• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحت حديث

فہد ظفر

رکن
شمولیت
اکتوبر 15، 2011
پیغامات
193
ری ایکشن اسکور
243
پوائنٹ
95
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

میرا سوال یہ ہے کی علامہ البانی رحمه الله نے اپنی کتاب ضعيف سنن النسائى صفحہ ١٠٣ کتاب الطلاق حديث نمبر ٣٤٠١ محمود بن لبيد والى حديث كو ضعيف کہا ہے اور پھر اپنی کتاب غاية المرام صفحہ ١٦٤، ١٦٥ پے اسی حدیث کو صحيح کہا ہے تو ان دونوں میں کیا مطابقت ہو سکتی ہے مهربانى کرکے مجھے تفصیل سے جواب ارسال کریں ، الله آپکو جزاے خیر دے
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
علامہ البانی رحمہ اللہ کے کلام میں اس قسم کی کچھ چیزیں موجود ہیں جنہیں اخطا یا عثرات یا تناقضات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ کے اس قسم کے کلام میں کہ جس میں وہ ایک ہی روایت کے بارے دو مختلف قسم کے حکم لگا رہے ہوتے ہیں، دو قسم کے رویے دیکھے گئے ہیں:

ایک رویہ تو ان کے مخالفین کا ہے جیسا کہ حسن بن علی سقاف نے ’تناقضات الالبانی الواضحات‘ کے نام سے ان کی ایسی تمام روایات جمع کر دی ہیں جن میں بظاہر تناقض ہے۔
دوسرا رویہ جسے علامہ رحمہ اللہ کے شاگردوں اور متبعین نے اختیار کیا ہے کہ وہ اس قسم کے اختلافات کی ہر ایسی ممکن توجیہ کرتے ہیں کہ جس سے ان کے بیانات میں جمع ممکن ہو سکے جیسا کہ عبد اللہ بن فہد الخلیفی کی کتاب ’التوفیق الربانی فی الذب عن العلامۃ الالبانی‘ ہے۔

میرے خیال میں دوسرا رویہ بہتر ہے بشرطیکہ اس میں غلو نہ ہو یعنی بعض اوقات معاملہ یہ ہوتا ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے شروع میں ایک سند پر اپنی معلومات کے مطابق حکم لگا دیا، بعد میں ان کی معلومات اپ ڈیٹ ہو گئیں تو حکم بھی بدل گیا۔ اسے ہم اپنی زبان میں رجوع کہتے ہیں۔ پس جہاں محسوس ہوتا ہو کہ علامہ البانی رحمہ اللہ کے آخری حکم کا پہلے حکم کے ساتھ جمع ممکن نہیں ہے تو وہاں رجوع کا قول اختیار کرنا چاہیے اور جمع میں تکلف درست نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں ہے۔ اس بارے 'تراجعات الشیخ الالبانی فی بعض أحکامہ الحدیثیۃ' ایک اچھا کتابچہ ہے۔

مذکورہ بالا روایت کے بارے علامہ البانی رحمہا اللہ کے متفرق اقوال دیکھنے کے بعد راقم کو محسوس ہوتا ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کی تضعیف سے تصحیح کی طرف رجوع کر لیا تھا اور اپنے قول سے رجوع کرنا کوئی عیب نہیں ہے۔ ائمہ اربعہ بلکہ خلفائے راشدین تک علم میں اضافہ کے ساتھ اپنے سابقہ اقوال سے رجوع کر لیا کرتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top