• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فہم توحید

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
نفاق

تعریف:
لغت کی رو سے نفاق کے معنی ہیں:اِخْفِاءُ الشَّیًٔ واغْمَاضُہ یعنی کسی چیز کو مخفی اور مبہم رکھنا‘‘
شرعی اصطلاح کے مطابق نفاق سے مراد ہےکہ ظاہری طور ہر اسلام کا اظہار کیا جائےاورباطن میں کفر وشر پوشیدہ ہو۔
اقسام:
نفاق کی دو قسمیں ہیں:
نفاق اکبر(اعتقادی)
نفاق اصغر(عملی)
ان کی توضیح درج ذیل ہے:
نفاق اعتقادی:

اس میں درج ذیل مطالب ہیں:
تعریف:
یہ نفاق اکبر ہےجس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص ظاہری طور پر مسلمان ہونے کا دعوی کرےلیکن دل میں کفر چھپا کر رکھے۔
حکم:
یہ نفاق انسان کو دین سے بالکلیہ خارج کر دیتا ہےاوراس کا مرتکب جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا
اقسام:
اعتقادی نفاق چھ اقسام پر مشتمل ہو تا ہے:

١تکذیب رسول اللہﷺ
2شریعت پیغمبرﷺکے کچھ حصوں کو جھٹلانا
3رسول اکرمﷺسے بغض رکھنا
4شریعت محمدیﷺکے بعض حصوں سے بغض و نفرت رکھنا
5دین پیغمبرﷺکو نقصان پہنچنے پر اظہار مسرت کرنا
6دین محمدﷺکی مدد و نصرت کوناپسند جاننا
نفاق عملی:

اس میں درج ذیل امور قابل ذکر ہیں:
تعریف:
دل میں ایمان و ایقان کے ہوتے ہوئے منافقوں کے اعمال و خصائل میں سے کسی خصلت یا عمل کا ارتکاب،نفاق عملی کہلاتا ہے۔
حکم:
اس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا لیکن یہ نصوص شریعت کی رو سے حرام اور کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔اس کے مرتکب میں ایمان و نفاق مجتمع ہوتے ہیں لیکن جب کوئی شخص کثرت سے منافقوں کی خصلتیں اپنا لیتا ہےتو وہ پکا منافق ہوجاتا ہے۔
مثالیں:

1:امانت میں خیانت کرنا
2:گفتگو میں جھوٹ بولنا
3:عہد شکنی کرنا
4:لڑائی جھگڑے میں گالی گلوچ کرنا
5:وعدہ خلافی کرنا
دلیل:
((أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا، اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ))
’’صحیح بخاری،کتاب الایمان،باب علامات المنافق،ح:۳۴۔و صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب خصائل المنافق،ح:۵۸)​
’’جس شخص میں چار صفات ہوں وہ پکا منافق ہےاور جس میں ان میں سے ایک آدھ ہو اس میں گویا نفاق کی کی ایک آدھ خصلت موجود ہے۔یہاں تک وہ اسے چھوڑ دے۔1:جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔2:بات کرے تو جھوٹ بولے۔3:عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔4:جب لڑائی جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔‘‘
6:مسجد میں با جماعت نماز پڑھنے سے سستی اور لا پرواہی برتنا:
قرآن شریف میں ہے:
وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى(النساء:۱۴۲)
’’اور جب یہ(منافق)نماز کے لیے اُٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں‘‘
7:نیک اعمال میں دکھاوا کرنا:
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يُرَآءُوْنَ النَّاسَ(النساء:۱۴۲)’’محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر‘‘
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
دوستی اور دشمنی

لغوی تعریف:
الولاء،ولایۃ سےنکلا ہےجس کے معنی محبت کے ہیں۔
البراء،بری یبراءسے مصدر ہے۔یہ کانٹے اورالگ ہونے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے:بَرِیَٔ الْقَلَمَ کا مطلب ہے اس نے قلم کو کاٹ دیا
اصطلاحی تعریف:
الولاء:
مسلمانوں سے محبت رکھنا،ان کی مدد کرنا،ان سےاعزاز و اکرام اور احترام کا رویہ اپنانا اور ان کے قریب ہونا۔
البراء:
اہل کفر سے بغض و نفرت رکھنا،ان سے دور رہنا او ر انکی امداد و معاونت سے باز رہنا۔
الولاء و البراء کی اہمیت:

1:یہ اسلامی عقیدے کے اصولوں میں شامل ہے۔
2:ایمان کی مضبوط ترین کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔
3:یہ ملت ابراہیم علیہ السلام اور ملت محمدﷺکا بنیادی ضابطہ ہے۔
اہل کفر سے ولاء:
یہ دو قسموں میں منقسم ہے،جو درج ذیل ہیں:
1:تولی
2:مولاۃ
ان کی وضاحت حسب ذیل ہے:
اَلتَّوَلِّی:

اس میں درج ذیل مطالب ہیں:
معنی و مفہوم:
شرک و کفر اور مشرکین و کفار سے محبت رکھنا۔
اہل ایمان کے خلاف کافروں کی مدد کرنا۔
حکم:
یہ کفر اکبر اور ارتداد یعنی اسلام سے پھر جانے کے مترادف ہے۔
دلیل :
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ(المائدہ:۵۱)
’’جو بھی ان سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے‘‘
المَوَالَاۃ:

اس میں یہ نکات توجہ طلب ہیں:
تعریف و ضابطہ:
دنیوی مفادات کی خاطر اہل کفر و شرک سے محبت رکھنا،لیکن(اہل ایمان کے خلاف)ان کی مدد نہ کرنا،کیونکہ مدد و اعانت کی صورت میں یہ تولی میں شامل ہو گا۔
حکم:
یہ حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
دلیل:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ(الممتحنہ:۱)
’’اے لوگو جوتم ایمان لائے ہو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ‘‘
موالاۃ کفار کے مظاہر و علامات:

1:گفتگو اور بول چال میں کافروں کی مشابہت اختیار کرنا
2:تفریح اور ذاتی لطف اندوزی کے لیے ان کے ممالک کا سفر کرنا۔
3:سرزمین کفار میں اقامت گزیں ہونا اور دینی احکامات سے فرار اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کے ملک میں منتقل نہ ہونا۔
4:ان کی تقویم وتاریخ اپنانا،خصوصا جس سے ان کے مذہبی تہواروں اور عیدوں کا اظہار ہو جیسے عیسوی تاریخ۔
5:ان کے تہواروں اور عیدوں میں شرکت کرنا،ان تقریبات کے انعقاد میں ان کی معاونت کرنا اور ان کی مناسبت سے مبارکباد کے پیغامات بھیجنا۔
6:ان کے ناموں پر نام رکھنا۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
الولاء و البراء کے باب میں لوگوں کی اقسام

اس سلسلے میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
پہلی قسم:
جن سے خالص محبت کی جائے گی اور کسی قسم کی ادنیٰ سی عداوت بھی نہیں رکھی جائے گی یہ وہ لوگ ہیں جو سچے اور خالص اہل ایمان ہیں۔
دوسری قسم:
وہ لوگ جن سے محض بغض وعداوت کا اظہار کیا جائےگا۔ان سے موالاۃ اور محبت کرنا قطعی طور پر ممنوع ہے۔یہ وہ افراد ہیں جو صریح اور پکے کافر ہیں۔
تیسری قسم:
اس نوع میں وہ لوگ شامل ہیں جو ایک پہلو سے قابل محبت ہیں اور دوسرےپہلو سے نفرت کے لائق۔
یہ گنہگار اور نافرمان مومن ہیں۔ان سے ان کے ایمان کی بقدر محبت کی جائے گی اور ان کی معصیت و نافرمانی کے مطابق بغض و عداوت کا مظاہرہ کیا جائے گا،بشرطیکہ وہ معصیت کفر و شرک کے درجے کی نہ ہو۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
اسلام

لغوی مفہوم:
اسلام کے لغوی معنی ہیں:’’الْاِنْقِیَادُ وَالْاِسْتِسْلَامُ وَالْخُضُوْعَ‘‘یعنی’’تسلیم ورضا کا رویہ اپنانا،جھک جانا اور انتہائی عاجزی کا مظاہرہ کرنا۔
شرعی مفہوم:
شرعی اصطلاح میں اسلام سے مراد ہے:
توحید کا عقیدہ اپناتے ہوئے اللہ کے سامنے جھک جانا۔
اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔
شرک اور اہل شرک سے اظہار برأت کرنا۔
اسلام کا عمومی مفہوم:

عمومی اعتبار سے اسلام کا مفہوم ہے:اللہ کی مقرر کردہ شریعت کے مطابق اس کی بندگی کرنا۔سلسلۂ انبیاء و رسل علیہم السلام کے آغاز سے قیامت تک اس طریق زندگی کا نام اسلام ہے۔گویا تمام انبیاء کرام دین اسلام ہی کے داعی تھے۔
اسلام کا خاص مفہوم:
خاص پہلو سے اسلام اس دین و شریعت کا نام ہے جسے محمد رسول اللہﷺکو دے کر بھیجا گیا۔

ارکان اسلام

اسلام کے پانچ ارکان ہیں:
1:اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
2:نماز قائم کرنا
3:زکوٰۃ ادا کرنا
4:بشرط استطاعت حج ادا کرنا
5:رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔
ارکان اسلام کی دو قسمیں ہیں:
اساسی ارکان:

ان سے مراد وہ ارکان ہیں جن کے بغیر اسلام کی عمارت استوار نہیں ہو سکتی۔یہ دو ہیں:
شہادت تو حید و رسالت
اقامت صلوۃ
تکمیلی ارکان:

یعنی وہ ارکان جو قصر اسلام کے اتمام وتکمیل کے لیے ضروری ہیں۔یہ تین ہیں:
1:ادائیگی زکوٰۃ
2:صوم رمضان
3:حج بیت اللہ کی ادائیگی
ارکان اسلام کی دلیل:

ان کی دلیل رسول معظمﷺ کی یہ مشہور و معروف حدیث ہے:
((بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ))
(صحیح البخاری۔کتاب الایمان،باب دعاءکم ایمانکم،ح:۸۔صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان أرکان الاسلام،ح:۱۶)​
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں اور محمدﷺاللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا،حج ادا کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا‘‘
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
ایمان

لغوی معنی:
ازروئے لغت ایمان کے معنی تصدیق اوراقرار کے ہیں۔
اہل سنت و الجماعت کے نزدیک ایمان کا مفہوم:

اہل سنت کے مطابق ایمان مندرجہ ذیل امور سے عبارت ہے:
1:دل سے اعتقاد رکھنا
2:زبان سے اقرار کرنا
3:اعضاء اور جوارح سے عمل کرنا
4:یہ اطاعت و فرمانبرداری سے بڑھتا ہے۔
5:اورمعصیت و نافرمانی سے کم ہو جاتا ہے۔


ارکان ایمان

ایمان کے چھ ارکان ہیں:
1:اللہ پر ایمان لانا
2:اس کے فرشتوں کا ماننا
3:اس کی کتابوں پر ایمان لانا
4:اس کے رسولوں کی تصدیق کرنا
5:یوم آخرت کا اعتقاد رکھنا
6:تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان لانا
ان میں ہر رکن کئی امور کو متضمن ہے،جن کی وضاحت درج ذیل ہے
ایمان باللہ:

اس میں درج ذیل امور شامل ہیں:
1:اللہ کے وجود پر ایمان لانا
2:اس کی ربوبیت کا اعتقاد رکھنا
3:اس کی الوہیت کو تسلیم کرنا
4:اس کے اسماءوصفات پر ایمان لانا
ایمان بالملائکہ:

یہ امور درج ذیل کومتضمن ہے:
1:فرشتوں کے وجود کو ماننا
2:جن فرشتوں کے نام معلوم ہیں ان کے ناموں کو ماننا جیسے جبرائیل علیہ السلام اور جن کے معلوم نہیں ان پر اجمالی ایمان لانا
3:فرشتوں کی جو صفات معلوم ہیں،انھیں تسلیم کرنا
4:اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے جو اعمال سرانجام دیتے ہیں ان میں سے جن کا علم ہو ان کی تصدیق کرنا۔
ایمان بالکتب:

اس کے تحت درج ذیل امور آتے ہیں:
1:اس امر پر ایمان لاناکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا نزول برحق ہے۔
2:جن کتابوں کے نام معلوم ہیں انہیں تسلیم کرنا جیسے قرآن مجید،تورات اور انجیل۔
3:ان کی جو خبریں صحیح اور ثابت ہیں،ان کی تصدیق کرنا۔جیسے قرآن پاک کی بتائی ہوئی تمام خبریں بالکل درست ہیں اور کتب سابقہ کی وہ خبریں جن میں تحریف وتبدل نہیں ہوا اور ہماری شریعت میں ان کی نقل صحیح طور پر ثابت ہے۔
4:کتب سماویہ کے جو احکام منسوخ نہیں ان پر ایمان لانا اور اظہار تسلیم ورضا کرناخواہ ان احکام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ان تمام کتب کے متعلق یہی رویہ ہونا چاہیے جو قرآن کریم سے منسوخ ہو چکی ہیں۔
ایمان بالرسل:

یہ چار امور کو متضمن ہے:
1:اس بات پر ایمان لانا کہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کی نبوت ورسالت اللہ کی طرف سے برحق ہے۔جس نے کسی ایک نبی یا رسول ﷺکا انکار کیا وہ سب کا منکر ہے۔
2:جن پیغمبروں کے نام معلوم ہیں،انہیں تسلیم کرنا۔مثلاً سیدنا محمدﷺ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام،سیدنا موسی،سیدنا عیسیٰ ،سیدنا نوح وغیرہم علیہم السلام
3:ان سے متعلقہ اخبار و اثار کی تصدیق کرنا،بشرطیکہ وہ صحیح طور پر ثابت ہوں
4:ہماری طرف جو رسول مبعوث ہوئے ہیں۔ان کی شریعت پر عمل پیرا ہونا یعنی خاتم الانبیاء و المرسلین سیدنا محمدﷺ جنہیں تمام جن وانس کے لیے بھیجا گیا ہے۔
ایمان بالآخرۃ:

اس میں ردج ذیل امور شامل ہیں:
1:موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لانا
2:حساب اور جزا وسزا کا اعتقاد رکھنا۔
3:جنت اور جہنم کو تسلیم کرنا
واضح رہے کہ روز آخرت پر ایمان میں یہ چیز بھی شامل ہےکہ ان تمام معاملات پر ایمان لایا جائے جو موت کے بعد وقوع پذیر ہوں گے۔قبر کی آزمائش اور عذاب و ثواب کا عقیدہ بھی اسی میں داخل ہے۔
ایمان بالقدر:

اس کے تحت درج ذیل امور آتے ہیں:
1:اس بات پر ایمان لاناکہ اللہ تعالیٰ کو تمام چیزوں کا مکمل اور تفصیلی علم ہے۔
2:یہ تسلیم کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
3:اس امر کا اعتقاد رکھنا کہ ہر شئے اللہ کی مشیت ہی وجود پذیر ہوتی ہے۔
4:یہ ماننا کہ تمام موجودات اپنی ذات وصفات اور حرکات سمیت اللہ عزوجل ہی کی مخلوق ہیں۔
ارکان ایمان کی دلیل:
1:اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِيّٖنَ(البقرہ:۱۷۷)
’’نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف ، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ پر،یوم آخرت پر،فرشتوں پر،کتب پر اور نبیوں پر صدق دل سے ایمان لائے‘‘
2:نیر فرمایا:
اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(القمر:۴۹)
’’ہم نے ہر چیز کو ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کیا‘‘
3:سنت سے ان ارکان کی دلیل حدیث جبرائیل علیہ السلام میں ہے جب جبرائیل نے رسول اکرمﷺ سے عرض کیا کہ’’ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ‘‘مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں توآپﷺ نے فرمایا:
((أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ))
حوالہ:
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان الایمان و الاسلام و الاحسان۔۔۔الخ،ح:۸)​
’’(ایمان یہ ہے کہ)تو اللہ کو مانے،اس کے فرشتوں،اس کی کتابوں کو مانے،اس کے رسولوں اور یوم آخرت کو تسلیم کرےاور تقدیر کی اچھائی اور برائی کو مانے‘‘
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
احسان

