)
شکریہ شکریہ۔ ویسے کیا برا ہے اگر ایسے ہی معقول خیالات / نظریات کبھی کبھار یہاں وہاں دہرائے جاتے رہیں :)
امید ہے کہ نظری بحث سے ہٹ کر آپ ان سوالات کا عملی جواب دینا بھی پسند کریں گے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اشفاق احمد صاحب کا کوئی بڑا فین (پنکھا نہیں بلکہ شیدائی :) ) نہیں ہوں ، ہاں میرے نزدیک ان کی ادبی شخصیت اور ان کی تخلیقات کا ایک مقام و مرتبہ ضرور ہے۔
آپ نے لکھا ہے کہ : "میں صرف اس دھاگہ کے اصل متن پر آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں"
میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ "اصل متن" پر آپ نے بھی کوئی رائے نہیں دی لیکن یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اصل متن پر رائے دینے کے ساتھ ساتھ آپ بین السطور میں بھی بہت کچھ ایسا کہہ گئے جس کا یہاں کوئی موقع محل نہیں تھا۔ :)
مرحوم اشفاق احمد کی ذاتیات یا ان کے کردار و اعمال سے واقف کرانا فی نفسہ کوئی خراب بات تو نہیں مگر یہ چیز ایک علیحدہ مضمون کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ میڈم نورجہاں کی اصلیت سے واقف کروانے کے لیے صدیقی صاحب نے جب مجلہ محدث میں ایک سیرحاصل مضمون لکھا تو اس کی موزونیت سے کسی کو انکار نہیں ہوا بلکہ اسے پڑھ کر تو کئی لوگ حقائق سے آشنا ہوئے۔
آپ نے اشفاق احمد سے متعلق "حقیقی باتیں" ہی لکھی ہوں گی بےشک ، لیکن یہ دھاگہ ایسی باتوں کے لیے موزوں و مناسب نہیں لگتا چاہے ہم مداحینِ اشفاق احمد سے پیشگی معذرت ہی کیوں نہ چاہ لیں :)
یہ چیز مذہبی سیاسی مباحث میں بہت عام ہے کہ اگر کسی کی کوئی بات قابل اعتراض ہو تو یار لوگ قول کی خبر تو بعد میں لیتے ہیں پہلے قائل کا شجرہ نسب اکھاڑنا شروع کر دیتے ہیں ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ پڑھنے سننے والا بندہ انگشت بدنداں رہ جائے اور سوچے کہ اس وقت اس بات کے ذکر کا کیا محل ہے؟

اگر کسی ادیب شاعر یا کسی بھی شعبہ زندگی کی معروف شخصیت کی کوئی تحریر تقریر یا جملہ فقرہ قابل اعتراض ہو تو اس کے توڑ کا دائرہ عمل اسی جملے/فقرے/تحریر تک محدود رہنا چاہیے ۔۔۔ اگر یہ دائرہ پھلانگ لیا جائے تو پھر ایک دانشمند وسیع الذہن قلمکار اور اس کے پڑوس کی "بیلن" ہاتھ میں لئے زبان سے "پھول" جھڑاتی خاتون میں فرق ہی کیا رہ جائے پھر؟ :)

آخر میں اشفاق صاحب کے درج ذیل جملے پر میرا ناقص تبصرہ بھی سہی :)
" اگر تو نے سچ بولنا ہے تو اپنے بارے میں بولنا ' دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر ان کی زندگی عذاب میں نہ ڈال دینا. ایسا فعل جھوٹ سے بھی برا ہوتا ہے."۔۔۔۔از اشفاق احمد، صبحانے فسانے ،عنوان اماں سردار بیگم ، صفحہ نمبر ١٩
اشفاق صاحب کے ادبی قد کا احترام سر آنکھوں پر ۔۔ مگر وہ کیا ہے کہ ایک دفعہ مقبول مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے عرض فرمایا تھا :
مزاح نگار اس لحاظ سے بھی فائدے میں رہتا ہے کہ اس کی فاش سے فاش غلطی کے بارے میں بھی پڑھنے والے کو یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ ممکن ہے ، اس میں بھی تفنن کا کوئی لطیف پہلو پوشیدہ ہو ، جو غالباً موسم کی خرابی کے باعث اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔
ہم بھی اسی طرح کچھ کہنے کی جراءت کرنا چاہیں گے کہ کبھی کبھی کوئی نامور اور مقبول قلمکار بھی لکھتے لکھتے کوئی ایسی فاش غلطی بھی کر جاتا ہے جو اتفاقاً اس کے قلم کے رواں دواں موسم کی سنگینی کے سبب خود اس کی سمجھ سے دور ہو جاتی ہے۔ ورنہ ایک بندہ آخر اپنے بارے میں کتنا سچ بولے گا؟ اکیلی ذات کے سچ اور معاشرے کے کروڑوں نفوس کے سچ میں تعداد کا بھی فرق ہے کہ نہیں؟ اور اگر "اپنے ہی سچ" کے اس چکر میں یا دوسروں کے عیوب کی پردہ داری کی فکر میں ان کی غلطیوں کو بھی اپنے سر مونڈھ کر بیان کرنا درست ہے تو پھر یہ سچ نہیں بلکہ "جھوٹ" ہوا جبکہ جھوٹ جیسے فعل کی مذمت بھی اسی فقرے میں موجود ہے!

