الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
صحيح البخاري - مولانا محمد داؤد راز رحمہ اللہ - جلد ٥ - احادیث ٣٧٧٦سے ٤٨٣٥
20- بَابُ: {إِذْ تُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلاَ تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلاَ مَا أَصَابَكُمْ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ}، {تُصْعِدُونَ} تَذْهَبُونَ، أَصْعَدَ وَصَعِدَ فَوْقَ الْبَيْتِ. باب: ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ) وہ وقت یاد کرو جب تم چڑھے جا رہے تھے اور پیچھے مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول تم کو پکار رہے تھے ، تمہارے پیچھے سے ، سو اللہ نے تمہیں غم دیا ، غم کی پاداش میں ، تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس مصیبت سے جو تم پر آ پڑی اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے ۔
حدیث نمبر: 4067
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ، فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ. مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تیر اندازوں کے) پیدل دستہ کا امیر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کو بنایا تھا لیکن وہ لوگ شکست خوردہ ہو کر آئے۔ (آیت «يدعوهم الرسول في أخراهم.» ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی) اور یہ ہزیمت اس وقت پیش آئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے۔
21- بَابُ: {ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لاَ يُبْدُونَ لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ}: باب: ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ) پھر اس نے اس غم کے بعد تمہارے اوپر راحت یعنی غنودگی نازل کی کہ اس کا تم میں سے ایک جماعت پر غلبہ ہو رہا تھا اور ایک جماعت وہ تھی کہ اسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی ، یہ اللہ کے بارے میں خلاف حق اور جاہلیت کے خیالات قائم کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ کیا ہم کو بھی کچھ اختیار ہے ؟ آپ کہہ دیجئیے کہ اختیار تو سب اللہ کا ہے ، یہ لوگ دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہمارا اختیار چلتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے ، آپ کہہ دیجئیے کہ اگر تم گھروں میں ہوتے تب بھی وہ لوگ جن کے لیے قتل مقدر ہو چکا تھا ، اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل ہی پڑتے اور یہ سب اس لیے ہوا کہ اللہ تمہارے دلوں کی آزمائش کرے اور تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے صاف کرے اور اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو خوب جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 4068
وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ تَغَشَّاهُ النُّعَاسُ يَوْمَ أُحُدٍ، حَتَّى سَقَطَ سَيْفِي مِنْ يَدِي مِرَارًا، يَسْقُطُ وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ فَآخُذُهُ. اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں غزوہ احد کے موقع پر اونگھ نے آ گھیرا تھا اور اسی حالت میں میری تلوار کئی مرتبہ (ہاتھ سے چھوٹ کر بے اختیار) گر پڑی تھی۔ میں اسے اٹھا لیتا، پھر گر جاتی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا۔
21 م- بَابُ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}: باب: ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ) آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ، اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں
قَالَ حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ شُجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: «كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ». فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ. حمید اور ثابت بنانی نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کو زخمی کر دیا۔ اس پر (آیت) «ليس لك من الأمر شىء» نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 4069
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا». بَعْدَ مَا يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ». فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ إِلَى قَوْلِهِ: فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ. ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں (صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام) کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ یہ دعا آپ «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ليس لك من الأمر شىء» سے «فإنهم ظالمون» (آل عمران: 128) تک نازل کی۔
حدیث نمبر: 4070
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ إِلَى قَوْلِهِ: فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ. اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء»سے «فإنهم ظالمون» تک نازل ہوئی۔
22- بَابُ ذِكْرِ أُمِّ سَلِيطٍ: باب: ام سلیط رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 4071
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ مُرُوطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَبَقِيَ مِنْهَا مِرْطٌ جَيِّدٌ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَعْطِ هَذَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَكَ. يُرِيدُونَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ. فَقَالَ عُمَرُ أُمُّ سَلِيطٍ أَحَقُّ بِهِ. وَأُمُّ سَلِيطٍ مِنْ نِسَاءِ الأَنْصَارِ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ فَإِنَّهَا كَانَتْ تُزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ. ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ثعلبہ بن ابی مالک نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں چادریں تقسیم کروائیں۔ ایک عمدہ قسم کی چادر باقی بچ گئی تو ایک صاحب نے جو وہیں موجود تھے، عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کو دے دیجئیے جو آپ کے نکاح میں ہیں۔ ان کا اشارہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ ام سلیط رضی اللہ عنہا ان سے زیادہ مستحق ہیں۔ ام سلیط رضی اللہ عنہا کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غزوہ احد میں وہ ہمارے لیے پانی کی مشک بھربھر کر لاتی تھیں۔
23- بَابُ قَتْلُ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 4072
