• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صفات متشابہات پر دیوبند کانطریہ

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
@
talha khan


میرا آپ سے سادہ سا سوال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج ہوئی تو وہ کہا گئے تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
کیا اللہ تعالی جنت کے اوپر یا اس کے اندر موجود ہے ؟

اور کیا یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالی سارے جہان اور کائنات سے بڑا ہے یہ عقیدے کا حصہ ہے؟

الحمدللہ

ہم نے یہ سوال فضیلۃ الشیخ عبدالرحمان البراک حفظہ اللہ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے مندرجہ ذیل جواب دیا :

اس اللہ تعالی کی تعریف ہے جو کہ سب سے بڑا اور بلند وبالا ہے اللہ تعالی عظیم اور پاک ہے اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ تعالی ہی بڑا ہے اور ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور صحابہ پر اللہ تعالی رحمتیں نازل فرمآئے ۔ اما بعد !

جس پر ایمان لانا واجب ہے وہ یہ ہے کہ اللہ بلند واعلی ہے اور عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنی کتاب میں اپنے متعلق بھی یہی بتایا اور اس کی خبر دی ہے تو وہ سبحانہ وتعالی ہر چیز کے اوپر ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے ( تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں )

اور اسی طرح یہ ایمان لانا واجب ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز سے بڑا ہے اور وہ عظیم ہے جس سے بڑا کوئی نہیں اس کی عظمت اور قدرت کا کمال ہی ہے کہ وہ قیامت کے دن آسمان وزمین کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے گا ۔

جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :

( اور ان لوگوں نے اللہ تعالی کی قدر اس طرح نہیں کی جس طرح کرنی چاہۓ تھی قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئےہوں گے وہ پاک اور بلند وبالا ہے اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بناتے ہیں ) الزمر / 67

یہ جاننا واجب اور ضروری ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالی اپنے کمال علو اور کمال عظمت کے ساتھ اپنی مخلوق میں سے کسی میں حلول کرے اس لۓ یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ تعالی جنت میں ہے بلکہ وہ تو عرش پر مستوی ہے جو کہ فردوس کی چھت ہے اور فردوس جنت کا سب سے اعلی اور اونچا درجہ ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جب تم اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اونچا اور درمیان ہے اور اس کی چھت رحمان کا عرش ہے )

اور کسی مسلمان کے لۓ یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالی کی ذات میں سوچتا پھرے اور یا پھر اس کی عظمت کا احاطہ کا خیال کرے ، کیونکہ انسان کی عقل اس بات سے عاجز ہے کہ وہ رب تعالی کی ذات اور اس کی صفات اور اس کی کیفیت کی حقیقت کی معرفت پا سکے ۔

جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے :

جب امام مالک رحمہ اللہ سے اللہ تعالی کے عرش پر استواء کی کیفیت کا سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :

( استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول اور اس پر ایمان لانا واجب اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے ) .


الشیخ عبدالرحمان البراک

http://islamqa.info/ur/9564
 
شمولیت
ستمبر 13، 2014
پیغامات
393
ری ایکشن اسکور
274
پوائنٹ
71
امام احمد بن حنبل رحمہ الله تعالیٰ کے بھتیجے سے مروی ہے کہ امام صاحب نے ﴿وجاء ربک﴾ (اور آیا آپ کا رب) کی تاویل وجاء ثوابہ ( اور آیا رب کا ثواب ) سے فرمایا ۔

امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سند پر کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ (”رواہ البیہقی عن الحاکم عن ابی عمر بن السماک عن احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تأول قول الله تعالیٰ:﴿ وجاء ربک﴾: أنہ وجاء ثوابہ․ “ … ھذا سند لاغبار علیہ․“ (البدایة والنہایة،327/10)
یہ بات بھی پہلی باتوں کی مانند ثابت نہیں آپ نے نقل کیا احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تاول اوپر ترجمہ کیا احمد بن حنبل کے بھتیجے سے روایت ہے
بھتیجے کا نام حنبل بن اسحاق ہے احمد بن حنبل نہیں اور حنبل کے بارے امام ذھبی کہتے ہیں یتفرد و یغرب امام احمد سے اکیلا ہی غیر معروف روایات ذکر کرتا ہے
http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=2435&idto=2435&bk_no=60&ID=2298
لہذا حنبل کی روایت یہاں درست نہیں کیونکہ امام احمد رحمہ اللہ کا منھج صفات میں معروف ہے وہ تاول نہیں کرتے تھے
دوسری بات امام بیھقی کی اصل کتاب پیش کی جائے جہاں سے ابن کثیر نے نقل کی ہے روایت
رہا یہ کہنا
حقیقت یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں الفاظ کی ظاہری دلالت سے قطع نظر کرکے مجاز واستعارے کی آڑ لی جاتی ہے اور چاروناچار تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جب تک اس اندازِ بیان کی توجیہ مجاز کی روشنی میں نہ کی جائے تو افہام وتفہیم کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ مثلاً قرآنِ کریم میں ہے ﴿کُلُّ شَیْْء ٍ ہَالِکٌ إِلَّا وَجْہَہُ﴾․ (القصص، آیت:88)
ایسے ہی
اسی طرح قرآن کریم میں آیت کریمہ ہے ﴿قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَأَتَی اللّہُ﴾․ (النحل:26)

البتہ دغا بازی کرچکے ہیں جو تھے ان سے پہلے، پھر پہنچا حکم الله کا میں فأتی الله کی تاویل فأتی عذاب الله (الله کا عذاب آیا) سے کرتے ہیں ۔ (تفسیر جونا گڑھی ، النحل ،تحت آیہ رقم:26)

