محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
قربانی کی کھال کو بیچنا جائز نہیں ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :
أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا»، قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا (صحیح البخاری، الحج: 1717، صحیح مسلم، الحج: 1317)
’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور یہ کہ ان کا گو شت، کھا لیں اور جھولیں صدقہ کروں نیز ان میں سے قصاب کو بطور اجرت کچھ بھی) نہ دو ں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم اس کو اپنے پاس سے (اجرت) دیں گے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :
أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا»، قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا (صحیح البخاری، الحج: 1717، صحیح مسلم، الحج: 1317)
’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور یہ کہ ان کا گو شت، کھا لیں اور جھولیں صدقہ کروں نیز ان میں سے قصاب کو بطور اجرت کچھ بھی) نہ دو ں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم اس کو اپنے پاس سے (اجرت) دیں گے۔‘‘
- انسان قربانی کے جانور کی کھال کو اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے، ورنہ کسی فقیر، مسکین کو صدقہ کر دے۔اگر فقیر اس کھال کو بیچ کر آمدنی حاصل کرلیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
- اگر انسان قربانی کے جانور کی کھال کسی خیراتی ادارے کو بطور گفٹ دے دے اور وہ اس کو بیچ کر حاصل ہونے والے آمدنی فلاح وبہبود کے کاموں میں لگا دے تو جائز ہے۔
والله أعلم بالصواب.