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ. وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ، كَأَنَّهُ حَمِيتٌ. قَالَ فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ بِيَسِيرٍ، فَسَلَّمْنَا، فَرَدَّ السَّلاَمَ، قَالَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ، مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلاَّ عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَا وَحْشِيُّ أَتَعْرِفُنِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لاَ وَاللَّهِ إِلاَّ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا أُمُّ قِتَالٍ بِنْتُ أَبِي الْعِيصِ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلاَمًا بِمَكَّةَ، فَكُنْتُ أَسْتَرْضِعُ لَهُ، فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلاَمَ مَعَ أُمِّهِ، فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَى قَدَمَيْكَ. قَالَ فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ أَلاَ تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِي مَوْلاَيَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ، قَالَ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ- وَعَيْنَيْنِ جَبَلٌ بِحِيَالِ أُحُدٍ، بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ- خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ، فَلَمَّا اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ خَرَجَ سِبَاعٌ فَقَالَ هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ يَا سِبَاعُ يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ- قَالَ- وَكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ فَلَمَّا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ- قَالَ- فَكَانَ ذَاكَ الْعَهْدَ بِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ، حَتَّى فَشَا فِيهَا الإِسْلاَمُ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ، فَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولاً، فَقِيلَ لِي إِنَّهُ لاَ يَهِيجُ الرُّسُلَ- قَالَ- فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «آنْتَ وَحْشِيٌّ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ: «أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ». قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا بَلَغَكَ. قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ وَجْهَكَ عَنِّي». قَالَ فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ قُلْتُ لأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ- قَالَ- فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ- قَالَ- فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ، كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرُ الرَّأْسِ- قَالَ- فَرَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ- قَالَ- وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ. قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ وَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَتَلَهُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ. مجھ سے ابو جعفر محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجین بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن فضل نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہمیں عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب حمص پہنچے تو مجھ سے عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ کو وحشی(ابن حرب حبشی جس نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور ہندہ زوجہ ابوسفیان نے ان کی لاش کا مثلہ کیا تھا) سے تعارف ہے۔ ہم چل کے ان سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں معلوم کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ضرور چلو۔ وحشی حمص میں موجود تھے۔ چنانچہ ہم نے لوگوں سے ان کے بارے میں معلوم کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں، جیسے کوئی بڑا سا کپا ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم ان کے پاس آئے اور تھوڑی دیر ان کے پاس کھڑے رہے۔ پھر سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ بیان کیا کہ عبیداللہ نے اپنے عمامہ کو جسم پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں دیکھ سکتے تھے۔ عبیداللہ نے پوچھا: اے وحشی! کیا تم نے مجھے پہچانا؟ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس نے عبیداللہ کو دیکھا اور کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اسے ام قتال بنت ابی العیص کہا جاتا تھا پھر مکہ میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور میں اس کے لیے کسی دایا کی تلاش کے لیے گیا تھا۔ پھر میں اس بچے کو اس کی (رضاعی) ماں کے پاس لے گیا اور اس کی والدہ بھی ساتھ تھی۔ غالباً میں نے تمہارے پاؤں دیکھے تھے۔ بیان کیا کہ اس پر عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیا اور کہا، ہمیں تم حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات بتا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا (طعیمہ) کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔ انہوں نے بتایا کہ پھر جب قریش عینین کی جنگ کے لیے نکلے۔ عینین احد کی ایک پہاڑی ہے اور اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے۔ تو میں بھی ان کے ساتھ جنگ کے ارادہ سے ہو لیا۔ جب (دونوں فوجیں آمنے سامنے) لڑنے کے لیے صف آراء ہو گئیں تو (قریش کی صف میں سے) سباع بن عبدالعزیٰ نکلا اور اس نے آواز دی، ہے کوئی لڑنے والا؟ بیان کیا کہ (اس کی اس دعوت مبازرت پر) امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نکل کر آئے اور فرمایا، اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی، تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے آیا ہے؟ بیان کیا کہ پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا (اور اسے قتل کر دیا) اب وہ واقعہ گزرے ہوئے دن کی طرح ہو چکا تھا۔ وحشی نے بیان کیا کہ ادھر میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا اور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا، نیزہ ان کی ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کی سرین کے پار ہو گیا۔ بیان کیا کہ یہی ان کی شہادت کا سبب بنا، پھر جب قریش واپس ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا اور مکہ میں مقیم رہا۔ لیکن جب مکہ بھی اسلامی سلطنت کے تحت آ گیا تو میں طائف چلا گیا۔ طائف والوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قاصد بھیجا تو مجھ سے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ انبیاء کسی پر زیادتی نہیں کرتے (اس لیے تم مسلمان ہو جاؤ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تمہاری پچھلی تمام غلطیاں معاف ہو جائیں گی) چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا، کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نکل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا۔ اب میں نے سوچا کہ مجھے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ ممکن ہے میں اسے قتل کر دوں اور اس طرح حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدل ہو سکے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں بھی اس کے خلاف جنگ کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نکلا۔ اس سے جنگ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔ بیان کیا کہ (میدان جنگ میں) میں نے دیکھا کہ ایک شخص (مسیلمہ) ایک دیوار کی دراز سے لگا کھڑا ہے۔ جیسے گندمی رنگ کا کوئی اونٹ ہو۔ سر کے بال منتشر تھے۔ بیان کیا کہ میں نے اس پر بھی اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا۔ نیزہ اس کے سینے پر لگا اور شانوں کو پار کر گیا۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک صحابی انصاری جھپٹے اور تلوار سے اس کی کھوپڑی پر مارا۔ انہوں (عبدالعزیز بن عبداللہ) نے کہا، ان سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا کہ پھر مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ (مسیلمہ کے قتل کے بعد) ایک لڑکی نے چھت پر کھڑی ہو کر اعلان کیا کہ امیرالمؤمنین کو ایک کالے غلام (یعنی وحشی) نے قتل کر دیا۔
24- بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِرَاحِ يَوْمَ أُحُدٍ: باب: غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم پہنچے تھے ان کا بیان
حدیث نمبر: 4073
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِنَبِيِّهِ- يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ- اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ». ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر انتہائی سخت ہوا جس نے اس کے نبی کے ساتھ یہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ آگے کے دندان مبارک (کے ٹوٹ جانے) کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص (ابی بن خلف) پر انتہائی سخت ہوا۔ جسے اس کے نبی نے اللہ کے راستے میں قتل کیا۔
حدیث نمبر: 4074
حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مجھ سے مخلد بن مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کا اس شخص پر انتہائی غضب نازل ہوا جسے اللہ کے نبی نے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس قوم پر نازل ہوا جنہوں نے اللہ کے نبی کے چہرہ مبارک کو (غزوہ احد کے موقع پر) خون آلود کر دیا تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، وَهْوَ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ وَبِمَا دُووِيَ- قَالَ- كَانَتْ فَاطِمَةُ- عَلَيْهَا السَّلاَمُ- بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُهُ وَعَلِيٌّ يَسْكُبُ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لاَ يَزِيدُ الدَّمَ إِلاَّ كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَئِذٍ، وَجُرِحَ وَجْهُهُ، وَكُسِرَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ. ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (غزوہ احد کے موقع پر ہونے والے) زخموں کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے بیان کیا کہاللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو کس نے دھویا تھا اور کون ان پر پانی ڈال رہا تھا اور جس دوا سے آپ کا علاج کیا گیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی خون کو دھو رہی تھیں۔ علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون اور زیادہ نکلا آ رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا اور پھر اسے زخم پر چپکا دیا جس سے خون کا آنا بند ہو گیا۔ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہو گیا تھا اور خود سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی۔
حدیث نمبر: 4076
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ دَمَّى وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس شخص پر نازل ہوا جسے اللہ کے نبی نے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس شخص پر نازل ہوا جس نے (یعنی عبداللہ بن قمیہ نے لعنتہ اللہ علیہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو خون آلود کیا تھا۔
26- بَابُ: {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ}: باب: ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ) وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
حدیث نمبر: 4077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ قَالَتْ لِعُرْوَةَ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ أَبُوكَ مِنْهُمُ الزُّبَيْرُ وَأَبُو بَكْرٍ، لَمَّا أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَانْصَرَفَ عَنْهُ الْمُشْرِكُونَ خَافَ أَنْ يَرْجِعُوا قَالَ: «مَنْ يَذْهَبُ فِي إِثْرِهِمْ». فَانْتَدَبَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلاً، قَالَ: كَانَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ. ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ (آیت) «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا۔ انہوں نے عروہ سے اس آیت کے متعلق کہا، میرے بھانجے! تمہارے والد زبیر رضی اللہ عنہ اور (نانا) ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ احد کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ تکلیف پہنچنی تھی جب وہ پہنچی اور مشرکین واپس جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا خطرہ ہوا کہ کہیں وہ پھر لوٹ کر حملہ نہ کریں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا پیچھا کرنے کون کون جائیں گے۔ اسی وقت ستر صحابہ رضی اللہ عنہم تیار ہو گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔
27- بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ: باب: جن مسلمانوں نے غزوہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان
مِنْهُمْ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَالْيَمَانُ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ. ان ہی میں حمزہ بن عبدالمطلب، ابوحذیفہ الیمان، انس بن نضر اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔
حدیث نمبر: 4078
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ أَكْثَرَ شَهِيدًا أَعَزَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ الْيَمَامَةِ سَبْعُونَ، قَالَ وَكَانَ بِئْرُ مَعُونَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَوْمُ الْيَمَامَةِ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ. ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ عرب کے تمام قبائل میں کوئی قبیلہ انصار کے مقابلے میں اس عزت کو حاصل نہیں کر سکا کہ اس کے سب سے زیادہ آدمی شہید ہوئے اور وہ قبیلہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عزت کے ساتھ اٹھے گا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ غزوہ احد میں قبیلہ انصار کے ستر آدمی شہید ہوئے اور بئرمعونہ کے حادثہ میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے اور یمامہ کی لڑائی میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے۔ راوی نے بیان کیا کہ بئرمعونہ کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں پیش آیا تھا اور یمامہ کی جنگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی جو مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 4079
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ». فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدٍ، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا. ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو آگے فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔
حدیث نمبر: 4080
وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَبْكِيهِ أَوْ مَا تَبْكِيهِ، مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ». اور ابوالولید نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے تو میں رونے لگا اور باربار ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا۔ صحابہ مجھے روکتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا۔ (فاطمہ بنت عمر رضی اللہ عنہا عبداللہ کی بہن بھی رونے لگیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ روؤ مت۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تبكيه» فرمایا، یا «ما تبكيه» ۔ راوی کو شک ہو گیا) فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو اٹھا لیا گیا۔
حدیث نمبر: 4081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُرَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ بِهِ اللَّهُ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ، فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ». ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا اور اس سے اس کی دھار ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کے اس نقصان کی شکل میں ظاہر ہوئی جو غزوہ احد میں انہیں اٹھانا پڑا تھا۔ پھر میں نے دوبارہ اس تلوار کو ہلایا، تو پھر وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ ہو گئی جیسی پہلے تھی۔ اس کی تعبیر اللہ تعالیٰ نے فتح اور مسلمانوں کے پھر از سر نو اجتماع کی صورت میں ظاہر کی۔ میں نے اسی خواب میں ایک گائے دیکھی تھی (جو ذبح ہو رہی تھی) اور اللہ تعالیٰ کے تمام کام خیر و برکت لیے ہوتے ہیں۔ اس کی تعبیر وہ مسلمان تھے (جو) احد کی لڑائی میں (شہید ہوئے)۔
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَتْرُكْ إِلاَّ نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ». أَوْ قَالَ: «أَلْقُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ». وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا. ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا۔ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ثواب دیتا۔ ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو اللہ سے جا ملے اور (دنیا میں) انہوں نے اپنا کوئی ثواب نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ غزوہ احد میں انہوں نے شہادت پائی اور ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز انہوں نے نہیں چھوڑی۔ اس چادر سے (کفن دیتے وقت) جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا «غطوا بها رأسه، واجعلوا على رجليه الإذخر» چادر سے سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا «ألقوا على رجليه من الإذخر» یعنی ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے) اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہیں ان کے اس عمل کا پھل (اسی دنیا میں) دے دیا گیا اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
28- بَابُ أُحُدٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ: باب: ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے
قَالَهُ عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. عباس بن سہل نے راوی ابوحمید سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنِينَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيأَبِي، عَنْقُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْقَتَادَةَ، سَمِعْتُأَنَسًارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ". ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں قرہ بن خالد نے، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4084
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَامَالِكٌ، عَنْعَمْرٍومَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ: "هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا". ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (خیبر سے واپس ہوتے ہوئے) احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں ان دو پتھریلے میدانوں کے درمیان والے علاقے (مدینہ منورہ) کو حرمت والا شہر قرار دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 4085
حَدَّثَنِيعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَااللَّيْثُ، عَنْيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْأَبِي الْخَيْرِ، عَنْعُقْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: "إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا". مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا (آپ حوض کوثر نے یوں فرمایا) «مفاتيح الأرض» یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے)۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