• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقيقہ ميں بکرا ذبح کرنا جائز ہے يا نہیں؟

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
بهائيو!
آپ هی ذرا اس په تبصرا کرليں که کجھ اسلام نما مسلمين کسي مرده کو ثواب پهنچانے کے ليے خيرات کرت هيں اور اسم ميں کوئی حيوان ذبح کرتے هيں تو هم کہتے هيں کہ کو وه مذبوحه حرام هے کيونکه غير الله کے نام په ذبح ہوا هے۔۔۔۔

تو اب سوال يه هے که کيا عقيقه ميں مذبوحه غير الله کے نام په نهيں هوجاتا؟ تو پهر شريعت نے اسکو کيسے جائز قرار ديا هے جيسا که روايت ميں هے که:

عن بريدة رضي الله عنه قال : ( كنا في الجاهلية إذا ولد لأحدنا غلام ذبح شاة ولطخ رأسـه بدمهـا ، فلما جاء الله بالإسـلام كنا نذبح شاة ونحلق رأسه ونلطخه بزعفران ) .

رواه أبو داود ( 2843 ) وصححه الشيخ الألباني في " صحيح أبي داود " .
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عقیقہ کی اس طرح وضاحت كى ہے:

1 - سلمان بن عامر الضبى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا:

" بچے كے ساتھ عقيقہ ہے، تو تم اس كى جانب سے خون بہاؤ اور اس كى گندگى دور كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5154 ).

2 - عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں بچے كى جانب سے پورى دو اور بچى كى جانب سے ايك بكرى ذبح كرنے كا حكم ديا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1513 ) ترمذى نے اسے حسن صحيح كہا ہے، سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3163 ) صحيح سنن ترمذى حديث نمبر ( 1221 ).

3 - ام كرز رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ انہوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عقيقہ كے متعلق دريافت كيا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بچے كى جانب سے دو بكرياں اور بچى كى جانب سے ايك بكرى ہے، اس ميں كوئى نقصان نہيں كہ وہ بكرا ہو يا بكرى "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1516 ) ترمذى نے اسے حسن صحيح قرار ديا ہے، سنن اور ابو داود حديث نمبر ( 2835 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3162 ) آخرى زائد الفاظ كو ابو داود حديث نمبر ( 2460 ) ميں روايت كيا گيا ہے.

4 - سمرہ بن جندب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر بچہ اپنے عقيقہ كے ساتھ رہن اور گروى ركھا ہوا ہے، اس كى جانب سے ساتويں روز ذبح كيا جائے، اور اس كا سر مونڈا جائے اور نام ركھا جائے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1522 ) ترمذى نے اسے حسن صحيح كيا ہے، اور سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3165 ) صحيح سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2563 ).
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
تو اب سوال يه هے که کيا عقيقه ميں مذبوحه غير الله کے نام په نهيں هوجاتا؟ تو پهر شريعت نے اسکو کيسے جائز قرار ديا هے .
کچھ عجیب سا سوال ہے؟
اگر کسی عمل کا حکم قرآن اور حدیث میں واضح طور پر موجود ہو تو چوں چرا کا کیا مطلب؟
عقیقہ میں بھی ذبیحہ اللہ کے نام پر کیا جاتا ہے نہ کہ بچے کے نام پر؟

اسی قسم کے مزید ’’شیطانی خیالات اور وسوسے‘‘ کچھ اس قسم کے ہیں یا ہوسکتے ہیں

١۔ فرض نماز تو اللہ کے لئے ہوتی ہے تو کیا ’’سنت نماز‘‘ (نعو ذ با للہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہوتی ہے؟
٢۔ عید الاضحیٰ میں قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ’’سنت ‘‘ میں ادا کی جاتی ہے، تو یہ ذبیحہ ’’غیر اللہ‘‘ کے لئے ہے۔
٣۔ حج و عمرہ میں ’’سعی‘‘ بی بی حاجرہ کی ’’سنت‘‘ میں کی جاتی ہے تو کیا یہ (نعو ذ با للہ) بی بی حاجرہ کی عبادت ہوگئی۔

اسلام میں تمام عبادات اور قربانی صرف اور صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے۔ اور ان عبادات و قربانی کے ’’مواقع‘‘ کی نشاندہی بھی اللہ نے کی ہے کہ تم فلاں فلاں موقع پرمیری عبادت اور میری راہ مین قربانی کرو جیسا کہ میرے فلان بندے نے کیا تھا (اگر کوئی عبادت و قربانی کسی مخصوص واقعہ کے پس منظر میں اللہ نے فرض کی ہو تو)

واللہ اعلم بالصواب
 

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
بهائی! واقعا آپ کے سوالات کچھ خيالي هيں کيونکه در اصل ان سوالوں کے مقدمات ميں مغالطه هے۔۔۔۔۔

باقي ميرا سوال کاملا منطقی اور مناسب هے۔۔۔۔ آپ نے جواب ديا که عقيقے کا مذبوحه الله پاک کے نام ہی هوتا هے تو خيرات ميں بهی، ذبيحه، الله پاک کے ہی نام تو هوتا هے ۔۔۔۔!
تو پهر ايک حلال اور دوسرا حرام کيوں؟

ياد رہے که همارا اعتراض يه ہوتا هے که وه مذبوحه الله پاک کے نام نہيں اس ليے حرام هے۔۔۔!

يا پهر شايد همارے اعترض کا انداز اور رخ صحيح نهیں ہے۔۔۔!

