• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوہ فتح مکہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوہ فتح مکہ

امام ابن قیم لکھتے ہیں کہ یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعے اللہ نے اپنے دین کو، اپنے رسول کو، اپنے لشکر کو اور اپنے امانت دار گروہ کو عزت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو، دنیا والوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا ہے۔ کفار و مشرکین کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلایا۔ اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اس کی عزت کی طنابیں جوزاء کے شانوں پر تن گئیں۔ اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور روئے زمین کا چہرہ روشنی اور چمک دمک سے جگمگا اٹھا۔ (زاد المعاد ۲/۱۶۰)
اس غزوے کا سبب:
صلح حدیبیہ کے ذکر میں ہم یہ بات بتا چکے ہیں کہ اس معاہدے کی ایک دفعہ یہ تھی کہ جوکوئی محمد ﷺ کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتا ہے اور جو کوئی قریش کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتا ہے اور جو قبیلہ جس فریق کے ساتھ شامل ہو گا اس فریق کا ایک حصہ سمجھا جائے گا۔ لہٰذا ایسا کوئی قبیلہ اگر کسی حملے یا زیادتی کا شکار ہوگا تو یہ خود اس فریق پر حملہ اور زیادتی تصور کی جائے گی۔
اس دفعہ کے تحت بنو خُزاعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد وپیمان میں داخل ہو گئے اور بنو بکر قریش کے عہد و پیمان میں۔ اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہو گئے۔ لیکن چونکہ ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آ رہی تھی، اس لیے جب اسلام کی آمد آمد ہوئی، اور صلح حدیبیہ ہو گئی، اور دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہو گئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں۔ چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان ۸ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنو خزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچا دیا۔ حرم پہنچ کر بنو بکر نے کہا: اے نوفل، اب تو ہم حرم میں داخل ہو گئے۔ تمہارا الٰہ ! ... تمہارا الٰہ ! ... اس کے جواب میں نوفل نے ایک بڑی بات کہی، بولا: بنو بکر! آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ادھر بنو خزاعہ نے مکہ پہنچ کر بُدَیْل بن وَرْقَاء خُزاعی اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام رافع کے گھروں میں پناہ لی اور عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے کہا :
یـارب إنـي نـاشـد محمـــدا حلفـنا وحلف أبـیـہ ألا تـلـدا
قـد کـنـتم ولــداً وکنا والــدا ثمۃ أسـلمنــا ولـم ننزع یـــدا
فـانصر ہداک اللہ نـصـراً أیدا وادع عبــاد اللہ یأتوا مــــددا
فـیـہم رسول اللہ قد تجــردا أبیض مثل البدر یسمو صعـدا
إن سیـم خـسـفا وجہہ تربـدا في فیلـق کالبحر یجری مزبدا
إن قریشاً أخلفـوک الموعــدا ونقضــوا میثـاقک المؤکـــدا
وجعلوا لی فـی کـداء رصـدا وزعـموا أن لست أدعوا أحدا
وہــــــم أذل وأقـل عـــددا ہــم بیتونــا بالوتیر ہجـــدا
وقـتـلـونـــا رکعــــاً وسجـــــــدا
''اے پروردگار! میں محمد ﷺ سے ان کے عہد اور ان کے والد کے قدیم عہد (اشارہ اس عہد کی طرف ہے جو بنو خزاعہ اور بنو ہاشم کے درمیان عبد المطلب کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔ اس کا ذکر ابتدا کتاب میں کیا جا چکا ہے) کی دہائی دے رہا ہوں۔ آپ لوگ اولاد تھے اور ہم جننے والے۔ (اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عبد مناف کی ماں، یعنی قصی کی بیوی حبی بنو خزاعہ سے تھیں۔ اس لیے پورا خاندانِ نبوت بنو خزاعہ کی اولاد ٹھہرا) پھر ہم نے تابعداری اختیار کی اور کبھی دست کش نہ ہوئے۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکار یے، وہ مدد کو آئیں گے۔ جن میں اللہ کے رسول ہوں گے ہتھیار پوش، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت۔ اگر ان پر ظلم اور ان کی توہین کی جائے تو چہرہ تمتما اٹھتا ہے۔ آپ ایک ایسے لشکر ِ جرار کے اندر تشریف لائیں گے جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہو گا۔ یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑ دیا ہے۔ انہوں نے میرے لیے کداء میں گھات لگائی اور یہ سمجھا کہ میں کسی کو (مدد کے لیے) نہ پکاروں گا۔ حالانکہ وہ بڑے ذلیل اور تعداد میں قلیل ہیں۔ انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع و سجود کی حالت میں قتل کیا۔ ''(یعنی ہم مسلمان تھے اور ہمیں قتل کیا گیا) ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عَمرو بن سالم! تیری مدد کی گئی۔ اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا۔ آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے۔
اس کے بعد بُدَیْل بن ورقاء خُزاعی کی سرکردگی میں بنو خزاعہ کی ایک جماعت مدینہ آئی اور رسول اللہ ﷺ کو بتلایا کہ کون سے لوگ مارے گئے اور کس طرح قریش نے بنو بکر کی پشتیبانی کی۔ اس کے بعد یہ لوگ مکہ واپس چلے گئے۔
تجدیدِ صلح حدیبیہ کے لیے ابو سفیان مدینہ میں:
اس میں شبہ نہیں کہ قریش اور ان کے حلیفوں نے جو کچھ کیا تھا وہ کھلی ہوئی بدعہدی اور صریح پیمان شکنی تھی۔ جس کی کوئی وجہ جواز نہ تھی، اسی لیے خود قریش کو بھی اپنی بدعہدی کا بہت جلد احساس ہو گیا اور انہوں نے اس کے انجام کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ جس میں طے کیا کہ وہ اپنے سپہ سالار ابو سفیان کو اپنا نمائندہ بنا کر تجدیدِ صلح کے لیے مدینہ روانہ کریں۔
ادھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا کہ قریش اپنی اس عہد شکنی کے بعد اب کیا کرنے والے ہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ''گویا میں ابو سفیان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عہد کو پھر سے پختہ کرنے اور مدتِ صلح کو بڑھانے کے لیے آ گیا ہے ''
ادھر ابو سفیان طے شدہ قرارداد کے مطابق روانہ ہو کر عُسفان پہنچا تو بُدَیل بن ورقاء سے ملاقات ہوئی۔ بُدیل مدینہ سے واپس آرہا تھا۔ ابو سفیان سمجھ گیا کہ یہ نبی ﷺ کے پاس سے ہو کر آرہا ہے۔ پوچھا: بُدیل! کہاں سے آ رہے ہو؟ بُدیل نے کہا: میں خزاعہ کے ہمراہ اس ساحل اور وادی میں گیا ہوا تھا۔ پوچھا: کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں گئے تھے؟ بُدیل نے کہا: نہیں۔
مگر جب بدیل مکہ کی جانب روانہ ہو گیا تو ابو سفیان نے کہا: اگر وہ مدینہ گیا تھا تو وہاں (اپنے اونٹ کو) گٹھلی کا چارہ کھلایا ہو گا۔ اس لیے ابو سفیان اس جگہ گیا جہاں بُدیل نے اپنے اونٹ بٹھایا تھا اور اس کی مینگنی لے کر توڑی تو اس میں کھجور کی گٹھلی نظر آئی۔ ابو سفیان نے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بُدیل، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تھا۔
بہرحال ابو سفیان مدینہ پہنچا اور اپنی صاحبزادی ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ کے گھر گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے بستر لپیٹ دیا۔ ابو سفیان نے کہا: بیٹی! کیا تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا یا مجھے اس بستر کے لائق نہیں سمجھا؟ انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کا بستر ہے اور آپ ناپاک مشرک آدمی ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے بعد تمہیں شر پہنچ گیا ہے۔
پھر ابو سفیان وہاں سے نکل کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے گفتگو کی۔ آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد ابو بکرؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کریں۔ انہوں نے کہا: میں ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد وہ عمر بن خطابؓ کے پاس گیا اور ان سے بات کی۔ انہوں نے کہا: بھلا میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ سے سفارش کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے لکڑی کے ٹکڑے کے سوا کچھ دستیاب نہ ہو تو میں اسی کے ذریعے تم لوگوں سے جہاد کروں گا۔ اس کے بعد وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کے پاس پہنچا۔ وہاں حضرت فاطمہ ؓ بھی تھیں۔ اور حضرت حسنؓ بھی تھے، جو ابھی چھوٹے سے بچے تھے اور سامنے پھدک پھدک کر چل رہے تھے۔ ابو سفیان نے کہا: اے علی! میرے ساتھ تمہارا سب سے گہرا نسبی تعلق ہے۔ میں ایک ضرورت سے آیا ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ جس طرح میں نامراد آیا اسی طرح نامراد واپس جاؤں۔ تم میرے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کر دو۔ حضرت علیؓ نے کہا: ابو سفیان! تجھ پر افسوس، رسول اللہ ﷺ نے ایک بات کا عزم کر لیا ہے۔ ہم اس بارے میں آپ سے کوئی بات نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد وہ حضرت فاطمہؓ کی طرف متوجہ ہوا، اور بولا: کیا آپ ایسا کر سکتی ہیں کہ اپنے اس بیٹے کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کر کے ہمیشہ کے لیے عرب کا سردار ہو جائے؟ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا: واللہ! میرا یہ بیٹا اس درجہ کو نہیں پہنچا ہے کہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کر سکے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے کوئی پناہ دے بھی نہیں سکتا۔
ان کوششوں اور ناکامیوں کے بعد ابو سفیان کی آنکھوں کے سامنے دنیا تاریک ہو گئی۔ اس نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے سخت گھبراہٹ، کش مکش اور مایوسی و ناامیدی کی حالت میں کہا کہ ابو الحسن! میں دیکھتا ہوں کہ معاملات سنگین ہو گئے ہیں، لہٰذا مجھے کوئی راستہ بتاؤ، حضرت علیؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے کوئی کار آمد چیز نہیں جانتا۔ البتہ تم بنو کنانہ کے سردار ہو، لہٰذا کھڑے ہو کر لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کر دو۔ اس کے بعد اپنی سرزمین میں واپس چلے جاؤ۔ ابو سفیان نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ میرے لیے کچھ کار آمد ہو گا۔ حضرت علیؓ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کارآمد تو نہیں سمجھتا، لیکن اس کے علاوہ کوئی صورت بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ اس کے بعد ابو سفیان نے مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ لوگو! میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کر رہا ہوں، پھر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ چلا گیا۔
قریش کے پاس پہنچا تو وہ پوچھنے لگے پیچھے کا کیا حال ہے؟ ابو سفیان نے کہا: میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ بات کی تو واللہ! انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ابو قحافہ کے بیٹے کے پاس گیا تو اس کے اندر کوئی بھلائی نہیں پائی۔ اس کے بعد عمر بن خطابؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے کٹر دشمن پایا۔ پھر علیؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے نرم پایا۔ اس نے مجھے ایک رائے دی اور میں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن پتہ نہیں وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں؟ لوگوں نے پوچھا: وہ کیا رائے تھی؟ ابو سفیان نے کہا: وہ رائے یہ تھی کہ میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کر دوں۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔
قریش نے کہا: تو کیا محمد نے اسے نافذ قرار دیا۔ ابو سفیان نے کہا: نہیں۔ لوگوں نے کہا: تیری تباہی ہو۔ اس شخص (علی) نے تیرے ساتھ محض کھلواڑ کیا۔ ابو سفیان نے کہا: اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بن سکی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوے کی تیاری اور اخفاء کی کوشش:
طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عہد شکنی کی خبر آنے سے تین روز پہلے ہی حضرت عائشہ ؓ کو حکم دے دیا تھا کہ آپ کا ساز و سامان تیار کر دیں لیکن کسی کو پتہ نہ چلے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے پاس حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے تو پوچھا: بیٹی! یہ کیسی تیاری ہے؟ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے نہیں معلوم۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا: یہ بنو اَصْفر یعنی رومیوں سے جنگ کا وقت نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کدھر کا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: واللہ مجھے علم نہیں۔ تیسرے روز علی الصباح عمرو بن سالم خزاعی چالیس سواروں کو لے کر پہنچ گیا اور یا رب إني ناشد محمدا ... الخ والے اشعار کہے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ عہد شکنی کی گئی ہے۔ اس کے بعد بدیل آیا۔ پھر ابو سفیان آیا، اور لوگوں کو حالات کا ٹھیک ٹھیک علم ہو گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے تیاری کا حکم دیتے ہوئے بتلایا کہ مکہ چلنا ہے اور ساتھ ہی یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اور پکڑ لے تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر ایک دم جا پہنچیں۔
پھر کمال اخفاء اور رازداری کی غرض سے رسول اللہ ﷺ نے شروع ماہ رمضان ۸ھ میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی کی قیادت میں آٹھ آدمیوں کا ایک سریہ بطن اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ مقام ذی خشب اور ذی المروہ کے درمیان مدینہ سے ۳۶ عربی میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقصد یہ تھا کہ سمجھنے والا سمجھے کہ آپ اسی علاقے کا رخ کریں گے اور یہی خبریں اِدھر اُدھر پھیلیں۔ لیکن یہ سریہ جب اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گیا تو اسے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ چنانچہ یہ بھی آپ سے جا ملا۔ (یہی سریہ ہے جس کی ملاقات عامر بن اضبط سے ہوئی تو عامر نے اسلامی دستور کے مطابق سلام کیا۔ لیکن محلم بن جثامہ نے کسی سابقہ رنجش کے سبب اسے قتل کر دیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کر لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا...الآیہ یعنی ''جو تم سے سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔'' اس کے بعد صحابہ کرام محلم کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے کہ آپ اس کے لیے دعاء مغفرت کر دیں۔ لیکن جب محلم آپ کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ! محلم کو نہ بخش۔ اس کے بعد محلم اپنے کپڑے کے دامن سے آنسو پونچھتا ہوا اٹھا۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ بعد میں اس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے مغفرت کی دعا کر دی تھی۔ دیکھئے: زاد المعاد ۲/۱۵۰، ابن ہشام ۲/۶۲۶،۶۲۷،۶۲۸۔)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ادھر حاطب ابی بلتعہؓ نے قریش کو ایک رقعہ لکھ کر یہ اطلاع دے بھیجی کہ رسول اللہ ﷺ حملہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ رقعہ ایک عورت کو دیا تھا۔ اور اسے قریش تک پہنچانے پر معاوضہ رکھا تھا۔ عورت سر کی چوٹی میں رقعہ چھپا کر روانہ ہوئی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کو آسمان سے حاطب کی اس حرکت کی خبر دے دی گئی۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی، حضرت مقداد، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد غنوی کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ روضۂ خاخ پہنچو۔ وہاں ایک ہودج نشین عورت ملے گی۔ جس کے پاس قریش کے نام ایک رقعہ ہوگا۔ یہ حضرات گھوڑوں پر سوار تیزی سے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو عورت موجود تھی۔ اس سے کہا کہ وہ نیچے اُترے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی خط ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ انہوں نے اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا۔ اس پر حضرت علیؓ نے اس سے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ کہا ہے نہ ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ تم یا تو خط نکالو، یا ہم تمہیں ننگا کر دیں گے۔ جب اس نے یہ پختگی دیکھی تو بولی: اچھا منہ پھیرو۔ انہوں نے منہ پھیرا تو اس نے چوٹی کھول کر خط نکالا اور ان کے حوالے کر دیا۔ یہ لوگ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو اس میں تحریر تھا: (حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے قریش کی جانب) پھر قریش کو رسول اللہ ﷺ کی روانگی کی خبر دی تھی۔ (سہیلی نے بعض مغازی کے حوالے سے خط کا مضمون یہ بیان کیا ہے: اما بعد! اے جماعتِ قریش! رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس رات جیسا سیل رواں کی طرح بڑھتا ہوا لشکر لے کر آ رہے ہیں اور واللہ! اگر وہ تنہا بھی تمہارے پاس آ جائیں تو اللہ ان کی مدد کرے گا اور ان سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ لہٰذا تم لوگ اپنے متعلق سوچ لو۔ والسلام
واقدی نے اپنی ایک مرسل سند سے روایت کی ہے کہ حضرت حاطب نے سہیل بن عمرو، صفوان بن اُمیہ، اور عکرمہ کے پاس یہ لکھا تھا کہ ''رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں غزوے کا اعلان کر دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا ارادہ تم لوگوں کے سوا کسی اور کا ہے اور میں چاہتا ہو ں کہ تم لوگوں پر میرا ایک احسان رہے۔'' (فتح الباری ۷/۵۲۱))
رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطب کو بلا کر پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے محمد ﷺ ! میرے خلاف جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم! اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان ہے۔ میں نہ تو مرتد ہوا ہوں اور نہ مجھ میں تبدیلی آئی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں خود قریش کا آدمی نہیں۔ البتہ ان میں چپکا ہوا تھا اور میرے اہل و عیال اور بال بچے وہیں ہیں۔ لیکن قریش سے میری کوئی قرابت نہیں کہ وہ میرے بال بچوں کی حفاظت کریں۔ اس کے برخلاف دوسرے لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں جو ان کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے جب مجھے یہ چیز حاصل نہ تھی تو میں نے چاہا کہ ان پر ایک احسان کر دوں جس کے عوض وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں۔ اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن مار دوں۔ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی ہے اور یہ منافق ہو گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو! یہ جنگِ بدر میں حاضر ہو چکا ہے۔ اور عمر! تمہیں کیا پتہ؟ ہو سکتا ہے اللہ نے اہلِ بدر پر نمودار ہو کر کہا ہو تم لوگ جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔ یہ سن کر
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حضرت عمرؓ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ (صحیح بخاری ۱/۴۲۲، ۲/۶۱۲، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد کے ناموں کا اضافہ صحیح بخاری کی بعض دوسری روایات میں ہے۔)
اس طرح اللہ نے جاسوسوں کو پکڑ لیا اور مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کی کوئی خبرقریش تک نہ پہنچ سکی۔
اسلامی لشکر مکہ کی راہ میں:
۱۰ رمضان المبارک ۸ ھ کو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کیا۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے، مدینہ پر ابو رھم غفاریؓ کی تقرری ہوئی۔
جحفہ میں یااس سے کچھ اوپر آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب ملے۔ وہ مسلمان ہو کر اپنے بال بچوں سمیت ہجرت کرتے ہوئے تشریف لا رہے تھے۔ پھر اَبوَاء میں آپ ﷺ کے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث اور پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن اُمیہ ملے۔ آپ نے ان دونوں کو دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ کیونکہ یہ دونوں آپ کو سخت اذیت پہنچایا کرتے اور آپ کی ہجو کیا کرتے تھے۔ یہ صورت دیکھ کر حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے چچیرے بھائی اور پھوپھی زاد بھائی ہی آپ کے یہاں سب سے بدبخت ہوں۔ ادھر حضرت علیؓ نے ابو سفیان بن حارث کو سکھایا کہ تم رسول اللہ ﷺ کے سامنے جاؤ، اور وہی کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا تھا کہ قَالُوا تَاللَّـهِ لَقَدْ آثَرَ‌كَ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ (۱۲:۹۱) ''اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور یقینا ہم خطا کار تھے۔'' کیونکہ آپ ﷺ یہ پسند نہیں کریں گے کہ کسی اور کا جواب آپ سے عمدہ رہا ہو۔ چنانچہ ابو سفیان نے یہی کیا اور جواب میں فوراً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قَالَ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ‌ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ (۱۲:۹۲) ''آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔'' اس پر ابو سفیان نے آپ کو چند اشعار سنائے۔ جن میں سے بعض یہ تھے :
لـعـمرک إنـي حـین أحمل رأیۃ لـتـغـلب خیــل اللات خیل محمد
لکالمدلج الحیران أظلم لیلــہ فہـذا أوانـي حین أہـدی فأہتـــدی
ہدانی ہاد غیر نفسی ودلـــنی علی اللہ من طردتہ کل مطـــــــرد
''تیری عمر کی قسم! جس وقت میں نے اس لیے جھنڈا اٹھایا تھا کہ لات کے شہسوار محمد کے شہسوار پر غالب آ جائیں تو میری کیفیت رات کے اس مسافر کی سی تھی جو تیرہ و تار رات میں حیران و سرگردان ہو، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مجھے ہدایت دی جائے، اور میں ہدایت پاؤں۔ مجھے میرے نفس کی بجائے ایک ہادی نے ہدایت دی اور اللہ کا راستہ اسی شخص نے بتایا جسے میں نے ہر موقع پر دھتکار دیا تھا۔ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اس کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا: تم نے مجھے ہر موقع پر دھتکارا تھا۔ (بعد میں ابو سفیان کے اسلام میں بڑی خوبی آ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا حیاء کے سبب رسول اللہﷺ کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ بھی ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے لیے جنت کی بشارت دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے: مجھے توقع ہے کہ یہ حمزہ کا بدل ثابت ہوں گے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے: مجھ پر نہ رونا۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی کوئی گناہ کی بات نہیں کہی۔ (زاد المعاد ۲/۱۶۲ ، ۱۶۳)
مرالظہران میں اسلامی لشکر کا پڑاؤ :
رسول اللہ ﷺ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ آپ اور صحابہ روزے سے تھے لیکن عسفان اور قُدَید کے درمیان کدید نامی چشمے پر پہنچ کر آپ نے روزہ توڑ دیا۔ (صحیح بخاری ۲/۶۱۳) اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام نے بھی روزہ توڑ دیا۔ اس کے بعد پھر آپ نے سفر جاری رکھا یہاں تک کہ رات کے ابتدائی اوقات میں مرالظہران -وادی فاطمہ- پہنچ کر نزول فرمایا۔ وہاں آپ کے حکم سے لوگوں نے الگ الگ آگ جلائی۔ اس طرح دس ہزار (چولہوں میں) آگ جلائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو پہرے پر مقرر فرمایا۔
ابو سفیان دربارِ نبوت میں:
مر الظہران میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حضرت عباسؓ رسول اللہ ﷺ کے سفید خچر پر سوار ہو کر نکلے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی لکڑ ہارا یا کوئی بھی آدمی مل جائے تو اس سے قریش کے پاس خبر بھیج دیں تاکہ وہ مکے میں رسول اللہ ﷺ کے داخل ہونے سے پہلے آپ کے پاس حاضر ہو کر امان طلب کر لیں۔
ادھر اللہ تعالیٰ نے قریش پر ساری خبروں کی رسائی روک دی تھی۔ اس لیے انہیں حالات کا کچھ علم نہ تھا، البتہ وہ خوف اور اندیشے سے دوچار تھے اور ابو سفیان باہر جا جا کر خبروں کا پتہ لگاتا رہتا تھا۔ چنانچہ اس وقت بھی وہ اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء خبروں کا پتہ لگانے کی غرض سے نکلے ہوئے تھے۔
حضرت عباسؓ کا بیان ہے کہ واللہ! میں رسول اللہ ﷺ کے خچر پر سوار جا رہا تھا کہ مجھے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی گفتگو سنائی پڑی۔ وہ باہم رد و قدح کر رہے تھے۔ ابو سفیان کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں نے آج رات جیسی آگ اور ایسا لشکر تو کبھی دیکھا ہی نہیں، اور جواب میں بدیل کہہ رہا تھا: یہ اللہ کی قسم! بنو خزاعہ ہیں۔ جنگ نے انہیں نوچ کر رکھ دیا ہے، اور اس پر ابو سفیان کہہ رہا تھا: خزاعہ اس سے کہیں کمتر اور ذلیل ہیں کہ یہ ان کی آگ اور ان کا لشکر ہو۔
حضرت عباس کہتے ہیں کہ میں نے اس کی آواز پہچان لی اور کہا: ابو حنظلہ؟ اس نے بھی میری آواز پہچان لی اور بولا: ابو الفضل؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: کیا بات ہے؟ میرے ماں باپ تجھ پر قربان، میں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ ہیں لوگوں سمیت۔ ہائے قریش کی تباہی -- واللہ!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس نے کہا: اب کیا حیلہ ہے؟ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ میں نے کہا: واللہ! اگر وہ تمہیں پا گئے تو تمہاری گردن مار دیں گے۔ لہٰذا اس خچر پر پیچھے بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلتا ہوں، اور تمہارے لیے امان طلب کیے دیتا ہوں۔ اس کے بعد ابو سفیان میرے پیچھے بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس چلے گئے۔
حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ابو سفیان کو لے کر چلا۔ جب کسی الاؤ کے پاس سے گزرتا تو لوگ کہتے: کون ہے؟ مگر جب دیکھتے کہ رسول اللہ ﷺ کا خچر ہے اور میں اس پر سوار ہوں تو کہتے کہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں اور آپ کے خچر پر ہیں۔ یہاں تک کہ عمر بن خطابؓ کے الاؤ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا: کون ہے؟ اور اٹھ کر میری طرف آئے۔ جب پیچھے ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے: ابو سفیان؟ اللہ کا دشمن؟ اللہ کی حمد ہے کہ اس نے بغیر عہد و پیمان کے تجھے (ہمارے) قابو میں کر دیا۔ اس کے بعد وہ نکل کر رسول اللہ ﷺ کی طرف دوڑے۔ اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی۔ میں آگے بڑھ گیا۔ اور خچر سے کود کر رسول اللہ ﷺ کے پاس جا گھسا۔ اتنے میں عمر بن خطاب بھی گھس آئے اور بولے کہ اے اللہ کے رسول! یہ ابو سفیان ہے۔ مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن مار دوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔ پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر آپ کا سر پکڑ لیا۔ اور کہا: اللہ کی قسم آج رات میرے سوا کوئی اور آپ سے سرگوشی نہ کرے گا۔ جب ابو سفیان کے بارے میں حضرت عمرؓ نے بار بار کہا تو میں نے کہا: عمر! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم ایسی بات نہ کہتے۔ عمرؓ نے کہا: عباس! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا اسلام لانا میرے نزدیک خطّاب کے اسلام لانے سے -اگر وہ اسلام لاتے- زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی وجہ میرے لیے صرف یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک تمہارا اسلام لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عباس! اسے (یعنی ابو سفیان کو) اپنے ڈیرے میں لے جاؤ۔ صبح میرے پاس لے آنا۔ اس حکم کے مطابق میں اسے ڈیرے میں لے گیا اور صبح خدمتِ نبوی ﷺ میں حاضر کیا۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ابو سفیان! تم پر افسوس، کیا اب بھی تمہارے لیے وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا، آپ کتنے بردبار، کتنے کریم اور کتنے خویش پرور ہیں۔ میں اچھی طرح سمجھ چکا ہوں کہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو اب تک میرے کچھ کام آیا ہوتا۔
آپ نے فرمایا: ابو سفیان تم پر افسوس! کیا تمہارے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم یہ جان سکو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا۔ آپ کس قدر حلیم، کس قدر کریم اور کس قدر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ اس بات کے متعلق تو اب بھی دل میں کچھ نہ کچھ کھٹک ہے۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا: ارے! گردن مارے جانے کی نوبت آنے سے پہلے پہلے اسلام قبول کر لو! اور یہ شہادت و اقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر ابو سفیان نے اسلام قبول کر لیا اور حق کی شہادت دی۔
حضرت عباس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان اعزاز پسند ہے، لہٰذا اسے کوئی اعزاز دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کر لے اسے امان ہے اور جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے اسے امان ہے۔
اسلامی لشکر مر الظَہران سے مکے کی جانب :
اسی صبح -منگل ۱۷/رمضان ۸ھ کی صبح- رسول اللہ ﷺ مر الظہران سے مکہ روانہ ہوئے اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابو سفیان کو وادی کی تنگنائے پر پہاڑ کے ناکے کے پاس روک رکھیں تاکہ وہاں سے گزرنے والی الٰہی فوجوں کو ابو سفیان دیکھ سکے۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ ادھر قبائل اپنے اپنے پھریرے لیے گزر رہے تھے۔ جب وہاں سے کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ جواب میں حضرت عباس -بطورِ مثال- کہتے کہ بنو سلیم ہیں۔ تو ابو سفیان کہتا کہ مجھے سلیم سے کیا واسطہ؟ پھر کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ اے عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ وہ کہتے: مُزَیْنَہ ہیں۔ ابو سفیان کہتا: مجھے مزینہ سے کیا مطلب؟ یہاں تک کہ سارے قبیلے ایک ایک کرکے گزر گئے۔ جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان حضرت عباس سے اس کی بابت ضرور دریافت کرتا اور جب وہ اسے بتاتے تو وہ کہتا کہ مجھے بنی فلاں سے کیا واسطہ؟ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سبز دستے کے جلو میں تشریف لائے۔ آپ مہاجرین و انصار کے درمیان فروکش تھے۔ یہاں انسانوں کے بجائے صرف لوہے کی باڑھ دکھائی پڑ رہی تھی۔ ابو سفیان نے کہا: سبحان اللہ! اے عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ انصار و مہاجرین کے جلو میں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں۔ ابو سفیان نے کہا: بھلا ان سے محاذ آرائی کی طاقت کسے ہے؟ اس کے بعد اس نے مزید کہا کہ ابو الفضل! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو واللہ بڑی زبردست ہو گئی۔ حضرت عباسؓ نے کہا: ابو سفیان! یہ نبوت ہے۔ ابو سفیان نے کہا: ہاں! اب تو یہی کہا جائے گا۔
اس موقع پر ایک واقعہ اور پیش آیا۔ انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس تھا۔ وہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو بولے:
الیوم یوم الملحمۃ الیوم تستحل الحرمۃ
''آج خونریزی اور مار دھاڑ کا دن ہے۔ آج حرمت حلال کر لی جائے گی۔''
