• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غلط العام اور غلط العوام الفاظ

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
ماشاءاللہ ۔۔۔ لاقوۃ الاباللہ ۔۔۔
میں آپ سب کا ممنون و [مشکور] ہوں کہ ۔۔۔۔

السلام و علیکم برادر
دخل در معقولات کی معذرت ۔۔۔ لفظ ’’مشکور‘‘ کا یہ استعمال غلط ہے بلکہ غلط العوام ہے۔ اگر آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں آپ کا شکر گذار ہوں، تو آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ میں ’’شاکر‘‘ (شاکر بھائی نہیں) ہوں۔ یا میں ممنون ہوں ۔ ’’مشکور‘‘ تو وہ شخص ہوگا جس کے آپ شکر گذار ہیں۔ جیسے طالب (طلب کرنے والا) و مطلوب (جسے طلب کیا جائے) ، حامد (حمد یا تعریف کرنے والا) ، محمود (جس کی حمد یا تعریف کی جائے) وغیرہ وغیرہ امید ہے دیگر قارئین بھی کسی کے ’’ مشکور‘‘ ہونے سے قبل یہ ضرور غور کر لیں گے کہ وہ حقیقت میں کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک لفظ ہے ’’تابعدار‘‘ عموما" لوگ اس طرح لکھتے ہیں ’’آپ کا تابعدار شاگرد‘‘ (وغیرہ) لیکن اس کا اصل مطلب ہوگا ’’ میں آپ کو اپنے تابع (ماتحت) رکھتا ہوں ‘‘ یعنی مطلب ہی الٹ ہوگیا۔ لہٰذا ایسے مواقع پر ’’تابعدار‘‘ کی بجائے ’’فرماں بردار‘‘ لکھنا چاہئے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
منتظمین و قارئین کی توجہ کے لئے:
جواب کا متن ایک بار تو مدون ہوجاتا ہے، دوبارہ یا سہ بار نہیں، پتہ نہیں کیوں؟
میرے اوپر کے جوابی متن میں بھی کچھ کمپوزنگ غلطیاں رہ گئی ہیں، جو مدون نہیں ہورہیں۔
لفظ ’’امیڈ‘‘ نہیں بلکہ ’’امید‘‘ ہے، اسی طرح ایک جگہ ’’حم‘‘ نہیں بلکہ ’’حمد‘‘ ہے
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,431
پوائنٹ
964
يوسف ثانی بھائی ۔۔ جزاکم اللہ لفظ ’’ مشکور ‘‘ کی تو سمجھ آ گئی ہے ۔۔۔۔ لیکن آپ نےجو یہ فرمایا ہے کہ :
ایسا ہی ایک لفظ ہے ’’تابعدار‘‘ عموما" لوگ اس طرح لکھتے ہیں ’’آپ کا تابعدار شاگرد‘‘ (وغیرہ) لیکن اس کا اصل مطلب ہوگا ’’ میں آپ کو اپنے تابع (ماتحت) رکھتا ہوں ‘‘ یعنی مطلب ہی الٹ ہوگیا۔ لہٰذا ایسے مواقع پر ’’تابعدار‘‘ کی بجائے ’’فرماں بردار‘‘ لکھنا چاہئے۔
اس کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔ اردو لغت والوں نے ’’ تابعدار ‘‘ اور ’’ فرماں بردار ‘‘ دونوں جملوں کو ہم معنی بتایا ہے ۔۔۔ جبکہ آپ نے ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط قراردیا ہے ۔۔ ؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
يوسف ثانی بھائی ۔۔ جزاکم اللہ لفظ ’’ مشکور ‘‘ کی تو سمجھ آ گئی ہے ۔۔۔۔ لیکن آپ نےجو یہ فرمایا ہے کہ :


