• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم یونیکوڈ

شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86

(34) باب بَيَانِ نُقْصَانِ الإِيمَانِ بِنَقْصِ الطَّاعَاتِ وَبَيَانِ إِطْلاَقِ لَفْظِ الْكُفْرِ عَلَى غَيْرِ الْكُفْرِ بِاللَّهِ كَكُفْرِ النِّعْمَةِ وَالْحُقُوقِ


باب:34-اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور، مثلاً: اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔


حدیث نمبر:241(79):

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ الاِسْتِغْفَارَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ قَالَ ‏"‏ أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ ‏"‏ ‏.

لیث نے ابن ہاد لیثی سے خبر دی کہ عبداللہ بن دینار نے سیدنا عبداللہ بن عمر ﷺ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" کہ اے عورتوں کی جماعت! تم صدقہ دو اور زیادہ سے زیادہ استغفارکیا کرو، کیونکہ میں نے دیکھا کہ جہنم میں زیادہ تعداد میں عورتیں ہیں۔ان میں سے ایک دلیراورعقلمند عورت بولی کہ یارسول اللہﷺ! کیا سبب ہے، عورتیں کیوں زیادہ جہنم میں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ لعنت بہت کرتی ہیں اور خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔میں نے عقل اور دین میں کم ہونے کے باوجود عقل مند شخص پر غالب آنے والا تم سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔ وہ عورت بولی کہ ہماری عقل اور دین میں کیاکمی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عقل کی کمی تو اس سے معلوم ہوتی ہے کہ دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے۔ اور دین میں کمی یہ ہے کہ عورت کئی دن تک (ہر مہینے میں حیض کیوجہ سے) نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں (حیض کے دنوں میں) روزے نہیں رکھتی۔


فائدہ: عقل سے مراد صرف سوچنا سمجھنا ہی نہیں، حافظہ، ہر قسم کے امور کی طرف یکساں توجہ، جذبات پر قابو اور بہت سے امور عقل میں شامل ہیں۔ عورت فطری طور پر ان میں سے بعض امور میں مرد سے نسبتاً پیچھے ہے۔ لین دین، حساب کتاب وغیرہ کے معاملات میں گواہی کے لیے جزئیات کی طرف توجہ کے ارتکاز اور یادداشت کی جتنی ضرورت ہوتی ہے عام عورتوں سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی، اس لیے عورتوں کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ گواہی میں عورت دوسری سے مدد لے سکے۔ جو معاملات فطری طور پر عورتوں سے متعلق ہیں ان میں وہی کمال رکھتی ہیں، ان میں مرد ان سے پیچھے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خود احتسابی اور استغفار کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس پہلو کا ذکر فرمایا جس میں وہ کم ہیں۔



حدیث نمبر:242(۔۔):

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.

(لیث کے بجائے) بکر بن مضر نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔

حدیث نمبر:243(80):

و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عیاض بن عبداللہ نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور (سعید) مقبری نےسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86

(35) باب بَيَانِ إِطْلاَقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى مَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ
باب:35-نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق



نماز اسلام کا رکن ہے۔ اس کا ترک پچھلی احادیث میں ذکر کیے گئے گناہوں سے زیادہ سنگین ہے۔ اس پر جس کفر کا اطلاق کیا گیا ہو ان کے کفر سے بڑا کفر ہے، پھر بھی اس سے توبہ اور آیندہ نماز کی پابندی سے انسان اچھا مسلمان بن جاتا ہے، اسے دوبارہ اسلام لانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو نماز کا منکر ہے اسے از سرِ نو اسلام لانے کی ضرورت ہے۔

حدیث نمبر:244(81):

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ يَا وَيْلَهُ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ يَا وَيْلِي - أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ ‏"‏ ‏.

ابوبکر ابن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" کہ جب ابن آدم سجدہ کی آیت تلاوت کرتا ہے اور پھر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا ایک طرف چلا جاتا ہے اور کہتا ہے :ہائے اس کی ہلاکت!( اور ابوکریب کی روایت میں ہے، ہائے میری ہلاکت!) ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا اور اس نے سجدہ کیا۔ اس پر اسے جنت ملے گی۔ اور مجھے سجدہ کا حکم ہوا اور میں نے انکار کیا۔ سو میرے لیے آگ ہے۔"

حدیث نمبر:245(۔۔):

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَعَصَيْتُ فَلِيَ النَّارُ ‏"‏ ‏.

وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، فرق یہ ہے کہ وکیع نے (فَأَبَيْتُ۔۔۔" میں نے انکار کیا کے بجائے) فَعَصَيْتُ فَلِيَ النَّارُ "میں نے نافرمانی کی تو میرے لیے جہنم (مقدر) ہوئی" کہا۔

نمبر:246(82):

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاَةِ ‏"‏

ابوسفیان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا : "بے شک آدمی اور کفر و شرک کے درمیان(فاصلہ مٹانے والا عمل)، نماز کا ترک ہے۔"

نمبر:247(۔۔):

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.

ابو زبیر نے خبر دی کی انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا:" آدمی اور کفر و شرک کے درمیان(فاصلہ مٹانے والا عمل)، نماز چھوڑنا ہے۔" (اس روایت میں إِنَّ "بے شک" کا لفظ نہیں، باقی وہی ہے۔)
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86

(36) باب بَيَانِ كَوْنِ الإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الأَعْمَالِ
باب:36- اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا سب سے افضل ہے۔



نمبر:248(83):

وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ حَجٌّ مَبْرُورٌ ‏"‏ ‏.‏
وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ‏"‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏.


منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا:ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے سعید بن مسیّب سے اور انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺسے پوچھا گیا کون سا عمل سب سےافضل ہے ؟آپﷺنے فرمایا :اللہ پر ایمان لانا، پھر پوچھا گیا اس کے بعد کیا ہے ؟آپ ﷺنے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ ، پھر پوچھا گیا اس کے بعد کیا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا حج مبرور(ایسا حج جو سراسر نیکی اور تقویٰ پر مبنی اور مکمل ہو۔)"
محمد بن جعفر کی روایت میں "اللہ اور اس کے رسول پر ایمان" کے الفاظ ہیں۔




نمبر:249(۔۔):



وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابراہیم بن سعد کے بجائے) معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔


نمبر:250(84):


حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَىُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ ‏"‏ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ قَالَ ‏"‏ تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏


ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے انہوں نے ابومُراوِح لیثی سے اور انہوں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی،کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: " اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا کونسی گردن (آزاد کرنا ) افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو"۔میں نے کہا کہ اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو کسی کاریگرکی مدد کر و(یعنی وہ کاریگر جس کو اس کی کمائی کفایت نہ کرتی ہو)، یا کسی بے ہنر شخص کیلئے مزدوری کر و(یعنی جو کوئی کام اور پیشہ نہ جانتا ہو اور روٹی کا محتاج ہو) میں نے کہا اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا:"لوگوں سے اپنا شر روک لو(انہیں تکلیف یہ پہنچاؤ) یہی تمہارا اپنے نفس پر صدقہ ہے۔"



 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
حدیث نمبر:251(۔۔):
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ‏"‏ ‏.

(ہشام کے بجائے) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے (تُعِينُ صَانِعًا کسی کاریگر کے بجائے) فَتُعِينُ الصَّانِعَ (الف لام کے ساتھ) کہا ہے۔

حدیث نمبر:252(85):

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ الصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلاَّ إِرْعَاءً عَلَيْهِ ‏.

(ابو اسحاق سلیمان بن فیروز کوفی) شیبانی نے ولید بن عیزار سے، انہوں نے سعد بن ایاس ابو عمرو شیبانی سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا کام افضل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا :"نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے کہا کہ پھر کونسا؟ آ پﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے کہا کہ پھر کونسا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر میں نے مزید پوچھنا صرف اس لیے چھوڑ دیا کی آپ ﷺ پر گراں نہ گزرے)۔



حدیث نمبر:253(۔۔):


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَىُّ الأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ ‏"‏ الصَّلاَةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.