جزاک الله۔۔۔۔۔۔
 

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
اسلام میں تمام عبادات اور قربانی صرف اور صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے۔ اور ان عبادات و قربانی کے ’’مواقع‘‘ کی نشاندہی بھی اللہ نے کی ہے کہ تم فلاں فلاں موقع پرمیری عبادت اور میری راہ مین قربانی کرو جیسا کہ میرے فلان بندے نے کیا تھا (اگر کوئی عبادت و قربانی کسی مخصوص واقعہ کے پس منظر میں اللہ نے فرض کی ہو تو)

واللہ اعلم بالصواب
رهی آپ کی يه بات تو۔۔۔۔ صد درصد صحيح هے۔۔۔

تو پهر اس بنا په سوال يه هے که خيرات کرنا فعل حرام اور بدعت ہوا يا اس مذبوحه باسم الله کا گوشت بهی حرام هوگيا؟
اگر حرام نہيں ہوا تو آپ نقطه سوال سے خارج هوگئے۔۔۔۔

اور اگر گوشت حرام هوگيا تو کيا ايک گناه کي وجه سي حلال چيز، (حلال چيز، حلال چيز) کبهي حرام هوجاتی هے؟؟!!! گناه ايک الگ چيز اور کسي چيز کا حرام هونا ايک الگ بات هے جس کے ليے دليل ہونی چاهيے۔۔۔

اللهم احفظ جميع المسلمين والمسلمات۔۔۔۔۔حتى الفلسطينيين۔۔۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,003
ری ایکشن اسکور
9,808
پوائنٹ
773
آپ عقیقہ کی بات کرتے ہیں کہ حالانکہ اہل بدعت قربانی سے متعلق بھی کہا کرتے ہیں کہ قربانی میں بھی جانور فلاں کے نام سے ذبح کئے جاتے ہیں ، چنانچہ جب قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لئے کسی مولوی کو بلایا جاتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ کس کے نام سے ذبح کرنا ہے ۔۔۔

لہٰذا جب قربانی ہما شما کے نام پر ہوسکتی ہے تو غوث پاک کا بکرا غوث پاک کے نام پر کیوں نہیں ہوسکتا۔

جوابا عرض ہے کہ:

ایک چیز ہے کسی کے نام پر ذبح کرنا۔
اورایک چیز ہے کسی کی طرف سے ذبح کرنا۔


دونوں میں بڑا فرق ہے ، قربانی کا جانور مخلوق میں کسی کے نام پر نہیں بلکہ کسی کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے ، چنانچہ دعائے قربانی میں جہاں نام پڑھا جاتا ہے وہاں کے الفاظ ہوتے ہیں:

اللھم تقبل من۔۔۔۔۔فلان۔۔۔۔۔

’’من فلان ‘‘ یعنی فلاں کی طرف سے قربانی قبول فرما۔


رہی بات کسی کے نام پر قربانی کرنے کی تو قربانی صرف اور صرف اللہ کے نام پر ہی ہوتی ہے چنانچہ دعائے قربانی میں اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہوئے یہ الفاظ پڑھے جاتے ہیں:

باسم اللہ ، اللہ اکبر۔

’’بسم اللہ ‘‘ یعنی اللہ کے نام پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عقیقہ کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ عقیقہ بھی صرف اللہ ہی کے نام پر ہوتا ہے اوربچے کی طرف سے ہوتا ہے نہ کہ بچے کے نام پر ۔




اب آتے ہیں مشرکین واہل بدعت کے ذبیحہ کی طرف:

مشرکین واہل بدعت کے ذبیحہ کی حرمت دو وجوہات کی بناپر ہے:

پہلی وجہ:
غیراللہ کے نام پرذبح کرنا۔

یعنی بوقت ذبح اللہ کانام لینے کے بجائے کسی اور کا نام لینا۔

دوسری وجہ :
بوقت ذبح اللہ کے نام سے تو ذبح کیا جائے مگر اللہ کے لئے ذبح نہ کیا جائے:
یعنی ذبیحہ پیش کرنے کا مقصد اللہ کی خوشنودی کے بجائے کسی غیراللہ کی خوشنودی مطلوب ہو، یا اللہ کے ساتھ ساتھ غیراللہ کی بھی خوشنودی مقصود ہو۔

یہ صورت بھی حرام ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ،[صحيح مسلم 1978]۔
اللہ کی لعنت ہو جو غیراللہ کی لئے جانور ذبح کرے۔


غوث پاک(شیخ جیلانی رحمہ اللہ) وغیرہ کی طرف منسوب جو ذبیحہ پیش کیا جاتاہے اس کے حرام ہونے کی یہی وجہ ہے کہ وہ گرچہ بوقت ذبح اللہ کے نام پر ہی ذبح کیا جاتا ہے مگر اس کا مقصد غوث پاک(شیخ جیلانی رحمہ اللہ) کی خوشنودی ہوتی ہے، یا اللہ کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ غوث پاک(شیخ جیلانی رحمہ اللہ) کی خوشنودی بھی مقصود ہوتی ہے۔


جبکہ قربانی و عقیقہ کے جانور میں یہ بات نہیں ہوتی یعنی قربانی و عقیقہ کا جانور اللہ کے نام پر ذبح ہونے کے ساتھ ساتھ صرف اور صرف اللہ کے لئے ہی ذبح ہوتاہے۔


نوٹ: شیخ جیلانی رحمہ اللہ کو غوث پا ک کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔
 
Top