• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صفات متشابہات پر دیوبند کانطریہ

شمولیت
ستمبر 13، 2014
پیغامات
393
ری ایکشن اسکور
274
پوائنٹ
71
جی بھائی امام بیہقی کی کتاب جہاں سے یہ نقل کیا ہے اس کا حوالہ اسی لیئے مانگا ہے کہ وہ مطبوع نہیں اگر وہ مطبوع ہوتی تو لازمی نقل کرنے والا اصل کتاب کا حوالہ بھی دیتا علی کل حال سند پر بھی اعتراض ہے اور اصل کتاب کا بھی مطالبہ ہے تا کہ دیکھا جائے ممکن ہےاس سند میں کوئی اور بھی علت ہو البدایۃ و النھایۃ کا لنک دیکھ لیں
http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?bk_no=59&ID=1567&idfrom=1335&idto=1341&bookid=59&startno=1
 
شمولیت
ستمبر 13، 2014
پیغامات
393
ری ایکشن اسکور
274
پوائنٹ
71
خلاصہ یہ ہے کہ : متقدمین کے نزدیک یہ صفات ، ید، وجہ ، استوی متشابہہ المعنی ہیں۔صفات متشابہات کے لغوی معنی تحت اللفظ کیے جاسکتے ہیں، لیکن ان کی تشریح اور وضاحت معروف فی الخلق سے نہیں کرسکتے، اگر ان صفات کو معروف معانی کے ساتھ الله تعالیٰ کے لیے ثابت کریں تو اس سے تجسیم لازم آتی ہے اور کیفیت کی جہالت سے ہم تجسیم سے نہیں نکل سکتے۔ متاخرین نے اہل بدعت کے بڑھتے ہوئے فروغ کی روک تھام کے لیے مسلک تایل اختیار کیا او رتمام متشابہات کی مناسب تاویلات کیں او ران تلاویلات کا شرعی جواز موجود ہے۔ متاخرین سلف صالحین سے ﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾ کی کئی تاویلیں منقول ہیں، تاہم مشہور تاویل یہ ہے۔اسْتَوَی سے غلبہ وقبضہ مراد ہے اورالعرش تخت کو کہتے ہیں۔ اور﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾الله تبارک وتعالیٰ کے کائنات پرمکمل قبضہ وقدرت اور اس کے حاکمانہ تصرف سے تعبیر ہے کہ کائنات کی کوئی چیز او رکوئی گوشہ اس کے قبضہ قدرت اور تصرفات سے باہر نہیں۔(تفسیر رازی، الاعراف، تحت آیہ رقم:54۔مزید تاویلات کے لیے دیکھیے: تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی، اللباب فی علوم الکتاب، الاعراف تحت آیہ رقم:54)اہل سنت والجماعت اشاعرہ اور ماترید یہ کے مجموعے کا نام ہے
یہ جھوٹ ہے متقدمین اھل السنۃ و متاخرین سب کے نزدیک آیات صفات محکم ہیں معنی کے لحاظ سے ہاں کیفیت کے لحاظ سے متشابہ ہیں ان کی تشریح کون کرتا ہے معنہ ہی بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا ہاتھ ہے کما یلیق لجلالہ و عظمتہ اور معروف معانی سے اللہ کیلئے کیوں ثابت نہ کریں جب کہ اللہ نے اس کے رسول نے خود کیا ہے اھل السنۃ کا فرق ہی یہ ہے اشاعرہ اور ماتریدیہ سے لطف کی بات تو یہ ہے کہ ابو الحسن اشعری کیکتاب جو انہوں نے اواخر حایت میں لکھی الابانۃ اس میں اھل السنۃ کا موقف اختیار کیا پرانے مسلک سے رجوع کر لیا تھا
چلیں یہ تو مانا نہ کہ تاویل بمعنی تحریف کا منھج متقدمین کا نہیں تھا بعد والوں کی بدعت ہے
رازی تو ایک جادوگر انسان تھا جادو پر کتاب بھی لکھی یہ متکلمین کا امام بھی تھا اور ابو یوسف کہتے ہیں متکلم کے پیچھے نماز جائز نہیں آپ اس سے عقیدہ لے رہے ہیں ؟؟؟بعض کا یہ قول بھی ہے جو متکلم بن جاتا ہے فقد تزندق وہ زندیق بن جاتا ہے
علم کلام پہلے گزر کیا عقل پرستی کا نام ہے باقی سلف کی تفاسیر موجود ہیں کہ استوی کا معنی معلوم ہے استوی جب علی کے ساتھ مل کر آئے جیسا کہ استوی علی العرش تو اس کا معنہ ہوتا ہے صعد علا ارتفع اگر الی سے مل کر آئے تو قصد اور بعض نے صعد و علا ہی کہا ہے لہذا رازی آپ کو ہی مبارک سلف میں سے کوئی ہے تو پیش کرو
 
Top