• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیاہ کار عورت اور اس کی سزا

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292

برارمن گڈ مسلم صاحب جواب دیدیا ہے پڑھ لو اور دوسرا دلیل لاو ان کنتم صادقین
لگتا ہے الیاسی صاحب کو صاف اور واضح اردو پڑھنا بھی نہیں آتی ۔میں نے اپنی پوسٹ میں کچھ یوں باتیں لکھیں ہیں
1۔قرآن میں موجود حکم مع ترجمہ و تشریح پیش کریں
2۔حدیث میں موجود حکم مع ترجمہ وتشریح لکھیں
3۔ پھر خلاصۃً بتائیں کہ قرآن پاک اور حدیث کے ان دونوں حکموں میں یوں تضاد ہے اس لیے حدیث مولویوں کی گھڑت شدہ (نعوذ باللہ) ہے۔
الیاسی صاحب آپ ان تین پوائنٹ کا جواب نمبروائز پیش کریں۔ تاکہ آپ کی طرف سے بات کھل کر سامنے آجائے۔ شکریہ
 

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
لگتا ہے الیاسی صاحب کو صاف اور واضح اردو پڑھنا بھی نہیں آتی ۔میں نے اپنی پوسٹ میں کچھ یوں باتیں لکھیں ہیں

الیاسی صاحب آپ ان تین پوائنٹ کا جواب نمبروائز پیش کریں۔ تاکہ آپ کی طرف سے بات کھل کر سامنے آجائے۔ شکریہ

قرآن کا حکم الزانیۃ والزانی فاجلدو کل واحد منھما مایۃ جلدہ
ترجمہ ، زنا کار مرد اور عورت پس مارو ھرایک کو ان دونوں میں سے سو کوڑے
تشریح ۔ زنا کار مرد اور عورت کا سزا سو کوڑے ہیں (کل ) کا معنی ہر ایک یعنی ہر ایک مرد اور عورت کو سو کوڑے مارو
دیکھو اس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کا کوئی ذکر نہیں
اب احادیث میں ہیں کہ شادی شدہ کو رجم اور غیر شادی شدہ کو کوڑے ایک اور حدیث میں یہ بھی ہیں کہ ایک شادی شدہ زانی عورت کو جمعرات کی دن فرض کی رو سے کوڑے لگے اور اور جمعہ کی دن سنت کی رو سے رجم کی گیی اب یہ دونوں احادیث قرآن کی تو متضاد ہے لیکن آپس میں یہ دونوں احادیث بھی متضاد ہے اسی طرح اور بھی بھت سارے متضاد احادیث ہے اگر
آپ کی اندر بحث کرنے کی ہمت ہوئی تو وقتافوقتا آپ کو بتاتا رہونگا ان شاء اللہ
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292

قرآن کا حکم الزانیۃ والزانی فاجلدو کل واحد منھما مایۃ جلدہ
ترجمہ ، زنا کار مرد اور عورت پس مارو ھرایک کو ان دونوں میں سے سو کوڑے
تشریح ۔ زنا کار مرد اور عورت کا سزا سو کوڑے ہیں (کل ) کا معنی ہر ایک یعنی ہر ایک مرد اور عورت کو سو کوڑے مارو
دیکھو اس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کا کوئی ذکر نہیں
اب احادیث میں ہیں کہ شادی شدہ کو رجم اور غیر شادی شدہ کو کوڑے ایک اور حدیث میں یہ بھی ہیں کہ ایک شادی شدہ زانی عورت کو جمعرات کی دن فرض کی رو سے کوڑے لگے اور اور جمعہ کی دن سنت کی رو سے رجم کی گیی اب یہ دونوں احادیث قرآن کی تو متضاد ہے لیکن آپس میں یہ دونوں احادیث بھی متضاد ہے اسی طرح اور بھی بھت سارے متضاد احادیث ہے اگر
آپ کی اندر بحث کرنے کی ہمت ہوئی تو وقتافوقتا آپ کو بتاتا رہونگا ان شاء اللہ
ماشاء اللہ بہت خوب الیاسی صاحب علمی تشریح کی ہے آپ نے۔ اس پر تبصرہ بعد میں پہلے ہمیں عربی لغت کی رو سے درج ذیل اردو عبارت کی عربی بتائیں
’’ الف اور ب دونوں کو زنا کرنے کی وجہ سےسو سو کوڑے لگائیں جائیں ‘‘
 
شمولیت
اگست 05، 2012
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
453
پوائنٹ
57
آپ سے سوال ہے کہ چوری سے متعلق سورۃ المائدۃ کی درج بالا آیت کریمہ ہر چور (خواہ اس نے کسی کی پنسل چرائی ہو؟) کے بارے میں ہے یا مخصوص چور (جس کی شرائط احادیث میں موجود ہیں) کے بارے میں؟؟!!
اگر آپ کہیں کہ ہر چور کے بارے میں! تو پھر آپ رجم کے علاوہ چوری کے متعلق بھی تمام احادیث کے منکر ہیں۔

اور اگر آپ کہیں کہ مخصوص چور کے بارے میں! تو پھر ہم بھی جواب میں کہیں گے کہ زنا کے متعلق سورۃ النور کی آیت مخصوص زانیوں (غیر محصن) کے متعلّق ہیں۔

ارے بھائی کیا ھوا؟؟ السارق والسارقۃ میں کل کا لفظ نھیں ہے اور الزانی والزانیہ میں کل کا لفظ نھیں اس لیے چور کی تفصیل والی احادیث قرآن کی خلاف نھیں البتہ چونکہ الزانیۃ والزانی میں کل کا لفظ موجود ہے اس لیے یھاں احادیث قرآن کی خلاف جارہی ہیں
اسلیے استاد محترم کا دعوی ہے کہ رجم والی حدیث قرآن کی خلاف ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی خلاف کوئی بات نھیں کرتے اس لیے رجم کا سزا مولویوں کا ایجاد کردہ ہے
رسول اللہ کانھیں
الیاسی صاحب! آپ کی کئی پوسٹ دیکھیں جن میں آپ نے اور آپ کے استادِ محترم نے عربی زبان میں بہت اہمیت بتائی، لیکن عملاً آپ دونوں حضرات مجھے عربی سے نا بلد لگتے ہیں۔

آپ نے درج بالا پوسٹ میں قرار دیا ہے کہ آپ کے نزدیک آیت کریمہ السارق والسارقة فاقطعوا أيدهما ہر چور کے متعلق نہیں بلکہ مخصوص چور سے متعلق ہے، کیونکہ اس میں كل كا لفظ موجود نہیں ہے۔
الیاسی صاحب! آپ اور آپ کے عجمی استاد کو علم ہونا چاہئے کہ عربی زبان میں عموم کیلئے صرف کل نہیں بلکہ اور بہت سارے صیغے استعمال ہوتے ہیں، جن میں ایک لام تعریف بھی ہے۔
تفصیل کیلئے دیکھیں!
http://arabic.almenhaj.net/text.php?linkid=436
http://www.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=623&idto=653&bk_no=35&ID=468

اس آیت کریمہ میں السارق اور السارقۃ دونوں پر لامِ تعریف داخل ہے جو بالاجماع عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ تو آپ دونوں عربی کے ماہرین نے کیسے اس آیت کریمہ کو مخصوص قرار دے دیا؟؟؟ کچھ ہمیں بھی تو سمجھائیں۔
آپ سے گزارش ہے کہ ازراہِ کرم آیت کریمہ والسارق والسارقة فاقطعوا أيدهما کا صحیح ترجمہ کر دیں۔

تو معلوم ہوا کہ زنا اور چوری والی دونوں آیات ہر زانی اور چور سے متعلق ہیں (کیونکہ دونوں میں عموم کے صیغے موجود ہیں) اگر آپ اس عموم سے بعض چوروں کو احادیث کی بناء مستثنیٰ سمجھتے ہیں تو پھر بعض زانیوں کو حدیث کی بناء پر مستثنیٰ کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟!

