• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء احناف کے لیے دعوت غور و فکر

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436










کیا اشرف علی تھانوی صاحب پر اور مفتی تقی عثمانی صاحب پر حد لگتی ہے

فقہ شریف کے مطابق















سوال


مفتی تفی عثمانی صاحب مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم کی کتاب "الحیلة الناجزة في الحلیلة العاجزة" کے نئے ایڈیشن کے دیباچے میں فقہ حنفی سے خروج کا جواز تسلیم کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ فقہ حنفی میں شوہر سے گلوخلاصی کی خواہش مند عورتوں کو پیش آنے والی مشکلات کا کوئی حل نہیں ہے۔ انہوں نے ایسے بیشتر مسائل میں مالکی مذہب کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔ اگر فقہ حنفی مکمل ضابطۂ حیات ہے تو اس مسئلہ کا حل کیوں نہیں ہے؟


 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
کیا اشرف علی تھانوی صاحب پر اور مفتی تقی عثمانی صاحب پر حد لگتی ہے
فقہ شریف کے مطابق



سوال
مفتی تفی عثمانی صاحب مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم کی کتاب "الحیلة الناجزة في الحلیلة العاجزة" کے نئے ایڈیشن کے دیباچے میں فقہ حنفی سے خروج کا جواز تسلیم کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ فقہ حنفی میں شوہر سے گلوخلاصی کی خواہش مند عورتوں کو پیش آنے والی مشکلات کا کوئی حل نہیں ہے۔ انہوں نے ایسے بیشتر مسائل میں مالکی مذہب کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔ اگر فقہ حنفی مکمل ضابطۂ حیات ہے تو اس مسئلہ کا حل کیوں نہیں ہے؟



اشماریہ
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290

ویسے تو بہت ساری جگہوں پر ٹیگ کر دیا ہے لیکن اس جگہ کے لیے جزاک اللہ خیرا۔ میرے علم میں اضافہ ہوا۔
یہ لیجیے حاشیہ ابن عابدین پڑھیے اسی پر۔ ترجمہ نہیں کرتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی دنیوی غرض کے لیے ایک مسلک سے دوسرے مسلک کی طرف منتقل ہو۔
(اور اسے ابن تیمیہ رح نے بھی ممنوع قرار دیا ہے۔)
اگر اجتہاد کے ذریعے ہو تو اجر ملے گا۔
قوله ارتحل إلى مذهب الشافعي يعزر أي إذا كان ارتحاله لا لغرض محمود شرعا، لما في التتارخانية: حكي أن رجلا من أصحاب أبي حنيفة خطب إلى رجل من أصحاب الحديث ابنته في عهد أبي بكر الجوزجاني فأبى إلا أن يترك مذهبه فيقرأ خلف الإمام، ويرفع يديه عند الانحطاط ونحو ذلك فأجابه فزوجه، فقال الشيخ بعدما سئل عن هذه وأطرق رأسه: النكاح جائز ولكن أخاف عليه أن يذهب إيمانه وقت النزع؛ لأنه استخف بمذهبه الذي هو حق عنده وتركه لأجل جيفة منتنة، ولو أن رجلا برئ من مذهبه باجتهاد وضح له كان محمودا مأجورا.
أما انتقال غيره من غير دليل بل لما يرغب من عرض الدنيا وشهوتها فهو المذموم الآثم المستوجب للتأديب والتعزير لارتكابه المنكر في الدين واستخفافه بدينه ومذهبه اهـ ملخصا.
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
ہاں دنیاوی غرض کے لیے ممنوع ہے ۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی رو سے حق واضح ہوجانے کی صورت میں ممنوع نہیں ہونا چاہیے ۔
اگر مفقود الخبر اور اس طرح کی لاچار عورتوں کے لیے ( یعنی ایک دنیاوی حاجت ) کے لیے دوسرے مذہب کے دلائل پر غور و فکر کرکے اس کو اپنانا اور اپنا مذہب چھوڑنا جائز ہے تو پھر اللہ کی رضا کی خاطر قرآن وسنت کے دلائل کی بنیاد پر مذہب سے کنارہ کشی کرنا بالاولی مطلوب و محمود ہونا چاہیے ۔
فقہ حنفی کے اندر اور بھی مثالیں مل سکتی ہیں جہاں کسی مصلحت کی بنا پر امام صاحب یا مذہب کو خیر آباد کہہ دیا گیا ہے ۔
محترم اشماریہ بھائی کا پیش کردہ اقتباس اس لحاظ سے بھی مفید ہے کہ اس میں ’’ اصحاب الحدیث ‘‘ کے مذہب کو ایک فقہی مذہب ( حنفی ) کے بالمقابل پیش کیا گیا ہے ۔ جس سے اس دعوی کی تردید ہوتی ہے کہ ’’ محدثین ‘‘ کا اپنا کوئی فقہی مذہب نہیں ہوتا تھا ۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
ہاں دنیاوی غرض کے لیے ممنوع ہے ۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی رو سے حق واضح ہوجانے کی صورت میں ممنوع نہیں ہونا چاہیے ۔
اگر مفقود الخبر اور اس طرح کی لاچار عورتوں کے لیے ( یعنی ایک دنیاوی حاجت ) کے لیے دوسرے مذہب کے دلائل پر غور و فکر کرکے اس کو اپنانا اور اپنا مذہب چھوڑنا جائز ہے تو پھر اللہ کی رضا کی خاطر قرآن وسنت کے دلائل کی بنیاد پر مذہب سے کنارہ کشی کرنا بالاولی مطلوب و محمود ہونا چاہیے ۔
فقہ حنفی کے اندر اور بھی مثالیں مل سکتی ہیں جہاں کسی مصلحت کی بنا پر امام صاحب یا مذہب کو خیر آباد کہہ دیا گیا ہے ۔
محترم اشماریہ بھائی کا پیش کردہ اقتباس اس لحاظ سے بھی مفید ہے کہ اس میں ’’ اصحاب الحدیث ‘‘ کے مذہب کو ایک فقہی مذہب ( حنفی ) کے بالمقابل پیش کیا گیا ہے ۔ جس سے اس دعوی کی تردید ہوتی ہے کہ ’’ محدثین ‘‘ کا اپنا کوئی فقہی مذہب نہیں ہوتا تھا ۔
جی ہاں میں نے بھی اسے نوٹ کیا ہے۔ میں پہلے صرف مطلوبہ حصے کا اقتباس لگا رہا تھا لیکن یہ نیچے دیکھا تو یہ پورا لگا دیا تاکہ کتمان علم میں نہ شمار ہو۔

