• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی کے تین دن ہیں۔حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
820
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۵۴ھ) نے کہا:

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرِ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُشَيْرِيُّ فِى شَوَّالٍ سَنَةَ سَبْعِ وَعِشْرِينَ وَمِئَتَيْنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : " كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةً مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ ، فَكُلُّ فِجَاجٍ مِنِّى مَنْحَرٌ، وَفِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذبح.

صحابی رسول جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے اور عرنہ سے ہٹ کر وقوف کرو اور پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے اور وادی محسر سے ہٹ کر وقوف کرو اور منی کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے اور تشریق کے تمام دن ذبح کرنے کے دن ہیں
[صحیح ابن حبان: ١٦٦/٩ رقم: ٣٨٥٤] -

یہ حدیث مرفوع متصل صحیح ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے اس کی سند کے رجال کا مختصر تعارف ملاحظہ ہو :

  • عبد الرحمن بن ابی حسین النوفلي

امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۴۵ھ) نے انہیں ثقات میں ذکر کرتے ہوئے کہا:

عبد الرحمن بن أبي حسين والد عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين يروى عن جبير بن مطعم روى عنه سليمان بن موسى.

عبد الرحمن بن ابی حسین یہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین کے والد ہیں یہ جبیر بن مطعم سے روایت کرتے ہیں ان سے سلیمان بن موسی نے روایت کیا ہے [ الثقات لابن حبان ت العثمانية: ١٠٩/٥]-

امام ابن حبان رحمہ اللہ کے ساتھ ساتھ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس راوی کو ثقہ کہا ہے کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حجة الجمهور حديث جبير بن مطعم رفعه فجاج منى منحر وفي كل أيام التشريق ذبح أخرجه أحمد لكن في سنده انقطاع ووصله الدارقطني ورجاله ثقات.

جمهور (یعنی چار دن قربانی کے قائلین ) کی دلیل جبیر بن مطعم کی مرفوع حدیث ہے کہ منی کا ہر راستہ قربان گاہ ہے اور تشریق کے ہر دن ذبح کے دن ہیں اسے امام احمد نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے لیکن امام دار قطنی رحمہ اللہ نے اسے موصول بیان کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں [فتح الباری لابن حجر: ۸/۱۰]

عرض ہے کہ فجاج منی منحر ۔۔۔ والی مکمل روایت جو موصول ہے اسے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے عبدالرحمن بن ابی حسین نے ہی روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے سارے رجال کو ثقہ کہا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عبدالرحمن بن ابی حسین ابن حبان کی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ثقہ ہیں لہذا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ عبد الرحمن بن ابی حسین کی توثیق میں ابن حبان منفرد ہیں۔

اگر کوئی کہے کہ فجاج منی منحر ۔۔۔ والی موصول روایت کے رجال کو ثقہ کہنے کے بعد حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دار قطنی کا حوالہ دیا ہے اور سنن دار قطنی میں یہ روایت موجود نہیں ہے بلکہ سنن دار قطنی میں ایک جو موصول روایت ہے اس کی سند میں عبدالرحمن بن ابی حسین نہیں بلکہ اس کی جگہ نافع بن جبیر ہیں۔

تو جواباً عرض ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مراد یہ روایت قطعا نہیں ہوسکتی اس کی دو وجوہات ہیں:

اول: نافع بن جبیر والی موصول روایت کے الفاظ فجاج منی منحر ۔۔۔ والے الفاظ نہیں ہیں جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس روایت کے رجال کو ثقہ کہا ہے اس میں فجاج منی منحر ۔۔۔ کے الفاظ نقل کئے ہیں کما مضلی۔

دوم: نافع بن جبیر والی موصول روایت میں سوید بن عبد العزیز موجود ہے اور یہ بہت ہی مشہور و معروف ضعیف راوی ہے۔

بلکہ خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب تقریب میں اسے ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا:

