الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
صحيح البخاري - مولانا محمد داؤد راز رحمہ اللہ - جلد ٥ - احادیث ٣٧٧٦سے ٤٨٣٥
حدیث نمبر: 4173 حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَاأَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَاإِسْرَائِيلُ، عَنْمَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْأَبِيهِوَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ، قَالَ: "إِنِّي لَأُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ". ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے مجزاۃ بن زاہر اسلمی نے اور ان سے ان کے والد زاہر بن اسود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں ہانڈی میں گدھے کا گوشت ابال رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گدھے کے گوشت کے کھانے سے منع فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4174 وَعنمجزأة، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُأُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ،"وَكَانَ اشْتَكَى رُكْبَتَهُ وَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتِهِ وِسَادَةً. اور مجزاۃ نے اپنے ہی قبیلہ کے ایک صحابی کے متعلق جو بیعت رضوان میں شریک تھے اور جن کا نام اہبان بن اوس رضی اللہ عنہ تھا ‘ نقل کیا کہ ان کے ایک گھٹنے میں تکلیف تھی ‘ اس لیے جب وہ سجدہ کرتے تو اس گھٹنے کے نیچے کوئی نرم تکیہ رکھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4175 حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَاابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْبُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ،"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلَاكُوهُ، تَابَعَهُمُعَاذٌ، عَنْشُعْبَةَ. ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 4176 حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَاشَاذَانُ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْأَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِذَ بْنَ عَمْرٍورَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ ؟ قَالَ: "إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ فَلَا تُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ". ہم سے محمد بن حاتم بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شاذان (اسود بن عامر) نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا کہانہوں نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور بیعت رضوان میں شریک تھے کہ کیا وتر کی نماز (ایک رکعت اور پڑھ کر) توڑی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر شروع رات میں تو نے وتر پڑھ لیا ہو تو آخر رات میں نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 4177 حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَامَالِكٌ، عَنْزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْأَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا، فَسَأَلَهُعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِعَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُكَ، قَالَ عُمَرُ: فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ الْمُسْلِمِينَ وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي، قَالَ: فَقُلْتُ: لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ، وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ"، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا. مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور انہیں ان کے والد اسلم نے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر یعنی (سفر حدیبیہ) میں تھے، رات کا وقت تھا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کچھ پوچھا لیکن (اس وقت آپ وحی میں مشغول تھے ‘ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر نہ تھی) آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے دل میں) کہا: عمر! تیری ماں تجھ پر روئے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم نے تین مرتبہ سوال کیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور مسلمانوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہ نازل ہو جائے۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ میں نے سنا ‘ ایک شخص مجھے آواز دے رہا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سوچا کہ میں تو پہلے ہی ڈر رہا تھا کہ میرے بارے میں کہیں کوئی وحی نازل نہ ہو جائے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور وہ مجھے اس تمام کائنات سے زیادہ عزیز ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے۔ کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 4178 - 4179 حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُالزُّهْرِيَّحِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِيمَعْمَرٌ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ،وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يَزِيدُ، أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ، قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ، وَصَادُّوكَ عَنْ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ، فَقَالَ: "أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنْ الْبَيْتِ ؟ فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ، قَالَ: "امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ". ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ جب زہری نے یہ حدیث بیان کی (جو آگے مذکور ہوئی ہے) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا۔ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے بیان کیا ‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر جب آپ ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا اور اس پر نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک صحابی کو جاسوسی کے لیے بھیجا اور خود بھی سفر جاری رکھا۔ جب آپ غدیر الاشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس بھی خبریں لے کر آ گئے۔ جنہوں نے بتایا کہ قریش نے آپ کے مقابلے کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا ہے اور بہت سے قبائل کو بلایا ہے۔ وہ آپ سے جنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو کیا تمہارے خیال میں یہ مناسب ہو گا کہ میں ان کفار کی عورتوں اور بچوں پر حملہ کر دوں جو ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے ہمارا مقابلہ کیا تو اللہ عزوجل نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو محفوظ رکھا ہے اور اگر وہ ہمارے مقابلے پر نہیں آتے تو ہم انہیں ایک ہاری ہوئی قوم جان کر چھوڑ دیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ تو صرف بیت اللہ کے عمرہ کے لیے نکلے ہیں نہ آپ کا ارادہ کسی کو قتل کرنے کا ہے اور نہ کسی سے لڑائی کا۔ اس لیے آپ بیت اللہ تشریف لے چلیں۔ اگر ہمیں پھر بھی کوئی بیت اللہ تک جانے سے روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا نام لے کر سفر جاری رکھو۔
حدیث نمبر: 4180 - 4181 حَدَّثَنِيإِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَايَعْقُوبُ، حَدَّثَنِيابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْعَمِّهِ، أَخْبَرَنِيعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِأَنَّهُ، سَمِعَمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ،وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَيُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا: "أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ، وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا فَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ". مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے چچا محمد بن مسلم بن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ دونوں راویوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا تو عروہ نے مجھے اس میں جو کچھ خبر دی تھی ‘ اس میں یہ بھی تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور (قریش کا نمائندہ) سہیل بن عمرو حدیبیہ میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے صلح کی دستاویز لکھ رہے تھے اور اس میں سہیل نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ ہمارا اگر کوئی آدمی آپ کے یہاں پناہ لے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو جائے تو آپ کو اسے ہمارے حوالے کرنا ہی ہو گا تاکہ ہم اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ سہیل اس شرط پر اڑ گیا اور کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو قبول کر لیں اور مسلمان اس شرط پر کسی طرح راضی نہ تھے۔ مجبوراً انہوں نے اس پر گفتگو کی (کہا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مسلمان کو کافر کے سپرد کر دیں) سہیل نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا تو صلح بھی نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بھی تسلیم کر لی اور ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کر دیا (جو اسی وقت مکہ سے فرار ہو کر بیڑی کو گھسیٹتے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے تھے) (شرط کے مطابق مدت صلح میں مکہ سے فرار ہو کر) جو بھی آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کر دیتے ‘ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا۔ اس مدت میں بعض مومن عورتیں بھی ہجرت کر کے مکہ سے آئیں۔ ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط بھی ان میں سے ہیں جو اس مدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں ‘ وہ اس وقت نوجوان تھیں ‘ ان کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس کر دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں وہ آیت نازل کی جو شرط کے مناسب تھی۔