تعریف:
لغت کی رو سے یہ لفظ احسان’’الإِسَاءَۃ‘‘یعنی غلط کاری اور بدسلوکی کی ضد ہے۔
شرعی طور پر اس کے معنی ہیں:خلوت وجلوت میں خوف باری تعالیٰ کو ملحوظ خاطر رکھنا۔
ارکانِ احسان:
اس کا صرف ایک ہی رکن ہے اور وہ ہے
((أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ))مسلم شریف
’’تو اللہ عزوجل کی عبادت یوں کرے کہ گویا اسے دیکھ رہا ہےاوراگرتو اسےنہیں دیکھ رہا تو(یہ احساس دل میں جاگزیں ہو کہ)وہ(خدا)تجھے دیکھ رہا ہے‘‘
احسان کی قسمیں:
اس کی دو قسمیں ہیں:
1:احسان إلی الخلق:
یعنی مخلوقِ اللہ سے احسان کا معاملہ کرنا اور یہ چار معاملات میں ہوتا ہے:
1:مال۔2:عزت۔3:علم۔4:بدن۔
2:احسان فی عبادۃ الخالق۔
یعنی عبادت الہی میں احسان کا رویہ اپنایا جائے۔
اس کے دو مراتب ہیں:
مرتبہ مشاھدۃ:
اس سے مراد یہ ہے کہ’’ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ‘‘یعنی’’تو اللہ کی عبادت یوں کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے‘‘دونوں میں سے اعلیٰ درجہ یہی ہے۔
مرتبہ اطلاع و مراقبہ:
اس کا مفہوم یہ ہےکہ’’ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ‘‘یعنی’’ اگرتو اسےنہیں دیکھ رہا تو(یہ احساس دل میں جاگزیں ہو کہ)وہ(خدا)تجھے دیکھ رہا ہے‘‘
دلیل احسان:
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَؒ(النحل:۱۲۸)
’’بے شبہ اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں ۔ اور احسان پر عمل کرتے ہیں‘‘
۲:
احسان کے بارے میں جبریل علیہ السلام کے سوال کو جواب دیتے ہوئے رسول اکرمﷺنے فرمایا تھا:
((أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ))’’صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان الایمان والا سلام و الاحسان،ح:۸‘‘

’’تو اللہ کی عبادت میں یوں مگن ہو کہ گویا اسے دیکھ رہا ہےاوراگر یہ کیفیت نہ ہوتو پھر یہ احساس پیدا کر کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے‘‘
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
اسلام،ایمان اور احسان میں باہمی تعلق

1:
جب یہ تینوں امور اکٹھے بیان ہوں گےتو ان میں سے ہر ایک کا اپنا خاص مفہوم ومراد ہو گا۔چنانچہ:
۱:اسلام سے ظاہر ی اعمال مقصود ہوں گے۔
۲:ایمان سے امور غیبیہ مراد ہوں گے۔
۳:احسان سے دین کے اعلی درجات ومراتب مقصود ہوں گے۔
2:
جب ان امور کا الگ الگ تذکرہ ہوگاتو اس صورت میں ان کا صرف خصوصی مفہوم ہی نہیں لیا جائے گا،بلکہ:
۱:جب اکیلے اسلام کا ذکر ہوگاتو اس میں ایمان بھی داخل ہوگا
۲:جب صرف ایمان کا تذکرہ ہوگاتو اس میں اسلام بھی شامل ہوگا۔
۳:اگر محض احسان کا ذکر کیا جائے تو اسلام اور ایمان بھی اسی میں شامل ہوں گے۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
عبادت

تعریف:
عبادت کے لغوی معنی تذلل اور خضوع یعنی پستی،عاجزی اور فروتنی اختیار کرنے کے ہیں۔
شرعی پہلو سے اس کی تعریف کچھ یوں ہے:
((اَلْعِبَادَۃُ اِسْمٌ جَامِعٌ لِّکُل مَایُحِبُّہُ اللّٰہُ وَیَرْضَاہٗ مِنَ الْاَقْوَالِ وَالْاَعْمَالِ الظَّاھِرَۃِ وَالْبَاطِنَۃِ))
’’عبادت ایک ایسا جامع اسم ہے جس سے وہ تمام ظاہری اور باطنی اقوال و اعمال مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہیں اور جن پر وہ رضی ہوتا ہے‘‘
عبادت کی وجۂ تسمیہ:
انسانوں پر عائد شرعی احکامات کی ادائیگی کو عبادت اس لیے کہا جاتا ہےکہ وہ ان کی پابندی کرتے ہیں اور عاجزی و انکساری سے انہیں بجا لاتے ہیں۔
ارکان عبادت:

