عکرمہ
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 27، 2012
- پیغامات
- 658
- ری ایکشن اسکور
- 1,871
- پوائنٹ
- 157
نفاق
تعریف:
لغت کی رو سے نفاق کے معنی ہیں:اِخْفِاءُ الشَّیًٔ واغْمَاضُہ یعنی کسی چیز کو مخفی اور مبہم رکھنا‘‘
شرعی اصطلاح کے مطابق نفاق سے مراد ہےکہ ظاہری طور ہر اسلام کا اظہار کیا جائےاورباطن میں کفر وشر پوشیدہ ہو۔
اقسام:
نفاق کی دو قسمیں ہیں:
نفاق اکبر(اعتقادی)
نفاق اصغر(عملی)
ان کی توضیح درج ذیل ہے:
نفاق اعتقادی:
اس میں درج ذیل مطالب ہیں:
تعریف:
یہ نفاق اکبر ہےجس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص ظاہری طور پر مسلمان ہونے کا دعوی کرےلیکن دل میں کفر چھپا کر رکھے۔
حکم:
اقسام:یہ نفاق انسان کو دین سے بالکلیہ خارج کر دیتا ہےاوراس کا مرتکب جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا
اعتقادی نفاق چھ اقسام پر مشتمل ہو تا ہے:
١تکذیب رسول اللہﷺ
2شریعت پیغمبرﷺکے کچھ حصوں کو جھٹلانا
3رسول اکرمﷺسے بغض رکھنا
4شریعت محمدیﷺکے بعض حصوں سے بغض و نفرت رکھنا
5دین پیغمبرﷺکو نقصان پہنچنے پر اظہار مسرت کرنا
6دین محمدﷺکی مدد و نصرت کوناپسند جاننا
نفاق عملی:
اس میں درج ذیل امور قابل ذکر ہیں:
تعریف:
دل میں ایمان و ایقان کے ہوتے ہوئے منافقوں کے اعمال و خصائل میں سے کسی خصلت یا عمل کا ارتکاب،نفاق عملی کہلاتا ہے۔
حکم:
اس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا لیکن یہ نصوص شریعت کی رو سے حرام اور کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔اس کے مرتکب میں ایمان و نفاق مجتمع ہوتے ہیں لیکن جب کوئی شخص کثرت سے منافقوں کی خصلتیں اپنا لیتا ہےتو وہ پکا منافق ہوجاتا ہے۔
مثالیں:
1:امانت میں خیانت کرنا
2:گفتگو میں جھوٹ بولنا
3:عہد شکنی کرنا
4:لڑائی جھگڑے میں گالی گلوچ کرنا
5:وعدہ خلافی کرنا
دلیل:
((أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا، اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ))
’’صحیح بخاری،کتاب الایمان،باب علامات المنافق،ح:۳۴۔و صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب خصائل المنافق،ح:۵۸)
6:مسجد میں با جماعت نماز پڑھنے سے سستی اور لا پرواہی برتنا:’’جس شخص میں چار صفات ہوں وہ پکا منافق ہےاور جس میں ان میں سے ایک آدھ ہو اس میں گویا نفاق کی کی ایک آدھ خصلت موجود ہے۔یہاں تک وہ اسے چھوڑ دے۔1:جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔2:بات کرے تو جھوٹ بولے۔3:عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔4:جب لڑائی جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔‘‘
قرآن شریف میں ہے:
وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى(النساء:۱۴۲)
’’اور جب یہ(منافق)نماز کے لیے اُٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں‘‘
7:نیک اعمال میں دکھاوا کرنا:
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يُرَآءُوْنَ النَّاسَ(النساء:۱۴۲)’’محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر‘‘