محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,823
- پوائنٹ
- 1,069
شخصیت پرستی کس کا فعل ہیں ؟
2:- تقلید شخصی کی وجہ سے احادیث صحیحہ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے -مثلاً: کرخی حنفی (تقلیدی) کہتے ہیں:"اصل یہ ہے کہ ہر آیت جو ہمارے ساتھیوں (فقہاء حنفیہ) کے خلاف ہے اسے منسوخیت پر محمول یا مرجوح سمجھا جائے گا، بہتر یہ ہے کہ تطبیق کرتے ہوئے اس کی تاویل کر لی جائے"
(اصول کرخی ص29)
مثلاً: کرخی مزکور ایک اور اصول یہ بیان کرتے ہیں:
"اصل یہ ہے کہ ہر حدیث جو ہمارے ساتھیوں کے قول کے خلاف ہے تو اسے منسوخ یا اس جیسی دوسری روایت کے معارض سمجھا جائے گا پھر دوسری دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا"
(اصول کرخی ص29 اصل 30)
3:- تقلید شخصی کی وجہ سے کئی مقامات پر اجماع کو رد کیا جاتا ہےیوسف بن موسیٰ الملطی الحنفی کہتا تھا:
"جو شخص امام بخاری کی کتاب (صحیح بخاری) پڑھتا ہے وہ زندیق ہو جاتا ہے"
(شذرات الذہب ج7ص40َ)
مثلاً: خیرالقرون میں اس پر اجماع ہے کہ تقلید شخصی ناجائز ہے۔(النبذة الکافیہ ص71 دین میں تقلید کا مسئلہ ص34-35)
مثلاً: حنفی تقلیدیوں کی کتاب اصولِ شاشی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اجتہاد اور فتوی کے درجے سے باہر نکال کر اعلان کیا گیا ہے: "وعلٰی ھذا ترک اصحابنا روایة ابی ھریرة" اور اسی (اصول) پر ہمارے ساتھیوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو ترک کر دیا
(اصول شاشی مع احسن الحواشی ص75)
5:- تقلید شخصی کی وجہ سے آل تقلید یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کی دو آیتوں میں تعارض واقع ہو سکتا ہے-ایک حنفی تقلیدی نوجوان نے صدیوں پہلے بغداد کی جامع مسجد میں کہا تھا:
"ابو ھریرة غیر مقبول الحدیث" ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث قابل قبول نہیں ہے
(سیراعلام النبلاج2ص619,مجموع فتاوی ابن تیمیہ ج 4 ص 538)
حالانکہ قرآن مجید کی آیات میں کوئی تعارض سرے سے موجود ہی نہیں اور نہ قرآن و آحادیث صحیحہ کے درمیان کسی قسم کا تعارض ہے۔ والحمدللہمثلاً: ملاجیون حنفی لکھتے ہیں:
"کیونکہ اگر دو آیتوں میں تعارض ہو جائے تو دونوں ساقط ہو جاتی ہیں ۔
(نورالانوارمع قمرالاقمار ص193)
مثلاً: محمد بن موسی البلاغونی حنفی سے مروی ہے کہ اس نے کہا:
"اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں شافعیوں سے (انہیں کافر سمجھ کر) جزیہ لیتا۔
(میزان الاعتدال للذہبی ج4ص52)
عیسی بن ابی بکر بن ایوب الحنفی سے جب پوچھا گیا کہ تم حنفی کیوں ہو گئے ہو جب کہ تمھارے خاندان والے سارے شافعی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا: کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ گھر میں ایک مسلمان ہو۔!
(الفوائد البہیہ ص152-153)
حنفیوں کے ایک امام السفکردری نے کہا:"حنفی کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح کسی شافعی مذہب والے سے کرے لیکن وہ اس (شافعی) کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے-
(فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوی عالمگیریہ ج 4 ص 112)یعنی شافعی مذہب والے (حنفیوں کے نزدیک) اہل کتاب کے حکم میں ہیں۔دیکھیے(البحرالرائق جلد2ص46)
محمود الحسن دیوبندی کہتے ہیں:
"حق و انصاف یہ ہے کہ اس مسئلے میں امام شافعی کو ترجحیح حاصل ہے اور (لیکن) ہم مقلد ہیں (اسلیئے) ہم پر ہمارے امام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے۔
(تقریرترمذی ص36)
9:- تقلید شخصی کی وجہ سے جامد و غالی مقلدین نے بیت اللہ میں چار مصلے بنا ڈالے تھے-احمد یار نعیمی بریلوی نے کہا:
"کیونکہ حنفیوں کے دلائل یہ روایتیں نہیں ان کی دلیل صرف قول امام ہے۔۔۔۔"
(جاءالحق ج2 ص9)
جن کے بارے میں رشید احمد گنگوہی صاحب فرماتے ہیں:
"البتہ چار مصلی کو مکہ میں مقرر کئے ہیں لاریب یہ امر زبوں ہے کہ تکرار جماعات و افتراق اس سے لازم آ گیا کہ ایک جماعت ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی اور شریک جماعت نہیں ہوتی اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں"
(تالیفات رشیدیہ ص517)
مثلاً: اہل حدیث کے بارے میں اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں:
"اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تراویح کے بدعتی بتلاتے ہیں"
(امداد الفتاویٰ ج4ص562)
اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں جتنے مدارس حنفیوں کے ہیں، سارے زندیقوں کے ہیں۔"جو شخص امام بخاری کی کتاب (صحیح بخاری) پڑھتا ہے وہ زندیق ہو جاتا ہے"
(شذرات الذہب ج7ص40َ)