ویسے اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کیوں کہ امام شافعی رح کے مسلک میں بھی یہ احکام ہیں اور محدثین کرام میں کئی امام شافعی رح کے مسلک پر تھے جیسا کہ طبقات شافعیہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
باقی پہلے والی بات تو سب مانتے ہیں سوائے غلاۃ کے اور تفصیلا اسے عرض بھی کر چکا ہوں۔
مفقود الخبر اور دیگر لاچار عورتوں کی حاجت دنیوی نہیں دینی بھی ہے۔ نکاح کا حق اور اپنی شرم گاہ بچانے کا طریقہ اور زنا سے دور ہٹنا شریعت کا ہی حکم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی یہ فیصلہ نہ دیا جاتا۔ اسے فقہ کے قواعد میں ایک جملہ میں یوں ذکر کیا جاتا ہے لا ضرر و لا ضرار۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
ویسے اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کیوں کہ امام شافعی رح کے مسلک میں بھی یہ احکام ہیں اور محدثین کرام میں کئی امام شافعی رح کے مسلک پر تھے جیسا کہ طبقات شافعیہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
اگر ان کتب طبقات پر اعتماد کیا جائے تو پھر تو ایک ہی محدث کو حنفیوں نے بھی اپنے طبقات میں ذکر کیا ہے ۔ شافعیوں نے بھی ۔ اور اسی طرح حنابلہ نے بھی اسے اپنے طبقات میں شمار کیا ہے ۔
اسی طرح دو مسلکوں کا بعض احکام میں متفق ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ مسلک دو کی بجائے ایک ہی ہیں ۔ اگر بات وہی ہے جو توجیہ آپ نے کی ہے اور ’’ اہل حدیث یا اصحاب الحدیث ‘‘ کوئی مستقل فقہی مذہب نہیں رکھتے بلکہ مذاہب ثلاثہ ( مالکی ، شافعی ، حنبلی ) میں سے ہی کسی کے تحت ہوتے ہیں تو پھر فقہی مسائل میں انہیں بطور ’’ مالکی ، شافعی ،حنبلی ‘‘ ہی ذکر ہونا چاہیے تھا نہ کہ ’’ اہل حدیث ‘‘ وغیرہ کے ناموں سے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض کتب فقہ اور شروحات حدیث میں فقہی مذاہب کا تذکرہ کرتے ہوئے مذاہب اربعہ کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ’’ اہل حدیث ‘‘ کا صراحتا ذکر بھی موجود ہے جو اس بات کا رد ہے کہ ’’ اہل حدیث ‘‘ سے مراد کوئی الگ مذہب ہونے کی بجائے مذاہب ثلاثہ کے اصحاب حدیث ہی مراد ہوتے ہیں ۔
باقی پہلے والی بات تو سب مانتے ہیں سوائے غلاۃ کے اور تفصیلا اسے عرض بھی کر چکا ہوں۔
کس جگہ وضاحت کرچکے ہیں ؟ کچھ مثالیں پیش کردیں جہاں قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں مذہب کو چھوڑ دیا گیا ہو ۔
مفقود الخبر اور دیگر لاچار عورتوں کی حاجت دنیوی نہیں دینی بھی ہے۔ نکاح کا حق اور اپنی شرم گاہ بچانے کا طریقہ اور زنا سے دور ہٹنا شریعت کا ہی حکم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی بھی یہ فیصلہ نہ دیا جاتا۔ اسے فقہ کے قواعد میں ایک جملہ میں یوں ذکر کیا جاتا ہے لا ضرر و لا ضرار۔
محترم بھائی ! اس طرح تو ہر دنیوی حاجت کو دینی کہا جاسکتا ہے ۔ بہر صورت یہ محل نزاع نہیں ۔
میں تو بس اتنا عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ قرآن وسنت کی حرمت و تقدس اور حجیت کا تقاضا اتنا بھی نہیں جتنا مذکورہ مسائل میں پیش آمدہ صورت حال کا ہے ؟
کہ اس کے لیے تو مذہب سے ہٹنے کی اجازت ہے کہ لیکن قرآن وسنت کے لیے ہٹنے کی اجازت نہیں ۔
اسی طرح کا ایک اور مسئلہ سنیے :
ہدایہ کے اندر ہے :
قال أبو حنيفة : المزارعة بالثلث والربع باطلة ۔۔۔۔۔۔ وهي فاسدة عند أبي حنيفة و قالا جائزة ۔۔۔۔۔۔ إلا أن الفتوى على قولهما لحاجة الناس إليها ۔ ( مقالات راشدیہ ج 3 ص 239 بحوالہ ہدایہ ج 3 ص 424 )
یعنی ایک تہائی یا ایک چوتھائی کے برابر زمین کو مزارعت پر دینا ابو حنیفہ کے نزدیک باطل اور فاسد ہے جبکہ ابو یوسف و محمد کے نزدیک جائز ہے اور فتوی بھی اسی پر ہے کیوں کہ عوام کو اس کی ضرورت ہے ۔ ‘‘
اس طرح کے ملتے جلتے تقریبا دس مسائل ایسےہیں جنہیں مولانا بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ نے اپنی ایک کتاب جو کہ کسی حنفی عالم دین کے سوالات کا جوابات ہے ،میں لکھا ہے ۔
شاہ صاحب نے ساتھ ساتھ کچھ تعلیقات بھی لگائی ہیں
آپ وہ سب باتیں جانتے ہوں گے لیکن یہاں پڑھنے والے بہت سے اراکین ایسے ہیں جن کے لیے یہ اقتباس معلوماتی ہوگا ۔ لہذا پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
شاہ صاحب کا مذکورہ مسئلہ سے متعلقہ تبصرہ کچھ یوں ہے :
مفتی صاحب ! ۔۔۔۔ دیکھ لیا ہم بھی امام کا قول ترک کرتے ہیں لیکن اماموں کے امام ولیوں کے ولی نبیون کے بنی رسولوں کے رسول سچے مرشد امام اعظم قائد اعظم جنا ب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی وجہ سے مگر تم ہو کہ اپنے امام کے قول کو ضرورت نفسانی کی وجہ سے ترک کرے دوسرے اماموں کا سہارا لیتے ہو سوچو ؟
حالانکہ تم امام ابوحنیفہ کو تمام ائمہ سے افضل ، اعلم اور فقیہ کہتے ہو اور انہیں امام اعظم سمجھتے ہو اور اپنے آپ کو انہی کے مقلد کہتے ہو یعنی حنفی کہلاتے ہو جب کہ اپنے آپ کو شافعی ، مالکی ، حنبلی ، یوسفی ، محمدی ، زفری ، حسینی ، سرخسی ، خصافی ، طحاوی ، کرخی وغیرہ نہیں کہلاتے ۔ پھر بھی ادنی کے قول کی وجہ سے اعلی کے قول کو ترک کردیتے ہو ۔
أتستبدلون الذي هو أدنى بالذي هو خير
جب کہ دوسری طرف مندرجہ ذیل شعر تمہارا بنایا ہوا ہے ۔


فلعنة ربنا أعداد رمل
على من رد قول أبي حنيفة


پتہ نہیں لعنتیں کہاں کہاں پہنچیں گی ، ان لعنتوں سے کوئی امام فقیہ یا کوئی مفتی اور مجتہد بچ سکے گا ؟ کیوں کہ سب نے امام کے اقوال کو رد کیا ہے جب ان سب نے امام کے اقوال کو ترک کیا ہے تو پھر ہم نے سب سے اعلم ، افضل ، اور مطلق طور پر اعلی یعنی بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی وجہ سے کسی کے قول کو ترک کردیا تو کون سا گناہ کا کام کیا ؟
مزید لکھتے ہیں :
جب تمہارے لیے ایک مفتی یا مجتہد کے قول کو دوسرے مفتی یا مجتہد کے قول کی وجہ سے ترک کیا جاسکتا ہے حالانکہ مجتہد قد یخطی و قد یصیب کہ مجتہد سے خطا بھی ہوسکتی ہے اور وہ درست بھی ہوسکتا ہے ۔ تمہارے یہاں مسلم تو پھر ہمارے لیے بطریق اولی جائز ہے کہ ہم المعصوم عن الخطاء ( یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قول کی وجہ سے غیر معصوم کے قول کو رد کردیں ۔
تم کہو گے کہ تمہیں حدیث کا علم نہیں ہے ۔
مگر یہ عذر نہیں ڈھونگ ہے اور اس کی تردید کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ بہت سارے سابقہ لوگوں کی تحقیقات بعد میں آنے والے رد کرتے آئے ہیں جیساکہ ہدایہ کی اوپر والی عبارت سے روز روشن کی طرح واضح ہے۔ ایضا کتابوں کا تقابل کرنے سے معلوم ہوگا کہ بعد میں آنے والوں میں بھی قرآن و حدیث کوسمجھنے کا مادہ موجود ہے ۔ مثلا محمد بن حسن شیبانی کی کتاب الحج ، ابن الہمام کی فتح القدیر کے ساتھ تقابل کرکے دیکھیں اور انہیں کی مؤطا کا زیلعی کی نصب الرایہ کے ساتھ تقابل کریں ۔ اسی طرح طحاوی کی تصنیفات کے ساتھ قاسم بن قطلوبغا کی مصنفات کا تقابل کریں تو آپ کو اپنی آنکھوں سےنظر آئے گا کہ ’’ کم ترک الأول للآخر ‘‘ اس کے علاوہ آپ لوگ خود کئی مقامات پر بعد میں آنے والوں کی تحقیق کوسابقہ لوگوں کی تحقیق پر ترجیح دیتے ہیں کما مضی ۔
( مقالات راشدیہ ج 3 ص 238 تا 240 )​
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
اگر ان کتب طبقات پر اعتماد کیا جائے تو پھر تو ایک ہی محدث کو حنفیوں نے بھی اپنے طبقات میں ذکر کیا ہے ۔ شافعیوں نے بھی ۔ اور اسی طرح حنابلہ نے بھی اسے اپنے طبقات میں شمار کیا ہے ۔