عبادت کے تین ارکان ہیں:
1:محبت۔2:خوف۔3:امید
عبادت کی شرائط صحت و قبولیت:

رب ذوالجلال کے ہاں عبادت کے مقبول و منظور ہونے کی دو شرطیں ہیں:
اخلاص:
اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:
وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ(البینہ:۵)
’’انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں،اسی کے لیے دین کو خالص کریں‘‘
متابعت رسول:
اس کی دلیل رسول اللہﷺکا یہ فرمان ہے:
((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ))صحیح مسلم،کتاب الاقضیۃ،باب نقض الاحکام الباطلۃ ورد محدثات الامور،ح:۱۷۱۸
’’جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے‘‘
عبادت کی اقسام:

عبادت کی دو قسمیں ہیں
۱:عبادت کونیہ
۲:عبادت شرعیہ
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
عبادت کونیہ:
اس کے معنی ہیں’’اَلْخُضُوْعُ لِاَمْرِاللَّہِ اَلْکَوْنِیْ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کونیہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا،یہ تمام مخلوق کو شامل ہے کوئی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں،خواہ وہ مومن ہویا کافر،نیک ہویا فاسق وفاجر۔
اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:
اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ(مریم:۹۳)
’’آسمان و زمین میں جو بھی ہے سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں‘‘
عبادت شرعیہ:
اس سے مراد یہ ہےکہ باری تعالیٰ کے شرعی حکم کو تسلیم کیا جائے۔
یہ اس شخص کے ساتھ خاص ہےجو اللہ کا فرمانبردار ہے اور انبیاء کے لائے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہے۔
اس کی دلیل اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا(الفرقان:۶۳)
’’رحمان کے(سچے)بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں‘‘
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
توحید عبادت سے متعلق ایک اہم ضابطہ

نص قاعدہ:
ہر وہ فعل جس کا عبادت ہونا ثابت ہو،اسے اللہ کے لیے بجا لانا توحید اور اللہ کے سوا کسی اور کی طرف پھیرنا شرک ہے۔
دلیل:
اس ضابطے کے دلائل بہت زیادہ ہیں،ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔ(النساء:۳۶)
’’اور اللہ کی عبادت کرو اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘‘
اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ(بنی اسرائیل:۲۳)
’’اور تیرے پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔ(الانعام:۱۵۱)
’’آپ فرمائیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن(کی مخالفت)کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے،وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ‘‘
مثالیں:
دعا عبادت ہے،اسے غیر اللہ کی طرف پھیرنا شرک ہے۔
خوف عبادت ہے،غیر اللہ کا خوف رکھنا شرک ہے(یعنی ان امور میں جو صرف اللہ رب العزت کے اختیار میں ہیں)
ذبح عبادت ہے،اللہ کے علاوہ کسی اور ہستی کے لیے ذبح کرنا شرک ہے۔
نذر عبادت ہے،اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نذر ماننا شرک ہے۔
 

عکرمہ

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
658
ری ایکشن اسکور
1,871
پوائنٹ
157
محبت کی اقسام

محبت چار قسموں میں منقسم ہے:
عبادت:
اس سے مراد یہ ہے کہ
اللہ سے محبت کی جائے اور
اللہ کی پسندیدہ اور محبوب چیزوں سے بھی محبت کی جائے۔
اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ(البقرہ:۱۶۵)
’’اور ایمان والے اللہ سےبہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں‘‘
شرک:

اس کے معنی یہ ہیں کہ غیر اللہ سے ایسی عاجزی اور تعظیم کے ساتھ محبت کی جائے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شان کے لائق ہے۔
اس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ۠ كَحُبِّ اللّٰهِ(البقرہ:۱۶۵)
’’اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے‘‘
معصیت:

اس سے معاصی،بدعات اور محرمات کی محبت مراد ہے
اس کی دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌفِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(النور:۱۹)
’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں ، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘
طبعی محبت:

جیسے اولاد،خاندان اور زندگی وغیرہ کی محبت اور یہ جائز ہے،
اس کی دلیل اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے:
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِيْنَ وَ الْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(آل عمران:۱۴)
’’لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس ، عورتیں ، اولاد ، سونے چاندی کے ڈھیر ، چیدہ گھوڑے ، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آیندہ بنا دی گئی ہیں ، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے‘‘
 
Top