محدثین کرام رح کم علم یا بے علم اشخاص تو تھے نہیں کہ ہم انہیں ایک عامی کی طرح تقلید کرنے والا مانیں۔
ظاہر ہے وہ جن احکامات میں صاحب مذہب کے خلاف رائے رکھتے تھے ان میں اختلاف بھی کرتے تھے کیوں کہ خلاف اجتہاد تقلید کرنا اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں۔ محدثین کرام کو جو حنفی، شافعی، مالکی وغیرہ کہا جاتا ہے تو وہ ان کے اکثریتی مسائل کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ اکثر مسائل میں یہ فلاں امام کے متبع تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ دلائل سے واقفیت کے بعد ان کے اصول و احکام سے اپنے اجتہاد کی وجہ سے متفق تھے یا بلا دلیل۔ یہ بات انہیں اس مسلک میں شامل قرار دینے سے مانع نہیں ہے۔ جن مسائل میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں ان کا اپنا الگ مسلک ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ رح فرماتے ہیں:۔
وَمعنى انتسابه (ای انتساب ابن جریر الطبری۔۔۔۔ناقل) إِلَى الشَّافِعِي أَنه جرى على طَرِيقَته فِي الِاجْتِهَاد واستقراء الْأَدِلَّة وترتيب بَعْضهَا على بعض وَوَافَقَ اجْتِهَاده وَإِذا خَالف أَحْيَانًا لم يبال بالمخالفة وَلم يخرج عَن طَرِيقه إِلَّا فِي مسَائِل وَذَلِكَ لَا يقْدَح فِي دُخُوله فِي مَذْهَب الشَّافِعِي
وَمن هَذَا الْقَبِيل مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل البُخَارِيّ فانه مَعْدُود فِي طَبَقَات الشَّافِعِيَّة
الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف 1۔76 ط دار الفائس
اور حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں:۔
وكان صاحب الحديث أيضا قد ينسب إلى أحد المذاهب لكثرة موافقته له، كالنسائي والبيهقي ينسبان إلى الشافعي،
اس کی تفصیل اس جملہ سے تھوڑا پہلے ذکر کی ہے:۔
وكان من خبر الخاصة أنه كان من أهل الحديث منهم يشتغلون بالحديث، فيخلص إليهم من أحاديث النبي صلى الله عليه وسلم وآثار الصحابة ما لا يحتاجون معه شيء آخر في المسألة من حديث مستفيض أو صحيح
قد عمل به بعض الفقهاء، ولا عذر لتارك العمل به، أو أقوال متظاهرة لجمهور الصحابة والتابعين مما لا يحسن مخالفتها فان لم يجد في المسألة ما يطمئن به قلبه لتعارض النقل وعدم وضوح الترجيح ونحو ذلك - رجع إلى كلام بعض من مضى من الفقهاء، فإن وجد قولين اختار أوثقهما سواء كان من أهل المدينة أو من أهل الكوفة
اب چوں کہ ان پر حکم ان کی کثرت موافقۃ و عمل علی المذہب کو دیکھ کر لگایا گیا ہے اس لیے مختلف طبقات میں ایک ہی محدث کو ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسئلہ تین مسالک میں یکساں ہے تو اسے تینوں اپنے مسلک پر محمول کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں ایک محدث نے اپنا عام مسلک چھوڑ کر کسی اور مسلک کو اختیار کیا تو اس پر اس کا حکم لگا دیا گیا وغیرہ۔ اس کا یہ مطلب نکالنا کہ اپنے مسلک کی شان بڑھانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے ایک قسم کا الزام ہی ہے جو محتاج دلیل ہے اور کچھ نہیں۔
ایک بات کی وضاحت ابھی سے مناسب ہے کہ آپ کے نزدیک ’’ انتساب ‘‘ اور ’’ تقلید ‘‘ میں کوئی فرق ہے کہ نہیں ؟ مطلب یہ کہ آپ کے ہاں ’’ انتساب ‘‘ تقلید کو مستلزم ہے ؟
دوسری بات : بخاری و طبری وغیرہ علماء نےخود شافعی ہونے کا دعوی کیا تھا یا پھر لوگوں نے ان کو اس مذہب کی طرف منسوب کیا ہے ؟
آئمہ محدثین کی مقلدیت ثابت کرنے کے سلسلے میں مجھے آپکے فرمودات میں ایک بھی چیز ایسی نہیں ملی جو اس دعوی کے ثبوت پر دلالت کرتی ہو۔
زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا کہ کسی محدث کا کسی امام کے ساتھ کچھ مسائل میں اتفاق ہے ۔ تو یہ دلیل بالکل درست نہیں ۔ کیونکہ اس کا امام سے اختلاف بھی تو موجود ہے ۔ اگر اختلاف عدم تقلید کی دلیل نہیں بن سکتا تو پھر اتفاق کو کیوں ثبوت تقلید کی دلیل بنانے پر زور دیا جارہا ہے ۔ ؟!