سويد بن عبد العزيز بن نمير السلمى مولاهم الدمشقى وقيل أصله حمصى وقيل غير ذلك ضعيف من كبار التاسعة مات سنة ١٩٤ ت ق . [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم: ٢٦٩٢]

صرف یہی نہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سوید کو ضعیف کہا ہے بلکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی متعدد کتب میں سوید کی مرویات کو بھی ضعیف کہا ہے۔ مثلا دیکھئے : [تلخيص الحبير لابن حجر: ۱۱۷/۳]۔

حتی کہ اسی فتح الباری میں ہی ایک مقام پر کہا:

سويد ضعيف عندهم.
یعنی سوید محدثین کے نزدیک ضعیف ہے [فتح الباری لابن حجر: ٥٧٢/١]۔

معلوم ہوا کہ سوید کے ضعیف ہونے پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ پوری طرح آگاہ تھے لہذا یہ ناممکن ہے کہ آپ ایسی سند کے تمام رجال کو ثقہ بولیں جس میں سوید نامی مشہور ضعیف راوی ہو بالخصوص جبکہ اسی کتاب فتح الباری ہی میں اس راوی کو ضعیف قرار دے چکے ہوں۔

نیز دارقطنی نے عمرو بن دینار کے طریق سے بھی اسے موصول بیان کیا ہے لیکن یہ روایت بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں بھی یہی دونوں وجوہات ہیں یعنی اس میں بھی فجاج منی منحر ۔۔۔ والے الفاظ نہیں ہیں اسی طرح اس میں بھی ایک بہت ہی مشہور اور سخت ضعیف راوی احمد بن عیسیٰ الخشاب موجود ہے۔ خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا: أحمد بن عيسى التنيسي المصرى ليس بالقوى. [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم: ۸۷]

ان دو وجوہات کی بنا پر یہ ناممکن ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس سند کے رجال کو ثقہ کہا ہے وہ نافع بن جبیر یا عمر و بن دینار والی سند ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بیہقی کی تقلید میں اس کے رجال کو ثقہ کہا ہے ۔ [ الصحيحة: ٦٢٠/٥]۔ بے بنیاد ہے کیونکہ امام بیہقی نے صرف اور صرف موصول ہونے کی بات کہی ہے اور سند کے کسی بھی راوی کو سرے سے ثقہ کہا ہی نہیں ہے لہذا رجال کو ثقہ کہنے والی بات میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام بیہقی کی تقلید کیونکر کر سکتے ہیں۔

اب رہی بات یہ کہ پھر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس طریق کے رجال کو ثقہ کہہ کر دار قطنی کی طرف منسوب کیا ہے وہ تو دار قطنی کی کتاب میں موجود ہی نہیں۔

تو عرض ہے کہ یہاں پر دو باتیں ممکن ہیں۔

پہلی بات یہ کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دار قطنی کی سنن کے بجائے کوئی ایسی کتاب مراد لی ہو جس تک ہماری رسائی نہیں۔

یا دوسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سبقت قلمی میں دار قطنی لکھ دیا ہے اور اصل میں وہ ابن حبان لکھنا چاہتے ہوں کیونکہ صحیح ابن حبان میں فجاج منی منحر ۔۔۔ والی مکمل روایت موصولاً موجود ہے۔

اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی ایک دوسری کتاب میں کہا:

حدیث (حب حم): :كل عرفات موقف وارفعوا عن عرنة، وكل مزدلفة موقف وارفعوا عن محسر، وكل فجاج منى منحر، وكل أيام التشريق ذبح."
حب في الثالث والأربعين من الثالث : أنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار، ثنا أبو نصر التمار، ثنا سعيد بن عبد العزيز، ثنا سليمان بن موسى، عن عبد الرحمن بن أبي حسین، عنه، به . رواه الإمام أحمد عن أبي المغيرة وأبى اليمان، عن سعيد بن عبد العزيز، عن سليمان بن موسى عنه، به .
[إتحاف المهرة لابن حجر : ٢٤/٤] -

