• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت آدھا معاشرہ نہیں ہے؟

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
کہتے ہیں کہ عورت آدھا معاشرہ ہوتی ہے لیکن میرے خیال میں یہ آدھی حقیقت ہے!!
کچھ معاشروں میں آج کے دور میں بھی عورت کی " پیکنگ " کا کام بڑی شد ومد سے جاری وساری ہے اور اس کام کو جاری رکھنے کا مطالبہ کرنے والے ہر پتھر کے نیچے بیٹھے نظر آتے ہیں، انہیں عورت میں صرف ایک " گھریلو مخلوق " ہی نظر آتی ہے جس کا کام محض یہ ہے کہ وہ احکامات بجا لائے اور مرد کی روز بروز بڑھتی ہوئی خواہشات پوری کرے، وہ اس کی " انسانی قدر " کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں زندگی کی تمام خوبصورتی، محبت، قربانی اور بے پناہ طاقت پنہاں ہے.
ایسی فکر کے لوگوں کا مقصد عورت کو ایک ایسی " پراڈکٹ " بنانا ہے جو ان کی تمام خواہشات پر پوری اتر سکے چاہے اس کی قیمت اس کا وہ معصوم بچپن ہی کیوں نہ ہو جسے رونگھٹے کھڑی کرنے والی " شادی " کا نام دے کر اپنی بے لگام جنسی خواہشات کو ایک مقدس حیثیت دینے کی کوشش کی جاتی ہے، ان کی لغت میں محبت، مساوات، اعتماد اور اتحاد جیسے الفاظ ہی نہیں ہیں جو شادی جیسے مقدس تعلق کے ذریعے ایک مرد کے دل کو ایک عورت کے دل سے جوڑتے ہیں، اے کاش کہ یہ لوگ سمجھ سکتے، مگر نہیں.. ان سے کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی، ان کے دل ودماغ پر ایسے قفل پڑے ہیں جن کی چابی شاید کبھی بنائی ہی نہیں گئی تھی.
عورت کے خطرے کا ڈر ہی انہیں ہر روز نئے نئے قوانین ایجاد کرنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ وہ خود کو اس کے " مکر " سے بچا سکیں، یہ ان کی اندرونی خرابی کی دلیل ہے، جو کچھ انسان کے اندر ہوتا ہے وہ اسی کے تناظر میں ہی دوسروں کو دیکھتا ہے، چنانچہ ان کے اندر کی بدنمائی نے عورت کی خوبصورتی کو " عورہ " قرار دے کر اسے بدنما کردیا جبکہ اصل " عورہ " ان کے مریض دماغوں اور زنگ آلود دلوں میں ہے.
جب کسی معاشرے سے عورت کو غائب کردیا جاتا ہے تو زندگی بھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ آہستہ آہستہ تحلیل ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں اس معاشرے کا تمدن بھی زندگی کے ساتھ ساتھ تحلیل ہوتا رہتا ہے اور آخر کار ایسی قوم دوسری قوموں کے لیے " آفت " بن جاتی ہے، عورت ہر معاشرے کی زندگی کی نبض ہے، جہاں عورت نہیں، وہاں معاشرہ نہیں.
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
تنقید کرنے والے دل کھول کر تنقید کریں میں نے یہ تھریڈ اسی لیے بنایا ہے کہ اس بارے میں عوام الناس کی راے جان سکوں اور کھوٹا اور کھرا واضح ہو جاے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
یه تحریر کس کے ھے؟
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
جزاک اللہ خیرا بھائی۔
بہت ہی اچھا موضوع شروع کیا ہے آپ نے۔۔۔مگر ردعمل دیکھ لیں۔واقعی ہی
کسی حد تک سچ ہے یہ بات کہ ہمارا "معاشرہ" مردوں کا معاشرہ ہے۔
 

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
اس تحریر سے کم از کم جو میں نے سمجھا ہے وہ کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔۔۔اسلام نے ہر فرد کی آزادی متعین کردی اور اس میں کسی قسم کے شبہے کی گنجائش نہیں ۔۔ہاں اگر کوئی کسی گھمنڈ میں مبتلا ہو کر طرفین کے حقوق پامال کرتا ہے تو وہ اس کا جواب دہ بھی ہے۔۔۔
اس طرح کے "مقابلے" کرو اکر ہم مخالف کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن اپنی عملی زندگی میں ناقابل برداشت نقصان کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔مرد حضرات یہاں کی "زبان درازیاں"دیکھ کر گھر کی خواتین میں مین میخیں نکالیں گے اور خواتین یہاں "حقوق کی پامالی" دیکھ کر گھر کے مردوں سے نالاں ہوں گی۔۔
 