ابو یعفور (عبدالرحمٰن بن عبید نسطاس) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابو عمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب (کردیتا) ہے۔؟آپﷺ نے فرمایا :" نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا اور کیا؟ آ پﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا"۔ میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورکیا؟آپ ﷺ نے فرمایا :" اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
حدیث نمبر:254(۔۔):

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ - وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي ‏.

عبیداللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہےِ؟ آپ نے فرمایا: "نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔" میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا:" پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔" میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: "پھر اللہ کی راو میں جہاد کرنا۔" (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مجھے مزید بتاتے۔

حدیث نمبر:255(۔۔):

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏ وَزَادَ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا ‏.

شعبہ سے ان کے ایک اور شاگرد محمد بن جعفر نے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا۔ ابو عمر شیبانی نے عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کا نام نہ لیا۔

حدیث نمبر:256(۔۔):

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ - أَوِ الْعَمَلِ - الصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏ ‏.

ابو عمرو شیبانی سے ان کے ایک اور شاگرد حسن بن عبیداللہ نے یہی روایت بیان کی کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:" سب سے افضل اعمال (یا عمل) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں۔


فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سوال کرنے والے کے سوال کے قرینے سے اس کی علمی و عملی ضرورت کا اندازہ فرماتے ہوئے اسے جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف سائلین کو جو اعمال بتائے ہیں، سارے افضل اعمال ہیں، کسی کے لیے کچھ خاص عمل زیادہ اہم ہیں کسی کے لیے دوسرے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86

(37) باب كَوْنِ الشِّرْكِ أَقْبَحَ الذُّنُوبِ وَبَيَانِ أَعْظَمِهَا بَعْدَهُ ‏‏
باب:37-شرک تمام گناہوں سے بدتر ہے، اس کے بعد بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟


حدیث نمبر:257(86):

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ‏"‏ ‏.


منصور نے ابو وائل سے، انہوں نے عمرو بن شرحبیل سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا:یارسول اللہ ﷺ! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آ پﷺ نے فرمایا: "یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرو حالانکہ تمہیں اللہ (ہی) نے پیدا کیا"۔ میں نے کہا (واقعی) یہ تو بڑا گنا ہ ہے اب اس کے بعد کونسا (گناہ بڑا ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرو کہ وہ تمہارےساتھ کھائے گی"۔ میں نے کہا :پھر کونسا (گناہ بڑا ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا:" یہ کہ تم اپنے ہمسایہ کی عورت سے زنا کرو"


حدیث نمبر:258(۔۔):

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ‏"‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا‏}

منصور کے بجائے) اعمش نے ابو وائل سے سابقہ سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ! اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: "یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک کرو حالانکہ تمہیں اللہ (ہی) نے پیدا کیا"۔ اس نے کہا پھر کونسا (گناہ بڑا ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرو کہ وہ تمہارےساتھ کھائے گی۔"اس نے کہا پھر کونسا (گناہ بڑا ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے ہمسایہ کی عورت سے زنا کرو"۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی کہ ''اور جو لوگ اللہ کیساتھ کسی دوسرے کو معبود (بنا کر)نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجزحق کے قتل نہیں کرتے ، نہ وہ زنا کے قریب جاتے ہیں ا(وہی رحمٰن کے بندے ہیں) ور جو کوئی یہ کام کرے وہ سخت گناہ (کی سزا) سے دوچارہوگا'' (الفرقان : 68)۔

فائدہ :ان احادیث میں جن گناہوں کا ذکر ہے وہ بڑے بڑے گناہ ہیں، ان میں سے کوئی زیادہ بڑا ہے کوئی اس سے کم، یعنی اعمال حسنہ کی طرح برے اعمال کے بھی درجات ہیں۔ انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پوچھنے والے کی ضرورت کے مطابق شمار کیا ہے۔

 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86

(38) باب بَيَانِ الْكَبَائِرِ وَأَكْبَرِهَا
باب:38-کبیرہ گناہوں اور ان میں سے بھی سب سے بڑے گناہوں کا بیان



حدیث نمبر:259(87):


حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ - ثَلاَثًا - الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَمَازَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ ‏.

