- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غزوہ فتح مکہ
امام ابن قیم لکھتے ہیں کہ یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعے اللہ نے اپنے دین کو، اپنے رسول کو، اپنے لشکر کو اور اپنے امانت دار گروہ کو عزت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو، دنیا والوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا ہے۔ کفار و مشرکین کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلایا۔ اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اس کی عزت کی طنابیں جوزاء کے شانوں پر تن گئیں۔ اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور روئے زمین کا چہرہ روشنی اور چمک دمک سے جگمگا اٹھا۔ (زاد المعاد ۲/۱۶۰)
اس غزوے کا سبب:
صلح حدیبیہ کے ذکر میں ہم یہ بات بتا چکے ہیں کہ اس معاہدے کی ایک دفعہ یہ تھی کہ جوکوئی محمد ﷺ کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتا ہے اور جو کوئی قریش کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتا ہے اور جو قبیلہ جس فریق کے ساتھ شامل ہو گا اس فریق کا ایک حصہ سمجھا جائے گا۔ لہٰذا ایسا کوئی قبیلہ اگر کسی حملے یا زیادتی کا شکار ہوگا تو یہ خود اس فریق پر حملہ اور زیادتی تصور کی جائے گی۔
اس دفعہ کے تحت بنو خُزاعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد وپیمان میں داخل ہو گئے اور بنو بکر قریش کے عہد و پیمان میں۔ اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہو گئے۔ لیکن چونکہ ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آ رہی تھی، اس لیے جب اسلام کی آمد آمد ہوئی، اور صلح حدیبیہ ہو گئی، اور دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہو گئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں۔ چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان ۸ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنو خزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچا دیا۔ حرم پہنچ کر بنو بکر نے کہا: اے نوفل، اب تو ہم حرم میں داخل ہو گئے۔ تمہارا الٰہ ! ... تمہارا الٰہ ! ... اس کے جواب میں نوفل نے ایک بڑی بات کہی، بولا: بنو بکر! آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