مشکٰوۃ

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 23، 2013
پیغامات
1,466
ری ایکشن اسکور
937
پوائنٹ
237
جزاک اللہ خیرا بھائی۔
بہت ہی اچھا موضوع شروع کیا ہے آپ نے۔۔۔مگر ردعمل دیکھ لیں۔واقعی ہی
کسی حد تک سچ ہے یہ بات کہ ہمارا "معاشرہ" مردوں کا معاشرہ ہے۔
ٹو بی ویری فرینک سسٹر!
مجھے معلوم نہیں کہ خواتین اتنے کمپلیکس کا شکار کیوں رہتی ہیں۔۔بالفرض اگر کوئی خواتین کے حقوق پامال کرتا ہے تو کیاجلنے بھننے اور اپنی کم تری کا رونا رونے سے ( سوری مجھے اور کوئی مناسب لفظ نہیں مل رہا)حقوق مل جائیں گے کہ معاشرہ تبدیل ہو جائے گا؟؟؟؟یا آپ کو خود سے مطمئن کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے پڑیں گے۔۔۔۔؟؟؟
کیا آپ کے ،میرے لئے آخرت کا اجر بہتر نہیں جہاں ذرہ بھر زیادتی کرنے والے کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔۔۔ہمیں تو خوش ہونا چاہئے کہ ہماری ذمہ داریاں بہ نسبت مردوں کہ کم ہیں اور اجر بڑا۔۔۔
خواتین کے لئے پراڈکٹ اور گھریلو مخلوق کا لفظ استعمال کر کے انہیں جذباتی کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں وہ پراڈکٹ کسی کے کام کی نہیں ہوتی جو ہر قسم کی دھول و مٹی سے غبار آلود ہو۔۔۔ خواتین گھریلو مخلوق اور پیکنگ میں ہی بھلی ہیں ۔۔۔ہاتھ در ہاتھ منتقل ہونے والی اَن پیکڈ پراڈکٹس کے حالاتِ زندگی سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتاہے،لازم تو نہیں ہے کہ ہم ہر چیز عملی طور پر کر کے ہی سبق سیکھیں۔۔۔
مرد حاکم ہیں بالکل کوئی شک نہیں لیکن وہ اپنے لئے کس قسم کے حاکم پسند کرتے ہیں ان کی حاکمیت سے اندازہ ہو جاتا ہے۔۔تو حکمرانوں کے متعلق مختلف احادیث ہم سب نے پڑھ رکھی ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم مایوس ہوں اور اپنے آپکو ضائع سمجھیں؟؟
میں تجرباتی بات کروں تو جو میری بڑی بہن کا مرتبہ ہے وہ بھائی کا نہیں ،،جو میرا ہے وہ میرے چھوٹے بھائی کا نہیں ،،ہر ایک کا اپنامرتبہ مقام ہے ،،،علم کی فضیلت اللہ نے جسے دے دی وہ اللہ کی دین ہے ،،جو علم بھائی کا ہے وہ بہن کے پاس نہیں جوچھوٹے بھائی کا ہے وہ میرے پاس نہیں ،جو علم اللہ نے مجھے دیا وہ چھوٹے بھائی کے پاس نہیں ۔۔۔اور جو چھوٹی بہنوں کے پاس ہے ہوسکتا ہے وہ بڑے بھائی بہنوں کے پاس نہ ہو ۔۔۔
ایک دفعہ چھوٹے بھائی نے بھی ازراہِ مذاق ہی سہی مقابلے کی کوشش کی تھی تو آدھ گھنٹے میں سمجھا دیاتھاکہ مردوں کو زعم کس بات کاہے؟؟ صرف مرد ہونا ہی کوئی بڑائی نہیں جب تک کوئی عمل پاس نہ ہو ۔
معذرت کے ساتھ میری باتیں تلخ لگی ہوں گی لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ عورت باوجود فضیلتوں کے ہر مرحلہ پر خود کو مظلوم و مقہور بناکر پیش کرے۔اور نسل در نسل احساسِ محرومی منتقل ہو تا چلا جائے۔
ایک وقت تھا کہ میں بھی آپ کی طرح ہی سوچتی تھی کہ معاشرہ مردوں کا ہے اور یہ وہ ۔۔لیکن اللہ کی توفیق سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ ان کی فضیلت کیا ہے؟؟ان کی نیکیوں کا ثواب ہمارے سے زیادہ تو نہیں ہے ؟؟ہر ایک کو ثواب برابر ہی ملے گا۔۔یا تو کہیں یہ لکھاہوا نا کہ مرد نیکی کرے تو دس گنا اجر ہے ،،عورت کرے تو دو گنا۔۔۔اگر ایساہے پھر بھی ہم کہیں۔۔۔ہماری نظریں آخرت پہ ہیں اور سوچیں دنیا کی ۔۔بے شمار تحاریر اور شاعری جو، اب پڑھ کر ہنسی آتی ہے وہ سب کیاتھابھلا ایسی ہی باتوں کا شاخسانہ جو ہم بچپن سے پڑھتے،سنتے آرہے ہیں اور ‘‘بے چاری‘‘ عورت کا پیڈ شدہ نعرہ۔جس کے بعد گھنٹوں اپنی مظلومیت کا رونا رویا جائے ۔عمل کا وقت اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے میں صرف ہو ،کام کی بات کچھ نہ ہو اور سوچیں ہی مزید دکھی کر جائیں ۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟ دنیا تو جیسی گزر رہی ہے گزر جائے گی یہ جو قیمتی وقت ہے یہ بھی ضائع ہو جائے اور آخرت بھی برباد کر لیں ؟؟ ۔نہیں بہنو ! ایسا کر کے ہم خود کو خسارے میں ڈال لیں گی اور جن کی وجہ سے دکھی ہوتی ہیں وہ پھر عمل کے میدان میں آگے۔۔۔۔۔۔مقابلہ تو آپ کایہاں پرکرنا ہے ہے تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے سے کیاملے گا؟؟؟؟جو دنیا لے گئے وہ آسانی سے آخرت بھی لے جائیں؟؟؟؟سوچ لیجئے
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
”مردوں کا معاشرہ“​