حدیث نمبر: 4182 قَالَابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِيعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: "إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12"، وَعَنْعَمِّهِ، قَالَ: بَلَغَنَا حِينَ أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرٍ فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ. ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آیت «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات» کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کو پہلے آزماتے تھے اور ان کے چچا سے روایت ہے کہ ہمیں وہ حدیث بھی معلوم ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے چلی آتی ہیں ان کے شوہروں کو وہ سب کچھ واپس کر دیا جائے جو اپنی ان بیویوں کو وہ دے چکے ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابوبصیر ‘ پھر انہوں نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 4183 حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ، عَنْمَالِكٍ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، خَرَجَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، فَقَالَ: "إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ". ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کے ارادہ سے نکلے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر بیت اللہ جانے سے مجھے روک دیا گیا تو میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ آپ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صلح حدیبیہ کے موقع پر صرف عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 4184 حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَايَحْيَى، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْنَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ وَقَالَ: "إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ، وَتَلَا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21". ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے ‘ ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احرام باندھا اور کہا کہ اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روکا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ جب آپ کو کفار قریش نے بیت اللہ جانے سے روکا تو اس آیت کی تلاوت کی کہ «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» یقیناً تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حدیث نمبر: 4185 حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَاجُوَيْرِيَةُ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ،وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِأَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا كَلَّمَاعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ. ح وَحَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاجُوَيْرِيَةُ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَلَهُ: لَوْ أَقَمْتَ الْعَامَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ، وَقَالَ: "أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ"، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: مَا أُرَى شَأْنَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا". ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے ‘ ان کو عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی لڑکے نے ان سے کہا ‘ اگر اس سال آپ (عمرہ کرنے) نہ جاتے تو بہتر تھا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے تو کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور وہیں (حدیبیہ میں) ذبح کر دیئے اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بال چھوٹے کروا لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر ایک عمرہ واجب کر لیا ہے (اور اسی طرح تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی وہ واجب ہو گیا) اگر آج مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کر لوں گا اور اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر تھوڑی دور چلے اور کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج کو بھی ضروری قرار دے لیا ہے اور کہا میری نظر میں تو حج اور عمرہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں ‘ پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور ایک سعی کی (جس دن مکہ پہنچے) اور دونوں ہی کو پورا کیا۔
حدیث نمبر: 4186 حَدَّثَنِيشُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، سَمِعَالنَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَاصَخْرٌ، عَنْنَافِعٍ، قَالَ: "إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ وَلَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، وَعُمَرُ لَا يَدْرِي بِذَلِكَ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْفَرَسِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ، فَأَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّى بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ". مجھ سے شجاع بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے نضر بن محمد سے سنا ‘ کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عبداللہ، عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنا ایک گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا ‘ جو ایک انصاری صحابی کے پاس تھا تاکہ اسی پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوں۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لے رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ابھی اس کی اطلاع نہیں ہوئی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے بیعت کی پھر گھوڑا لینے گئے۔ جس وقت وہ اسے لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ جنگ کے لیے اپنی زرہ پہن رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمدرخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ اپنے لڑکے کو ساتھ لے گئے اور بیعت کی۔ اتنی سی بات تھی جس پر لوگ اب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسلام لائے تھے۔
حدیث نمبر: 4187 وَقَالَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ: حَدَّثَنَاالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَاعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، أَخْبَرَنِينَافِعٌ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: "أَنَّ النَّاسَ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ تَفَرَّقُوا فِي ظِلَالِ الشَّجَرِ، فَإِذَا النَّاسُ مُحْدِقُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُمْ يُبَايِعُونَ، فَبَايَعَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عُمَرَ فَخَرَجَ فَبَايَعَ". اور ہشام بن عمار نے بیان کیا ‘ ان سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ ان سے عمر بن عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ مختلف درختوں کے سائے میں پھیل گئے تھے۔ پھر اچانک بہت سے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف جمع ہو گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹا عبداللہ! دیکھو تو سہی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کیوں ہو گئے ہیں؟ انہوں نے دیکھا تو صحابہ بیعت کر رہے تھے۔ چنانچہ پہلے انہوں نے خود بیعت کر لی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو آ کر خبر دی پھر وہ بھی گئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔
حدیث نمبر: 4188 حَدَّثَنَاابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَايَعْلَى، حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيلُ، قَالَ: سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ، فَطُفْنَا مَعَهُ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ". ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعلیٰ بن عبید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ (قضاء) کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کی سعی بھی کی۔ ہم آپ کی اہل مکہ سے حفاظت کرتے تھے تاکہ کوئی تکلیف کی بات آپ کو پیش نہ آ جائے۔
حدیث نمبر: 4189 حَدَّثَنَاالْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَامَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا حَصِينٍ، قَالَ: قَالَأَبُو وَائِلٍ: "لَمَّا قَدِمَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍمِنْ صِفِّينَ أَتَيْنَاهُ نَسْتَخْبِرُهُ، فَقَالَ: اتَّهِمُوا الرَّأْيَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ لَرَدَدْتُ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ قَبْلَ هَذَا الْأَمْرِ، مَا نَسُدُّ مِنْهَا خُصْمًا إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا خُصْمٌ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَأْتِي لَهُ". ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابوحصین سے سنا ‘ ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جب جنگ صفین (جو علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ میں ہوئی تھی) سے واپس آئے تو ہم ان کی خدمت میں حالات معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے بارے میں تم لوگ اپنی رائے اور فکر پر نازاں مت ہو۔ میں یوم ابوجندل (صلح حدیبیہ) میں بھی موجود تھا۔ اگر میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ماننے سے انکار ممکن ہوتا تو میں اس دن ضرور حکم عدولی کرتا۔ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں کہ جب ہم نے کسی مشکل کام کے لیے اپنی تلواروں کو اپنے کاندھوں پر رکھا تو صورت حال آسان ہو گئی اور ہم نے مشکل حل کر لی۔ لیکن اس جنگ کا کچھ عجیب حال ہے ‘ اس میں ہم (فتنے کے) ایک کونے کو بند کرتے ہیں تو دوسرا کونا کھل جاتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہم کو کیا تدبیر کرنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 4190 حَدَّثَنَاسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَاحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْأَيُّوبَ، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: "أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟"قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: "فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي بِأَيِّ هَذَا بَدَأَ. ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے ‘ ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ عمرہ حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ جوئیں جو تمہارے سر سے گر رہی ہیں ‘ تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سر منڈوا لو اور تین دن روزہ رکھ لو یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دو یا پھر کوئی قربانی کر ڈالو۔ (سر منڈوانے کا فدیہ ہو گا) ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان تینوں امور میں سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی بات ارشاد فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 4191 حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَاهُشَيْمٌ، عَنْأَبِي بِشْرٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟"قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196. مجھ سے ابوعبداللہ محمد بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ان سے ابوبشر نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ ادھر مشرکین ہمیں بیت اللہ تک جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میرے سر پر بال بڑے بڑے تھے جن سے جوئیں میرے چہرے پر گرنے لگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ کیا یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» پس اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دینے والی چیز ہو تو اسے(بال منڈوا لینے چاہئیں اور) تین دن کے روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا چاہیے۔
