تو اب سوال يه هے که کيا عقيقه ميں مذبوحه غير الله کے نام په نهيں هوجاتا؟ تو پهر شريعت نے اسکو کيسے جائز قرار ديا هے .
کچھ عجیب سا سوال ہے؟
اگر کسی عمل کا حکم قرآن اور حدیث میں واضح طور پر موجود ہو تو چوں چرا کا کیا مطلب؟
عقیقہ میں بھی ذبیحہ اللہ کے نام پر کیا جاتا ہے نہ کہ بچے کے نام پر؟
اسی قسم کے مزید ’’شیطانی خیالات اور وسوسے‘‘ کچھ اس قسم کے ہیں یا ہوسکتے ہیں
١۔ فرض نماز تو اللہ کے لئے ہوتی ہے تو کیا ’’سنت نماز‘‘ (نعو ذ با للہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہوتی ہے؟
٢۔ عید الاضحیٰ میں قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ’’سنت ‘‘ میں ادا کی جاتی ہے، تو یہ ذبیحہ ’’غیر اللہ‘‘ کے لئے ہے۔
٣۔ حج و عمرہ میں ’’سعی‘‘ بی بی حاجرہ کی ’’سنت‘‘ میں کی جاتی ہے تو کیا یہ (نعو ذ با للہ) بی بی حاجرہ کی عبادت ہوگئی۔
اسلام میں تمام عبادات اور قربانی صرف اور صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے۔ اور ان عبادات و قربانی کے ’’مواقع‘‘ کی نشاندہی بھی اللہ نے کی ہے کہ تم فلاں فلاں موقع پرمیری عبادت اور میری راہ مین قربانی کرو جیسا کہ میرے فلان بندے نے کیا تھا (اگر کوئی عبادت و قربانی کسی مخصوص واقعہ کے پس منظر میں اللہ نے فرض کی ہو تو)
واللہ اعلم بالصواب