1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبایا کا مقصد کیا!!!

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏اپریل 18، 2014۔

  1. ‏اپریل 18، 2014 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    [​IMG]
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 4
    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 20، 2014 #2
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا


    بہن آج کل عبایات کی کثرت کی وجہ مجھے یہی نظر آتی ہے کہ "ہم زیادہ خوب صورت لگتے ہیں"
    ایک گروہ چہرہ نہیں ڈانپتا اور اوپر سے زیب و زینت اختیار کر کے نکلتا ہے!!
    دوسرا گروہ چہرہ نہیں ڈھانپتا مگر زیب و زینت بھی اختیار نہیں کرتا!!
    تیسرا گروہ چہرہ ڈھانپتا ہے اور زیب و زینت اختیار کر کے نکلتا ہے!!
    چو تھا گروہ چہرہ ڈھانپتا ہے اور زیب و زینت اختیار نہیں کرتا!!
    چاروں میں ایک قدر مشترک عبایا ہے۔۔ہمارے ہاں پردے کے لیے "عبایا" فرض سمجھا جاتا ہے حالانکہ صحابیات بڑی چادر ہی اوڑھا کرتی تھیں۔۔مقصد وجود چھپانا ہے۔۔چاہے بڑی چادر ہے یا برقعہ!!
    گاؤن میں امبرائیڈی عام ہے۔۔حتٰی کہ بیک پر بھی امبرائیڈی ہے۔سادہ گاؤن خال خال نظر آتے ہیں۔۔خصوصا دلہن کے لیے جو نیا برقعہ لیا جاتا ہے اسے بھی"دلہن"بنایا جاتا ہے۔۔
    سلمہ ستارے نہیں ہے توگاؤن ڈھیلا ڈھالا نہیں ہے۔۔
    پھر ایساباریک ہے کہ زینت ہی چھپتی نہیں۔۔گاؤن ہی نہیں اوپر کی اوڑھنی بھی ایسی باریک کہ چار دفعہ تہہ کرنے کے بعد بھی روشنی میں چہرہ نظر آئے۔۔یہ مسائل دین دار گھرانوں میں بھی عام ہیں۔۔پاکستان میں المسعود،دارالسلام وغیرہ پر بھی ایسے ہی گاؤن،سکارف ملتے ہیں۔۔وجہ یہی کہ لوگ یہی خریدتے،پہنتے ہیں۔۔جب دینی ادارے ہی ایسا سٹف رکھیں گے تو عام افراد کیا کریں؟؟
     
    • پسند پسند x 9
    • متفق متفق x 5
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 20، 2014 #3
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,510
    موصول شکریہ جات:
    6,014
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 22، 2014 #4
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    اب عبایوں کو لباس کے طور پر بھی استعمال کیا جانے لگا ہے اگر درس قرآن میں جانا ہے تو سادہ عبایا ۔مارکیٹ جانا ہے تو تھوڑ ا ماڈرن عبایا اور اگر شادی میں شرکت کرنا ہے تو عبایا کی ضرورت ہی نہیں ہے ،
     
    • پسند پسند x 7
    • متفق متفق x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 22، 2014 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اناللہ وإنا الیہ رجعون۔
    میرےخیال میں ان اداروں کے بڑوں کو اطلاع کرنی چاہیے شاید کوئی فائدہ ہوسکے۔
     
    • متفق متفق x 6
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 22، 2014 #6
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بد قسمتی سے ہمارے ہاں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پردہ کرنے کا اول آخر مقصد یہ ہے کہ عبایا پہن لیا جائے اور پھر تمّت بالخیر ۔یہی وجہ ہے کہ پھر عبایا کے نام پر ہر قسم کے تبرّج کے اظہار کو اپنا شرعی حق سمجھ لیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
    شریعت کی تمام نصوص میں ہمیں حجاب کے احکام جہاں بھی ملتے ہیں وہاں مقصد ایک ہی سمجھ میں آتا ہے اور وہ ہے ۔۔۔۔۔ ہر قسم کی زیب وزینت کو چھپانا خواہ اس کے لیے طریقہ کار کوئی بھی اختیار کیا جائے
    آیات دیکھیے
    وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَايُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾
    يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿٣٢﴾ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ
    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿٥٩﴾
    ان نصوص سے یہ دو نکات بخوبی وا ضح ہوتے ہیں
    ہر قسم کی زیب و زینت کو چھپانے کا حکم ہے خواہ وہ آواز کی زینت ہو‘زیورات کی جھن جھن ہو یا پھر جسمانی محاسن ہوں
    اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی خاص طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا بلکہ ہر عورت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا
    ہر عورت بخوبی اپنے محاسن و عیوب سے واقف ہوتی ہے نیز وہ یہ بھی جانتی ہے کہ کہاں اور کیسے جنسِ مخالف پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا تقوی سے کام لے کر ایک عورت وہ تمام اقدامات کرے جن سے کوئی غیر مرد اس کی کسی قسم کی زیب و زینت کی بھنک بھی نہ پا سکے خواہ اس کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کرے یہی اصل پردہ ہے ۔۔۔
    دل میں تقوی ہو گا تو وہ گائیڈ کرے گا کہ سیفٹی پن کی جگہ بروج استعمال کرنا کیسا ہے۔۔۔۔۔جوتے اگر آواز دیتے ہوں تو باہر پہن کر جانا چاہیے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔عبایا کے اندر باڈی سپرے لگانا پردے کے منافی تو نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ان تمام سوالات کے جواب تقوی دے گا جب مقصد یہ سامنے ہو کہ زینت کو چھپانا ہے
    ویسے تو ہر معاملے میں تقوی کی بہت اہمیت ہے لیکن خاص پردے کے حوالے سے میں اس کو بہت اہم سمجھتی ہوں کیونکہ خوفِ خدا دل میں نہ ہو تو ایک عورت عبایا پہن بھی معاشرے میں قتنہ و فساد پیدا کر سکتی ہے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو پردے کے تقاضے پورے کرنے والا بنائے (آمین)
     
