• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طاغوتی حکومت کے زیر انتظام مدارس میں تدریس کی ملازمت اور اس سے وابستگی کا کیا حکم ہے؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
916
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
طاغوتی حکومت کے زیر انتظام مدارس میں تدریس کی ملازمت اور اس سے وابستگی کا کیا حکم ہے؟
​

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عراق میں طاغوتی حکومت کے زیر انتظام مدارس میں بطور مدرس ملازمت کرنے اور اس حکومت سے وابستہ ہونے کا کیا حکم ہے؟

سائل: ابو عبیدہ السلفی

جواب: تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو خاتم النبیین والمرسلین، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کی آل اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر، اور ان لوگوں پر جو قیامت تک احسان کے ساتھ ان کی پیروی کریں۔ اما بعد!

اے میرے سائل بھائی! جان لیجیے، اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان کاموں کی توفیق عطا فرمائے جنہیں وہ پسند کرتا ہے اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے، کہ طاغوتی حکومتوں میں سرکاری ملازمتوں کا حکم، خواہ وہ عراق میں ہوں یا مسلمانوں کے دوسرے ان ممالک میں جہاں کفر کے احکام غالب آچکے ہیں اور ان کے حاملین کو اقتدار حاصل ہے، والله المستعان، تین احکام میں سے کسی ایک سے باہر نہیں ہے: یا تو وہ کفر ہوگا، یا حرام ہوگا، یا مکروہ ہوگا۔ ہر حکم کا اطلاق اس کی متعلقہ علت اور صورت حال کی تحقیق کے مطابق ہوگا۔

چنانچہ اگر کسی ملازمت میں ان حکومتوں اور ان کے اہل اقتدار کی سرپرستی، حمایت اور مدد کرنا، نیز ان کی تشریعات اور قوانین کی تائید کرنا شامل ہو، خواہ یہ کام لوگوں کو ان کی طرف دعوت دینے کے ذریعے ہو، یا ان قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کے ذریعے، یا ان قوانین کو پسندیدگی اور قبولیت کے ساتھ فیصلے کے لیے اختیار کرنے کے ذریعے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی ملازمت میں کام کرنا صریح کفر، واضح شرک اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین سے کھلا ارتداد ہے۔

جو شخص ایسی ملازمت اختیار کرتا ہے، وہ طاغوت سے اجتناب کی اس بنیادی شرط کو توڑ دیتا ہے جسے پورا کیے بغیر کسی شخص کا اسلام درست نہیں ہوسکتا۔

اور اگر کسی ملازمت میں ان طاغوتی حکومتوں کو لوگوں پر ظلم کرنے اور ناحق ان کے مال کھانے میں مدد دینا شامل ہو، مثلا ناجائز محصولات اور ٹیکس وصول کرنے والے اہلکار، اور بعض مسلم ممالک میں رائج وہ محکمے جنہیں کسٹم کہا جاتا ہے؛ یا ان حکومتوں کو سود کھانے میں مدد دینا، اس طرح کہ تاجروں، کسانوں اور دیگر لوگوں کو تنگ کرنے کے بعد انہیں سودی قرضے فراہم کیے جائیں، یہاں تک کہ وہ ان قرضوں کے حصول پر مجبور ہوجائیں، اور ملازم ان سودی معاملات کو لکھنے والا یا ان پر گواہ بننے والا ہو، تو ایسی ملازمت میں کام کرنا قطعا حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔

جو شخص ایسی ملازمت کرتا ہے، وہ طاغوت سے واجب درجے کے کامل اجتناب کو پورا نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں مسلمان کا ایمان اس کی مرتکب ہونے والی یا جس گناہ میں مدد دینے والی نافرمانی کے بقدر کم اور کمزور ہوتا ہے۔

اور اگر کسی ملازمت میں مذکورہ دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت شامل نہ ہو، یا دونوں ہی نہ پائی جائیں، مثلا اوقاف کے ائمہ، خطباء اور مؤذن، اسی طرح وزارت تعلیم کے اساتذہ اور ملازمین، وزارت صحت کے ملازمین، بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور دیگر ایسی ملازمتیں جن میں کام کرنے والے شخص کی کم از کم حالت یہ ہو کہ وہ ان حکومتوں کی تعداد اور ظاہری قوت میں اضافہ کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے اور ان کے تسلط کے تحت ذلیل و خوار ہوکر رہتا ہے، تو ایسی ملازمتیں، اگر ان میں کوئی گناہ شامل نہ ہو، مذکورہ تین احکام میں سے تیسرے حکم، یعنی کراہت کے تحت آتی ہیں۔ ان ملازمتوں میں کام کرنے والا شخص طاغوت سے مستحب درجے کے کامل اجتناب کو پورا نہیں کرتا۔