محدثین کرام رح کم علم یا بے علم اشخاص تو تھے نہیں کہ ہم انہیں ایک عامی کی طرح تقلید کرنے والا مانیں۔
ظاہر ہے وہ جن احکامات میں صاحب مذہب کے خلاف رائے رکھتے تھے ان میں اختلاف بھی کرتے تھے کیوں کہ خلاف اجتہاد تقلید کرنا اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں۔ محدثین کرام کو جو حنفی، شافعی، مالکی وغیرہ کہا جاتا ہے تو وہ ان کے اکثریتی مسائل کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ اکثر مسائل میں یہ فلاں امام کے متبع تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ دلائل سے واقفیت کے بعد ان کے اصول و احکام سے اپنے اجتہاد کی وجہ سے متفق تھے یا بلا دلیل۔ یہ بات انہیں اس مسلک میں شامل قرار دینے سے مانع نہیں ہے۔ جن مسائل میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں ان کا اپنا الگ مسلک ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ رح فرماتے ہیں:۔
وَمعنى انتسابه (ای انتساب ابن جریر الطبری۔۔۔۔ناقل) إِلَى الشَّافِعِي أَنه جرى على طَرِيقَته فِي الِاجْتِهَاد واستقراء الْأَدِلَّة وترتيب بَعْضهَا على بعض وَوَافَقَ اجْتِهَاده وَإِذا خَالف أَحْيَانًا لم يبال بالمخالفة وَلم يخرج عَن طَرِيقه إِلَّا فِي مسَائِل وَذَلِكَ لَا يقْدَح فِي دُخُوله فِي مَذْهَب الشَّافِعِي
وَمن هَذَا الْقَبِيل مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل البُخَارِيّ فانه مَعْدُود فِي طَبَقَات الشَّافِعِيَّة
الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف 1۔76 ط دار الفائس

اور حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں:۔
وكان صاحب الحديث أيضا قد ينسب إلى أحد المذاهب لكثرة موافقته له، كالنسائي والبيهقي ينسبان إلى الشافعي،
اس کی تفصیل اس جملہ سے تھوڑا پہلے ذکر کی ہے:۔
وكان من خبر الخاصة أنه كان من أهل الحديث منهم يشتغلون بالحديث، فيخلص إليهم من أحاديث النبي صلى الله عليه وسلم وآثار الصحابة ما لا يحتاجون معه شيء آخر في المسألة من حديث مستفيض أو صحيح
قد عمل به بعض الفقهاء، ولا عذر لتارك العمل به، أو أقوال متظاهرة لجمهور الصحابة والتابعين مما لا يحسن مخالفتها فان لم يجد في المسألة ما يطمئن به قلبه لتعارض النقل وعدم وضوح الترجيح ونحو ذلك - رجع إلى كلام بعض من مضى من الفقهاء، فإن وجد قولين اختار أوثقهما سواء كان من أهل المدينة أو من أهل الكوفة


اب چوں کہ ان پر حکم ان کی کثرت موافقۃ و عمل علی المذہب کو دیکھ کر لگایا گیا ہے اس لیے مختلف طبقات میں ایک ہی محدث کو ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسئلہ تین مسالک میں یکساں ہے تو اسے تینوں اپنے مسلک پر محمول کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں ایک محدث نے اپنا عام مسلک چھوڑ کر کسی اور مسلک کو اختیار کیا تو اس پر اس کا حکم لگا دیا گیا وغیرہ۔ اس کا یہ مطلب نکالنا کہ اپنے مسلک کی شان بڑھانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے ایک قسم کا الزام ہی ہے جو محتاج دلیل ہے اور کچھ نہیں۔

اگر بات وہی ہے جو توجیہ آپ نے کی ہے اور '' اہل حدیث یا اصحاب الحدیث '' کوئی مستقل فقہی مذہب نہیں رکھتے بلکہ مذاہب ثلاثہ ( مالکی ، شافعی ، حنبلی ) میں سے ہی کسی کے تحت ہوتے ہیں تو پھر فقہی مسائل میں انہیں بطور '' مالکی ، شافعی ،حنبلی '' ہی ذکر ہونا چاہیے تھا نہ کہ '' اہل حدیث '' وغیرہ کے ناموں سے ۔
فقہی اختلافات میں ائمہ اربعہ کا ذکر تو کثرت سے آتا ہے اور ان کے ہم زمانہ بعض علماء کا بھی لیکن کیا وجہ ہے کہ محدثین کا بہت کم آتا ہے؟ اگر ان کا الگ سے مسلک تھا تو ان کی رائے کا بھی ذکر کثرت سے ہونا چاہیے تھا۔ بات یہ ہے کہ جہاں یہ اپنی الگ رائے رکھتے ہیں وہاں ان کا الگ سے ذکر کردیا جاتا ہے۔ اور بہت کم ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کی جلالت علمی کی وجہ سے ان کا نام الگ سے لیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض کتب فقہ اور شروحات حدیث میں فقہی مذاہب کا تذکرہ کرتے ہوئے مذاہب اربعہ کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ '' اہل حدیث '' کا صراحتا ذکر بھی موجود ہے جو اس بات کا رد ہے کہ '' اہل حدیث '' سے مراد کوئی الگ مذہب ہونے کی بجائے مذاہب ثلاثہ کے اصحاب حدیث ہی مراد ہوتے ہیں ۔
یہ عموما صرف ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں محدثین کرام کسی مسئلہ میں الگ سے رائے رکھتے ہوں اور ان کی یہ رائے مشہور ہوئی ہو۔ ورنہ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ البتہ علم اصول دین یعنی علم کلام میں چوں کہ محدثین کو الگ سے گروہ تسلیم کیا جاتا ہے بحث کا اس لیے ان کا ایسے مسائل میں ذکر بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کس جگہ وضاحت کرچکے ہیں ؟ کچھ مثالیں پیش کردیں جہاں قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں مذہب کو چھوڑ دیا گیا ہو ۔
امیر صنعانی والا تھریڈ ملاحظہ فرمائیں۔

محترم بھائی ! اس طرح تو ہر دنیوی حاجت کو دینی کہا جاسکتا ہے ۔ بہر صورت یہ محل نزاع نہیں ۔
میں تو بس اتنا عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ قرآن وسنت کی حرمت و تقدس اور حجیت کا تقاضا اتنا بھی نہیں جتنا مذکورہ مسائل میں پیش آمدہ صورت حال کا ہے ؟
کہ اس کے لیے تو مذہب سے ہٹنے کی اجازت ہے کہ لیکن قرآن وسنت کے لیے ہٹنے کی اجازت نہیں ۔

اگر صرف حاجت دنیوی ہی کافی ہوتی ہمارے نزدیک مسائل کے لیے تو متعہ وغیرہ جائز ہوتے۔ ان میں کافی حاجت ہے۔ کتنے لوگوں کو آسانی ہوجاتی۔
لیکن میرے بھائی ایسا نہیں ہوتا بلکہ دو جانب موجود آراء و دلائل میں سے ایک کو حاجت کی وجہ سے راجح قرار دیا جاتا ہے۔ بغیر دلیل کے نہیں۔ جیسے آگے مزارعۃ کا مسئلہ ہے۔ غالبا آپ نے یہ خود ملاحظہ نہیں فرمایا۔ ہدایہ میں دونوں فریقین کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں اور وجہ ترجیح صرف حاجۃ نہیں بتائی گئی حالاں کہ یسروا ولاتعسروا کے تحت یہ بھی کافی ہوتی بلکہ آگے فرمایا ہے ولظهور تعامل الأمة بها. والقياس يترك بالتعامل كما في الاستصناع.۔ اسے غالبا صاحب مقالات نے غائب کر دیا۔
تو خلاصہ کلام یہ کہ صرف حاجۃ کی وجہ سے ایک مسئلہ کو نہیں چھوڑا جاتا بلکہ حاجۃ کی وجہ سے دو قولوں میں سے ایک قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔

آگے بدیع الدین رحمہ اللہ کا جو اقتباس معلوماتی ہونے کی بنا پر آپ نے دیا ہے اسے معلومات کی بنیاد پر ایسے ہی رہنے دیتا ہوں۔ وگرنہ یہ یا تو شاہ صاحب کی قلت نظر ہے فقہ حنفی پر اور یا پھر مسلکی جنگ کا شاخسانہ۔ علماء میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔
میں اس کا بھرپور رد کر سکتا ہوں۔