اختلاف کی مختلف توجیہات کرنے کی بجائے ہم ’’ اتفاق ‘‘ کی یہ توجیہ کیوں نہیں کرسکتے کہ دونوں مجتہدین نے اجتہاد کیا اور دونوں کا اجتہاد ایک ہی نتیجہ پر پہنچا ۔
یہ ضروری تو نہیں کہ کسی مسئلے میں چند أئمہ کے اقوال متفق ہوں تو بعد والوں کو پہلے کا مقلد ہی قراردیاجائے ۔
ویسے بھی جو محدث آپ کے نزدیک اس وجہ سے مذہب کا پابند نہیں کہ وہ اجتہاد کی اہلیت ہونے کی وجہ سے امام سے اختلاف کرنے کا حق رکھتا ہے تو پھر اسے کس منطق سے امام کا مقلد ثابت کیا جا رہا ہے ؟
حضرت شاہ صاحب کے جتنے اقتباسات آپ نےنقل کیے ہیں ان میں آپ کے موقف کی ذرا برابر بھی تائید موجود نہیں( فیما فہمت ) بلکہ الٹا یہ آپ کے خلاف ہیں ۔
ایک بات اور بھی ذہن میں رکھیں کہ ’’اجتہاد ‘‘ کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ ’’ مجتہد ‘‘ اسی وقت درجہ اجتہاد پر فائز ہوگا کہ وہ ہر ہر مسئلہ میں اپنی رائے کا اظہا رکرے ۔ اوراگر اس نے ماقبل آئمہ کے مختلف اقوال میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیا تو وہ مقلد بن جائے گا اس طرح تو کوئی بھی مجتہد نہیں بچے گا ۔
دنیا میں کون سا مجتہد تھا یا ہے جس کو کسی سے پوچھنے یا کسی سے استفادہ کرنے یا ماقبل أئمہ کے اقوال سے مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
آخر میں بغرض فائدہ محدثین کی تقلید و عدم تقلید کے سلسلے میں کچھ مضامین پیش خدمت ہیں :
حضرات محدثین اور عدم تقلید ، انتساب و اجتہاد
'' کیا محدثین کرام رحمہم اللہ مقلد تھے ؟ '' از '' مولانا صدیق رضا ''
مقالات الحدیث ( ص 215 تا 230 )
امام بخاری کا مسلک ۔۔ از
اسماعیل سلفی رحمہ اللہ (
مقالات حدیث ص 80 )
امام بخاری کی شافعیت ۔۔۔ ایضا ۔۔ (
مقالات حدیث ص 100 )
اب چوں کہ ان پر حکم ان کی کثرت موافقۃ و عمل علی المذہب کو دیکھ کر لگایا گیا ہے اس لیے مختلف طبقات میں ایک ہی محدث کو ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسئلہ تین مسالک میں یکساں ہے تو اسے تینوں اپنے مسلک پر محمول کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں ایک محدث نے اپنا عام مسلک چھوڑ کر کسی اور مسلک کو اختیار کیا تو اس پر اس کا حکم لگا دیا گیا وغیرہ۔ اس کا یہ مطلب نکالنا کہ اپنے مسلک کی شان بڑھانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے ایک قسم کا الزام ہی ہے جو محتاج دلیل ہے اور کچھ نہیں۔
ويسے میں نے تو اس سلسلے میں کوئی بات ہی نہیں کی ۔ ( مسکراہٹ )
میرا مقصد صرف یہ عرض کرنا تھا کہ کسی محدث کا کسی مذہب کی کتب طبقات میں ذکر ہونا یہ اس کے اس مذہب کےمقلد ہونے کی دلیل نہیں ۔
کیونکہ یہ تو عقیدۃ و عملا بالکل ناجائز ہے اہل تقلید کے ہاں کہ ایک ہی آدمی بیک وقت مختلف مذاہب یا ایک سے زیادہ اماموں کا مقلد ہو ۔
فقہی اختلافات میں ائمہ اربعہ کا ذکر تو کثرت سے آتا ہے اور ان کے ہم زمانہ بعض علماء کا بھی لیکن کیا وجہ ہے کہ محدثین کا بہت کم آتا ہے؟ اگر ان کا الگ سے مسلک تھا تو ان کی رائے کا بھی ذکر کثرت سے ہونا چاہیے تھا۔ بات یہ ہے کہ جہاں یہ اپنی الگ رائے رکھتے ہیں وہاں ان کا الگ سے ذکر کردیا جاتا ہے۔ اور بہت کم ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کی جلالت علمی کی وجہ سے ان کا نام الگ سے لیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ عموما صرف ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں محدثین کرام کسی مسئلہ میں الگ سے رائے رکھتے ہوں اور ان کی یہ رائے مشہور ہوئی ہو۔ ورنہ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ البتہ علم اصول دین یعنی علم کلام میں چوں کہ محدثین کو الگ سے گروہ تسلیم کیا جاتا ہے بحث کا اس لیے ان کا ایسے مسائل میں ذکر بھی زیادہ ہوتا ہے۔
گویا ’’ محدثین ‘‘ کےلیے آپ جائز قرار دیتےہیں کہ وہ مشہور آئمہ سےہٹ کر قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی الگ رائے رکھ سکتے ہیں ۔
اور آپ کے نزدیک ان کا کام صرف ’’ روایت حدیث ‘‘ ہی نہیں تھا بلکہ ’’ فقہ حدیث ‘‘ بھی ان کا میدان تھا ۔
ذیل میں چند اقتباسات نقل کیےجاتے ہیں جو اس بات کی تائید کرتےہیں کہ اہل حدیث باقاعدہ اپنی فقہی رائے رکھتے تھے :
صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں :
قال الإمام، علاء الدين الحنفي، في (ميزان الأصول) : اعلم: أن أصول الفقه، فرع لعلم أصول الدين، فكان من الضرورة أن يقع التصنيف فيه، على اعتقاد مصنف الكتاب.