ویسے یوسف ثانی بھائی ، آپ کا بھی شکریہ کہ اس موضوع پر آپ کا ایک تبصرہ میں نے اپنے بلاگ کی تازہ تحریر میں آپ کے حوالے سے یہاں شامل کر لیا ہے:
اشفاق احمد کا 'سچ'۔۔۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
١۔ یہ چیز مذہبی سیاسی مباحث میں بہت عام ہے کہ اگر کسی کی کوئی بات قابل اعتراض ہو تو یار لوگ قول کی خبر تو بعد میں لیتے ہیں پہلے قائل کا شجرہ نسب اکھاڑنا شروع کر دیتے ہیں ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ پڑھنے سننے والا بندہ انگشت بدنداں رہ جائے اور سوچے کہ اس وقت اس بات کے ذکر کا کیا محل ہے؟

٢۔ اگر کسی ادیب شاعر یا کسی بھی شعبہ زندگی کی معروف شخصیت کی کوئی تحریر تقریر یا جملہ فقرہ قابل اعتراض ہو تو اس کے توڑ کا دائرہ عمل اسی جملے/فقرے/تحریر تک محدود رہنا چاہیے ۔

٣۔ کبھی کبھی کوئی نامور اور مقبول قلمکار بھی لکھتے لکھتے کوئی ایسی فاش غلطی بھی کر جاتا ہے جو اتفاقاً اس کے قلم کے رواں دواں موسم کی سنگینی کے سبب خود اس کی سمجھ سے دور ہو جاتی ہے۔

٤۔ مرحوم اشفاق احمد کی ذاتیات یا ان کے کردار و اعمال سے واقف کرانا فی نفسہ کوئی خراب بات تو نہیں مگر یہ چیز ایک علیحدہ مضمون کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ میڈم نورجہاں کی اصلیت سے واقف کروانے کے لیے صدیقی صاحب نے جب مجلہ محدث میں ایک سیرحاصل مضمون لکھا تو اس کی موزونیت سے کسی کو انکار نہیں ہوا بلکہ اسے پڑھ کر تو کئی لوگ حقائق سے آشنا ہوئے۔
سب سے پہلے تو آپ کے مراسلہ کا پوسٹ مارٹم کرنے پر معذرت کہ آپ کی تحریر میں سے ’’قابل تبصرہ و تنقید‘‘ بات ڈھونڈ ڈھونڈ کر الگ کرنی پڑتی ہے :)

١۔٣ علمی وادبی نشستوں میں علمی اور ادبی شہ پاروں پر گفتگو اسی طرح کی جاتی ہے، جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ وہاں محل بھی دیکھا جاتا ہے اور اپنی گفتگو کو متعلقہ موضوع ،اور زیر بحث تحریر تک محدود بھی رکھا جاتا ہے۔ اوراگر کسی علمی و ادبی شخصیت کے فن اور زندگی پر گفتگو مطلوب ہو تو قد آور شخصیات کی اس قسم کی چھوٹی موٹی لغزشوں کو نظر انداز کرکے صاحب فن کی مجموعی خدمات اور اس کے سماج پر اثرات کی بات کی جاتی ہے۔ اسی رویہ کا اظہار کسی مجلہ (خواہ وہ برقی ہی کیوں نہ ہو) میں کوئی باقاعدہ مضمون لکھتے ہوئے یا ریڈیو اور ٹی وی چینل کے کسی موضوعاتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بھی کیا جاتا ہے۔ ابلاغ عامہ کا ایک باقاعدہ طالب علم ہونے کے ناطے ان "بنیادی باتوں" سے مجھے بخوبی آگہی ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہوں۔ میرے باقاعدہ مضامین میں آپ کو متذکرہ بالا " بے قاعدگیاں" کہیں نظر نہیں آئیں گی :)