اس کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔ اردو لغت والوں نے ’’ تابعدار ‘‘ اور ’’ فرماں بردار ‘‘ دونوں جملوں کو ہم معنی بتایا ہے ۔۔۔ جبکہ آپ نے ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط قراردیا ہے ۔۔ ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مفہوم میں لفظ تابعدار اب "غلط العوام" سے آگے بڑھ کر "غلط العام " کے درجہ میں داخل ہوچکا ہے۔ اور ماہرین لسانیات کے نزدیک غلط العام کو "قبولیت" کا درجہ حاصل ہے۔ البتہ فصاحت و بلاغت کا تقاضہ یہی ہے کہ ممکنہ حد تک غلط العام سے بھی گریزکیا جائے۔
 

ابو مریم

مبتدی
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 22، 2011
پیغامات
74
ری ایکشن اسکور
495
پوائنٹ
22
آپ نے واقعتا ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے ، البتہ آپ نے اپنے کلام میں لفظ تقاضا کا املا تقاضہ لکھا ہے کیا یہ بھی غلط العوام نہیں ہے؟
 

ابو مریم

مبتدی
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 22، 2011
پیغامات
74
ری ایکشن اسکور
495
پوائنٹ
22
آپ نے واقعتا ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے جس کے لیے ہم آپ کے شاکر ہیں ، لیکن آپ نے اپنے کلام میں لفظ تقاضا کا املا تقاضہ لکھا ہے ، کیا یہ بھی غلط العوام نہیں ہے؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
آپ نے واقعتا ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے جس کے لیے ہم آپ کے شاکر ہیں ، لیکن آپ نے اپنے کلام میں لفظ تقاضا کا املا تقاضہ لکھا ہے ، کیا یہ بھی غلط العوام نہیں ہے؟
تقاضا یا تقاضہ
مدیر اعلیٰ یا مدیر اعلا
طوطا یا توتا
اس جیسے بہت سے الفاظ ہیں جو اردو زبان و ادب میں ’’اختلافی‘‘ شمار ہوتے ہیں۔ کچھ اساتذہ ایک کے حق میں ہیں تو کچھ دوسرے کے حق میں۔ لہٰذا عوام الناس کودونوں میں سے کسی بھی ایک کو استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,550
پوائنٹ
641
اگر آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں آپ کا شکر گذار ہوں، تو آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ میں ’’شاکر‘‘ (شاکر بھائی نہیں) ہوں۔ یا میں ممنون ہوں ۔
یوسف ثانی بھائی!ممنون بھی تو مشکور کے وزن پر ہے، یعنی اسم مفعول ہے، اس بارے بھی کچھ وضاحت فرما دیں۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
جی ابوالحسن بھائی!
آپ بجا فرماتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں، شکر، شاکر، مشکور فعل، فاعل اور مفعول کے معنوں میں مستعمل ہیں لہٰذا یہاں اسم مفعول کو اسم فاعل کے معنی میں استعمال کرنا درست نہیں ہو سکتا۔ جبکہ ممنون کسی فعل سے نکلا ہوا لفط نہیں ہے۔ یہ ایک مستقل لفظ ہے جو اتفاقا" مشکور کا ہم وزن بھی ہے۔ کسی بھی مفعول (یا فاعل یا فعل) کے سارے ہم وزن الفاظ مفعول (یا فاعل یا فعل) نہیں ہوتے۔
 

ابو مریم

مبتدی
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 22، 2011
پیغامات
74
ری ایکشن اسکور
495
پوائنٹ
22
تقاضا یا تقاضہ
مدیر اعلیٰ یا مدیر اعلا
طوطا یا توتا
آپ نے جو مثال دی ہے وہ ہمارے زیر بحث لفظ کے لیے مناسب نہیں، کیونکہ آپ نے تقاضا (جس کے آخر میں الف ہے ) کے آخر میں ہ لگا دی ہے جبکہ آپ کی ذکر کردہ مثال میں اعلی یا اعلا دونوں کے آخر میں الف ہی ہے صرف طریقہ املا میں فرق ہے۔ آپ کی پیش کردہ مثال اس وقت درست تھی اگر آپ نے تقاضا کو تقاضی لکھا ہوتا۔
 
Top