قرآن وحدیث میں کتنے ہی ایسے مقامات ہیں جہاں غیر مقلدین نے تاویل واستعارے سے بلاجھجک کام لیا ہے۔ اگر تاویل بدعت ہے تو اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں، پھر اشاعرہ پر ہی الزام تراشی کیوں؟
تو عرض ہے کہ جناب ھمیں تو لوگ طعنے دے دے کے تھک گئے نرے جاھل بدھو نہ فقہ کا پتا نہ اصول فقہ کا نہ منطق کا نہ نحو کا نہ ،،،،،،،،،،
بس آپ ذرا تاویل اور تحریف کی تعریف کر دیں ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ ظاھر اللفظ کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟؟؟
تاویل کہتے ہیں صرف اللفظ عن ظاھرہ لدلیل دل علیہ او قرینۃ (کسی دلیل یا قرینہ کی بناء پر لفظ کے ظاھری معنی کی بجائے دوسرا معنی اختیار کرنا)
تحریف کہتے ہیں صرف اللفظ عن ظاھرہ بغیر دلیل (بغیر کسی دلیل کے ظاھری معنی سے اعراض کرنا )
اور ظاھر اللفظ کہتے ہیں ما یتبادر الی الذھن (وہ معنی جس کا سب سے پہلے ذھن میں تصور پیدا ہو)
اب دیکھیں کہ پہلی آیت میں فورا ذھن میں کیا آتا ہے (ان سے پہلے لوگوں نے بھی فریب کیا تو اللہ آ گیا ان کے منصوبوں کی عمارتوں کی بنیادوں میں )
یہاں متبادر الی الذھن معنی ہی یہ ہے کہ اللہ کا حکم آیا
اور متبادر الی الذھن معنی ظاھر اللفظ ہے جبکہ تاویل کہتے ہیں ظاھر اللفظ کی بجائے کوئی اور معنی لینا
لہذا یہاں پر تاویل نہیں ہے تاویل تب ہو گی جب ھم متبادر الی الذھن معنی مراد نہ لیں گے
ایسا ہی دوسری آیت میں ہے اور اشاعرہ جو حرکت کرتے ہیں وہ تحریف ہوتی ہے جسے تاویل کا نام دے دیا جاتا ہے یاد رہے تاویل کے ایک سے زائد معنی ہیں
اگر یہاں تک کوئی شبہ ہے تو بتائیے نہیں تو آگے چلتے ہیں
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
یہ بات بھی پہلی باتوں کی مانند ثابت نہیں آپ نے نقل کیا احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تاول اوپر ترجمہ کیا احمد بن حنبل کے بھتیجے سے روایت ہے
بھتیجے کا نام حنبل بن اسحاق ہے احمد بن حنبل نہیں اور حنبل کے بارے امام ذھبی کہتے ہیں یتفرد و یغرب امام احمد سے اکیلا ہی غیر معروف روایات ذکر کرتا ہے
http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=2435&idto=2435&bk_no=60&ID=2298
لہذا حنبل کی روایت یہاں درست نہیں کیونکہ امام احمد رحمہ اللہ کا منھج صفات میں معروف ہے وہ تاول نہیں کرتے تھے
دوسری بات امام بیھقی کی اصل کتاب پیش کی جائے جہاں سے ابن کثیر نے نقل کی ہے روایت
رہا یہ کہنا

ایسے ہی

تو عرض ہے کہ جناب ھمیں تو لوگ طعنے دے دے کے تھک گئے نرے جاھل بدھو نہ فقہ کا پتا نہ اصول فقہ کا نہ منطق کا نہ نحو کا نہ ،،،،،،،،،،
بس آپ ذرا تاویل اور تحریف کی تعریف کر دیں ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ ظاھر اللفظ کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟؟؟
تاویل کہتے ہیں صرف اللفظ عن ظاھرہ لدلیل دل علیہ او قرینۃ (کسی دلیل یا قرینہ کی بناء پر لفظ کے ظاھری معنی کی بجائے دوسرا معنی اختیار کرنا)
تحریف کہتے ہیں صرف اللفظ عن ظاھرہ بغیر دلیل (بغیر کسی دلیل کے ظاھری معنی سے اعراض کرنا )
اور ظاھر اللفظ کہتے ہیں ما یتبادر الی الذھن (وہ معنی جس کا سب سے پہلے ذھن میں تصور پیدا ہو)
اب دیکھیں کہ پہلی آیت میں فورا ذھن میں کیا آتا ہے (ان سے پہلے لوگوں نے بھی فریب کیا تو اللہ آ گیا ان کے منصوبوں کی عمارتوں کی بنیادوں میں )
یہاں متبادر الی الذھن معنی ہی یہ ہے کہ اللہ کا حکم آیا
اور متبادر الی الذھن معنی ظاھر اللفظ ہے جبکہ تاویل کہتے ہیں ظاھر اللفظ کی بجائے کوئی اور معنی لینا
لہذا یہاں پر تاویل نہیں ہے تاویل تب ہو گی جب ھم متبادر الی الذھن معنی مراد نہ لیں گے
ایسا ہی دوسری آیت میں ہے اور اشاعرہ جو حرکت کرتے ہیں وہ تحریف ہوتی ہے جسے تاویل کا نام دے دیا جاتا ہے یاد رہے تاویل کے ایک سے زائد معنی ہیں
اگر یہاں تک کوئی شبہ ہے تو بتائیے نہیں تو آگے چلتے ہیں
جزاك الله
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
دوسری بات امام بیھقی کی اصل کتاب پیش کی جائے جہاں سے ابن کثیر نے نقل کی ہے روایت
ر
جزاك الله
اس بات کی و ضاحت کریں کے ابن کثیر نے کہا سے نکل کیا ہے۔اور لیا نے امام بیھقی کی اٖصل کتاب نہیں ہے وضاحت کریں
 
Top