• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت آدھا معاشرہ نہیں ہے؟

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
تو میں نے کب کہا نہیں لیا تھا ۔۔آئندہ نہیں لیتی خوش؟؟؟؟
بہن مجھے دوسروں کو کاپی کرنے کا شوق نہیں اپنی شخصیت بھی ہوتی ہے کسی کی۔۔۔۔۔اللہ معاف کرے ،اللہ معاف کرے ،،،کوئی حال نہیں خواتین کا،دیکھا آنٹیوں والی باتوں میں آؤتو یوں ہی لڑائیاں ہوتی ہیں ،،ہم بچے ہی بھلے۔۔
باقی جو رہ گیا ہے اس کی طرف اشارہ فرما دیں کہ میں غیب کا علم نہیں جانتی!!!ابتسامہ
متنبہ کرنے کا شکریہ
 

محمد وقاص گل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 23، 2013
پیغامات
1,033
ری ایکشن اسکور
1,711
پوائنٹ
310
ویسے پہلے کچھ شک کیا جا سکتا تھا کہ خواتین کو اللہ نے ناقص عقل دی ہے لیکن گزشتہ چند کمنٹ پڑھ کر یہ چیز کچھ لوگوں نے ثابت کر دی۔۔۔۔ابتسامہ۔۔۔۔
مشکوۃ سسٹر آپ نے ماشاء اللہ بہت اچھی باتیں کیں اور میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ ہر انسان کو اللہ نے ایک مقام دیا ہے اگر وہ اسکو سمجھے۔۔۔۔
پاکستان کے اندر مدارس کا حال دیکھ لیا جائے اگر مظلومیت کی طرف دیکھا جائے تو ایک مدرسہ بھی نہ چلے اور سب روز سڑکوں پر نکلے ہوں لیکن نہیں کیوں کہ ایسا کرنا اپنے کردار کو خراب کرنا اور ٹائم ضائع کرنے کہ بجائے اور کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔
باقی رہی مقام اور مرتبے کی تو آج بھی جو شخص اپنے مقام اور مرتبے کو سمجھتا ہے وہ پر سکون اور مطمئن ہے ۔۔۔
خواتیں کو ہی دیکھ لیجئے جو خاتون خانہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتی ہے حالات سے واقف ہوتی ہے تو وہ اس دنیا میں خیر مطاع الدنیا ہے ان شاء اللہ۔۔
اور رہی بات پروڈکٹ کی اور دوسری چیزوں کی "جن میں سے چند میری سمجھ سے باہر ہیں"۔۔ابتسامہ۔۔۔ تو میرے خیال میں اس میں قصور عورت کا ہے کہ وہ خود استعمال ہو رہی ہے واللہ اعلم۔۔

آخر میں آپ سے گزارش ہے کہ بات اصلاح کی حد تک ہو تو بہتر رہتی ہے اور فائدہ مند بھی ہوتی ہے۔۔۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالی نے دو ہی طرح کی جنس بنائی ہے۔ نر اور مادہ اور اس کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے۔

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ ۭ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 11 ؀
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، جس نے تمہاری اپنی جنس سے ، تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے اور اسی طرح جانوروں میں بھی (انہی کی ہم جنس ) جوڑے بنائے اور اس طریقے سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اُس کے مشابہ نہیں۔ وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔(11)
سورۃ الشوریٰ
اسی طرح مرد و عورت بنائے اور یہ دونوں ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔مرد اور عورت مختلف رشتوں میں تقسیم ہوئے۔اللہ تعالی نے تمام کو درجہ اور مقام عطا فرمایا۔ہر رشتے میں عزت اور پاکیزگی رکھی۔لیکن باپ، بھائی ، بیٹا اور شوہر ، مرد کے کسی بھی رشتے کوعورت پر برتری عطا کی۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے۔

وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۠ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ٢٢٨؁ۧ
عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں ، جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے۔(228)
سورۃ البقرہ

دور جہالت میں عورت کا کوئی مقام نہیں تھا ، یونان میں عورتوں کو نیلامی کا مال سمجھا جاتا ، تو مصر میں عورتیں دریائے نیل کی بھینٹ چڑھائی جاتیں، تو ہندوستان میں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ، بیٹیاں وراثت سے محروم ور بیوائیں منحوس قرار دی جاتیں، دوسری جانب عرب میں بیٹیاں پیدا ہوتے ہی زندہ دفنا دی جاتیں۔ایسی صورت میں اسلام عورت کے لیے رحمت کی بارش بن کر آیا۔عورت کو ہر روپ میں عزت اور مقام عطا ہوا۔اس عورت کو حیا اور پردے کی زینت دی گئی۔آج اس "ترقی یافتہ" دور نے عورت کو پھر وہی لا کھڑا کیا جہاں سے اسے اٹھا کر مقام عزت عطا کیا گیا تھا ، تب عورت کی تذلیل کی جاتی تھی اور آج یہ عورت خود اپنی تذلیل کا باعث ہے۔