ہمارے شیخ ابو محمد المقدسی حفظہ اللہ تعالى ورعاه نے اپنے رسالے «الإشراقة في سؤالات سواقة» کے دوسرے مسئلے میں فرمایا:

پس ہم نے جو بات کہی ہے اور کہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہم ایک موحد بھائی کے لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ ان حکومتوں سے دور رہے، تاکہ ان سے اپنے اجتناب کو کامل کرسکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر موحد کی زندگی کا منہج اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔‘‘ یہی کلمہ لا إله إلا الله کا مفہوم ہے۔

لیکن طاغوت سے اجتناب کی بعض صورتیں ایمان کی شرط ہیں، اور ان کو ترک کرنا ایمان کو توڑ دیتا ہے، مثلا طاغوت کی عبادت سے اجتناب کرنا، اپنی مرضی سے اس کے پاس فیصلہ کروانے سے اجتناب کرنا، اس کی کفریہ تشریعات اور قوانین کی حفاظت کرنے سے اجتناب کرنا، یا ان کے احترام کی قسم کھانے سے بچنا، اور اسی طرح کے دیگر امور۔

جبکہ بعض صورتیں کمال ایمان سے تعلق رکھتی ہیں؛ انہیں ترک کرنا ایمان میں کمی کا سبب بنتا ہے، لیکن ایمان کو ختم نہیں کرتا، مثلا ان کی طرف معمولی سا جھکاؤ، ان کے ساتھ مداہنت اور مصلحت پسندی، یا ان کے ظلم میں ان کی تعداد اور ظاہری قوت بڑھانے میں معاون بننا، اور اسی طرح کے دیگر گناہ۔ أ.هـ

پھر شیخ نے اسی مسئلے کے حاشیے میں مزید فرمایا کہ اس بات سے یہ مفہوم نہیں لینا چاہیے کہ ان گناہوں کو معمولی سمجھا جارہا ہے، کیونکہ ان میں بعض کبیرہ گناہ بھی ہیں۔ بلکہ مقصود ان گناہوں کو ان اعمال سے الگ کرکے واضح کرنا ہے جو انسان کو کفر میں مبتلا کردیتے ہیں۔

اور جس شخص کے دل میں سمجھنے کی صلاحیت ہو، اس کے لیے اللہ عزوجل کی ان بہت سی آیات میں مذکور وعید ہی کافی ہے، جن میں معمولی سے جھکاؤ پر بھی تنبیہ کی گئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا ۝ إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا﴾ ’’اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو یقینا آپ ان کی طرف کچھ نہ کچھ تھوڑا سا جھکنے کے قریب ہوچکے تھے۔ اگر ایسا ہوجاتا تو ہم آپ کو زندگی میں بھی دوہرا عذاب چکھاتے اور موت کے بعد بھی دوہرا عذاب چکھاتے، پھر آپ ہمارے مقابلے میں اپنے لیے کوئی مددگار نہ پاتے۔‘‘

[سورۃ الإسراء: 74-75]

یہ عمومی طور پر مسلمانوں کے ممالک میں حکمرانوں کی طاغوتی حکومتوں میں ملازمت کرنے اور ان سے وابستگی اختیار کرنے کے بارے میں حکم ہے۔

رہا عراق کی طاغوتی حکومت میں ملازمت کرنا اور اس سے وابستگی اختیار کرنا، تو وہاں کی صورت حال یہ ہے کہ جنگ کی آگ بھڑکائی جاچکی ہے اور اسے صلیب کے پجاریوں اور ان کے مشرک ساتھیوں کے مقابلے میں اسلام کے محافظوں اور توحید کے سپاہیوں کے درمیان خوب بھڑکایا گیا ہے۔ أولياء الرحمن اور أولياء الشيطان کے درمیان جنگ کی چکی چل رہی ہے۔