مفتی صاحب ! ۔۔۔۔ دیکھ لیا ہم بھی امام کا قول ترک کرتے ہیں لیکن اماموں کے امام ولیوں کے ولی نبیون کے بنی رسولوں کے رسول سچے مرشد امام اعظم قائد اعظم جنا ب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی وجہ سے مگر تم ہو کہ اپنے امام کے قول کو ضرورت نفسانی کی وجہ سے ترک کرے دوسرے اماموں کا سہارا لیتے ہو سوچو ؟
حالانکہ تم امام ابوحنیفہ کو تمام ائمہ سے افضل ، اعلم اور فقیہ کہتے ہو اور انہیں امام اعظم سمجھتے ہو اور اپنے آپ کو انہی کے مقلد کہتے ہو یعنی حنفی کہلاتے ہو جب کہ اپنے آپ کو شافعی ، مالکی ، حنبلی ، یوسفی ، محمدی ، زفری ، حسینی ، سرخسی ، خصافی ، طحاوی ، کرخی وغیرہ نہیں کہلاتے ۔ پھر بھی ادنی کے قول کی وجہ سے اعلی کے قول کو ترک کردیتے ہو ۔
أتستبدلون الذي هو أدنى بالذي هو خير
جب کہ دوسری طرف مندرجہ ذیل شعر تمہارا بنایا ہوا ہے ۔
فلعنة ربنا أعداد رمل
على من رد قول أبي حنيفة
پتہ نہیں لعنتیں کہاں کہاں پہنچیں گی ، ان لعنتوں سے کوئی امام فقیہ یا کوئی مفتی اور مجتہد بچ سکے گا ؟ کیوں کہ سب نے امام کے اقوال کو رد کیا ہے جب ان سب نے امام کے اقوال کو ترک کیا ہے تو پھر ہم نے سب سے اعلم ، افضل ، اور مطلق طور پر اعلی یعنی بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی وجہ سے کسی کے قول کو ترک کردیا تو کون سا گناہ کا کام کیا ؟
مزید لکھتے ہیں :
جب تمہارے لیے ایک مفتی یا مجتہد کے قول کو دوسرے مفتی یا مجتہد کے قول کی وجہ سے ترک کیا جاسکتا ہے حالانکہ مجتہد قد یخطی و قد یصیب کہ مجتہد سے خطا بھی ہوسکتی ہے اور وہ درست بھی ہوسکتا ہے ۔ تمہارے یہاں مسلم تو پھر ہمارے لیے بطریق اولی جائز ہے کہ ہم المعصوم عن الخطاء ( یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قول کی وجہ سے غیر معصوم کے قول کو رد کردیں ۔
تم کہو گے کہ تمہیں حدیث کا علم نہیں ہے ۔
مگر یہ عذر نہیں ڈھونگ ہے اور اس کی تردید کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ بہت سارے سابقہ لوگوں کی تحقیقات بعد میں آنے والے رد کرتے آئے ہیں جیساکہ ہدایہ کی اوپر والی عبارت سے روز روشن کی طرح واضح ہے۔ ایضا کتابوں کا تقابل کرنے سے معلوم ہوگا کہ بعد میں آنے والوں میں بھی قرآن و حدیث کوسمجھنے کا مادہ موجود ہے ۔ مثلا محمد بن حسن شیبانی کی کتاب الحج ، ابن الہمام کی فتح القدیر کے ساتھ تقابل کرکے دیکھیں اور انہیں کی مؤطا کا زیلعی کی نصب الرایہ کے ساتھ تقابل کریں ۔ اسی طرح طحاوی کی تصنیفات کے ساتھ قاسم بن قطلوبغا کی مصنفات کا تقابل کریں تو آپ کو اپنی آنکھوں سےنظر آئے گا کہ '' کم ترک الأول للآخر '' اس کے علاوہ آپ لوگ خود کئی مقامات پر بعد میں آنے والوں کی تحقیق کوسابقہ لوگوں کی تحقیق پر ترجیح دیتے ہیں کما مضی ۔
( مقالات راشدیہ ج 3 ص 238 تا 240 )
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
محدثین کرام رح کم علم یا بے علم اشخاص تو تھے نہیں کہ ہم انہیں ایک عامی کی طرح تقلید کرنے والا مانیں۔
ظاہر ہے وہ جن احکامات میں صاحب مذہب کے خلاف رائے رکھتے تھے ان میں اختلاف بھی کرتے تھے کیوں کہ خلاف اجتہاد تقلید کرنا اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں۔ محدثین کرام کو جو حنفی، شافعی، مالکی وغیرہ کہا جاتا ہے تو وہ ان کے اکثریتی مسائل کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ اکثر مسائل میں یہ فلاں امام کے متبع تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ دلائل سے واقفیت کے بعد ان کے اصول و احکام سے اپنے اجتہاد کی وجہ سے متفق تھے یا بلا دلیل۔ یہ بات انہیں اس مسلک میں شامل قرار دینے سے مانع نہیں ہے۔ جن مسائل میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں ان کا اپنا الگ مسلک ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ رح فرماتے ہیں:۔
وَمعنى انتسابه (ای انتساب ابن جریر الطبری۔۔۔۔ناقل) إِلَى الشَّافِعِي أَنه جرى على طَرِيقَته فِي الِاجْتِهَاد واستقراء الْأَدِلَّة وترتيب بَعْضهَا على بعض وَوَافَقَ اجْتِهَاده وَإِذا خَالف أَحْيَانًا لم يبال بالمخالفة وَلم يخرج عَن طَرِيقه إِلَّا فِي مسَائِل وَذَلِكَ لَا يقْدَح فِي دُخُوله فِي مَذْهَب الشَّافِعِي
وَمن هَذَا الْقَبِيل مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل البُخَارِيّ فانه مَعْدُود فِي طَبَقَات الشَّافِعِيَّة
الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف 1۔76 ط دار الفائس

اور حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں:۔
وكان صاحب الحديث أيضا قد ينسب إلى أحد المذاهب لكثرة موافقته له، كالنسائي والبيهقي ينسبان إلى الشافعي،
اس کی تفصیل اس جملہ سے تھوڑا پہلے ذکر کی ہے:۔
وكان من خبر الخاصة أنه كان من أهل الحديث منهم يشتغلون بالحديث، فيخلص إليهم من أحاديث النبي صلى الله عليه وسلم وآثار الصحابة ما لا يحتاجون معه شيء آخر في المسألة من حديث مستفيض أو صحيح
قد عمل به بعض الفقهاء، ولا عذر لتارك العمل به، أو أقوال متظاهرة لجمهور الصحابة والتابعين مما لا يحسن مخالفتها فان لم يجد في المسألة ما يطمئن به قلبه لتعارض النقل وعدم وضوح الترجيح ونحو ذلك - رجع إلى كلام بعض من مضى من الفقهاء، فإن وجد قولين اختار أوثقهما سواء كان من أهل المدينة أو من أهل الكوفة