درحقیقت " مرد و عورت " مکمل معاشرہ تب تک نہیں بنا سکتے ، جب ہر رشتے میں یہ اپنا مقام اور رتبہ نہ سمجھ لیں۔"حقوق نسواں " اور "آزادی" اس عورت کو تب تک نصیب نہ ہو گی جب تک یہ "فرائض" اور اپنے "دائرہ کار" کا تعین نہیں کرے گی۔اسے مرد و عورت کے مابین مقابلہ اور شانہ بشانہ ہونے کے احکامات نہیں دیئے گے۔بلکہ رشتوں کع بخوبی نبھانے کی تلقین کی گئی ہے۔
اسی طرح مرد جسے رتبہ اور درجہ دیا گیا ، مگر "امانت" کے تحفظ کی بھی تلقین کر دی،ماں امانت ہے تو قدموں تلے جنت، بیوی ہے تو بہترین متاع،بیٹی ہے تو جنت میں نبی کریم ﷺ کا ساتھ۔

پھر
معاشرے کی "تکمیل" کے لیے مشترکہ حقوق کی تلقین کا درس بھی کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی "رعیت" کا ذمہ دار ہے۔مفہوم حدیث

آج ہمیں "تنقید اور صرف تنقید" کے فارمولے سے زیادہ مسائل کا "حل" پر توجہ کی ضرورت ہے۔مرد ہو یا عورت ہر کوئی اپنی "رعیت" میں جھانکیں اور
عمل کا آغاز کریں۔

کیونکہ ہمیں اللہ کا یہ فرمان مبارک کافی ہے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 97؀