لہٰذا اگر کوئی مدرس ریاضی اور اسی طرح کے دیگر مباح مضامین پڑھانے کی وجہ سے کافر یا گناہ گار نہیں ہوتا، بشرطیکہ ان مضامین میں قوانین اور ان کے مطابق حکومت کرنے والوں کی تمجید شامل نہ ہو، تب بھی وہ اس صورت میں گناہ گار ہوگا جب اس قبضے کے دوران اپنے مجاہد بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دے اور اللہ کے راستے میں جہاد ترک کردے، حالاں کہ جہاد اہم ترین فرض عین میں سے ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «الْعَدُوُّ الصَّائِلُ الَّذِي يُفْسِدُ الدِّينَ وَالدُّنْيَا لَا شَيْءَ أَوْجَبُ بَعْدَ الْإِيمَانِ مِنْ دَفْعِهِ» ’’جو حملہ آور دشمن دین اور دنیا دونوں کو فساد سے دوچار کردے، ایمان کے بعد اس کو دفع کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز واجب نہیں۔‘‘ [الفتاوى الكبرى]

اسی بنا پر، اے سائل بھائی! ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں کہ آپ دولہ العراق الاسلاميہ کے سپاہیوں میں شامل ہوں، جس نے توحید اور جہاد کا پرچم بلند کیا ہے۔ اس کی صفوں میں شامل ہونے اور اس کی مدد کے لیے کام کرنے کی کوشش کریں، اور اس کی تعداد بڑھانے کا کام بھی کریں، خواہ آپ اس کے علاوہ کچھ کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ اس معاملے میں سستی نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان اعمال کی زیادہ سے زیادہ رغبت عطا فرمائے جو ہمیں اس کے قریب کرتے ہیں اور اسے ہم سے راضی کرتے ہیں۔ اللہ ہی زیادہ جاننے والا اور سب سے زیادہ حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔

جواب دینے والے : شیخ ابو النور فلسطینی
رکن اللجنہ الشرعيہ منبر التوحيد والجهاد
تاریخ اشاعت: 6 اکتوبر 2009ء
​
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
916
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
ماحكم العمل كمدرس في مدارس حكومة الطواغيت في العراق ؟ ​


رقم السؤال:92 القسم : العقيده
تاريخ النشر: 6 /10/2009
​
المجيب: اللجنة الشرعية في المنبر
نص السؤال:

السلام عليكم..ما حكم العمل كمدرس في مدارس حكومة الطاغوت في العراق وحكم الانتساب إليها.

السائل: أبو عبيدة السلفي

* * *​

الجواب:

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، وبعد:

إعلم أخي السائل وفقنا الله وإياك لما يحب ويرضى، أن حكم العمل في الوظائف الحكومية الطاغوتية سواء أكان ذلك في العراق أو في غيرها من بلاد المسلمين التي علت فيها أحكام الكفر وساد أصحابها ـ والله المستعان ـ لا يخرج عن إحدى ثلاثة أحكام: إما أن يكون كفراً وإما أن يكون محرماً وإما أن يكون مكروهاً، كل حكم بحسب تحقيق مناطه، فإذا كانت الوظيفة تتضمن تولياً لتلك الحكومات وأهلها، ومناصرة ومظاهرة لهم ولتشريعاتهم وقوانينهم، سواء كان ذلك بالدعوة إليها أو بالحكم بها أو بالتحاكم إليها عن رضى أو قبول بها فلا شك أن العمل في مثل هذه الوظائف هو كفر بواح وشرك صراح وردة سافرة عن دين الله سبحانه وتعالى، ومن عمل في مثل هذه الوظائف فقد نقض أصل اجتناب الطاغوت الذي لا يصح إسلام أحد إلا بتحقيقه.