لیکن
جی ہاں لیکن ۔۔۔ اگر بات چیت چلتے پھرتے ’’عام پبلک پلیٹ فارم‘‘ پر(آن لائن یا لائیو) ہورہی ہو، جہاں بولنے والے بھی سارے کے سارے متعلقہ فن سے بخوبی آگاہ نہ ہوں، اور خاموش رہ کر سننے والے ہرسطح کے عوام الناس بھی ہوں تو ایسے میں گفتگو کا آغاز بے شک کسی قدآور شخصیت کے کسی ایک مخصوص قول یا فعل سے ہوا ہو ۔۔۔ لیکن اگر اس قول و فعل کے دور رس اثرات کا امکان ہو تو قول و فعل پر تبصرہ کرتے وقت اس شخصیت کا موقع پرہی "کچا چٹھا کھولنا" بہت ضروری ہوتا ہے (موقع محل کا انتظار کرنا ضروری نہیں ہوتا)، یا کم از کم میں ایسا ضروری نہیں سمجھتا :) نیٹ فورمز بھی میری نظر میں ایک جنرل پبلک پلیٹ فارم ہی ہے۔ یہاں لاگ ان ہوکر پڑھنے والے بھی ہوتے ہیں اور لاگ ان ہوئے بغیر بھی خاموش وزیٹر کی کثیر تعداد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹین ایجرز کی کثیر تعداد نیٹ پر ادھر ادھر مٹر گشت کرتی رہتی ہے۔ یہ اگر اس قسم کے قول کہیں پڑھ لیں جو اُن" دل کو بھاجائے" تو وہ اسے دوسرے فورمز، ای میلز اور ایس ایم ایس کے ذریعہ اپنے دوستوں کو فارورڈ کرنا ثواب دارین سمجھتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ صاحب قول و فعل کس "قماش" کا فرد ہے یا تھا :) اس طرح ایک غلط بات دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ بچے اور ٹین ایجرز عموما" اپنی "فرسٹ انفارمیشن" کو مصدقہ ہی سمجھتے ہیں۔ اگر بچے یا کچے ذہنوں کو ملنے والی پہلی اطلاع غلط یا "مضرصحت" ہو تو اسے کاؤنٹر کرنے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے بہ نسبت اس کے کہ پہلی ہی مرتبہ اسے درست اور نافع بات بتلا دی جائے۔

٢۔ اللہ مجھے معاف کرے، پاکستان کے کئی جینیریشن کو خراب کرنے والی اور ناچنے گانے اور پیشہ کرنے والیوں کی سرپرست اعلیٰ (یہ کوئی الزام نہیں بلکہ آن ریکارڈ حقیقت ہے) کی ’’اصلیت‘‘ سے محدث جیسے دینی مجلہ کے اسلام پسند قارئین کو آگاہ کرنے کے لئے کسی سیر حاصل مضمون کی ضرورت پڑے تو پھر ۔۔۔ میں اس پرمزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
اسی حوالہ سے ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ:
ادب کا ایک ادنیٰ طالب ہونے کے ناطے میں مستنصر حسین تاڑڑ کی ادبی خدمات سے بخوبی آگاہ ہوں۔ اور ان کا ایک مستقل قاری بھی۔ لیکن جب کبھی بھی وہ مسلمانوں یا پاکستانیوں کے ’’خلاف‘‘ کچھ لکھتے ہیں یا کسی اسلامی تعلیم کا مذاق اڑاتے ہیں تو ۔۔۔ اگر "موقع واردات ‘‘ پر مجھے گفتگو کا "موقع" مل جائے تو میں عام قارئین و حاضرین کو سب سے پہلے یہ ضرور بتلاتا ہوں کہ موصوف ایک "کٹر قادیانی" ہیں، جن کا ربوہ سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا آپ موصوف کی یہ بات اس "تلخ حقیقت" کے پس منظر میں پڑھئے اور سنئے۔ ایسے موقع پر اگر بھائی (خوش) ذوق یا اُن جیسے اہلِ ذوق موجود ہوں تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ بیچ میں قادیانیت کہاں سے آگئی۔ ادیب کا مذہب اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ آپ موضوع سے ادھر اُدھر نہ جائیں ۔ کیا پاکستانیوں اور مسلمانوں میں یہ یہ اور یہ خامیاں نہیں پائی جاتیں، تاڑڑ صاحب نے کیا غلط کہا ہے۔ آپ کو علمی و ادبی گفتگو کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر میں ایسی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اُڑا دیتا ہوں:) لیکن اگر کسی باقاعدہ ادبی مضمون میں یا کسی ادبی نشست میں تاڑڑ صاحب کے فن اور شخصیت پر یا ان کی کسی کتاب پر کچھ لکھنا یا کہنا پڑے تو ظاہر ہے کہ وہان مجھے یہ کہنے کی چندان ضرورت نہیں پڑے گی کہ وہ ایک قادیانی ہیں یا ایسے ویسے ہیں۔ آخر کومیں دیگر ادیان کے ادباء و شعراء کی تحریریں بھی تو بڑے ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں۔
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,013
پوائنٹ
289
سب سے پہلے تو آپ کے مراسلہ کا پوسٹ مارٹم کرنے پر معذرت کہ آپ کی تحریر میں سے ’’قابل تبصرہ و تنقید‘‘ بات ڈھونڈ ڈھونڈ کر الگ کرنی پڑتی ہے :)
اس قدر انکساری اور حسن ظن کا شکریہ :)
اب آپ کی اتنی تفصیل سے واقف ہونے اور اتفاق کرنے کے بعد مجھے مزید کچھ کہنے کی آب و تاب نہیں۔ جو کچھ باقی چھوٹی موٹی باتیں رہ گئی ہیں وہ کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں :)