آج اللہ نے قریش کی ذلت مقدر کر دی ہے۔ اس کے بعد جب وہاں سے رسول اللہ ﷺ گزرے تو ابو سفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سعد نے کہی ہے؟ آپ نے فرمایا: سعد نے کیا کہا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: یہ اور یہ بات کہی ہے۔ یہ سن کر حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں سعد قریش کے اندر مار دھاڑ نہ مچا دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ آج کا دن وہ دن ہے جس میں کعبہ کی تعظیم کی جائے گی۔ آج کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت بخشے گا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیج کر جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے صاحبزادے قیس کے حوالے کر دیا۔ گویا جھنڈا حضرت سعد کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ اور کہا جاتا ہے کہ آپ نے جھنڈا حضرت زبیر کے حوالے کر دیا تھا۔
اسلامی لشکر اچانک قریش کے سر پر:
جب رسول اللہ ﷺ ابو سفیان کے پاس سے گزر چکے تو حضرت عباسؓ نے اس سے کہا: اب دوڑ کر اپنی قوم کے پاس جاؤ۔ ابو سفیان تیزی سے مکہ پہنچا اور نہایت بلند آواز سے پکارا: قریش کے لوگو! یہ محمد ﷺ ہیں۔ تمہارے پاس اتنا لشکر لے کر آئے ہیں کہ مقابلے کی تاب نہیں، لہٰذا جو ابو سفیان کے گھر گھس جائے اسے امان ہے۔ یہ سن کر اس کی بیوی ہند بنت عتبہ اٹھی اور اس کی مونچھ پکڑ کر بولی: مار ڈالو اس چرب دار، کڑے گوشت والے مشک کو۔ بُرا ہو ایسے (لینڈ والے) پیشتر و خبر رساں کا۔
ابو سفیان نے کہا: تمہاری بربادی ہو۔ دیکھو تمہاری جانوں کے بارے میں یہ عورت تمہیں دھوکا میں نہ ڈال دے۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسا لشکر لے کر آئے ہیں جس سے مقابلے کی تاب نہیں۔ اس لیے جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے۔ لوگوں نے کہا: اللہ تجھے مارے، تیرا گھر ہمارے کتنے آدمیوں کے کام آسکتا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کر لے اسے بھی امان ہے۔ اور جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے اسے بھی امان ہے۔ یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام کی طرف بھاگے۔ البتہ اپنے کچھ اوباشوں کو لگا دیا اور کہا کہ انہیں ہم آگے کیے دیتے ہیں۔ اگر قریش کو کچھ کامیابی ہوئی تو ہم ان کے ساتھ ہو رہیں گے اور اگر ان پر ضرب لگی تو ہم سے جو کچھ مطالبہ کیا جائے گا منظور کر لیں گے۔ قریش کے یہ احمق اوباش مسلمانوں سے لڑنے کے لیے عِکْرَمَہ بن ابی جہل، صفوان بن اُمیہ اور سُہَیْل بن عَمرو کی کمان میں خندمہ کے اندر جمع ہوئے۔ ان میں بنو بکر کا ایک آدمی حماس بن قیس بھی تھا۔ جو اس سے پہلے ہتھیار ٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا۔ جس پر اس کی بیوی نے (ایک روز) کہا: یہ کاہے کی تیاری ہے جو میں دیکھ رہی ہوں؟ اس نے کہا: محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں سے مقابلے کی تیاری ہے۔ اس پر بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کے مقابل کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں ان کے بعض ساتھیوں کو تمہارا خادم بناؤں گا۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا:
إن یقبلوا الیوم فما لي علـۃ ہــذا سـلاح کامـل وألــۃ
وذو غـراریـن سـریع السلـــۃ
''اگر وہ آج مد مقابل آ گئے تو میرے لیے کوئی عذر نہ ہو گا۔ یہ مکمل ہتھیار، دراز انی والا نیزہ اور جھٹ سونتی جانے والی دو دھاری تلوار ہے''
خندمہ کی لڑائی میں یہ شخص بھی آیا ہوا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسلامی لشکر ذی طویٰ میں:
ادھر رسول اللہ ﷺ مر الظہران سے روانہ ہو کر ذی طویٰ پہنچے- اس دوران میں اللہ کے بخشے ہوئے اعزاز ِ فتح پر فرطِ تواضع سے آپ نے اپنا سر جھکا رکھا تھا۔یہاں تک کہ داڑھی کے بال کجاوے کی لکڑی سے جا لگ رہے تھے - ذی طویٰ میں آپ نے لشکر کی ترتیب و تقسیم فرمائی۔ خالد بن ولید کو داہنے پہلو پر رکھا - اس میں اسلم، سُلَیْم، غِفار، مُزَیْنہ، جُہَینہ اور کچھ دوسرے قبائلِ عرب تھے - اور خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں زیریں حصے سے داخل ہوں، اور اگر قریش میں سے کوئی آڑے آئے تو اسے کاٹ کر رکھ دیں، یہاں تک کہ صفا پر آپ سے آ ملیں۔
حضرت زبیر بن عوام بائیں پہلو پر تھے۔ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا پھریرا تھا۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ مکے میں بالائی حصے، یعنی کداء سے داخل ہوں اور حجون میں آپ کا جھنڈا گاڑ کر آپ کی آمد تک وہیں ٹھہرے رہیں۔
حضرت ابو عبیدہ پیادے پر مقرر تھے۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بطن وادی کا راستہ پکڑیں۔ یہاں تک کہ مکے میں رسول اللہ ﷺ کے آگے اتریں۔
مکہ میں اسلامی لشکر کا داخلہ:
ان ہدایات کے بعد تمام دستے اپنے اپنے مقررہ راستوں سے چل پڑے۔
حضرت خالد اور ان کے رفقاء کی راہ میں جو مشرک بھی آیا اسے سلا دیا گیا۔ البتہ ان کے رفقاء میں سے بھی کرز بن جابر فہری اور خُنَیس بن خالد بن ربیعہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ دونوں لشکر سے بچھڑ کر ایک دوسرے راستے پر چل پڑے اور اسی دوران انہیں قتل کر دیا گیا۔ خندمہ پہنچ کر حضرت خالدؓ اور ان کے رفقاء کی مڈبھیڑ قریش کے اوباشوں سے ہوئی۔ معمولی سی جھڑپ میں بارہ مشرک مارے گئے اور اس کے بعد مشرکین میں بھگدڑ مچ گئی۔ حماس بن قیس جو مسلمانوں سے جنگ کے لیے ہتھیار ٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا بھاگ کر اپنے گھر میں جا گھسا اور اپنی بیوی سے بولا: دروازہ بند کر لو۔ اس نے کہا: وہ کہاں گیا جو تم کہا کرتے تھے؟ کہنے لگا:
إنک لو شہدت یوم الخندمــہ إذ فــر صـفوان وفر عکرمــۃ
واستقبتنا بالسیوف المسلمــۃ یـقـطعن کل ساعد وجمجمہ
ضرباً فلا یسمع إلا غمغمـــہ لھـم نہیت خلفنـا وہمہمــہ
لـــم تنطقی في اللـوم أدنـی کلمـۃ
''اگر تم نے جنگ خندمہ کا حال دیکھا ہوتا جب کہ صفوان اور عکرمہ بھاگ کھڑے ہوئے اور سونتی ہوئی تلواروں سے ہمارا استقبال کیا گیا، جو کلائیاں اور کھوپڑیاں اس طرح کاٹتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سوائے ان کے شور و غوغا اور ہمہمہ کے کچھ سنائی نہیں پڑتا تھا، تو تم ملامت کی ادنیٰ بات نہ کہتیں۔''
اس کے بعد حضرت خالدؓ مکہ کے گلی کوچوں کو روندتے ہوئے کوہِ صفا پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملے۔
ادھر حضرت زبیرؓ نے آگے بڑھ کر حجون میں مسجد فتح کے پاس رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا گاڑ ا۔ اور آپ ﷺ کے لیے ایک قُبہّ نصب کیا۔ پھر مسلسل وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔
مسجد حرام میں رسول اللہ ﷺ کا داخلہ اور بتوں سے تطہیر :
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اُٹھے اور آگے پیچھے اور گرد و پیش موجود انصار و مہاجرین کے جَلو میں مسجد حرام کے اندر تشریف لائے۔ آگے بڑھ کر حجرِ اسود کو چوما اور اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس وقت آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک کمان تھی، اور بیت اللہ کے گرد اور اس کی چھت پر تین سو ساٹھ بُت تھے۔ آپ ﷺ اسی کمان سے ان بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے، اور کہتے جاتے تھے:
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (۱۷: ۸۱)
''حق آ گیا اور باطل چلا گیا، باطل جانے والی چیز ہے۔''
''حق آ گیا اور باطل کی چلت پھرت ختم ہو گئی۔''
اور آپ ﷺ کی ٹھوکر سے بُت چہروں کے بل گرتے جاتے تھے۔
آپ ﷺ نے طواف اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر فرمایا تھا اور حالتِ احرام میں نہ ہونے کی وجہ سے صرف طواف ہی پر اکتفا کیا۔ تکمیلِ طواف کے بعد حضرت عثمان بن طلحہؓ کو بلا کر ان سے کعبہ کی کنجی لی۔ پھر آپ ﷺ کے حکم سے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ اندر داخل ہوئے تو تصویریں نظر آئیں، جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں، اور ان کے ہاتھ میں فال گیری کے تیر تھے۔ آپ ﷺ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: اللہ ان مشرکین کو ہلاک کرے۔ اللہ کی قسم! ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال کے تیر استعمال نہیں کیے۔ آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری بھی دیکھی اسے اپنے دست مبارک سے توڑ دیا اور تصویریں آپ ﷺ کے حکم سے مٹا دی گئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خانہ کعبہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز اور قریش سے خطاب:
اس کے بعد آپ ﷺ نے اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت اسامہؓ اور بلالؓ بھی اندر ہی تھے۔ پھر دروازے کے مقابل کی دیوار کا رخ کیا۔ جب دیوار صرف تین ہاتھ کے فاصلے پر رہ گئی تو وہیں ٹھہر گئے۔ دو کھمبے آپ کے دائیں جانب تھے، ایک کھمبا بائیں جانب اور تین کھمبے پیچھے تھے- ان دنوں خانہ کعبہ میں چھ کھمبے تھے - پھر وہیں آپ ﷺ نے نماز پڑھی، اس کے بعد بیت اللہ کے اندرونی حصے کا چکر لگایا۔ تمام گوشوں میں تکبیر و توحید کے کلمات کہے۔ پھر دروازہ کھول دیا۔ قریش (سامنے) مسجد حرام میں صفیں لگائے کھچا کھچ بھرے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے دروازے کے دونوں بازو پکڑ لیے۔ قریش نیچے تھے۔ انہیں یوں مخاطب فرمایا:
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا سارے جتھوں کو شکست دی۔ سنو! بیت اللہ کی کلید برداری اور حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ سارا اعزاز یا کمال یا خون میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ یاد رکھو، کہ قتلِ خطا شبہ عمد میں - جو کوڑے یا ڈنڈے سے ہو - مغلظ دیت ہے، یعنی سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیوں کے شکم میں ان کے بچے ہوں۔
اے قریش کے لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کردیا۔ سارے لوگ آدم سے ہیں اور آدم مٹی سے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ‌ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَ‌فُوا ۚ إِنَّ أَكْرَ‌مَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‌ (۴۹: ۱۳)
''اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔''
آج کوئی سرزنش نہیں:
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے۔ میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں؟ انہوں نے کہا: اچھا۔ آپ کریم بھائی ہیں۔ اور کریم بھائی کے صاحبزادے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (۱۲: ۹۲) آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔
 
Top