اب چوں کہ ان پر حکم ان کی کثرت موافقۃ و عمل علی المذہب کو دیکھ کر لگایا گیا ہے اس لیے مختلف طبقات میں ایک ہی محدث کو ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسئلہ تین مسالک میں یکساں ہے تو اسے تینوں اپنے مسلک پر محمول کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں ایک محدث نے اپنا عام مسلک چھوڑ کر کسی اور مسلک کو اختیار کیا تو اس پر اس کا حکم لگا دیا گیا وغیرہ۔ اس کا یہ مطلب نکالنا کہ اپنے مسلک کی شان بڑھانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے ایک قسم کا الزام ہی ہے جو محتاج دلیل ہے اور کچھ نہیں۔
ایک بات کی وضاحت ابھی سے مناسب ہے کہ آپ کے نزدیک ’’ انتساب ‘‘ اور ’’ تقلید ‘‘ میں کوئی فرق ہے کہ نہیں ؟ مطلب یہ کہ آپ کے ہاں ’’ انتساب ‘‘ تقلید کو مستلزم ہے ؟
دوسری بات : بخاری و طبری وغیرہ علماء نےخود شافعی ہونے کا دعوی کیا تھا یا پھر لوگوں نے ان کو اس مذہب کی طرف منسوب کیا ہے ؟
آئمہ محدثین کی مقلدیت ثابت کرنے کے سلسلے میں مجھے آپکے فرمودات میں ایک بھی چیز ایسی نہیں ملی جو اس دعوی کے ثبوت پر دلالت کرتی ہو۔
زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا کہ کسی محدث کا کسی امام کے ساتھ کچھ مسائل میں اتفاق ہے ۔ تو یہ دلیل بالکل درست نہیں ۔ کیونکہ اس کا امام سے اختلاف بھی تو موجود ہے ۔ اگر اختلاف عدم تقلید کی دلیل نہیں بن سکتا تو پھر اتفاق کو کیوں ثبوت تقلید کی دلیل بنانے پر زور دیا جارہا ہے ۔ ؟!
اختلاف کی مختلف توجیہات کرنے کی بجائے ہم ’’ اتفاق ‘‘ کی یہ توجیہ کیوں نہیں کرسکتے کہ دونوں مجتہدین نے اجتہاد کیا اور دونوں کا اجتہاد ایک ہی نتیجہ پر پہنچا ۔
یہ ضروری تو نہیں کہ کسی مسئلے میں چند أئمہ کے اقوال متفق ہوں تو بعد والوں کو پہلے کا مقلد ہی قراردیاجائے ۔
ویسے بھی جو محدث آپ کے نزدیک اس وجہ سے مذہب کا پابند نہیں کہ وہ اجتہاد کی اہلیت ہونے کی وجہ سے امام سے اختلاف کرنے کا حق رکھتا ہے تو پھر اسے کس منطق سے امام کا مقلد ثابت کیا جا رہا ہے ؟
حضرت شاہ صاحب کے جتنے اقتباسات آپ نےنقل کیے ہیں ان میں آپ کے موقف کی ذرا برابر بھی تائید موجود نہیں( فیما فہمت ) بلکہ الٹا یہ آپ کے خلاف ہیں ۔
ایک بات اور بھی ذہن میں رکھیں کہ ’’اجتہاد ‘‘ کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ ’’ مجتہد ‘‘ اسی وقت درجہ اجتہاد پر فائز ہوگا کہ وہ ہر ہر مسئلہ میں اپنی رائے کا اظہا رکرے ۔ اوراگر اس نے ماقبل آئمہ کے مختلف اقوال میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیا تو وہ مقلد بن جائے گا اس طرح تو کوئی بھی مجتہد نہیں بچے گا ۔
دنیا میں کون سا مجتہد تھا یا ہے جس کو کسی سے پوچھنے یا کسی سے استفادہ کرنے یا ماقبل أئمہ کے اقوال سے مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
آخر میں بغرض فائدہ محدثین کی تقلید و عدم تقلید کے سلسلے میں کچھ مضامین پیش خدمت ہیں :
حضرات محدثین اور عدم تقلید ، انتساب و اجتہاد
'' کیا محدثین کرام رحمہم اللہ مقلد تھے ؟ '' از '' مولانا صدیق رضا '' مقالات الحدیث ( ص 215 تا 230 )
امام بخاری کا مسلک ۔۔ از اسماعیل سلفی رحمہ اللہ ( مقالات حدیث ص 80 )
امام بخاری کی شافعیت ۔۔۔ ایضا ۔۔ ( مقالات حدیث ص 100 )

اب چوں کہ ان پر حکم ان کی کثرت موافقۃ و عمل علی المذہب کو دیکھ کر لگایا گیا ہے اس لیے مختلف طبقات میں ایک ہی محدث کو ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسئلہ تین مسالک میں یکساں ہے تو اسے تینوں اپنے مسلک پر محمول کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں ایک محدث نے اپنا عام مسلک چھوڑ کر کسی اور مسلک کو اختیار کیا تو اس پر اس کا حکم لگا دیا گیا وغیرہ۔ اس کا یہ مطلب نکالنا کہ اپنے مسلک کی شان بڑھانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے ایک قسم کا الزام ہی ہے جو محتاج دلیل ہے اور کچھ نہیں۔
ويسے میں نے تو اس سلسلے میں کوئی بات ہی نہیں کی ۔ ( مسکراہٹ )
میرا مقصد صرف یہ عرض کرنا تھا کہ کسی محدث کا کسی مذہب کی کتب طبقات میں ذکر ہونا یہ اس کے اس مذہب کےمقلد ہونے کی دلیل نہیں ۔
کیونکہ یہ تو عقیدۃ و عملا بالکل ناجائز ہے اہل تقلید کے ہاں کہ ایک ہی آدمی بیک وقت مختلف مذاہب یا ایک سے زیادہ اماموں کا مقلد ہو ۔
فقہی اختلافات میں ائمہ اربعہ کا ذکر تو کثرت سے آتا ہے اور ان کے ہم زمانہ بعض علماء کا بھی لیکن کیا وجہ ہے کہ محدثین کا بہت کم آتا ہے؟ اگر ان کا الگ سے مسلک تھا تو ان کی رائے کا بھی ذکر کثرت سے ہونا چاہیے تھا۔ بات یہ ہے کہ جہاں یہ اپنی الگ رائے رکھتے ہیں وہاں ان کا الگ سے ذکر کردیا جاتا ہے۔ اور بہت کم ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کی جلالت علمی کی وجہ سے ان کا نام الگ سے لیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
یہ عموما صرف ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں محدثین کرام کسی مسئلہ میں الگ سے رائے رکھتے ہوں اور ان کی یہ رائے مشہور ہوئی ہو۔ ورنہ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ البتہ علم اصول دین یعنی علم کلام میں چوں کہ محدثین کو الگ سے گروہ تسلیم کیا جاتا ہے بحث کا اس لیے ان کا ایسے مسائل میں ذکر بھی زیادہ ہوتا ہے۔
گویا ’’ محدثین ‘‘ کےلیے آپ جائز قرار دیتےہیں کہ وہ مشہور آئمہ سےہٹ کر قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی الگ رائے رکھ سکتے ہیں ۔
اور آپ کے نزدیک ان کا کام صرف ’’ روایت حدیث ‘‘ ہی نہیں تھا بلکہ ’’ فقہ حدیث ‘‘ بھی ان کا میدان تھا ۔
ذیل میں چند اقتباسات نقل کیےجاتے ہیں جو اس بات کی تائید کرتےہیں کہ اہل حدیث باقاعدہ اپنی فقہی رائے رکھتے تھے :
صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں :
قال الإمام، علاء الدين الحنفي، في (ميزان الأصول) : اعلم: أن أصول الفقه، فرع لعلم أصول الدين، فكان من الضرورة أن يقع التصنيف فيه، على اعتقاد مصنف الكتاب.
وأكثر التصانيف في أصول الفقه: لأهل الاعتزال، المخالفين لنا في الأصول، ولأهل الحديث المخالفين لنا في الفروع، ولا اعتماد على تصانيفهم.
( کشف الظنون ج 1 ص 81 )
یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل حدیث صرف ’’ علم الروایۃ ‘‘ یا ’’ علم العقائد ‘‘ کی اصطلاح نہیں بلکہ ’’ فروع دین ‘‘ ( فقہ ) میں بھی ان کو مقام حاصل ہے ۔
امام مقریزی لکھتے ہیں :
كانت إفريقية الغالب عليها السنن والآثار إلى أن قدم عبد الله بن فروج أبو محمد الفارسيّ بمذهب أبي حنيفة ( الخطط ج 4 ص 150 )
اس اقتباس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں اگر مذاہب کی پابندیوں میں جھکڑے ہوئے لوگ موجود تھے تو سنن و آثار کی ضیا پاشیوں سے مستفید ہونے والے مسلک اہل حدیث کے متوالے بھی موجود تھے ۔
باقی کسی کا نام قلت سے ذکر ہونا یا کثرت سے ذکر ہونا یہ کسی کے درست و نا درست ہونے کی دلیل نہیں ۔ ورنہ ابو حنیفہ ، مالک ، شافعی ، احمد ، ثوری ، اوزاعی اوردیگر چند فقہاء کے سوا سب اساطین علم و فقہ پر بھی یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو فقہ سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔
امیر صنعانی والا تھریڈ ملاحظہ فرمائیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے وہاں ایسی مثالیں بیان کی ہیں جن میں قرآن وسنت کے مقابلے میں مذہب کو چھوڑ دیا گیا ہے تو یہاں اقتباس نقل فرمادیں ۔
اگر صرف حاجت دنیوی ہی کافی ہوتی ہمارے نزدیک مسائل کے لیے تو متعہ وغیرہ جائز ہوتے۔ ان میں کافی حاجت ہے۔ کتنے لوگوں کو آسانی ہوجاتی۔
لیکن میرے بھائی ایسا نہیں ہوتا بلکہ دو جانب موجود آراء و دلائل میں سے ایک کو حاجت کی وجہ سے راجح قرار دیا جاتا ہے۔ بغیر دلیل کے نہیں۔ جیسے آگے مزارعۃ کا مسئلہ ہے۔ غالبا آپ نے یہ خود ملاحظہ نہیں فرمایا۔ ہدایہ میں دونوں فریقین کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں اور وجہ ترجیح صرف حاجۃ نہیں بتائی گئی حالاں کہ یسروا ولاتعسروا کے تحت یہ بھی کافی ہوتی بلکہ آگے فرمایا ہے ولظهور تعامل الأمة بها. والقياس يترك بالتعامل كما في الاستصناع.۔ اسے غالبا صاحب مقالات نے غائب کر دیا۔
تو خلاصہ کلام یہ کہ صرف حاجۃ کی وجہ سے ایک مسئلہ کو نہیں چھوڑا جاتا بلکہ حاجۃ کی وجہ سے دو قولوں میں سے ایک قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔
جس طرح ’’ حاجت ‘‘ ’’ تعامل امت ‘‘ وغیرہ وجوہ ترجیحات ہیں کیا قرآن وسنت کی نصوص کو اس سلسلےمیں کوئی جگہ نہیں مل سکتی ۔
مقلد کے پیش نظر حاجت یا مصلحت ہو تو مذہب سے خروج جائز لیکن اگر قرآن یاحدیث کی نص ہو تو تقلید واجب ۔

