عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,633
- ری ایکشن اسکور
- 9,999
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
اسلام کے فیصلہ کن معرکوں میں سے ایک ’’معرکہ خیبر‘‘ ہے۔ محرم ۷ہجری کا یہ واقعہ اپنے عوامل اور عواقب کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں نہ صرف یہودیوں کی سطوت اور طاقت پارہ پارہ ہو گئی بلکہ مسلمانوں کو بھی ان کی جانب سے مکمل تحفظ حاصل ہو گیا۔ غزوہ خیبر کے فاتح صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں تھے۔ رسول اللہ ﷺ اس لشکر کے سپہ سالارِ اعظم تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خیبر کے آخری مرحلے میں قلعہ قموص (حصن قموص) کو فتح کیا اور مرحب کو شکست دی۔ فتح کی تکمیل میں دیگر صحابہ کا بھی بڑا کردار تھا۔غزوہ خیبر کی فتح کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک مشہور واقعہ ہے کہ انہوں نے خیبر کے دروازے کو اکیلے اٹھا کر پھینک دیا تھا، جبکہ اسے بہت سے لوگ مل کر بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہ واقعہ نہ صرف غیر ثابت شدہ اور غیر معتبر ہے، بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک ما فوق الفطرت مخلوق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’غزوہ خیبر میں شکست؟‘‘ حافظ ابو معاویہ عبد الرحمٰن سلفی صاحب کی تحریر ہے جس کا مرکزی موضوع غزوۂ خیبر سے متعلق بعض مشہور روایات کی روایتی و اسنادی تحقیق ہے۔ مصنف نے محض تاریخی واقعہ بیان کرنے کے بجائے مختلف روایات کے راویوں، ان کی توثیق و تضعیف اور ائمۂ حدیث کے اقوال کی روشنی میں روایات کی صحت کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔(م۔ا)
لنک کتاب
لنک کتاب