ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
فعل ماضی کے آخر میں الف لکھنے کا طریقہ
فعل ماضی کے آخر میں الف ہو تو بسا اوقات بعض لوگوں کو کافی الجھن ہوتی ہے کہ اسے کھڑے الف کی شکل میں لکھے یا الف مقصورہ (یا کی شکل میں) لکھے۔
اس کا آسان سا طریقہ یہ ہے کہ دیکھیں وہ فعل ثلاثی ہے یا ثلاثی سے زائد۔
اگر ثلاثی ہے تو یہ دیکھنا ہے کہ اس الف کی اصل کیا ہے۔ اگر الف کی اصل واو ہے تو اسے کھڑے الف کی شکل میں لکھا جائےگا۔ مثلا: بَدَا، دَعَا، رَجَا، غَدَا، نَمَا، نَجَا وغیرہ
اور اگر اس الف کی اصل یا ہے تو اسے الف مقصورہ یعنی یا کی شکل میں لکھا جائےگا۔ مثلا: دَرَى، هَدَى، قَضَى، سَعَى، بَكَى، مَضَى وغیرہ۔
اصل جاننے کے لئے مضارع کی شکل دیکھیں۔
اور اگر وہ فعل ثلاثی سے زائد ہے تو اسے الف مقصورہ کی شکل میں لکھا جائےگا، مثلا: أَنْجَى، أَهْدَى، اقْتَدَى، انْتَمَى، اشْتَرَى، اهْتَدَى وغیرہ
الا یہ کہ اگر الف سے پہلے یا ہو تو ایسی صورت میں اسے کھڑے الف کی شکل میں لکھا جائےگا۔ مثلا: أَحْيَا، أَعْيَا، اسْتَحْيَا وغیرہ۔ (منقول)