37- بَابُ قِصَّةِ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ: باب: قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ
حدیث نمبر: 4192
حَدَّثَنِيعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَايَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَاسَعِيدٌ، عَنْقَتَادَةَ، أَنَّأَنَسًارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَهُمْ: "أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ، وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا نَاحِيَةَ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ، فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ، وَتُرِكُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ"، قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ: "كَانَ يَحُثُّ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ"، وَقَالَشُعْبَةُ،وَأَبَانُ،وَحَمَّادٌ: عَنْقَتَادَةَ، مِنْ عُرَيْنَةَ، وَقَالَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ،وَأَيُّوبُ: عَنْأَبِي قِلَابَةَ،عَنْأَنَسٍ: قَدِمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ. مجھ سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبائل عکل و عرینہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ آئے اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم لوگ مویشی رکھتے تھے ‘ کھیت وغیرہ ہمارے پاس نہیں تھے ‘ (اس لیے ہم صرف دودھ پر بسر اوقات کیا کرتے تھے) اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا ناموافق آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اونٹ اور چرواہا ان کے ساتھ کر دیا اور فرمایا کہ انہیں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو (تو تمہیں صحت حاصل ہو جائے گی) وہ لوگ (چراگاہ کی طرف) گئے۔ لیکن مقام حرہ کے کنارے پہنچتے ہی وہ اسلام سے پھر گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو لے کر بھاگنے لگے۔ اس کی خبر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے چند صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا۔ (وہ پکڑ کر مدینہ لائے گئے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے (کیونکہ انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا) اور انہیں حرہ کے کنارے چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ اسی حالت میں مر گئے۔ قتادہ نے بیان کیا کہ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد صحابہ کو صدقہ کا حکم دیا اور مثلہ (مقتول کی لاش بگاڑنا یا ایذا دے کر اسے قتل کرنا) سے منع فرمایا اور شعبہ ‘ ابان اور حماد نے قتادہ سے بیان کیا کہ (یہ لوگ) عرینہ کے قبیلے کے تھے (عکل کا نام نہیں لیا) اور یحییٰ بن ابی کثیر اور ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ آئے۔
حدیث نمبر: 4193
حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَاحَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، حَدَّثَنَاحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَاأَيُّوبُ، وَالْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبُو رَجَاءٍمَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، وَكَانَ مَعَهُ بِالشَّأْمِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ اسْتَشَارَ النَّاسَ يَوْمًا، قَالَ: "مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْقَسَامَةِ ؟"، فَقَالُوا: حَقٌّ قَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَضَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ قَبْلَكَ، قَالَ: وَأَبُو قِلَابَةَ خَلْفَ سَرِيرِهِ، فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: فَأَيْنَ حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الْعُرَنِيِّينَ ؟، قَالَأَبُو قِلَابَةَ: إِيَّايَ، حَدَّثَهُأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْأَنَسٍ، مِنْ عُرَيْنَةَ، وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: عَنْ أَنَسٍ، مِنْ عُكْلٍ ذَكَرَ الْقِصَّةَ. مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعمر حفص بن عمر الحوضی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب اور حجاج صواف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوقلابہ کے مولیٰ ابورجاء نے بیان کیا ‘ وہ ابوقلابہ کے ساتھ شام میں تھے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن لوگوں سے مشورہ کیا کہ اس قسامہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ حق ہے۔ اس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر خلفاء راشدین آپ سے پہلے کرتے رہے ہیں۔ ابورجاء نے بیان کیا کہ اس وقت ابوقلابہ ‘ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے تخت کے پیچھے تھے۔ اتنے میں عنبسہ بن سعید نے کہا کہ پھر قبیلہ عرینہ کے لوگوں کے بارے میں انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کہاں گئی؟ اس پر ابوقلابہ نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ نے خود مجھ سے یہ بیان کیا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے(اپنی روایت میں) انس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے صرف عرینہ کا نام لیا اور ابوقلابہ نے اپنی روایت میں انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف عکل کا نام لیا پھر یہی قصہ بیان کیا۔
38- بَابُ غَزْوَةُ ذَاتِ الْقَرَدِ: باب: ذات قرد کی لڑائی کا بیان
وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ خَيْبَرَ بِثَلَاثٍ. یہ وہی غزوہ ہے جس میں مشرکین غطفان غزوہ خیبر سے تین دن پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھیل اونٹنیوں کو بھگا کر لے جا رہے تھے۔ یہ خیبر کی لڑائی سے تین رات پہلے کا واقعہ ہے۔
حدیث نمبر: 4194
حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَاحَاتِمٌ، عَنْيَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُسَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، يَقُولُ: خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدَ، قَالَ: فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا ؟ قَالَ: غَطَفَانُ، قَالَ: فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ: يَا صَبَاحَاهْ، قَالَ: فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ، وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ وكُنْتُ راميًا وَأَقُولُ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً، قَالَ: وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ، فَقَالَ: "يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ"، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ. ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ کہا میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں فجر کی اذان سے پہلے (مدینہ سے باہر غابہ کی طرف نکلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیاں ذات القرد میں چرا کرتی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ملے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑ لی گئیں ہیں۔ میں پوچھا کہ کس نے پکڑا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ قبیلہ غطفان والوں نے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے تین مرتبہ بڑی زور زور سے پکارا ‘ یا صباحاہ! انہوں نے بیان کیا کہ اپنی آواز میں نے مدینہ کے دونوں کناروں تک پہنچا دی اور اس کے بعد میں سیدھا تیزی کے ساتھ دوڑتا ہوا آگے بڑھا اور آخر انہیں جا لیا۔ اس وقت وہ جانوروں کو پانی پلانے کے لیے اترے تھے۔ میں نے ان پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ میں تیر اندازی میں ماہر تھا اور یہ شعر کہتا جاتا تھا میں ابن الاکوع ہوں ‘ آج ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے میں یہی رجز پڑھتا رہا اور آخر اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں بلکہ تیس چادریں ان کی میرے قبضے میں آ گئیں۔ سلمہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آ گئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تیر مار مار کر ان کو پانی نہیں دیا اور وہ ابھی پیاسے ہیں۔ آپ فوراً ان کے تعاقب کے لیے فوج بھیج دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن الاکوع! جب تو کسی پر قابو پا لے تو نرمی اختیار کر۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ پھر ہم واپس آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھا کر لائے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔
39- بَابُ غَزْوَةُ خَيْبَرَ: باب: غزوہ خیبر کا بیان حدیث نمبر: 4195
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْمَالِكٍ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْبُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّسُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ: "خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے۔ (بیان کیا) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے (چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا) اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 4196