یہاں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (حم) یعنی مسند احمد کی منقطع روایت نقل کیا اور اس کے ساتھ میں ( حب ) یعنی ابن حبان کی موصول روایت ذکر کی ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ مسند احمد کی منقطع روایت کے ساتھ جس موصول روایت کو پیش نظر رکھتے تھے وہ ابن حبان والی موصول روایت ہی ہے۔

بہر حال معاملہ کچھ بھی ہو لیکن یہ بات متعین ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس موصول روایت کے رجال کو ثقہ کہا ہے اس میں عبد الرحمن بن ابی حسین موجود ہے۔

اس پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ عبد الرحمن بن ابی حسین کو ابن حبان کے ساتھ ساتھ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ثقہ کہا ہے اور اس کے برخلاف ان سے متعلق جرح کا ایک حرف بھی منقول نہیں ہے، پس ثابت ہوا کہ عبدالرحمن بن ابی حسین ثقہ راوی ہیں ۔

  • سلیمان بن موسى القرشي

آپ صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے رجال میں سے ہیں اس کے ساتھ ساتھ آپ بہت بڑے فقیہ اور امام ہیں ، امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں الامام الکبیر یعنی بہت بڑے امام اور مفتی دمشق کہا ہے ۔ [اسیر أعلام النبلاء للذهبي : ٤٣٣/٥]-

امام ابن سعد رحمہ اللہ (المتوفی : ۲۳۰ھ) نے کہا:
كان ثقة.
یہ ثقہ تھے [الطبقات لابن سعد: ۳۱۸/۷]۔

امام ابن عدی رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۶۵ھ) نے کہا:
وهو عندى ثبت صدوق.
یہ میرے نزدیک ثبت اور صدوق ہیں [ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدى: ٢٦٢/٤] -

امام دار قطنی رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۸۵ھ) نے کہا:
سلیمان بن موسی ، من الثقات الحفاظ.
سلیمان موسیٰ حفاظ اور ثقہ لوگوں میں سے ہیں [ علل الدار قطنی : ١٤/١٥]۔

اس کے علاوہ اور بھی متعدد محدثین نے انہیں ثقہ کہا ہے بعض سے معمولی جرح منقول ہے لیکن صریح اور واضح توثیق کے بالمقابل اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے مزید تفصیل کے لئے دیکھئے : [ غاية التحقيق في تضحية ايام التشريق : ص: ٤١ تا ٥٤ ، از علامہ و محدث محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ]-

  • سعيد بن عبد العزيز بن ابي يحيى التنوخي

آپ مسلم اور سنن اربعہ کے راوی اور بہت بڑے امام ہیں حتیٰ کی امام احمد رحمہ اللہ نے ان کے اور امام اوزاعی کے بارے میں کہا:

هما عِنْدِي سَوَاء .
یہ دونوں میرے نزدیک برابر ہیں [العلل و معرفة الرجال لأحمد: ٥٣/٣]-

بلکہ ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی، (المتوفی : ۲۷۷ھ) نے کہا:

كان أبو مسهر يقدم سعيد بن عبد العزيز على الأوزاعي.

ابو مسهر عبد الا علی غسانی ( متوفی : ۲۱۸ ھ ) انہیں امام اوزاعی پر مقدم کرتے تھے [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: ٤٢/٤]-

اور امام احمد رحمہ اللہ نے یہاں تک کہا:

لَيْسَ بِالشَّام رجل أصح حديثا من سعيد بن عبد العزيز التنوخي.

شام میں سعید بن عبدالعزیز تنوخی سے زیادہ صحیح حدیث والا کوئی نہیں ہے (العلل و معرفة الرجال لأحمد: ٥٣/٣]

امام حاکم رحمہ اللہ (المتوفی : ۴۰۵ ھ ) نے کہا:

سعيد بن عبد العزيز التنوخي لاهل الشام كمالک بن انس في التقدم والفضل والفقه والامانة.