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے پاس تھے آپ ﷺنے فرمایا :"کیا میں تمہیں کبیرہ گنا ہوں میں سے سب سے بڑے نہ بتاؤں؟آپﷺنے تین با ر اس کو دہرایا۔اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، جھوٹی گواہی دینا(یا فرمایا جھوٹ بولنا)" اور رسول اللہ ﷺ(پہلے) ٹیک لگائے بیٹھے تھے پھر آپ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے( اپنے دل)میں کہا کاش آپ مزید نہ دہرائیں۔

حدیث نمبر:260(88):

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَبَائِرِ قَالَ ‏ "‏ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ ‏"‏ ‏.

خالد بن حارث نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا:ہمیں عبیداللہ بن ابی بکر نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے کبیرہ گناہوں کے بارے میں فرمایا:" اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، اور ماں باپ کی نافرمانی ، اور ناحق قتل کرنا ، اور جھوٹ بولنا۔"


حدیث نمبر:261(۔۔):

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكَبَائِرَ - أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ - فَقَالَ ‏"‏ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَوْلُ الزُّورِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ شَهَادَةُ الزُّورِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ ‏.

محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے عبید اللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا:میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا (یا آپ ﷺسے کسی نے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا)تو آپﷺنے فرمایا:" اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اور ناحق قتل کرنا ،اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اور آپ ﷺنے فرمایا میں تم کو تمام کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ وہ جھوٹ بولنا ہے( یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا)" ۔
شعبہ نے کہا میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ "جھوٹی گواہی "ہے۔

فائدہ:کیونکہ جھوٹ دوسرے گناہوں کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔ جھوٹی گواہی بھی جھوٹ ہے اور دوسروں کے بڑے جرائم پر پردہ پوشی کا ذریعہ ہے یا کسی کو ناحق نقصان پہنچانے کا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
حدیث نمبر:262(89):

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ ‏"‏ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَأَكْلُ الرِّبَا وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ ‏"‏ ‏.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات تباہ کن گناہوں سے بچو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:" 1۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ 2۔ اور جادو کرنا۔ 3۔ اورجس جان کا قتل اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، اسے ناحق قتل کرنا۔4۔اور یتیم کا مال کھا جانا۔ ۔ 5۔اور سودکھانا 6۔ اور لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا(بھاگ جانا) 7۔ اور پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا۔"

حدیث نمبر:263(90):

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ ‏"‏ ‏.

(یزید بن عبداللہ) ابن ہاد نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:" کسی آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے " ،لوگوں نے کہا یارسول اللہ ! کیا کوئی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا :"ہاں دیتا ہے ۔کوئی دوسرے کے والدکو گالی دیتا ہے اور وہ اس کے والد کو گالی دیتا ہے ۔ کوئی دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔"

حدیث نمبر:264(۔۔):

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.

شعبہ اور سفیان نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
(39) باب تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ
باب:39-تکبر کی حرمت کا بیان


حدیث نمبر:265(91):



وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، - أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ‏"‏ ‏.

یحییٰ بن حماد نےکہا : ہمیں شعبہ نے ابان بن تغلب سے حدیث سنائی، انہوں نے فضیل بن عمرو فقیمی سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا"۔یک شخص بولا کہ ہر ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑےاچھے ہوں اور اس کے جوتے(اوروں سے) اچھے ہوں، (تو کیا یہ بھی غرور اور گھمنڈ ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا :" اللہ تعالیٰ جمیل(خوبصورت) ہے اور جمال(خوبصورتی) کو پسند کرتا ہے۔ تکبر یہ ہے کہ انسان حق کوقبول نہ کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔

حدیث نمبر:266(۔۔):


حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، - قَالَ مِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ ‏"‏ ‏.

اعمش نے ابراہیم نخعی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا۔

حدیث نمبر:266(۔۔):



وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ‏"‏ ‏.



(یحییٰ کے بجائے) شعبہ کے ایک اور شاگرد ابو داؤد نے سابقہ سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : "ایسا شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا"
 
Top