وإذا كانت الوظيفة تتضمن إعانة تلك الحكومات الطاغوتية على ظلم الناس وأكل أموالهم بالباطل كمثل جباة المكس والضرائب وما يسمى بالجمارك في بعض بلاد المسلمين أو إعانتها على أكل الربا من خلال ما تقدمه من قروض ربوية للتجار والمزارعين وغيرهم بعد التضييق عليهم بحيث يصبحون مجبرين على ذلك، فيكون الموظف كاتباً لتلك المعاملات الربوية أو شاهداً عليها، فإن العمل في مثل هذه الوظائف حرام قطعاً وكبيرة من الكبائر، ومن عمل في مثل هذه الوظائف فإنه لم يحقق كمال الاجتناب الواجب للطاغوت الذي ينقص إيمان المسلم ويضعف بحسب المعصية التي يرتكبها أو يعين عليها . وإما إذا كانت الوظيفة لا تتضمن أحد مناطي الحكمين السابقين أو كلاهما، كأئمة الأوقاف وخطبائهم ومؤذنيهم، وكالمدرسين أو الموظفين في وزارات التربية والتعليم، وموظفي وزارات الصحة وموظفي البلديات وغيرها من الوظائف التي يكون أقل أحوال العامل فيها أنه مكثر لسواد تلك الحكومات وذليل صاغر تحت وطأتها، فمثل هذه الوظائف - إن لم يتخللها شيء من المعاصي - تندرج تحت الحكم الثالث من الأحكام التي ذكرناها آنفاً وهو الكراهة، والتي لا يكون العامل فيها قد حقق كمال الاجتناب المستحب للطاغوت .

قال شيخنا الوالد أبو محمد المقدسي حفظه الله تعالى ورعاه في المسألة الثانية من رسالته الإشراقة في سؤالات سواقة: فالذي قلناه ونقوله: ( أننا نحب للأخ الموحد أن يكون بعيداً عن هذه الحكومات من باب كمال اجتنابه لها، ولا شك أن منهاج حياة كل موحد هو قوله تعالى: {أن اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوت} فذلك معنى "لا إله إلا الله"، لكن منه ما هو شرط للإيمان وتركه ناقض للإيمان، كاجتناب عبادة الطاغوت واجتناب التحاكم إليه مختاراً واجتناب حراسة تشريعاته وقوانينه الكفرية أو القسم على احترامها ونحو ذلك، ومنه ما هو من كمال الإيمان وتركه ناقص للإيمان وليس بناقض للإيمان كيسير الركون والمداهنة أو تكثير سواد ظلمهم ونحو ذلك من المعاصي. أ.هـ ، ثم عقب الشيخ في حاشية المسألة بقوله: ولا يفهم من هذا التهوين من شأن هذه المعاصي، فإن فيها ما هو من الكبائر ولكن المراد تمييزها عن المكفرات، ومن كان له قلب يكفيه الوعيد الذي ذكره الله عز وجل في كثير من الآيات كقوله تعالى في الركون اليسير: {ولولا أن ثبتناك لقد كدت تركن إليهم شيئاً قليلاً إذا لأذقناك ضعف الحياة والضعف الممات ثم لا تجد لك علينا نصيرا.]

هذا بالنسبة للعمل والانتساب إلى الحكومات الطاغوتية الحاكمة في بلاد المسلمين عامة، وأما العمل في حكومة العراق الطاغوتية والانتساب إليها، والحال كما هو الحال فيها وقد أضرمت نيران الحرب وسعّرت بين عبّاد الصليب وأذنابهم من أهل الشرك والتنديد وبين حماة الإسلام وجنود التوحيد، ودارت رحى المعركة بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان، فإذا كان المدرس لا يكفر ولا يأثم في تدريسه لبعض المواد المباحة كالرياضيات ونحوها مثلا من المواد التي ليس فيها تمجيدا للقوانين والحاكمين بها ، فإنه لا بد آثمٌ إذا كان خاذلا لإخوانه المجاهدين في ظل هذا الإحتلال ؛ تاركاً للجهاد في سبيل الله الذي هو من أهم فروض الأعيان، قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله تعالى: ( العدو الصائل الذي يفسد الدين والدنيا لا شيء أوجب بعد الإيمان من دفعه.) أ.هـ. الفتاوى الكبرى

ولذلك فنوصيك أيها الأخ السائل أن تحرص على عدم تفويت الفرصة في أن تكون من جنود دولة العراق الإسلامية التي رفعت لواء التوحيد والجهاد واحرص على أن تكون من العاملين فيها ولأجل نصرتها وفي عدوتها حتى لو لم تستطع إلا تكثير سواد أهلها فلا تتوانى في ذلك، زادنا الله وإياك حرصاً على ما يقربنا إليه ويرضيه عنا. هذا والله أعلم وأحكم، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.

إجابة عضو اللجنة الشرعية :
الشيخ أبو النور الفلسطيني


 
Last edited:
Top