سعید بن عبدالعزیز تنوخی اہل شام کے لئے فضل و منزلت اور فقہ و امانت میں امام مالک کی طرحہیں [ سؤالات السجزى للحاكم: ص: ۲۰۸]۔

اب جنہیں امام اوزاعی اور امام مالک کے مثل قرار دیا گیا ہے اور امام مسلم نے جن سے صحیح میں روایت لی ہوان کے بارے میں مزید تفصیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں حالانکہ اس زبردست تعدیل و توثیق کے علاوہ بھی اور بھی کئی محدثین نے ان کی صریح توثیق کی ہے مثلاً :

امام ابن معین رحمہ اللہ (المتوفی : ۲۳۳ھ) نے کہا:
ثقة.
یہ ثقہ ہیں [ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: ٤٣/٤ و سنده صحيح]۔

ان پر بعض معمولی جرح منقول ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔

  • عبد الملك بن عبد العزيز القشيري النسائي

آپ مسلم اور نسائی کے راوی ہیں ، آپ بالا تفاق ثقہ فاضل ہیں کسی بھی محدث نے آپ پر جرح نہیں کی ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ آپ کے بارے میں محدثین کے اقوال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں : ثقة عابد

آپ ثقہ عابد ہیں تقریب التهذيب لابن حجر: رقم: ٤١٩٤] -

  • احمد بن الحسن بن عبد الجبار البغدادي

آپ صحیح ابن حبان وغیرہ کے رجال میں سے ہیں اور بالا تفاق ثقہ ہیں کسی بھی محدث نے آپ پر کوئی جرح نہیں کی ہے اور کئی ایک محدث نے آپ کو صراحة ثقہ کہا ہے مثلاً :

امام حاکم رحمہ اللہ (المتوفی ۴۰۵ھ) نے کہا:
ثقة.
یہ ثقہ ہیں [سؤالات السجزي للحاكم: ص: ١٣٤]-

خطیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفی : ۴۶۳ھ) نے کہا:

كان ثقة.
آپ ثقہ تھے [ تاريخ بغداد، مطبعة السعادة: ٨٢/٤]۔

(انتهى النقل من کفایت اللہ سنابلی)
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
820
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
حدیث مذکور کی سند پر حافظ زبیر علی زئی کے اعتراضات اور اس کے جوابات :

حافظ زبیر علی زئی نے اس حدیث کی سند پر دو اعتراضات کیا ہے:

اول: عبد الرحمن بن ابی حسین کی توثیق ابن حبان کے علاوہ کسی اور سے ثابت نہیں لہذا یہ راوی مجہول الحال ہے۔

دوم: حافظ البزار نے کہا: وَابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ لَمْ يَلْقَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ

اور ( عبدالرحمن ) ابن ابی حسین کی جبیر بن مطعم سے ملاقات نہیں ہوئی۔ (البحر الزخار: ۳۶۴/۸ ۳۴۴۴)۔۔۔ دیکھئے فتاوی علمیتۃ ج ۲ ص ۱۷۸]۔

عرض ہے کہ جہاں تک پہلے اعتراض کی بات ہے یعنی یہ کہ عبد الرحمن بن ابی سعید کو ابن حبان کے علاوہ کسی نے ثقہ نہیں کہا ہے تو یہ بات غلط ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ابن حبان کے ساتھ ساتھ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ان کی توثیق کی ہے گذشتہ سطور میں پوری تفصیل پیش کی جا چکی ہے۔

رہا دوسرا اعتراض کہ امام بزار نے عبدالرحمن بن ابی حسین اور جبیر بن مطعم کے مابین انقطاع کا دعویٰ کیا ہے تو عرض ہے کہ امام بزار کے اس دعوی کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح ابن حبان میں اس سند کو صیح کہا ہے جو اس بات کو مستلزم ہے کہ ابن حبان کے نزدیک یہ سند متصل ہے جیسا کہ ابن حبان نے صحیح ابن حبان کے مقدمہ میں صراحت کر دی ہے۔

یہ عام فہم بات ہے کہ جس طرح ناقد محدث کسی سند کو صحیح کہے تو اس کی تصحیح میں سند کے رجال کی توثیق ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح اس کی تصحیح میں سند کے اتصال اور عدم انقطاع کا بھی حکم ہوتا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : ۸۵۲ھ) ایک مقام پر فرماتے ہیں:

وقال : (يعنى الدار قطى ) هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة. قلت : صحح له الترمذى حديثه عن عائشة فى القول ليلة القدر، من رواية جعفر بن سلیمان، بهذا الإسناد، ومقتضى ذلك أن يكون سمع منها، ولم أقف على قول أحد وصفه بالتدليس.

دار قطنی نے کہا یہ سب مرسل ہیں ابن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا، میں ( حافظ ابن حجر ) کہتا ہوں کہ: امام ترمذی نے دعائے لیلۃ القدر کی بابت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کی روایت کردہ حدیث کو صحیح کہا ہے یہ روایت اسی سند سے جعفر بن سلیمان سے مروی ہے۔ اور اس کا تقاضہ ہے کہ ابن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے اور میں کسی کا قول نہیں جانتا جس نے ابن بریدہ کو مدلس کہا ہو [إتحاف المهرة لابن حجر: - ٥/١٧]۔

عرض ہے کہ اگر امام ترمذی رحمہ اللہ کی "تصحیح " سماع کے ثبوت پر دال ہے تو امام ابن حبان رحمہ اللہ کی تصحیح بدرجہ اولی سماع پر دلالت کرے گی ۔

یادر ہے کہ امام حبان رحمہ اللہ جرح و تعدیل کے زبردست امام ہیں ، صرف اور صرف مجاہیل کی توثیق سے متعلق انہیں متساہل کہا گیا ہے لیکن اتصال و انقطاع کے فیصلہ میں وہ قطعاً متساہل نہیں بلکہ ایسے معاملات میں وہ متشدد ہیں۔

اس کے برخلاف امام بزار اس پائے کے امام نہیں ہیں بلکہ کئی ایک محدث نے ان پر جرح کر رکھی ہے بلکہ خود حافظ زبیر علی زئی نے بھی بزار کو ایک جگہ متکلم فیہ بتلایا ہے۔

عرض ہے کہ جب یہ صورت حال ہے کہ امام بزار متکلم فیہ کا موقف ابن حبان زبر دست ثقہ امام کے موقف سے ٹکرا رہا ہے، تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں ابن حبان ہی کے موقف کو ترجیح دی جائے گی ۔

علاوہ بریں جبیر بن مطعم کی اس حدیث کے کئی طرق ہیں اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ اس کے سارے طرق ضعیف ہیں تو بھی یہ تمام طرق ایک دوسرے کے ساتھ تقویت پا کر حسن لغیرہ ہر حال میں بن جائیں گے بلکہ شواہد کے پیش نظر صحیح قرار پائیں گے۔

ذیل میں ہم حدیث جبیر بن مطعم کے دیگر طرق پیش کرتے ہیں:

  • طریق نافع بن جبير :

امام دار قطنی رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۸۵ھ) نے کہا:

حدثنا يحيى بن محمد بن صاعد نا أحمد بن منصور بن سيار نا محمد بن بكير الحضرمي نا سويد بن عبد العزيز عن سعيد بن عبد العزيز التنوخي عن سليمان بن موسى عن نافع بن جبير بن مطعم عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: أيام التشريق كلها ذبح . [ سنن الدارقطني : - ٢٨٤/٤] -

  • طریق عمر و بن دینار :

امام دار قطنی رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۸۵ھ) نے کہا:

حدثنا أبو بكر النيسابورى نا أحمد بن عيسى الخشاب نا عمرو بن أبي سلمة نا أبو معيد عن سليمان بن موسى أن عمرو بن دينار حدثه عن جبير بن مطعم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل أيام التشريق ذبح . [ سنن الدارقطني : - ٢٨٤/٤]-

  • طریق سلیمان بن موسی :

امام دار قطنی رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۸۵) نے کہا:

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ: كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذبح . [مسند أحمد ط الميمنية: ٨٢/٤] -