وأكثر التصانيف في أصول الفقه: لأهل الاعتزال، المخالفين لنا في الأصول، ولأهل الحديث المخالفين لنا في الفروع، ولا اعتماد على تصانيفهم. ( کشف الظنون ج 1 ص 81 )
یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل حدیث صرف ’’ علم الروایۃ ‘‘ یا ’’ علم العقائد ‘‘ کی اصطلاح نہیں بلکہ ’’ فروع دین ‘‘ ( فقہ ) میں بھی ان کو مقام حاصل ہے ۔
امام مقریزی لکھتے ہیں :
كانت إفريقية الغالب عليها السنن والآثار إلى أن قدم عبد الله بن فروج أبو محمد الفارسيّ بمذهب أبي حنيفة ( الخطط ج 4 ص 150 )
اس اقتباس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں اگر مذاہب کی پابندیوں میں جھکڑے ہوئے لوگ موجود تھے تو سنن و آثار کی ضیا پاشیوں سے مستفید ہونے والے مسلک اہل حدیث کے متوالے بھی موجود تھے ۔
باقی کسی کا نام قلت سے ذکر ہونا یا کثرت سے ذکر ہونا یہ کسی کے درست و نا درست ہونے کی دلیل نہیں ۔ ورنہ ابو حنیفہ ، مالک ، شافعی ، احمد ، ثوری ، اوزاعی اوردیگر چند فقہاء کے سوا سب اساطین علم و فقہ پر بھی یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو فقہ سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔
امیر صنعانی والا تھریڈ ملاحظہ فرمائیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے وہاں ایسی مثالیں بیان کی ہیں جن میں قرآن وسنت کے مقابلے میں مذہب کو چھوڑ دیا گیا ہے تو یہاں اقتباس نقل فرمادیں ۔
اگر صرف حاجت دنیوی ہی کافی ہوتی ہمارے نزدیک مسائل کے لیے تو متعہ وغیرہ جائز ہوتے۔ ان میں کافی حاجت ہے۔ کتنے لوگوں کو آسانی ہوجاتی۔
لیکن میرے بھائی ایسا نہیں ہوتا بلکہ دو جانب موجود آراء و دلائل میں سے ایک کو حاجت کی وجہ سے راجح قرار دیا جاتا ہے۔ بغیر دلیل کے نہیں۔ جیسے آگے مزارعۃ کا مسئلہ ہے۔ غالبا آپ نے یہ خود ملاحظہ نہیں فرمایا۔ ہدایہ میں دونوں فریقین کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں اور وجہ ترجیح صرف حاجۃ نہیں بتائی گئی حالاں کہ یسروا ولاتعسروا کے تحت یہ بھی کافی ہوتی بلکہ آگے فرمایا ہے ولظهور تعامل الأمة بها. والقياس يترك بالتعامل كما في الاستصناع.۔ اسے غالبا صاحب مقالات نے غائب کر دیا۔
تو خلاصہ کلام یہ کہ صرف حاجۃ کی وجہ سے ایک مسئلہ کو نہیں چھوڑا جاتا بلکہ حاجۃ کی وجہ سے دو قولوں میں سے ایک قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔
جس طرح ’’ حاجت ‘‘ ’’ تعامل امت ‘‘ وغیرہ وجوہ ترجیحات ہیں کیا قرآن وسنت کی نصوص کو اس سلسلےمیں کوئی جگہ نہیں مل سکتی ۔
مقلد کے پیش نظر حاجت یا مصلحت ہو تو مذہب سے خروج جائز لیکن اگر قرآن یاحدیث کی نص ہو تو تقلید واجب ۔
آگے بدیع الدین رحمہ اللہ کا جو اقتباس معلوماتی ہونے کی بنا پر آپ نے دیا ہے اسے معلومات کی بنیاد پر ایسے ہی رہنے دیتا ہوں۔ وگرنہ یہ یا تو شاہ صاحب کی قلت نظر ہے فقہ حنفی پر اور یا پھر مسلکی جنگ کا شاخسانہ۔ علماء میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔
میں اس کا بھرپور رد کر سکتا ہوں۔
جس جگہ میں نے حوالہ دیا ہے وہ مکمل تحریر پڑھ لیں شاید آپ یہ موقف تبدیل کرلیں گے کہ شاہ صاحب مسائل فقہ حنفی میں قلیل النظر تھے ۔
بلکہ اگر آپ اس کا بھرپور رد بھی کردیں تو ایک علمی کاوش تصور کیا جائے گا ۔