- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بَابٌ: قِصَّةُ الحُدَيْبِيَةِ وَصُلْحِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم مَعَ قُرَيْشٍ
حدیبیہ کا واقعہ اور قریش سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کا بیان
حدیبیہ کا واقعہ اور قریش سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کا بیان
(1178) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَال لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا فَيُقِيمَ بِهَا ثَلاَثًا وَلاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ وَلاَ يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا وَلاَ يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْكُثُ بِهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَمَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَمْحَاهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَمْحَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَرِنِي مَكَانَهَا فَأَرَاهُ مَكَانَهَا فَمَحَاهَا وَكَتَبَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَقَامَ بِهَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا أَنْ كَانَ اليَوْمُ الثَّالِثُ قَالُوا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِكَ فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ نَعَمْ فَخَرَجَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے قریب (وہاں جانے سے) روکے گئے اور مکہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پرصلح کی کہ (آئندہ سال) آئیں اور تین دن تک مکہ میں رہیں اور ہتھیاروں کو غلاف میں رکھ کر لائیں اور کسی مکے والے کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور ان کے ساتھ والوں میں سے جو (مشرکوں کا ساتھ قبول کر کے) رہ جائے تو اس کو منع نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اچھا! اس شرط کو لکھو کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا۔‘‘ تو مشرک بولے کہ اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی کر لیتے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لیتے بلکہ یہ لکھیے کہ محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فیصلہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ مٹانے کے لیے کہا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں تو نہ مٹاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اچھا مجھے اس لفظ کی جگہ بتاؤ۔‘‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مٹا دیا اور ابن عبد اللہ لکھ (لکھوا) دیا۔ (جب دوسرا سال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے)۔ پھر تین روز تک مکہ معظمہ میں رہے۔ جب تیسرا دن ہوا، تو مشرکوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ تمہارے صاحب کی شرط کا آخری دن ہے، اب ان سے جانے کو کہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ ٹھیک ہے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل آئے۔
(1179) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ} إِلَى قَوْلِهِ {فَوْزًا عَظِيمًا} (الفتح: ۱-۵) مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ: ’’یقینا ہم نے آپ کو واضح فتح سے ہمکنار کیا تاکہ اﷲ تعالیٰ آپ کو معاف فرمادے… بہت بڑی کامیابی۔‘‘ (الفتح:۱۔۵) آخرتک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹ کر آ رہے تھے اور صحابہ کو بہت غم اور رنج تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی کے جانوروں کو ذبح و نحر کر دیا تھا (کیونکہ کافروں نے مکہ میں آنے نہ دیا)، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کہ میرے اوپر ایک آیت اتری ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہے۔‘‘