عبدالرحمن بن ابی حسین کے طریق سمیت حدیث جبیر بن مطعم کے یہ کل چار طرق ہیں، ہم نے حدیث جبیر بن مطعم کے دیگر تین طرق کو اختصار کے ساتھ محض پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے اس کی سندوں پر تفصیلی بحث کے لئے شائقین محدث کبیر علامہ محمد رئیس ندوی کی دو کتابیں "غایۃ التحقیق فی تضحیة ایام التشريق" اور "قصہ ایام قربانی کا" دیکھیں۔

ان متعدد طرق کی بنیاد پر بہت سارے اہل علم نے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے تعدد طرق کی بنا پر اس حدیث کو صیح قرار دیا ہے ۔ دیکھیں : [زاد الـــــعـــاد: ۲۹۱/۲]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس کے دو طریق کو نقل کیا ہے اور دوسرے طریق کے رجال کو ثقہ کہا ہے کما مضی یاد رہے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اگر فتح الباری میں کوئی روایت نقل کر کے اس کی تضعیف نہ کریں تو وہ روایت ان کی نظر میں صحیح یا کم از کم حسن ہوتی ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔ دیکھئے: [التعليقات الحسان علی صحیح ابن حبان للالباني : - ٦١/٦ ، والصحيحة: ٦٢١/٥ تحت الرقم : ٢٤٧٦] -

اسی طرح شعیب ارنؤوط اور ان کے رفقاء نے بھی اس حدیث کو تعدد طرق کی بنا پر صحیح کہا ہے ۔ مثلاً دیکھئے: [مسند أحمد ط الرسالة: - ٣١٦/٢٧ رقم: ١٦٧٥١]-

شیخ احمد الغماری نے بھی اس حدیث کو تعدد طرق کے پیش نظر صحیح کہا ہے۔ دیکھئے : [الهداية في تخريج أحاديث البداية: - ٤٠٣/٥ - ٤٠٤] -

اسی طرح علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے بھی تعدد طرق سے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے: [مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : - ١٠٨/٥] -

اسی طرح معاصرین میں بہت سارے اہل علم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

لطیفہ: ابن الترکمانی حنفی اور بعض نے انتہائی لا پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اس کی سند میں اضطراب ہے یعنی سلیمان بن موسیٰ نے الگ الگ دفعہ اپنے الگ الگ استاذوں سے یہ حدیث نقل کی ہے۔

عرض ہے سند میں اس طرح کے اختلاف کو اضطراب نہیں تعدد طرق کہتے ہیں دریں صورت یہ چیز حدیث کے لئے تقویت کا باعث ہے۔

یہ بہت بڑی بھول ہے کہ جو چیز صحت حدیث پر دلالت کرتی ہو اسی کو تضعیف کی دلیل سمجھ لیا جائے۔ یادر ہے کہ یہ نظریہ درست نہیں کہ ہر جگہ ضعیف حدیث دوسری ضعیف حدیث سے مل کر حسن لغیرہ ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ موقف کہ ضعیف حدیث ضعیف سے مل کر کسی بھی صورت میں حسن لغیرہ یا مقبول و حجت نہیں ہوتی ہے، باطل و مردود ہے بلکہ عصر حاضر کی بدعت ہے چودہ سوسالہ دور میں کسی ایک بھی عالم نے ایسا موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ بلکہ معاصرین میں میں بھی حافظ زبیر علی زئی کے علاوہ علم حدیث سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی عالم کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم کہ اس نے علی الاطلاق اس طرح کی بات کہی ہو۔

دكتور خالد الدرلیس اور عمر وعبد المنعم سلیم وغیرہ نے اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں مگر انہوں نے بھی یہ موقف نہیں اپنایا ہے کہ کسی بھی صورت میں ضعیف دوسری ضعیف سے مل کر تقویت نہیں پاسکتی یا مقبول و حجت نہیں ہو سکتی۔ لہذا حسن لغیرہ کو علی الاطلاق رد کر دینے والا نظریہ حافظ زبیر علی زئی کا تفرد ہے۔

(انتهى النقل من کفایت اللہ سنابلی)
 
Top