    • پسند پسند x 9
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 22، 2014 #7
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    مجھے یاد ہے ایک دفعہ اپنی دوست کے ساتھ پردے پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے اظہارِ افسوس کیا
    کیسا وقت آ گیا ہے کہ عبایا پہننا فیشن بن گیا ہے
    اس نے جوابا کہا
    شکر کرو کوئی تو فیشن جسم ڈھانپنے والا ہے ورنہ تو ہر فیشن عورت کو ننگا کرنے کے لیے متعارف کرایا جاتا ہے۔ فیشن کے طور پر عبایا لیتے لیتے ہو سکتا ہے کہ اللہ انھیں ہدایت دے دیں اور وہ شعوری طور پر اس کو اپنا لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر دیندار اور سمجھدار خواتین اس فیشن میں ملوّث نہ ہوں تو مجھے اس کی یہ اپروچ پسند آئی تھی۔ایک لڑکی اگر فیشن کی وجہ سے سلیو لیس کپڑے پہنتی ہے جبکہ دوسری فیشن کے طور پر سہی خوبصورت عبایا پہن لیتی ہے دونوں کا دینی معاملہ ایک سا ہے تو اہلِ فورم خواتین کیا خیال ہے آپ کا کون سی لڑکی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
    رائے درکار ہے
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 22، 2014 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جب ابھی مزعومہ اسلامی بینکاری متعارف نہیں ہوئی تھی تو اسلامی ذہن رکھنے والے لوگ بینکوں سے لین دین نہیں کیا کرتے تھے کہ ان کا نظام غیر اسلامی ہے ۔
    شیطان نے مشورہ دیا ہوگا تو اس بنیاد پر وہی سودی نظام اصطلاحات کی تبدیلی اور الفاظ کے داؤ پیچ کے ساتھ '' اسلامی بینکاری '' کے نام سے شروع کردیا گیا ۔ لہذا ان تمام لوگوں نےبھی اپنا سرمایا بینکوں میں دھکیل دیا جو کل تک بینکاری کو ایک غیر اسلامی نظام سمجھتے تھے ۔
    اسی تناظر میں ذرا حالیہ مسئلہ دیکھیں کہ
    جنہوں نے کھلم کھلا فیشن کرنا ہے انہیں تو ’’ عبایا ‘‘ ’’ شبایا ‘‘ پہننے کی ضرورت ہی نہیں ۔ یہ فیشندار عبایے نکالے ہی ( شاید ) اس لیے گئے ہیں تاکہ وہ خواتین بھی فیشن ( عبایوں کی شکل میں ) شروع کردیں جو عموما ان چیزوں سے پرہیز کرتی ہیں ۔
    تو اب اگر تو ان فیشندار عبایوں کو وہ عورتین استعمال کرتی ہیں جو اس سے پہلے سرے سے پردہ ہی نہیں کرتی تھیں پھر تو کچھ بہتر محسوس ہوتا ہے ۔
    لیکن اگر میری وہ معصوم مائیں اوربہنیں جو پہلے زیب و زینت سے خالی حجاب ( مثلا چادر وغیرہ ) کا اہتمام کرتی تھیں لیکن اب مزید پردہ مکمل کرنے کے لیے ان زیب و زینت سے مرصع عبایوں کی طرف آرہی ہیں تو یہ بہت ہی افسوس ناک رجحان ہے ۔
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 22، 2014 #9
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    اگر دیندار اور سمجھدار خواتین اس فیشن میں ملوّث نہ ہوں تو مجھے اس کی یہ اپروچ پسند آئی تھی۔ایک لڑکی اگر فیشن کی وجہ سے سلیو لیس کپڑے پہنتی ہے جبکہ دوسری فیشن کے طور پر سہی خوبصورت عبایا پہن لیتی ہے دونوں کا دینی معاملہ ایک سا ہے تو اہلِ فورم خواتین کیا خیال ہے آپ کا کون سی لڑکی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
    آپ نے شاید غور نہیں کیا میں ذکر کر چکی ہوں کہ دیندار خواتین کو کیسا پردہ کرنا چاہیے۔ یہ بات مجھے اس صورت میں پسند آئی تھی اگر ایک ننگا فیشن کرنے والی لڑکی بطورِ فیشن ان دیدہ زیب برقعوں کا استعمال کرے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج کل یہ ٹرینڈ بن چکا ہے۔۔۔سمجھدار خواتین کو تو ان سے لازما ہر صورت پرہیز کرنا چاہیے
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 22، 2014 #10
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463


    جب عبایا پہنا ہی فیشن کی وجہ سے جائے تو وہ دیرپا رہ ہی نہیں سکتا، کیونکہ فیشن میں تو اوتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔جو خواتین زیب و زینت والے عبایا پہنتی ہیں ، وہ دونوں اطراف میں مطمئن رہنے کی ادنی سی کوشش ہے ، یہاں تک دوپٹے کے جس پلو پر نقش و نگار مزین ہوتے ہیں ، انھیں چہرے کی طرف اوڑھا جاتا ہے ، اور نام پھر بھی وہی کہ چلو عبایا دوپٹہ تو اوڑھا ہے۔۔۔!!! بس ماریہ بہن دونوں طرح کی لڑکی ہی دعوت دینے والی ہے ، بہتر کہہ نہیں سکتی!
    عبایا ہے ہی وہی جس سے غیر مرد کی نظر پلٹ جائے ۔
     
    • متفق متفق x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں