• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی کی کھال کا مصرف

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,058
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
قربانی کی کھال کو بیچنا جائز نہیں ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا»، قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا (صحیح البخاری، الحج: 1717، صحیح مسلم، الحج: 1317)

’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور یہ کہ ان کا گو شت، کھا لیں اور جھولیں صدقہ کروں نیز ان میں سے قصاب کو بطور اجرت کچھ بھی) نہ دو ں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم اس کو اپنے پاس سے (اجرت) دیں گے۔‘‘

  • انسان قربانی کے جانور کی کھال کو اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے، ورنہ کسی فقیر، مسکین کو صدقہ کر دے۔اگر فقیر اس کھال کو بیچ کر آمدنی حاصل کرلیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔​
  • اگر انسان قربانی کے جانور کی کھال کسی خیراتی ادارے کو بطور گفٹ دے دے اور وہ اس کو بیچ کر حاصل ہونے والے آمدنی فلاح وبہبود کے کاموں میں لگا دے تو جائز ہے۔​


والله أعلم بالصواب.
 
Top