آگے بدیع الدین رحمہ اللہ کا جو اقتباس معلوماتی ہونے کی بنا پر آپ نے دیا ہے اسے معلومات کی بنیاد پر ایسے ہی رہنے دیتا ہوں۔ وگرنہ یہ یا تو شاہ صاحب کی قلت نظر ہے فقہ حنفی پر اور یا پھر مسلکی جنگ کا شاخسانہ۔ علماء میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔
میں اس کا بھرپور رد کر سکتا ہوں۔
جس جگہ میں نے حوالہ دیا ہے وہ مکمل تحریر پڑھ لیں شاید آپ یہ موقف تبدیل کرلیں گے کہ شاہ صاحب مسائل فقہ حنفی میں قلیل النظر تھے ۔
بلکہ اگر آپ اس کا بھرپور رد بھی کردیں تو ایک علمی کاوش تصور کیا جائے گا ۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
خضر حیات بھائی کچھ زیادہ ہی تفصیل ہو گئی۔ اب تو تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھنا اور جواب دینا پڑے گا۔ (ابتسامہ)
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
ایک بات کی وضاحت ابھی سے مناسب ہے کہ آپ کے نزدیک ’’ انتساب ‘‘ اور ’’ تقلید ‘‘ میں کوئی فرق ہے کہ نہیں ؟ مطلب یہ کہ آپ کے ہاں ’’ انتساب ‘‘ تقلید کو مستلزم ہے ؟


اس کے لیے بہتر ہے کہ پہلے اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ بعض علماء تمام مسائل میں اجتہاد مطلق کی صلاحیت رکھتے تھے اور بعض چند میں الگ اجتہاد و رائے رکھتے تھے۔ بلکہ آج بھی رکھتے ہیں۔
تو جن مسائل میں وہ تقلید کرتے ہیں ان میں وہ اسی امام کے مقلد کہلاتے ہیں۔ تقریبا اکثر بڑے علماء جو کہ دلائل پر بھرپور نظر رکھتے ہیں ان کا یہ معاملہ ہے کہ انہیں کسی ایک فقہ کا مقلد کثرت سے اس فقہ سے اتفاق رکھنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کی عبارت کی روشنی میں ہم انتساب اسی کو کہہ سکتے ہیں یعنی کسی امام کے مسائل سے متفق ہونا اپنے اجتہاد کی وجہ سے۔ یہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کی اصل کیا ہے؟ اس کی اصل اس معین امام کے اصولوں سے مطمئن ہونا یا اسی کے طرز فکر میں سوچنا ہوتا ہے اور اس کی بنیاد عموما کسی خاص فقہ کا علم حاصل کرنے سے پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض علماء کو اس طرح شافعی کہا گیا ہے کہ انہوں نے فلاں شافعی عالم سے علم فقہ حاصل کیا تھا۔ جیسے کہ امام ابو الحسن اشعری رح کے بارے میں ہے۔ اسی بات کی وضاحت کے لیے میں نے شاہ صاحبؒ کے اقوال نقل کیے تھے۔
وَمعنى انتسابه (ای انتساب ابن جریر الطبری۔۔۔۔ناقل) إِلَى الشَّافِعِي أَنه جرى على طَرِيقَته فِي الِاجْتِهَاد واستقراء الْأَدِلَّة وترتيب بَعْضهَا على بعض وَوَافَقَ اجْتِهَاده وَإِذا خَالف أَحْيَانًا لم يبال بالمخالفة وَلم يخرج عَن طَرِيقه إِلَّا فِي مسَائِل وَذَلِكَ لَا يقْدَح فِي دُخُوله فِي مَذْهَب الشَّافِعِي
وَمن هَذَا الْقَبِيل مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل البُخَارِيّ فانه مَعْدُود فِي طَبَقَات الشَّافِعِيَّة
الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف 1۔76 ط دار الفائس

یعنی امام بخاری باوجود اس کے کہ مجتہد کی حیثیت رکھتے تھے اور مختلف مقامات میں امام شافعی سے اختلاف کیا ہے لیکن پھر بھی انہیں کثرت موافقت کی وجہ سے شوافع کے طبقات میں شمار کیا گیا ہے جیسا کہ بعینہ اسی وجہ سے ابن جریر کو شافعی شمار کیا گیا ہے۔
اسی طرح دیگر محدثین کو مختلف مذاہب میں شمار کیا گیا ہے۔
یہ سب تفصیل اس وقت ہے جب یہاں انتساب کو لغوی معنی میں یعنی کسی مذہب کی طرف نسبت کرنے کے معنی میں لیا جائے۔

آئمہ محدثین کی مقلدیت ثابت کرنے کے سلسلے میں مجھے آپکے فرمودات میں ایک بھی چیز ایسی نہیں ملی جو اس دعوی کے ثبوت پر دلالت کرتی ہو۔
ایسا کوئی کام میں نے کیا بھی نہیں (ابتسامہ)۔ اس کے لیے طبقات میں ان کے نام ذکر ہیں۔

زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا کہ کسی محدث کا کسی امام کے ساتھ کچھ مسائل میں اتفاق ہے ۔ تو یہ دلیل بالکل درست نہیں ۔ کیونکہ اس کا امام سے اختلاف بھی تو موجود ہے ۔ اگر اختلاف عدم تقلید کی دلیل نہیں بن سکتا تو پھر اتفاق کو کیوں ثبوت تقلید کی دلیل بنانے پر زور دیا جارہا ہے ۔ ؟!
کثرت و قلت کی وجہ سے۔

اختلاف کی مختلف توجیہات کرنے کی بجائے ہم '' اتفاق '' کی یہ توجیہ کیوں نہیں کرسکتے کہ دونوں مجتہدین نے اجتہاد کیا اور دونوں کا اجتہاد ایک ہی نتیجہ پر پہنچا ۔
یہ ضروری تو نہیں کہ کسی مسئلے میں چند أئمہ کے اقوال متفق ہوں تو بعد والوں کو پہلے کا مقلد ہی قراردیاجائے ۔

آپ یہ کہہ سکتے ہیں۔ جو علماء کی اصطلاح رہی ہے (جو شاہ صاحبؒ کی عبارت سے ظاہر ہے) وہ اسی کے مطابق ذکر کریں گے۔ لیکن عموما ہمیں اجتہاد ثابت کرنے کے لیے ہی دلائل ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔

ویسے بھی جو محدث آپ کے نزدیک اس وجہ سے مذہب کا پابند نہیں کہ وہ اجتہاد کی اہلیت ہونے کی وجہ سے امام سے اختلاف کرنے کا حق رکھتا ہے تو پھر اسے کس منطق سے امام کا مقلد ثابت کیا جا رہا ہے ؟
محترم خضر بھائی اجتہاد کی صلاحیت تمام مسائل میں ہونا اور وہ بھی اجتہاد مطلق کی صلاحیت ہونا ایک اتم درجہ ہے جس تک ہر کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ ہم کسی ایک مسئلہ میں کسی شخص کی رائے مختلف ہونے کی بنا پر کہتے ہیں کہ وہ اس میں اجتہاد کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اور جن مسائل میں وہ کسی امام کے مذہب کی موافقت کرتا ہے ان میں اس کو اسی کا مقلد قرار دیتے ہیں۔ جو کسی مسئلہ میں اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے اس مسئلہ میں وہ مذہب کا پابند نہیں ہوتا نہ کہ دیگر مسائل میں بھی۔

ایک بات اور بھی ذہن میں رکھیں کہ ''اجتہاد '' کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ '' مجتہد '' اسی وقت درجہ اجتہاد پر فائز ہوگا کہ وہ ہر ہر مسئلہ میں اپنی رائے کا اظہا رکرے ۔ اوراگر اس نے ماقبل آئمہ کے مختلف اقوال میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیا تو وہ مقلد بن جائے گا اس طرح تو کوئی بھی مجتہد نہیں بچے گا ۔
دنیا میں کون سا مجتہد تھا یا ہے جس کو کسی سے پوچھنے یا کسی سے استفادہ کرنے یا ماقبل أئمہ کے اقوال سے مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

جی ہاں یہ بات ذہن میں ہے اور اسی وجہ سے کثرت و قلت موافقت کے ذریعے حکم لگایا جاتا ہے۔

آخر میں بغرض فائدہ محدثین کی تقلید و عدم تقلید کے سلسلے میں کچھ مضامین پیش خدمت ہیں :
حضرات محدثین اور عدم تقلید ، انتساب و اجتہاد
'' کیا محدثین کرام رحمہم اللہ مقلد تھے ؟ '' از '' مولانا صدیق رضا '' مقالات الحدیث ( ص 215 تا 230 )
امام بخاری کا مسلک ۔۔ از اسماعیل سلفی رحمہ اللہ ( مقالات حدیث ص 80 )
امام بخاری کی شافعیت ۔۔۔ ایضا ۔۔ ( مقالات حدیث ص 100 )

یہ کتابیں اٹھانا تو فی الحال مشکل ہے اگر آپ اقتباس لگا دیں۔۔۔۔۔۔!!
البتہ مضمون میں نے پڑھا اور اس سے مجھے کافی فائدہ ہوا۔ جزاک اللہ خیرا۔
چنانچہ میں نے دیکھا کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے مجتہد کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک مجتہد مستقل اور دوسرا منتسب الی المستقل۔


ثم اعلم أن هذا المجتهد قد يكون مستقلا وقد يكون منتسبا إلى المستقل والمستقل من امتاز عن سائر المجتهدين بثلاث خصال كما ترى ذلك في الشافعي ظاهرا
الانصاف

پھر مجتہد مطلق کی پہلی شرط یا خاصیت یہ فرمائی ہے کہ وہ اصول و قواعد میں تصرف کرے۔
أحدها أن يتصرف في الأصول والقواعد التي يستنبط منها الفقه
اگر ہم محدثین کرام کو مجتہد مستقل مانیں تو ہمیں ان کے اصول و قواعد ڈھونڈنے ہوں گے۔ جس جس کو مانتے جائیں گے اس کے ڈھونڈنے ہوں گے جو اس نے یا اس کے شاگردوں نے مرتب کیے ہوں یا کم از کم ان کا ذکر ہی کیا گیا ہو۔ اور کم از کم یہ کہ انہیں علماء نے مجتہد مطلق قرار دیا ہو۔
اور اگر ہم محدثین کا الگ لیکن ایک ہی مسلک تسلیم کرتے ہیں تو پھر اس مسلک کے قواعد و اصول کہاں ہیں۔ کس نے اخذ کیے؟ یہ تو ڈھونڈنا ہی ہوگا۔

اگلی دو شرائط ہمیں پھر بھی ڈھونڈنے پر مل سکتی ہیں لیکن پہلی ایک مشکل شرط ہے۔ اگلی دو یہ ہیں:۔
وثانيها أن يجمع الأحاديث والآثار فيحصل أحكامها وينبه لأخذ الفقه منها ويجمع مختلفها ويرجح بعضها على بعض ويعين بعض محتملها وذلك قريب من ثلثي علم الشافعي فيما نرى والله أعلم
وثالثها أن يفرع التفاريع التي ترد عليه مما لم يسبق بالجواب فيه من القرون المشهود لها بالخبر


مجتہد منتسب کا ذکر کرتے ہیں کہ جو پہلی صفت میں متبع ہو اور دوسری صفت میں مستقل کی طرح ہو۔
والمجتهد المطلق المنتسب هو المقتدي المسلم في الخصلة الأولى الجاري في مجراه في الخصلة الثانية
اگر میں اسے درست نہیں سمجھا تو اصلاح فرمائیے۔
تو اگر محدثین کو ہم مجتہد منتسب مانیں تو بھی وہ صفت اولی میں ائمہ کے متبعین ثابت ہوتے ہیں۔

اس ساری بحث کے آخر میں محدثین کرام کے بارے میں اپنا نتیجہ بیان فرماتے ہیں:۔
أما البخاري فانه وان كان منتسبا إلى الشافعي موافقا له في كثير من الفقه فقد خالفه أيضا في كثير ولذلك لايعد ما تفرد به من مذهب الشافعي
وأما أبو داود والترمذي فهما مجتهدان منتسبان إلى أحمد وإسحاق وكذلك ابن ماجة والدرامي فيما نرى والله أعلم
وأما مسلم والعباس الأصم جامع مسند الشافعي والذين ذكرناهم بعده فهم متفردون لمذهب الشافعي يناضلون دونه

تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم اصول میں یہ ائمہ عموما ائمہ اربعہ کی تقلید کرتے تھے۔ اسی وجہ سے مختلف طبقات میں ان کو ذکر کیا گیا ہے۔
یہی بات امام بخاریؒ کے بارے میں دوسرے حوالے میں ذرا مختلف پیرائے اور انداز سے کہی گئی ہے۔ باقی جو کچھ ام تیمیہ نے ثابت کرنا چاہا ہے وہ مجھے تو ثابت ہوتا ہوا نہیں محسوس ہوا۔ واللہ اعلم۔

ويسے میں نے تو اس سلسلے میں کوئی بات ہی نہیں کی ۔ ( مسکراہٹ )
اور میں نے آپ کی تعیین کر کے الزام نہیں لگایا (مسکراہٹ)

میرا مقصد صرف یہ عرض کرنا تھا کہ کسی محدث کا کسی مذہب کی کتب طبقات میں ذکر ہونا یہ اس کے اس مذہب کےمقلد ہونے کی دلیل نہیں ۔
کیونکہ یہ تو عقیدۃ و عملا بالکل ناجائز ہے اہل تقلید کے ہاں کہ ایک ہی آدمی بیک وقت مختلف مذاہب یا ایک سے زیادہ اماموں کا مقلد ہو ۔

کہنے کو یہ کہا جاسکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہم نکال سکتے ہیں کہ وہ مقلد نہیں مجتہد تھے۔ اس صورت میں پھر وہی سوال منہ کھولے آ کھڑا ہوگا کہ مجتہد مطلق یا منتسب؟ اور دونوں صورتوں کی تفصیل عرض کر دی۔ یا تو اصول و فروع ڈھونڈے جائیں یا اصول میں مقلد مانا جائے۔
ہاں ایک صورت اور ہے وہ یہ کہ انہیں غیر مقلد غیر مجتہد مان لیا جائے۔ تو پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ ان کی کتب میں ہمیں کئی باہم معارض احادیث ملتی ہیں۔ وہ بلا تقلید و بلا اجتہاد ان میں محاکمہ کر کے عمل کیسے کر لیتے تھے اور وہ اس صورت میں ابن تیمیہؒ کی اس صورت میں تو شامل نہیں ہو جاتے تھے؟
من التزم مذهبا معينا ثم فعل خلافه من غير تقليد لعالم آخر أفتاه ولا استدلال بدليل يقتضي خلاف ذلك، ومن غير عذر شرعي يبيح له فعله.
فإنه يكون متبعا لهواه وعاملا بغير اجتهاد ولا تقليد فاعلا للتحريم بغير عذر شرعي وهذا منكر.
الفتاوی الکبری 5۔95


کیونکہ یہ تو عقیدۃ و عملا بالکل ناجائز ہے اہل تقلید کے ہاں کہ ایک ہی آدمی بیک وقت مختلف مذاہب یا ایک سے زیادہ اماموں کا مقلد ہو ۔
اس کی وضاحت میں نے کی تھی کہ کس طرح الگ الگ مذاہب میں شمار کیا گیا ہے۔ ویسے اس میں اس قدر سختی بھی نہیں ہے خصوصا ابتدائی زمانوں میں۔

گویا '' محدثین '' کےلیے آپ جائز قرار دیتےہیں کہ وہ مشہور آئمہ سےہٹ کر قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی الگ رائے رکھ سکتے ہیں ۔
اور آپ کے نزدیک ان کا کام صرف '' روایت حدیث '' ہی نہیں تھا بلکہ '' فقہ حدیث '' بھی ان کا میدان تھا ۔

جی ہاں۔ لیکن بحث باقاعدہ الگ مسلک رکھنے کی ہے۔ بعض مسائل میں سب ہی قائل ہیں۔ باقاعدہ الگ مسلک ہمیں نہیں ملتا۔

صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں :
قال الإمام، علاء الدين الحنفي، في (ميزان الأصول) : اعلم: أن أصول الفقه، فرع لعلم أصول الدين، فكان من الضرورة أن يقع التصنيف فيه، على اعتقاد مصنف الكتاب.
وأكثر التصانيف في أصول الفقه: لأهل الاعتزال، المخالفين لنا في الأصول، ولأهل الحديث المخالفين لنا في الفروع، ولا اعتماد على تصانيفهم. ( کشف الظنون ج 1 ص 81 )

یہ المخالفین لنا فی الفروع میں "نا" ضمیر کس کی جانب ہے؟ ائمہ اربعہ کے یا احناف کے؟
اگر اس سے مراد وہ اہل حدیث ہیں جو تمام فروع یعنی فقہ میں ائمہ اربعہ کے خلاف تھے تو کیا ایسی کتابیں کوئی موجود ہیں یا مذکور ہیں جن کے مصنفین نے ائمہ اربعہ کے اصولوں سے ہٹ کر اپنے اصول بنائے ہوں اور وہ محدث بھی ہوں؟ کم از کم میرے ناقص علم میں نہیں ہیں۔
تو یہاں ضمیر کا مرجع غالبا احناف ہیں جیسا کہ آگے قسموں کے ذکر میں ماتریدیؒ کا ذکر کیا ہے اور اشعریؒ کا ذکر نہیں کیا۔

امام مقریزی لکھتے ہیں :
كانت إفريقية الغالب عليها السنن والآثار إلى أن قدم عبد الله بن فروج أبو محمد الفارسيّ بمذهب أبي حنيفة ( الخطط ج 4 ص 150 )

ویسے تو اس سے محدثین کا الگ مسلک ثابت نہیں ہو رہا لیکن اگر ذرا گہرائی میں جائیں اور ہم اس دور کی تشریح شاہ صاحبؒ کے اس قول کی روشنی میں کریں تو کیا حرج ہے؟
وكان من خير العامة أنهم كانوا في المسائل الاجماعية التي لا اختلاف فيها بين المسلمين أو جمهور المجتهدين لا يقلدون إلا صاحب الشرع، وكانوا يتعلمون صفة الوضوء والغسل والصلاة والزكاة ونحو ذلك من آبائهم أو معلمي بلدانهم، فيمشون حسب ذلك
یعنی سنن اور آثار کا معنی یہ ہوگا کہ جو احادیث ان تک پہنچی تھیں اور جیسے انہوں نے اپنے آباء کو پایا تھا ویسے عمل کرتے تھے حتی کہ ان میں یہ صاحب مذہب ابو حنیفہ لے آئے(اور پھر انہوں نے اسے قبول بھی کر لیا اور ان سنن و آثار پر ترجیح دے دی اور اس پر کسی نے انہیں مشرک بھی نہیں کہا۔ حیرت ہے!!!)۔

باقی کسی کا نام قلت سے ذکر ہونا یا کثرت سے ذکر ہونا یہ کسی کے درست و نا درست ہونے کی دلیل نہیں ۔ ورنہ ابو حنیفہ ، مالک ، شافعی ، احمد ، ثوری ، اوزاعی اوردیگر چند فقہاء کے سوا سب اساطین علم و فقہ پر بھی یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو فقہ سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔
ممکن ہے لیکن اجتہاد الگ سے ثابت کرنا ہوگا۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے وہاں ایسی مثالیں بیان کی ہیں جن میں قرآن وسنت کے مقابلے میں مذہب کو چھوڑ دیا گیا ہے تو یہاں اقتباس نقل فرمادیں ۔
وہاں ایسی چند مثالیں ہیں جن میں اپنا مسلک چھوڑا گیا ہے تفرد کی بنا پر۔ یعنی قرآن و سنت سے جیسی سمجھ آئی اس کی بنیاد پر مسلک کو ترک کیا۔ واللہ اعلم

جس طرح '' حاجت '' '' تعامل امت '' وغیرہ وجوہ ترجیحات ہیں کیا قرآن وسنت کی نصوص کو اس سلسلےمیں کوئی جگہ نہیں مل سکتی ۔
مقلد کے پیش نظر حاجت یا مصلحت ہو تو مذہب سے خروج جائز لیکن اگر قرآن یاحدیث کی نص ہو تو تقلید واجب ۔

میرے محترم بھائی دونوں جانب ہی قرآن و سنت کے دلائل ہوتے ہیں۔ اب اسے مزید قرآن و سنت سے ترجیح کیسے دی جا سکتی ہے؟ کیا ضیاء الحق کے قانون کی طرح قرآن و سنت میں کہیں ذکر ہے کہ اس صورت کو معارضہ کے وقت ترجیح ہوگی؟ دونوں فریق اپنا اپنا موقف بھرپور طور پر مدلل کر چکے ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں ترجیح کسی خارج چیز کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے اور وہ دی گئی ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ علمائے احناف کی ان کتب میں سے کسی ایک سیریز کا (یعنی متون،شروح و کتب تخریج وغیرہ) کا ایسے مسائل میں بھرپور مطالعہ فرما لیں۔

جس جگہ میں نے حوالہ دیا ہے وہ مکمل تحریر پڑھ لیں شاید آپ یہ موقف تبدیل کرلیں گے کہ شاہ صاحب مسائل فقہ حنفی میں قلیل النظر تھے ۔
بلکہ اگر آپ اس کا بھرپور رد بھی کردیں تو ایک علمی کاوش تصور کیا جائے گا ۔

ایک چیز ہوتی ہے زیادہ مسائل یا عبارات جاننا اور ایک چیز ہوتی ہے مسائل و عبارات کو ان کی روح کے ساتھ جاننا۔
شاہ صاحب کے اس قسم کے اقوال سے مجھے یہی اندازہ ہوا کہ شاید شاہ صاحب مسائل میں قلیل النظر تھے یعنی مکمل نہیں سمجھ سکے تھے اور یا پھر مسلکی جنگ کا شاخسانہ تھا یہ۔
حالانکہ تم امام ابوحنیفہ کو تمام ائمہ سے افضل ، اعلم اور فقیہ کہتے ہو اور انہیں امام اعظم سمجھتے ہو اور اپنے آپ کو انہی کے مقلد کہتے ہو یعنی حنفی کہلاتے ہو جب کہ اپنے آپ کو شافعی ، مالکی ، حنبلی ، یوسفی ، محمدی ، زفری ، حسینی ، سرخسی ، خصافی ، طحاوی ، کرخی وغیرہ نہیں کہلاتے ۔ پھر بھی ادنی کے قول کی وجہ سے اعلی کے قول کو ترک کردیتے ہو ۔
خیر کچھ بھی ہو۔ جو آپ نے اقتباس دیا اس کا ان شاء اللہ موقع ملنے پر رد کروں گا البتہ کتاب کی بحث کتنی تفصیلی ہوگی اور اس کا رد کتنا طویل ہوگا یہ نہیں جانتا۔ اس لیے فی الحال نہیں کر سکتا۔ دوسری بات یہ کہ میں ابھی طالب علم ہوں۔ نہ جانے کتنے مسائل نہیں جانتا ہوں گا اس لیے بھی مشکل ہوگی۔
واللہ اعلم
 
Top