ادب کا ایک ادنیٰ طالب ہونے کے ناطے میں مستنصر حسین تاڑڑ کی ادبی خدمات سے بخوبی آگاہ ہوں۔ اور ان کا ایک مستقل قاری بھی۔ لیکن جب کبھی بھی وہ مسلمانوں یا پاکستانیوں کے ’’خلاف‘‘ کچھ لکھتے ہیں یا کسی اسلامی تعلیم کا مذاق اڑاتے ہیں تو ۔۔۔ اگر "موقع واردات ‘‘ پر مجھے گفتگو کا "موقع" مل جائے تو میں عام قارئین و حاضرین کو سب سے پہلے یہ ضرور بتلاتا ہوں کہ موصوف ایک "کٹر قادیانی" ہیں، جن کا ربوہ سے بڑا گہرا تعلق ہے۔۔۔۔
واقعتاً میرے لیے نئی اطلاع ہے!
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,356
پوائنٹ
800
فقہی معاملات میں درست رہنمائی تو علمائے کرام کے اجماعی یا اتفاقی فیصلے سے ہی ملتی ہے جو براہ راست یا بالراست قرآن و سنت سے ماخوذ ہوتی ہے۔ اس میں بھلا کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے :)
لیکن ۔۔۔ چونکہ میں نے "فقہی معاملہ" کہا ہے لہذا شرعی جواز یا عدم جواز کا فیصلہ بھی اس وقت ممکن ہے جب اس معاملے کی تمام تفصیل متعلقہ ماہرین کے ٹھوس علمی و تحقیقی مواد کے ذریعے علمائے کرام کے سامنے واضح ہو۔ اس لحاظ سے ایسے معاملات inter-related ہونا چاہیے۔
مجھے آپ سے اتفاق ہے، البتہ درست راہنمائی کیلئے اجماعی یا اتفافی فیصلہ لازمی نہیں مدلّل رائے ایک عالم کی بھی ہو، اسے مانا جائے گا۔
 

نسرین فاطمہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
فروری 21، 2012
پیغامات
1,280
ری ایکشن اسکور
3,232
پوائنٹ
396
جزاکم اللہ خیرا
واقعی ہما رے لئے یہ ایک تکلیف دہ بات ہوتی ہے جب ہمیں علم ہوتا ہے کہ جن رائٹرزکومسلمان سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں جب ان کی دینی حالت کا علم ہوتا ہے ہماری سوچ اور نظریات اس رائٹر کے متعلق یکسر بدل جاتے ہین اللہ رب العلمین ایسے دہریئے ادیبوں کی نگارشات سے متاثر ہونے سے محفوظ رکھے ۔
 

باذوق

رکن
شمولیت
فروری 16، 2011
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
4,013
پوائنٹ
289
واقعی ہما رے لئے یہ ایک تکلیف دہ بات ہوتی ہے جب ہمیں علم ہوتا ہے کہ جن رائٹرزکومسلمان سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں جب ان کی دینی حالت کا علم ہوتا ہے ہماری سوچ اور نظریات اس رائٹر کے متعلق یکسر بدل جاتے ہین اللہ رب العلمین ایسے دہریئے ادیبوں کی نگارشات سے متاثر ہونے سے محفوظ رکھے ۔
یکسر تو نہیں ، ہاں کسی حد تک بدل سکتے ہیں۔ ونیز ۔۔۔ کسی ادیب یا شاعر کی تخلیقات سے متاثر ہونا بھی میرے نزدیک کوئی خراب بات نہیں بشرطیکہ بات اخلاق و کردار کی درستگی اور انسانی زندگی کے دیگر معاملات تک محدود رہے اور ایمان و عقیدے میں پستی یا شک پیدا نہ ہو۔
 
Top