جو شخص بھی نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔(97)
سورۃ النحل
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
ٹو بی ویری فرینک سسٹر!
مجھے معلوم نہیں کہ خواتین اتنے کمپلیکس کا شکار کیوں رہتی ہیں۔۔بالفرض اگر کوئی خواتین کے حقوق پامال کرتا ہے تو کیاجلنے بھننے اور اپنی کم تری کا رونا رونے سے ( سوری مجھے اور کوئی مناسب لفظ نہیں مل رہا)حقوق مل جائیں گے کہ معاشرہ تبدیل ہو جائے گا؟؟؟؟یا آپ کو خود سے مطمئن کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے پڑیں گے۔۔۔۔؟؟؟
کیا آپ کے ،میرے لئے آخرت کا اجر بہتر نہیں جہاں ذرہ بھر زیادتی کرنے والے کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔۔۔ہمیں تو خوش ہونا چاہئے کہ ہماری ذمہ داریاں بہ نسبت مردوں کہ کم ہیں اور اجر بڑا۔۔۔
خواتین کے لئے پراڈکٹ اور گھریلو مخلوق کا لفظ استعمال کر کے انہیں جذباتی کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں وہ پراڈکٹ کسی کے کام کی نہیں ہوتی جو ہر قسم کی دھول و مٹی سے غبار آلود ہو۔۔۔ خواتین گھریلو مخلوق اور پیکنگ میں ہی بھلی ہیں ۔۔۔ہاتھ در ہاتھ منتقل ہونے والی اَن پیکڈ پراڈکٹس کے حالاتِ زندگی سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتاہے،لازم تو نہیں ہے کہ ہم ہر چیز عملی طور پر کر کے ہی سبق سیکھیں۔۔۔
مرد حاکم ہیں بالکل کوئی شک نہیں لیکن وہ اپنے لئے کس قسم کے حاکم پسند کرتے ہیں ان کی حاکمیت سے اندازہ ہو جاتا ہے۔۔تو حکمرانوں کے متعلق مختلف احادیث ہم سب نے پڑھ رکھی ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم مایوس ہوں اور اپنے آپکو ضائع سمجھیں؟؟
میں تجرباتی بات کروں تو جو میری بڑی بہن کا مرتبہ ہے وہ بھائی کا نہیں ،،جو میرا ہے وہ میرے چھوٹے بھائی کا نہیں ،،ہر ایک کا اپنامرتبہ مقام ہے ،،،علم کی فضیلت اللہ نے جسے دے دی وہ اللہ کی دین ہے ،،جو علم بھائی کا ہے وہ بہن کے پاس نہیں جوچھوٹے بھائی کا ہے وہ میرے پاس نہیں ،جو علم اللہ نے مجھے دیا وہ چھوٹے بھائی کے پاس نہیں ۔۔۔اور جو چھوٹی بہنوں کے پاس ہے ہوسکتا ہے وہ بڑے بھائی بہنوں کے پاس نہ ہو ۔۔۔
ایک دفعہ چھوٹے بھائی نے بھی ازراہِ مذاق ہی سہی مقابلے کی کوشش کی تھی تو آدھ گھنٹے میں سمجھا دیاتھاکہ مردوں کو زعم کس بات کاہے؟؟ صرف مرد ہونا ہی کوئی بڑائی نہیں جب تک کوئی عمل پاس نہ ہو ۔
معذرت کے ساتھ میری باتیں تلخ لگی ہوں گی لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ عورت باوجود فضیلتوں کے ہر مرحلہ پر خود کو مظلوم و مقہور بناکر پیش کرے۔اور نسل در نسل احساسِ محرومی منتقل ہو تا چلا جائے۔
ایک وقت تھا کہ میں بھی آپ کی طرح ہی سوچتی تھی کہ معاشرہ مردوں کا ہے اور یہ وہ ۔۔لیکن اللہ کی توفیق سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ ان کی فضیلت کیا ہے؟؟ان کی نیکیوں کا ثواب ہمارے سے زیادہ تو نہیں ہے ؟؟ہر ایک کو ثواب برابر ہی ملے گا۔۔یا تو کہیں یہ لکھاہوا نا کہ مرد نیکی کرے تو دس گنا اجر ہے ،،عورت کرے تو دو گنا۔۔۔اگر ایساہے پھر بھی ہم کہیں۔۔۔ہماری نظریں آخرت پہ ہیں اور سوچیں دنیا کی ۔۔بے شمار تحاریر اور شاعری جو، اب پڑھ کر ہنسی آتی ہے وہ سب کیاتھابھلا ایسی ہی باتوں کا شاخسانہ جو ہم بچپن سے پڑھتے،سنتے آرہے ہیں اور ‘‘بے چاری‘‘ عورت کا پیڈ شدہ نعرہ۔جس کے بعد گھنٹوں اپنی مظلومیت کا رونا رویا جائے ۔عمل کا وقت اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے میں صرف ہو ،کام کی بات کچھ نہ ہو اور سوچیں ہی مزید دکھی کر جائیں ۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟ دنیا تو جیسی گزر رہی ہے گزر جائے گی یہ جو قیمتی وقت ہے یہ بھی ضائع ہو جائے اور آخرت بھی برباد کر لیں ؟؟ ۔نہیں بہنو ! ایسا کر کے ہم خود کو خسارے میں ڈال لیں گی اور جن کی وجہ سے دکھی ہوتی ہیں وہ پھر عمل کے میدان میں آگے۔۔۔۔۔۔مقابلہ تو آپ کایہاں پرکرنا ہے ہے تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے سے کیاملے گا؟؟؟؟جو دنیا لے گئے وہ آسانی سے آخرت بھی لے جائیں؟؟؟؟سوچ لیجئے
جزاک اللہ خیرا مشکوۃ سسٹر
بہت زبردست باتیں کیں ہیں آپ نے، سچی بات ہے آج کل مرد حضرات بالعموم اور خواتین تو بالخصوص اپنے آپ کو مظلوم کہتے نظر آتے ہیں، آپ نے یہاں عورتوں کو جو پیغام دیا ہے، میں سمجھتا ہوں یہ ایک عورت کا اپنے آپ کو "ناحق" مظلوم اور مغلوب ثابت کرنے والی خواتین (چاہے وہ پسِ پردہ سینکڑوں مردوں کو رلانے کا سبب بنی ہوں) کو ایک اچھا پیغام ہے کہ اپنے مقام کو سمجھا جائے۔

ایک اور بھائی بھی آپ کے اس پیغام کی تعریف کر رہے تھے، بہرحال مصروف رہنے کی وجہ سے آج تبصرہ کر رہا ہوں۔ داد دینا تو بنتا ہے نا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے آمین
 

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
ھہہہ۔۔۔مجھے اس سے زیادہ آپ کی پوسٹ پر تبصرہ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔۔۔۔ابتسامہ
بہرحال جزاک اللہ خیر وبارک اللہ فیک
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
ھہہہ۔۔۔مجھے اس سے زیادہ آپ کی پوسٹ پر تبصرہ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔۔۔۔ابتسامہ
بہرحال جزاک اللہ خیر وبارک اللہ فیک
سسٹر۔۔۔ ضروری تو نہیں کہ ہر بات سمجھ آ جائے۔۔۔ ابتسامہ
 
Top