جواب کا انتظار رہے گا۔
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292
ابو مالک بھائی جان مولانا الیاسی صاحب الزانیۃ والزانی والی آیت سے ہی اپنا بیان مفہوم پیش نہیں کرسکیں گے۔ ادھر ادھر جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اس لیے الیاسی صاحب کو اس عبارت کی عربی بتانے دیں۔
مولانا الیاسی صاحب ذرا ہم پر بھی شفقت فرمائیں اور اس لائن کو عربی میں کنورٹ کریں

’’ الف اور ب دونوں کو زنا کرنے کی وجہ سےسو سو کوڑے لگائیں جائیں‘‘
 

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
تو معلوم ہوا کہ زنا اور چوری والی دونوں آیات ہر زانی اور چور سے متعلق ہیں (کیونکہ دونوں میں عموم کے صیغے موجود ہیں) اگر آپ اس عموم سے بعض چوروں کو احادیث کی بناء مستثنیٰ سمجھتے ہیں تو پھر بعض زانیوں کو حدیث کی بناء پر مستثنیٰ کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟!


برادر عزیز بہت فرق ہے لیکن آپ سمجھنے کی کوشش کرو چور والی حدیث میں استثناء احادیث مبارکہ کیوجہ سےصحیح ہے کیونکہ یہاں احادیث مبارکہ قرآن مجید کی متضاد نھیں ہے اور زانی والی
آیت مبارکہ میں حدیث قرآن مجید کی ضد بن جاتا ہے کل کی وجہ سے اسلیے رجم والی حدیث قرآن مجیدکی خلاف جارھی ہے
آپ نے اپنی عربی پر بہت ناز کیاہے اور ہمیں نابلد کہا ہے اچھی بات ہے اگر آپ کی پاس عربی کا علم ہو ہم آپ سے سیکھ لینگے لیکن آپ ذرا غور کرو کہ السارق والسارقۃ میں اگر الف لام
جنسی ہوجاے تو آپ کو چور کی متعلق احادیث سے بھی ہاتھ دھونا پڑیگا اور ان کو بھی پھر آپ کو غلط کہنا پڑیگاکیونکہ پنسل اور نسوار کی تھیلی چوری کرنے پر ھاتھ نھیں کاٹا جاتا اس لیے تو آپ کو سمجھایا تھا کہ یھاں الف لام جنسی اور استغراقی نھیں بلکہ عھد خارجی یا عھد ذھنی ھی ماننا پڑیگا
اس کی علاوہ جدید عربوں کا اس الف لام کو الف لام جنسی تعریفی قرار دینا بجاے خود محل نظر ہے کیونکہ قدیم نحاۃ کا کہنا ہے کہ الف لام جنسی نکرہ کی قوت میں ھوتے ہیں لہذا اس کومعرفہ کہنا بدعت جدیدہ ہیں جدید عرب نحویوں کا
 
شمولیت
اگست 05، 2012
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
453
پوائنٹ
57
ابو مالک بھائی جان مولانا الیاسی صاحب الزانیۃ والزانی والی آیت سے ہی اپنا بیان مفہوم پیش نہیں کرسکیں گے۔ ادھر ادھر جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اس لیے الیاسی صاحب کو اس عبارت کی عربی بتانے دیں۔
مولانا الیاسی صاحب ذرا ہم پر بھی شفقت فرمائیں اور اس لائن کو عربی میں کنورٹ کریں

’’ الف اور ب دونوں کو زنا کرنے کی وجہ سےسو سو کوڑے لگائیں جائیں‘‘
الیاسی صاحب! آپ پہلے گڈ مسلم بھائی کے سوال کا جواب دے دیں، پھر میں اپنی بات رکھوں گا۔ ان شاء اللہ!
 

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
لگتا ہے الیاسی صاحب کو صاف اور واضح اردو پڑھنا بھی نہیں آتی ۔میں نے اپنی پوسٹ میں کچھ یوں باتیں لکھیں ہیں

الیاسی صاحب آپ ان تین پوائنٹ کا جواب نمبروائز پیش کریں۔ تاکہ آپ کی طرف سے بات کھل کر سامنے آجائے۔ شکریہ


اب ہے کوئی جواب دینے والا؟؟؟؟ بھاگنا چھوڑو اپنا دفاع کرے یا اپناایمان درست کرو برادران من
 
Top