جی ہاں! اسے ”مردوں کا معاشرہ“ خود اللہ تبارک تعالیٰ نے بنایا ہے، مردوں کو ”آؤٹ ڈور ذمہ داریاں“ دے کر۔ مردوں کو نبی بنایا۔ امامت، خلافت اور حکمرانی مردوں کے لئے ”مختص“ کردی۔ گویا مرد و زن کے خالق نے خود ہی "جملہ (بیرونی) معاشرتی ذمہ داریاں" مردوں کے حوالہ کر کے اپنی تخلیق کردہ دنیا کو ”مردوں کا معاشرہ“ بنا دیا ہے۔ بلکہ اندرون خانہ بھی شوہر کو قوام اور ”ٹیم لیڈر“ بنا کر یہاں بھی کسی حد تک مرد کی ”اجارہ داری“ قائم کردی ہے۔ غیر شادی شدہ لڑکیوں کے گھر میں باپ اور شادی شدہ عورتوں کے گھر میں شوہر قوام اور ٹیم لیڈر ہوا کرتا ہے۔

دوسری طرف اللہ نے عورتوں کو ”اندرون خانہ ذمہ داریاں“ دے کر، نئی نسل کی ماں بنا کر اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے۔ بوقت ضرورت (بلا ضرورت نہیں) حجاب میں باہر نکلنے، جائز ملازمت اور کاروبار کرنے کی بھی اجازت عطا کی۔ اسے نہ صرف گھر یلو معاشی ذمہ داریوں سے بلکہ ”ذاتی نان نفقہ“ کی ذمہ داریوں سے بھی آزاد کردیا۔ بچپن اور لڑکپن میں یہ ذمہ داری باپ پر، جوانی میں شوہر پر اور بڑھاپے میں بیٹوں پر عائد کردی ہے۔ اس کے باوجود ہر قریبی رشتہ کی میراث پر عورت کا حصہ بطور ”حق“ عطا کیا۔ ذاتی جائیداد رکھنے اور اسے بڑھانے کا حق دیا۔ ڈیلیوری میں اموات کو شہادت کا درجہ دیا۔

ایسے میں اگر خواتین، بالخصوص کمسن لڑکیاں ”مرد و زن کا مقابلہ“ کرکے خود کو ”مظلوم“ قرار دینے لگیں تو یہ ان کے فہم کا قصور ہوتا ہے یا پھر ”عیاش مردوں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈے“ کا اثر، جو یہ چاہتے ہیں کہ عورت باپ، بھائیوں، شوہر اور بیٹوں کے مظبوط حصار والی چہار دیواری سے باہر نکل کر ”غیر محفوظ“ رہتے ہوئے بازاروں، دفتروں اور کارخانوں میں اکیلی دن رات ”دستیاب“ ہو تاکہ اس کا جنسی استحصال بآسانی کیا جاسکے۔

”آزادی نسواں“ کی جملہ تحریکوں کا بنیادی مقصد یہی ہوتاہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کو ان کے فطری خیر خواہ 4 قسم کے مردوں (باپ، بھائی، شوہر، بیٹا) سے بدظن کر کے جملہ صنف نازک کو ان کی ” قدرتی پناہ گاہ“ سے نکال کر دیگر مردوں کے سامنے لے آئے۔ زیر نظر مراسلہ جیسی تحریروں، افسانوں، کہانیوں، ناولوں کا سارا زور اسی پر ہوتا ہے کہ اللہ کی یہ حسین ترین مخلوق ”اپنے محافظ مردوں“ سے بد ظن اور دیگر مردوں کو اپنا ”خیر خواہ“ سمجھ لے۔ خواتین مچھلیوں کی طرح نادان نہ بنیں جو بہتے پانی میں اپنے منہ کے سامنے ”چارہ“ پیش کرنے والے کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اس چارہ کو ہڑپ کرجاتی ہیں اور شکاری کی خوراک بن جاتی ہیں۔ آپ کے قدرتی، فطری اور اصلی خیر خواہ صرف آپ کے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے ہی ہیں، خواہ وہ آپ کو ”بدخواہ“ ہی کیوں نہ نظر آئیں۔ ۔ ان کے علاوہ باقی سب کے سب مرد شکاری ہیں، خواہ وہ آپ کو اپنا خیر خواہ ہی کیوں نہ ”نظر“ آئیں۔
واللہ اعلم
 
Top