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَاحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْيَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ: يَا عَامِرُ، أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ ؟ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا أَبْقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ هَذَا السَّائِقُ ؟"، قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: "يَرْحَمُهُ اللَّهُ"، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا هَذِهِ النِّيرَانُ ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟"، قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ، قَالَ: "عَلَى أَيِّ لَحْمٍ ؟"، قَالُوا: لَحْمِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا ؟، قَالَ: "أَوْ ذَاكَ"، فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا، فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَفَلُوا، قَالَ سَلَمَةُ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ: "مَا لَكَ ؟"، قُلْتُ لَهُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ". حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَاحَاتِمٌ، قَالَ: نَشَأَ بِهَا. ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ رات کے وقت ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک صاحب (اسید بن حضیر) نے عامر سے کہا: عامر! اپنے کچھ شعر سناؤ ‘ عامر شاعر تھے۔ اس فرمائش پر وہ سواری سے اتر کر حدی خوانی کرنے لگے۔ کہا اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا ‘ نہ ہم صدقہ کر سکتے اور نہ ہم نماز پڑھ سکتے۔ پس ہماری جلدی مغفرت کر، جب تک ہم زندہ ہیں ہماری جانیں تیرے راستے میں فدا ہیں اور اگر ہماری مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت رکھ ہم پر سکینت نازل فرما، ہمیں جب (باطل کی طرف) بلایا جاتا ہے تو ہم انکار کر دیتے ہیں، آج چلا چلا کر وہ ہمارے خلاف میدان میں آئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون شعر کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو انہیں شہادت کا مستحق قرار دے دیا ‘ کاش! ابھی اور ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر ہم خیبر آئے اور قلعہ کا محاصرہ کیا ‘ اس دوران ہمیں سخت تکالیف اور فاقوں سے گزرنا پڑا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جس دن قلعہ فتح ہونا تھا ‘ اس کی رات جب ہوئی تو لشکر میں جگہ جگہ آگ جل رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ آگ کیسی ہے ‘ کس چیز کے لیے اسے جگہ جگہ جلا رکھا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ گوشت پکانے کے لیے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس جانور کا گوشت ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ پالتو گدھوں کا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام گوشت پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی کر لو پھر (دن میں جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے جنگ کے لیے) صف بندی کی تو چونکہ عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی ‘ اس لیے انہوں نے جب ایک یہودی کی پنڈلی پر (جھک کر) وار کرنا چاہا تو خود انہیں کی تلوار کی دھار سے ان کے گھٹنے کا اوپر کا حصہ زخمی ہو گیا اور ان کی شہادت اسی میں ہو گئی۔ بیان کیا کہ پھر جب لشکر واپس ہو رہا تھا تو سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ‘ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا سارا عمل اکارت ہو گیا (کیونکہ خود اپنی ہی تلوار سے ان کی وفات ہوئی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹا ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے ‘ انہیں تو دوہرا اجر ملے گا پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا ‘ انہوں نے تکلیف اور مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا ‘ شاید ہی کوئی عربی ہو ‘ جس نے ان جیسی مثال قائم کی ہو۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حاتم نے (بجائے «مشى بها» کے) «نشأ بها» نقل کیا یعنی کوئی عرب مدینہ میں عامر رضی اللہ عنہ جیسا نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 4197
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَامَالِكٌ، عَنْحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى خَيْبَرَ لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ بِهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ الْيَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ". ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے رات کے وقت موقع پر پہنچتے تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے بلکہ صبح ہو جاتی جب کرتے۔ چنانچہ صبح کے وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے لیکن جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو شور کرنے لگے کہ محمد ‘ اللہ کی قسم! محمد لشکر لے کر آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوا ‘ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 4198
أَخْبَرَنَاصَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَاابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَاأَيُّوبُ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَبَّحْنَا خَيْبَرَ بُكْرَةً، فَخَرَجَ أَهْلُهَا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فقال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، فَأَصَبْنَا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ. ہمیں صدقہ بن فضل نے خبر دی ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر صبح کے وقت پہنچے ‘ یہودی اپنے پھاؤڑے وغیرہ لے کر باہر آئے لیکن جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو چلانے لگے محمد! اللہ کی قسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لشکر لے کر آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جائیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ پھر ہمیں وہاں گدھے کا گوشت ملا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کہ یہ ناپاک ہے۔
حدیث نمبر: 4199
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَاأَيُّوبُ، عَنْمُحَمَّدٍ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ، فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟، فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ ؟ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ: "إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ"، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ. ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی پھر دوبارہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے ‘ پھر وہ تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے اعلان کرایا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 4200
حَدَّثَنَاسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَاحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْثَابِتٍ، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ قَرِيبًا مِنْ خَيْبَرَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ، وَكَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ آنْتَ قُلْتَ لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا ؟ فَحَرَّكَ ثَابِتٌ رَأْسَهُ تَصْدِيقًا لَهُ. ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز خیبر کے قریب پہنچ کر ادا کی ‘ ابھی اندھیرا تھا پھر فرمایا ‘ اللہ کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔ خیبر برباد ہوا ‘ یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ پھر یہودی گلیوں میں ڈرتے ہوئے نکلے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنگ کرنے والے لوگوں کو قتل کرا دیا اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی تھیں۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئیں۔ چنانچہ آپ نے ان سے نکاح کر لیا اور مہر میں انہیں آزاد کر دیا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے ثابت سے پوچھا: ابو محمد! کیا تم نے یہ پوچھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو مہر کیا دیا تھا؟ ثابت رضی اللہ عنہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
حدیث نمبر: 4201
حَدَّثَنَاآدَمُ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا"، فَقَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ: "أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا فَأَعْتَقَهَا". ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیدیوں میں تھیں لیکن آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا تھا۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہر کیا دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ خود انہیں کو ان کے مہر میں دیا تھا یعنی انہیں آزاد کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4202
حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَايَعْقُوبُ، عَنْأَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا، فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقِيلَ: مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا صَاحِبُهُ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهُ، كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، قَالَ: فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ سَيْفَهُ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: "وَمَا ذَاكَ ؟"، قَالَ الرَّجُلُ: الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنَا لَكُمْ بِهِ، فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: "إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ". ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے لشکر کے ساتھ) مشرکین (یعنی) یہود خیبر کا مقابلہ کیا۔ دونوں طرف سے لوگوں نے جنگ کی ‘ پھر جب آپ اپنے خیمے کی طرف واپس ہوئے اور یہودی بھی اپنے خیموں میں واپس چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے متعلق کسی نے ذکر کیا کہ یہودیوں کا کوئی بھی آدمی اگر انہیں مل جائے تو وہ اس کا پیچھا کر کے اسے قتل کئے بغیر نہیں رہتے۔ کہا گیا کہ آج فلاں شخص ہماری طرف سے جتنی بہادری اور ہمت سے لڑا ہے شاید اتنی بہادری سے کوئی بھی نہیں لڑا ہو گا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر میں ان کے ساتھ ساتھ رہوں گا، بیان کیا کہ پھر وہ ان کے پیچھے ہو لیے جہاں وہ ٹھہرتے یہ بھی ٹھہر جاتے اور جہاں وہ دوڑ کر چلتے یہ بھی دوڑنے لگتے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صاحب زخمی ہو گئے ‘ انتہائی شدید طور پر اور چاہا کہ جلدی موت آ جائے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تلوار زمین میں گاڑ دی اور اس کی نوک سینہ کے مقابل کر کے اس پر گر پڑے اور اس طرح خودکشی کر لی۔ اب دوسرے صحابی(جو ان کی جستجو میں لگے ہوئے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پوچھا کیا بات ہے؟ ان صحابی نے عرض کیا کہ جن کے متعلق ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہیں تو لوگوں پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں تمہارے لیے ان کے پیچھے پیچھے جاتا ہوں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ ایک موقع پر جب وہ شدید زخمی ہو گئے تو اس خواہش میں کہ موت جلدی آ جائے اپنی تلوار انہوں نے زمین میں گاڑ دی اور اس کی نوک کو اپنے سینہ کے سامنے کر کے اس پر گر پڑ ے اور اس طرح انہوں نے خود اپنی جان کو ہلاک کر دیا۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان زندگی بھر جنت والوں کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرا شخص زندگی بھر اہل دوزخ کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4203 حَدَّثَنَاأَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَاشُعَيْبٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّأَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْنَا خَيْبَرَ،فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ: "هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحَةُ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحَةِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهَا أَسْهُمًا فَنَحَرَ بِهَا نَفْسَهُ، فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ: "قُمْ يَا فُلَانُ فَأَذِّنْ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ". تَابَعَهُمَعْمَرٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کی جنگ میں شریک تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کے متعلق جو آپ کے ساتھ تھے اور خود کو مسلمان کہتے تھے فرمایا کہ یہ شخص اہل دوزخ میں سے ہے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ صاحب بڑی پامردی سے لڑے اور بہت زیادہ زخمی ہو گئے۔ ممکن تھا کہ کچھ لوگ شبہ میں پڑ جاتے لیکن ان صاحب کے لیے زخموں کی تکلیف ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ترکش میں سے تیر نکالا اور اپنے سینہ میں چبھو دیا۔ یہ منظر دیکھ کر مسلمان دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کا فرمان سچ کر دکھایا۔ اس شخص نے خود اپنے سینے میں تیر چبھو کر خودکشی کر لی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے فلاں! جا اور اعلان کر دے کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت معمر نے زہری سے کی۔
حدیث نمبر: 4204 وَقَالَشَبِيبٌ، عَنْيُونُسَ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِيابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أنأبا هريرة، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، وَقَالَابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْيُونُسَ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْسَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَابَعَهُصَالِحٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، وَقَالَالزُّبَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِيالزُّهْرِيُّ، أَنَّعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيمَنْشَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، قَالَالزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِيعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَعِيدٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. اور شبیب نے یونس سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابن شہاب زہری سے ‘ انہیں سعید بن مسیب اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے اور ابن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس روایت کی متابعت صالح نے زہری سے کی اور زبیدی نے بیان کیا ‘ انہیں زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی اور انہیں عبیداللہ بن کعب نے خبر دی کہ مجھے ان صحابی نے خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے۔ زہری نے بیان کیا اور مجھے عبیداللہ بن عبداللہ اور سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے خبر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے۔
حدیث نمبر: 4205 حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْعَاصِمٍ، عَنْأَبِي عُثْمَانَ، عَنْأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، أَوْ قَالَ: لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ"، وَأَنَا خَلْفَ دَابَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ". ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ ان سے عاصم نے ‘ ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر لشکر کشی کی یا یوں بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خیبر کی طرف) روانہ ہوئے تو (راستے میں) لوگ ایک وادی میں پہنچے اور بلند آواز کے ساتھ تکبیر کہنے لگے اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہٰ الا اللہ اللہ سب سے بلند و برتر ہے ‘ اللہ سب سے بلند و برتر ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جانوں پر رحم کرو ‘ تم کسی بہرے کو یا ایسے شخص کو نہیں پکار رہے ہو ‘ جو تم سے دور ہو ‘ جسے تم پکار رہے ہو وہ سب سے زیادہ سننے والا اور تمہارے بہت نزدیک ہے بلکہ وہ تمہارے ساتھ ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے تھا۔ میں نے جب «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ میں نے عرض کیا ضرور بتائیے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کلمہ یہی ہے «لا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا یہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ کی مدد شامل ہو۔
حدیث نمبر: 4206 حَدَّثَنَاالْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَايَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: "رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِسَلَمَةَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ ؟ فَقَالَ: هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ". ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھ کر ان سے پوچھا: اے ابومسلم! یہ زخم کا نشان کیسا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ غزوہ خیبر میں مجھے یہ زخم لگا تھا ‘ لوگ کہنے لگے کہ سلمہ زخمی ہو گیا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس پر دم کیا ‘ اس کی برکت سے آج تک مجھے اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 4207 حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَاابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْسَهْلٍ، قَالَ: الْتَقَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَاقْتَتَلُوا، فَمَالَ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، وَفِي الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا فَضَرَبَهَا بِسَيْفِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجْزَأَ أَحَدٌ مَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، فَقَالَ: "إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَقَالُوا: أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: لَأَتَّبِعَنَّهُ، فَإِذَا أَسْرَعَ وَأَبْطَأَ كُنْتُ مَعَهُ، حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نِصَابَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "وَمَا ذَاكَ ؟"، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: "إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ". ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی حازم نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک غزوہ (خیبر) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کا مقابلہ ہوا اور خوب جم کر جنگ ہوئی آخر دونوں لشکر اپنے اپنے خیموں کی طرف واپس ہوئے اور مسلمانوں میں ایک آدمی تھا جنہیں مشرکین کی طرف کا کوئی شخص کہیں مل جاتا تو اس کا پیچھا کر کے قتل کئے بغیر وہ نہ رہتے۔ کہا گیا کہ یا رسول اللہ! جتنی بہادری سے آج فلاں شخص لڑا ہے ‘ اتنی بہادری سے تو کوئی نہ لڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ‘ اگر یہ بھی دوزخی ہے تو پھر ہم جیسے لوگ کس طرح جنت والے ہو سکتے ہیں؟ اس پر ایک صحابی بولے کہ میں ان کے پیچھے پیچھے رہوں گا۔ چنانچہ جب وہ دوڑتے یا آہستہ چلتے تو میں ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔ آخر وہ زخمی ہوئے اور چاہا کہ موت جلد آ جائے۔ اس لیے وہ تلوار کا قبضہ زمین میں گاڑ کر اس کی نوک سینے کے مقابل کر کے اس پر گر پڑے۔ اس طرح سے اس نے خودکشی کر لی۔ اب وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے تفصیل بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص بظاہر جنتیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا شخص بظاہر دوزخیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4208 حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَازِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْأَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: "نَظَرَأَنَسٌإِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَأَى طَيَالِسَةً، فَقَالَ: "كَأَنَّهُمُ السَّاعَةَ يَهُودُ خَيْبَرَ". ہم سے محمد بن سعید خزاعی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زیاد بن ربیع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوعمران نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (بصرہ کی مسجد میں) جمعہ کے دن لوگوں کو دیکھا کہ (ان کے سروں پر) چادریں ہیں جن پر پھول کڑھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اس وقت خیبر کے یہودیوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4209 حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَاحَاتِمٌ، عَنْيَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْسَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ رَمِدًا، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَحِقَ بِهِ، فَلَمَّا بِتْنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي فُتِحَتْ قَالَ: "لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا، أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُفْتَحُ عَلَيْهِ"، فَنَحْنُ نَرْجُوهَا، فَقِيلَ: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ، فَفُتِحَ عَلَيْهِ. ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ جا سکے تھے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔(جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا چکے) تو انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ سے پیچھے رہوں (ایسا نہیں ہو سکتا)؟ چنانچہ وہ بھی آ گئے۔ جس دن خیبر فتح ہونا تھا ‘ جب اس کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں (اسلامی)عَلم اس شخص کو دوں گا یا فرمایا کہ عَلم وہ شخص لے گا جسے اللہ اور اس کا رسول عزیز رکھتے ہیں اور جس کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گی۔ ہم سب ہی اس سعادت کے امیدوار تھے لیکن کہا گیا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا دیا اور انہیں کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔
حدیث نمبر: 4210 حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَايَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيسَهْلُ بْنُ سَعْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: "لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: "أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ؟"، فَقِيلَ: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، قَالَ: "فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ"، فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ، حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا ؟، فَقَالَ: "انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ". ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول بھی اسے عزیز رکھتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ وہ رات سب کی اس فکر میں گزر گئی کہ دیکھیں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عَلم کسے عطا فرماتے ہیں۔ صبح ہوئی تو سب خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور اس امید کے ساتھ کہ عَلم انہیں کو ملے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ تو آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ۔ جب وہ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے ان کی آنکھیں اتنی اچھی ہو گئیں جیسے پہلے کوئی بیماری ہی نہیں تھی۔ علی رضی اللہ عنہ نے عَلم سنبھال کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ ہمارے ہی جیسے نہ ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی چلتے رہو ‘ ان کے میدان میں اتر کر پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ اللہ کا ان پر کیا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 4211 حَدَّثَنَاعَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَايَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. ح وحَدَّثَنِيأَحْمَدُ، حَدَّثَنَاابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِييَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْعَمْرٍومَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ لِي: "آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ"، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَتَهُ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ وَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ. ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے احمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یعقوب بن عبدالرحمٰن زہری نے خبر دی ‘ انہیں مطلب کے مولیٰ عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر آئے پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کی فتح عنایت فرمائی تو آپ کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا کسی نے ذکر کیا ‘ ان کے شوہر قتل ہو گئے تھے اور ان کی شادی ابھی نئی ہوئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے لے لیا اور انہیں ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ آخر جب ہم مقام سد الصہباء میں پہنچے تو ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت فرمائی پھر آپ نے حیس بنایا۔ (جو کھجور کے ساتھ گھی اور پنیر وغیرہ ملا کر بنایا جاتا ہے) اور اسے چھوٹے سے ایک دستر خوان پر رکھ کر مجھ کو حکم فرمایا کہ جو لوگ تمہارے قریب ہیں انہیں بلا لو۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہی ولیمہ تھا۔ پھر ہم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے عبا اونٹ کی کوہان میں باندھ دی تاکہ پیچھے سے وہ اسے پکڑے رہیں اور اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا اس پر رکھا اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوئیں۔
حدیث نمبر: 4212 حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَخِي، عَنْسُلَيْمَانَ، عَنْيَحْيَى، عَنْحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، سَمِعَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، "أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى أَعْرَسَ بِهَا، وَكَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ". ہم سے اسماعیل بن ابواویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے لیے خیبر کے راستہ میں تین دن تک قیام فرمایا اور آخری دن ان سے خلوت فرمائی اور وہ بھی امہات المؤمنین میں شامل ہو گئیں۔
حدیث نمبر: 4213 حَدَّثَنَاسَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيحُمَيْدٌ، أَنَّهُ، سَمِعَأَنَسًارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِلَالًا بِالْأَنْطَاعِ، فَبُسِطَتْ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ". ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (مقام سد الصہباء میں)تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی (کا ملیدہ) رکھ دیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہیں رکھا تو پھر یہ اس کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ کیا۔
حدیث نمبر: 4214 حَدَّثَنَاأَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَاوَهْبٌ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "كُنَّا مُحَاصِرِي خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ، فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ". ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن بلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے چمڑے کی ایک کپی پھینکی جس میں چربی تھی ‘ میں اسے اٹھانے کے لیے دوڑا لیکن میں نے جو مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔
حدیث نمبر: 4215 حَدَّثَنِيعُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْأَبِي أُسَامَةَ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْنَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ"، نَهَى عَنْ أَكْلِ الثُّومِ، هُوَ عَنْ نَافِعٍ وَحْدَهُ، وَلُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، عَنْ سَالِمٍ. مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے ‘ ان سے نافع اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پالتو گدھوں کے کھانے سے منع فرمایا تھا۔ لہسن کھانے کی ممانعت کا ذکر صرف نافع سے منقول ہے اور پالتو گدھوں کے کھانے کی ممانعت صرف سالم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4216 حَدَّثَنِييَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَامَالِكٌ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْأَبِيهِمَا، عَنْعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ". مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ اور حسن نے جو دونوں محمد بن علی کے صاحبزادے ہیں ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کی ممانعت کی تھی اور پالتو گدھوں کے کھانے کی بھی۔
حدیث نمبر: 4217 حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَاعَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَاعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ". ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی۔
حدیث نمبر: 4218 حَدَّثَنِيإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَاعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْنَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ". مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔
حدیث نمبر: 4219 حَدَّثَنَاسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَاحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْعَمْرٍو، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ". ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے ‘ ان سے عمرو نے ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔
حدیث نمبر: 4220 حَدَّثَنَاسَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَاعَبَّادٌ، عَنْالشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُابْنَ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي، قَالَ: وَبَعْضُهَا نَضِجَتْ، فَجَاءَ مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا وَأَهْرِقُوهَا"، قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى: فَتَحَدَّثْنَا أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَهَى عَنْهَا الْبَتَّةَ لِأَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ. ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عباد نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے بیان کیا اور انہوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ غزوہ خیبر میں ایک موقع پر ہم بہت بھوکے تھے ‘ ادھر ہانڈیوں میں ابال آ رہا تھا (گدھے کا گوشت پکایا جا رہا تھا) اور کچھ پک بھی گئیں تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ گدھے کے گوشت کا ایک ذرہ بھی نہ کھاؤ اور اسے پھینک دو۔ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر بعض لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت اس لیے کی ہے کہ ابھی اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ نے اس کی واقعی ممانعت (ہمیشہ کے لیے) کر دی ہے ‘ کیونکہ یہ گندگی کھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4221 - 4222 حَدَّثَنَاحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِالْبَرَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: "أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا، فَطَبَخُوهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْفِئُوا الْقُدُورَ". ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی اور انہیں براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔
حدیث نمبر: 4223 - 4224 حَدَّثَنِيإِسْحَاقُ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، حَدَّثَنَاعَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُالْبَرَاءَ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، يُحَدِّثَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ نَصَبُوا الْقُدُورَ: "أَكْفِئُوا الْقُدُورَ". مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہم سے سنا۔ یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا تھا کہ ہانڈیوں کا گوشت پھینک دو ‘ اس وقت ہانڈیاں چولہے پر رکھی جا چکی تھیں۔
حدیث نمبر: 4225 حَدَّثَنَامُسْلِمٌ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْعَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْالْبَرَاءِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے پھر پہلی حدیث کی طرح روایت نقل کی۔
حدیث نمبر: 4226 حَدَّثَنِيإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَاابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَاعَاصِمٌ، عَنْعَامِرٍ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ أَنْ نُلْقِيَ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ نِيئَةً وَنَضِيجَةً، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ بَعْدُ". مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی ‘ کہا ہم عاصم کونے خبر دی ‘ انہیں عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پالتو گدھوں کا گوشت ہم پھینک دیں ‘ کچا بھی اور پکا ہوا بھی ‘ پھر ہمیں اس کے کھانے کا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 4227 حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الحُسَيْنِ، حَدَّثَنَاعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَاأَبِي، عَنْعَاصِمٍ، عَنْعَامِرٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "لَا أَدْرِي أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لَحْمَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ؟". مجھ سے محمد بن ابی الحسین نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے ‘ ان سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے والے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں یا آپ نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔
حدیث نمبر: 4228 حَدَّثَنَاالْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَازَائِدَةُ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا"، قَالَ: فَسَّرَهُ نَافِعٌ فَقَالَ: إِذَا كَانَ مَعَ الرَّجُلِ فَرَسٌ فَلَهُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَسٌ فَلَهُ سَهْمٌ". ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں (مال غنیمت سے) سواروں کو دو حصے دیئے تھے اور پیدل فوجیوں کو ایک حصہ ‘ اس کی تفسیر نافع نے اس طرح کی ہے اگر کسی شخص کے ساتھ گھوڑا ہوتا تو اسے تین حصے ملتے تھے اور اگر گھوڑا نہ ہوتا تو صرف ایک حصہ ملتا تھا۔
حدیث نمبر: 4229 حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَااللَّيْثُ، عَنْيُونُسَ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّجُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ، فَقَالَ: "إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا". ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو (خمس میں سے) کچھ نہیں دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4230 حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَاأَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَابُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْأَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِي مُوسَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ: بِضْعٌ، وَإِمَّا قَالَ: فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ، أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ: سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ: مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، قَالَ عُمَرُ: الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: نَعَمْ، قَالَ: سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ، فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ: كَلَّا وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ، وَاللَّهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَيْهِ. مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی نیت سے نکل پڑے۔ میں اور میرے دو بھائی ‘ میں دونوں سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی کا نام ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرے کا ابو رہم۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اوپر پچاس یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ تریپن (53) یا باون (52) میری قوم کے لوگ ساتھ تھے۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں لا ڈالا۔ وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہو گئی ‘ جو پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہم نے وہاں انہیں کے ساتھ قیام کیا ‘ پھر ہم سب مدینہ ساتھ روانہ ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ کچھ لوگ ہم کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں ‘ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ ان سے ملاقات کے لیے وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ اس وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اسماء بنت عمیس۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اچھا وہی جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں۔۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلہ میں زیادہ قریب ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا ہرگز نہیں: اللہ کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو ‘ تم میں جو بھوکے ہوتے تھے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو ناواقف ہوتے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت و موعظت کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے ‘ یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے ہی میں تو کیا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہہ لوں۔ ہمیں اذیت دی جاتی تھی ‘ دھمکایا ڈرایا جاتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گی اور آپ سے اس کے متعلق پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی ‘ نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی (خلاف واقعہ بات کا) اضافہ کروں گی۔
حدیث نمبر: 4231 فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: "فَمَا قُلْتِ لَهُ ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: "لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ"، قَالَتْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي. چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ یہ جواب دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے بعد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی۔
حدیث نمبر: 4232 قَالَأَبُو بُرْدَةَ، عَنْأَبِي مُوسَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ، وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ، أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ قَالَ لَهُمْ: إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ". ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مجھ سے اس حدیث کو باربار سنتے تھے۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میرے اشعری احباب رات میں آتے ہیں تو میں ان کی قرآن کی تلاوت کی آواز پہچان جاتا ہوں۔ اگرچہ دن میں ‘ میں نے ان کی اقامت گاہوں کو نہ دیکھا ہو لیکن جب رات میں وہ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی آواز سے میں ان کی اقامت گاہوں کو پہچان لیتا ہوں۔ میرے انہی اشعری احباب میں ایک مرد دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈبھیڑ ہو جاتی ہے یا آپ نے فرمایا کہ دشمن سے ‘ تو ان سے کہتا ہے کہ میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لیے ان کا انتظار کر لو۔
حدیث نمبر: 4233 حَدَّثَنِيإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَابُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْأَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِي مُوسَى، قَالَ: "قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَسَمَ لَنَا وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدْ الْفَتْحَ غَيْرَنَا". مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم نے حفص بن غیاث سے سنا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت میں) ہمارا بھی حصہ لگایا۔ آپ نے ہمارے سوا کسی بھی ایسے شخص کا حصہ مال غنیمت میں نہیں لگایا جو فتح کے وقت (اسلامی لشکر کے ساتھ) موجود نہ رہا ہو۔
حدیث نمبر: 4234 حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَامُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَاأَبُو إِسْحَاقَ، عَنْمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيثَوْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِيسَالِمٌمَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالْإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ: مِدْعَمٌ أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا"، فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ فَقَالَ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ ان سے ثور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن مطیع کے مولیٰ سالم نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے ‘ اونٹ ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر ان کے لگا۔ لوگوں نے کہا مبارک ہو: شہادت! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔
حدیث نمبر: 4235 حَدَّثَنَاسَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيزَيْدٌ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَتْرُكَ آخِرَ النَّاسِ بَبَّانًا لَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ مَا فُتِحَتْ عَلَيَّ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَلَكِنِّي أَتْرُكُهَا خِزَانَةً لَهُمْ يَقْتَسِمُونَهَا". ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زید نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا ہاں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ بعد کی نسلیں بے جائیداد رہ جائیں گی اور ان کے پاس کچھ نہ ہو گا تو جو بھی بستی میرے زمانہ خلافت میں فتح ہوتی ‘ میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی۔ میں ان مفتوحہ اراضی کو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے محفوظ چھوڑے جا رہا ہوں تاکہ وہ اسے تقسیم کرتے رہیں۔
حدیث نمبر: 4236 حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَاابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ". مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی بھی میرے دور میں فتح ہوتی ‘ میں اسے اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کر دی تھی۔
حدیث نمبر: 4237 حَدَّثَنَاعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُالزُّهْرِيَّ، وَسَأَلَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّأَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، قَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: لَا تُعْطِهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: وَاعَجَبَاهْ لِوَبْرٍ تَدَلَّى مِنْ قَدُومِ الضَّأْنِ. مجھ سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے زہری سے سنا اور ان سے اسماعیل بن امیہ نے سوال کیا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے (خیبر کی غنیمت میں سے) حصہ مانگا۔ سعید بن عاص کے ایک لڑکے (ابان بن سعید رضی اللہ عنہ) نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں نہ دیجئیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ شخص تو ابن قوقل کا قاتل ہے۔ ابان رضی اللہ عنہ اس پر بولے حیرت ہے اس «وبر» (بلی سے چھوٹا ایک جانور) پر جو قدوم الضان پہاڑی سے اتر آیا ہے۔
حدیث نمبر: 4238 وَيُذْكَرُ عَنْالزُّبَيْدِيِّ، عَنْالزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا هُرَيْرَةَيُخْبِرُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحَهَا، وَإِنَّ حُزْمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَقْسِمْ لَهُمْ، قَالَ أَبَانُ: وَأَنْتَ بِهَذَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا أَبَانُ اجْلِسْ فَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ". اور زبیدی سے روایت ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عنبسہ بن سعید نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دے رہے تھے کہ ابان رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سریہ پر مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ خیبر فتح ہو چکا تھا۔ ان لوگوں کے گھوڑے تنگ چھال ہی کے تھے ‘ (یعنی انہوں نے مہم میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی تھی)۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غنیمت میں ان کا حصہ نہ لگایئے۔ اس پر ابان رضی اللہ عنہ بولے اے وبر! تیری حیثیت تو صرف یہ کہ قدوم الضان کی چوٹی سے اتر آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابان! بیٹھ جا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا حصہ نہیں لگایا۔
حدیث نمبر: 4239 حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاعَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيجَدِّيأَنَّ أَبَانَ بْنَ سَعِيدٍ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَأَبُو هُرَيْرَةَ: "يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ"، وَقَالَ أَبَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: "وَاعَجَبًا لَكَ وَبْرٌ تَدَأْدَأَ مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى عَلَيَّ امْرَأً أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِيَدِي وَمَنَعَهُ أَنْ يُهِينَنِي بِيَدِهِ". ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے میرے دادا نے خبر دی اور انہیں ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! یہ تو ابن قوقل کا قاتل ہے اور ابان رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا حیرت ہے اس «وبر» پر جو قدوم الضان سے ابھی اترا ہے اور مجھ پر عیب لگاتا ہے ایک ایسے شخص پر کہ جس کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں (ابن قوقل رضی اللہ عنہ کو) عزت دی اور ایسا نہ ہونے دیا کہ ان کے ہاتھ سے مجھے ذلیل کرتا۔
حدیث نمبر: 4240 - 4241 حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَااللَّيْثُ، عَنْعُقَيْلٍ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَأَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ"، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَىأَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا: أَصَبْتَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ. ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں (اس کی تقسیم وغیرہ) میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی(کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے (کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے) ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا)ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کر لی ہے۔
حدیث نمبر: 4242 حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَاحَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعُمَارَةُ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ قُلْنَا: الْآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ". مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حرمی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عمارہ نے خبر دی ‘ انہیں عکرمہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا اب کھجوروں سے ہمارا جی بھر جائے گا۔
حدیث نمبر: 4243 حَدَّثَنَاالْحَسَنُ، حَدَّثَنَاقُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "مَا شَبِعْنَا حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ". ہم سے حسن نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قرہ بن حبیب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب تک خیبر فتح نہیں ہوا تھا ہم تنگی میں تھے۔
40- بَابُ اسْتِعْمَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
حدیث نمبر: 4244 - 4245
حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْعَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا"، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ: "لَا تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا"، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالمجید بن سہیل نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ) کو خیبر کا عامل مقرر کیا۔ وہ وہاں سے عمدہ قسم کی کھجوریں لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور (اس سے خراب)دو یا تین صاع کھجور کے بدلے میں ان سے لے لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح نہ کیا کرو ‘ بلکہ (اگر اچھی کھجور لانی ہو تو) ردی کھجور پہلے درہم کے بدلے بیچ ڈالا کرو ‘ پھر ان دراہم سے اچھی کھجور خرید لیا کرو۔
حدیث نمبر: 4246 - 4247
وَقَالَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْعَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْسَعِيدٍ، أَنَّأَبَا سَعِيدٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا، اور عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالمجید نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا اور ان سے ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے خاندان بنی عدی کے بھائی کو خیبر بھیجا اور انہیں وہاں کا عامل مقرر کیا اور عبدالمجید سے روایت ہے کہ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نقل کیا ہے۔
41- بَابُ مُعَامَلَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ: باب: خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
حدیث نمبر: 4248
حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاجُوَيْرِيَةُ، عَنْنَافِعٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا". ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر (کی زمین و باغات وہاں کے) یہودیوں کے پاس ہی رہنے دیئے تھے کہ وہ ان میں کام کریں اور بوئیں جوتیں اور انہیں ان کی پیداوار کا آدھا حصہ ملے گا۔
42- بَابُ الشَّاةِ الَّتِي سُمَّتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ: باب: اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا
رَوَاهُ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. اس کو عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4249
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَااللَّيْثُ، حَدَّثَنِيسَعِيدٌ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ". ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک یہودی عورت کی طرف سے) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا۔
43- بَابُ غَزْوَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: باب: غزوہ زید بن حارثہ کا بیان
حدیث نمبر: 4250
حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ: "إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ". ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک جماعت کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا۔ ان کی امارت پر بعض لوگوں کو اعتراض ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج تم کو اس کی امارت پر اعتراض ہے تم ہی کچھ دن پہلے اس کے باپ کی امارت پر اعتراض کر چکے ہو۔ حالانکہ اللہ کی قسم وہ امارت کے مستحق و اہل تھے۔ اس کے علاوہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے جس طرح یہ اسامہ رضی اللہ عنہ ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