ہماری دلیل قرآن و سنت سے ہونی چاہیئے۔لہذا خضر بھائی ، اس طرح کی مثالیں دینے سے گریز کریں ، پاکستان کے بعض عالم دین بھی ایسی مثالیں دینے لگے ہیں ، جس پر جب لوگوں کو سمجھ آئی تو انھوں نے خوب مسئلہ اٹھایا کہ آپ دنیا کے کاموں کی مثالیں دین میں کیوں دیتے ہیں۔ثبوت کے ساتھ اور باوثوق ذریعے سے یہ بات لکھ رہی ہوں۔برا نہ محسوس کیجیئے گا۔میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ چیزیں بعض علماء میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔
لیکن یہ معاملہ صرف ’’ علماء ‘‘ کے ساتھ خاص نہیں ، کسی ایسے پیشے سےمنسلک افراد اور ملازمین کے رویے پر نظر دوڑائیں جنہیں عوام الناس سے کثرت سے واسطہ رہتا ہے ۔ مثلا سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین ، نادرہ دفتر میں کام کرنے والے ، پاسپورٹ دفتر کے اہلکار ، ان سب جگہوں پر آپ کو بعض ایسے افراد ملیں گے ، جو عوام کے گریبان تک بھی پہنچ جاتے ہیں ۔
کیا مطلب بہن ؟ہماری دلیل قرآن و سنت سے ہونی چاہیئے۔لہذا خضر بھائی ، اس طرح کی مثالیں دینے سے گریز کریں ، پاکستان کے بعض عالم دین بھی ایسی مثالیں دینے لگے ہیں ، جس پر جب لوگوں کو سمجھ آئی تو انھوں نے خوب مسئلہ اٹھایا کہ آپ دنیا کے کاموں کی مثالیں دین میں کیوں دیتے ہیں۔ثبوت کے ساتھ اور باوثوق ذریعے سے یہ بات لکھ رہی ہوں۔برا نہ محسوس کیجیئے گا۔
کیا مطلب بہن ؟
میں نے کسی چیز کے جواز کی بات کی ہے ۔؟ جس پر مجھ سے دلیل کا مطالبہ کیا گیا ۔
محترم بھیا! میرا مطلب آپ کی اس جوابی "پوسٹ" سے تھا۔اول تو اسلام پیشہ نہیں ہے۔اور دوسری بات موضوع پر پوچھے گئے سوال یعنی نفسیات ، تو وہ اسلام میں موجود ہے۔ ہم کیسے اس کا دنیا کے لوگوں سے تقابلی جائزہ لے سکتے ہیں ، یعنی کچھ علماء بعض چیزوں میں بشری کوتاہی کر رہیں ہوں ، تو ہم یہ کہہ دیں کہ دوسرے لوگ بھی ایسا کرتے ہیں۔حالانکہ ہماری دلیل قرآن و سنت ہونی چاہیئے۔مثالیں سمجھانے کے لیے ہوتی ہیں ، علما کرام یا اہل علم کے قول وعمل کے جواز کے لیے نہیں محترم بھائی۔میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ چیزیں بعض علماء میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔
لیکن یہ معاملہ صرف ’’ علماء ‘‘ کے ساتھ خاص نہیں ، کسی ایسے پیشے سےمنسلک افراد اور ملازمین کے رویے پر نظر دوڑائیں جنہیں عوام الناس سے کثرت سے واسطہ رہتا ہے ۔ مثلا سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین ، نادرہ دفتر میں کام کرنے والے ، پاسپورٹ دفتر کے اہلکار ، ان سب جگہوں پر آپ کو بعض ایسے افراد ملیں گے ، جو عوام کے گریبان تک بھی پہنچ جاتے ہیں ۔