امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۵۴ھ) نے کہا:
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرِ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُشَيْرِيُّ فِى شَوَّالٍ سَنَةَ سَبْعِ وَعِشْرِينَ وَمِئَتَيْنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : " كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةً مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ ، فَكُلُّ فِجَاجٍ مِنِّى مَنْحَرٌ، وَفِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذبح.
صحابی رسول جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے اور عرنہ سے ہٹ کر وقوف کرو اور پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے اور وادی محسر سے ہٹ کر وقوف کرو اور منی کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے اور تشریق کے تمام دن ذبح کرنے کے دن ہیں [صحیح ابن حبان: ١٦٦/٩ رقم: ٣٨٥٤] -
یہ حدیث مرفوع متصل صحیح ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے اس کی سند کے رجال کا مختصر تعارف ملاحظہ ہو :
- عبد الرحمن بن ابی حسین النوفلي
امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۴۵ھ) نے انہیں ثقات میں ذکر کرتے ہوئے کہا:
عبد الرحمن بن أبي حسين والد عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين يروى عن جبير بن مطعم روى عنه سليمان بن موسى.
عبد الرحمن بن ابی حسین یہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین کے والد ہیں یہ جبیر بن مطعم سے روایت کرتے ہیں ان سے سلیمان بن موسی نے روایت کیا ہے [ الثقات لابن حبان ت العثمانية: ١٠٩/٥]-
امام ابن حبان رحمہ اللہ کے ساتھ ساتھ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس راوی کو ثقہ کہا ہے کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حجة الجمهور حديث جبير بن مطعم رفعه فجاج منى منحر وفي كل أيام التشريق ذبح أخرجه أحمد لكن في سنده انقطاع ووصله الدارقطني ورجاله ثقات.
جمهور (یعنی چار دن قربانی کے قائلین ) کی دلیل جبیر بن مطعم کی مرفوع حدیث ہے کہ منی کا ہر راستہ قربان گاہ ہے اور تشریق کے ہر دن ذبح کے دن ہیں اسے امام احمد نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے لیکن امام دار قطنی رحمہ اللہ نے اسے موصول بیان کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں [فتح الباری لابن حجر: ۸/۱۰]
عرض ہے کہ فجاج منی منحر ۔۔۔ والی مکمل روایت جو موصول ہے اسے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے عبدالرحمن بن ابی حسین نے ہی روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے سارے رجال کو ثقہ کہا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عبدالرحمن بن ابی حسین ابن حبان کی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ثقہ ہیں لہذا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ عبد الرحمن بن ابی حسین کی توثیق میں ابن حبان منفرد ہیں۔
اگر کوئی کہے کہ فجاج منی منحر ۔۔۔ والی موصول روایت کے رجال کو ثقہ کہنے کے بعد حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دار قطنی کا حوالہ دیا ہے اور سنن دار قطنی میں یہ روایت موجود نہیں ہے بلکہ سنن دار قطنی میں ایک جو موصول روایت ہے اس کی سند میں عبدالرحمن بن ابی حسین نہیں بلکہ اس کی جگہ نافع بن جبیر ہیں۔
تو جواباً عرض ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مراد یہ روایت قطعا نہیں ہوسکتی اس کی دو وجوہات ہیں:
اول: نافع بن جبیر والی موصول روایت کے الفاظ فجاج منی منحر ۔۔۔ والے الفاظ نہیں ہیں جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس روایت کے رجال کو ثقہ کہا ہے اس میں فجاج منی منحر ۔۔۔ کے الفاظ نقل کئے ہیں کما مضلی۔
دوم: نافع بن جبیر والی موصول روایت میں سوید بن عبد العزیز موجود ہے اور یہ بہت ہی مشہور و معروف ضعیف راوی ہے۔
بلکہ خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب تقریب میں اسے ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا:
سويد بن عبد العزيز بن نمير السلمى مولاهم الدمشقى وقيل أصله حمصى وقيل غير ذلك ضعيف من كبار التاسعة مات سنة ١٩٤ ت ق . [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم: ٢٦٩٢]
صرف یہی نہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سوید کو ضعیف کہا ہے بلکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی متعدد کتب میں سوید کی مرویات کو بھی ضعیف کہا ہے۔ مثلا دیکھئے : [تلخيص الحبير لابن حجر: ۱۱۷/۳]۔
حتی کہ اسی فتح الباری میں ہی ایک مقام پر کہا:
سويد ضعيف عندهم.
یعنی سوید محدثین کے نزدیک ضعیف ہے [فتح الباری لابن حجر: ٥٧٢/١]۔
معلوم ہوا کہ سوید کے ضعیف ہونے پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ پوری طرح آگاہ تھے لہذا یہ ناممکن ہے کہ آپ ایسی سند کے تمام رجال کو ثقہ بولیں جس میں سوید نامی مشہور ضعیف راوی ہو بالخصوص جبکہ اسی کتاب فتح الباری ہی میں اس راوی کو ضعیف قرار دے چکے ہوں۔
نیز دارقطنی نے عمرو بن دینار کے طریق سے بھی اسے موصول بیان کیا ہے لیکن یہ روایت بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں بھی یہی دونوں وجوہات ہیں یعنی اس میں بھی فجاج منی منحر ۔۔۔ والے الفاظ نہیں ہیں اسی طرح اس میں بھی ایک بہت ہی مشہور اور سخت ضعیف راوی احمد بن عیسیٰ الخشاب موجود ہے۔ خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا:
أحمد بن عيسى التنيسي المصرى ليس بالقوى. [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم: ۸۷]
ان دو وجوہات کی بنا پر یہ ناممکن ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس سند کے رجال کو ثقہ کہا ہے وہ نافع بن جبیر یا عمر و بن دینار والی سند ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بیہقی کی تقلید میں اس کے رجال کو ثقہ کہا ہے ۔ [ الصحيحة: ٦٢٠/٥]۔ بے بنیاد ہے کیونکہ امام بیہقی نے صرف اور صرف موصول ہونے کی بات کہی ہے اور سند کے کسی بھی راوی کو سرے سے ثقہ کہا ہی نہیں ہے لہذا رجال کو ثقہ کہنے والی بات میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام بیہقی کی تقلید کیونکر کر سکتے ہیں۔
اب رہی بات یہ کہ پھر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس طریق کے رجال کو ثقہ کہہ کر دار قطنی کی طرف منسوب کیا ہے وہ تو دار قطنی کی کتاب میں موجود ہی نہیں۔
تو عرض ہے کہ یہاں پر دو باتیں ممکن ہیں۔
پہلی بات یہ کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دار قطنی کی سنن کے بجائے کوئی ایسی کتاب مراد لی ہو جس تک ہماری رسائی نہیں۔
یا دوسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سبقت قلمی میں دار قطنی لکھ دیا ہے اور اصل میں وہ ابن حبان لکھنا چاہتے ہوں کیونکہ صحیح ابن حبان میں فجاج منی منحر ۔۔۔ والی مکمل روایت موصولاً موجود ہے۔
اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی ایک دوسری کتاب میں کہا:
حدیث (حب حم): :كل عرفات موقف وارفعوا عن عرنة، وكل مزدلفة موقف وارفعوا عن محسر، وكل فجاج منى منحر، وكل أيام التشريق ذبح."
حب في الثالث والأربعين من الثالث : أنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار، ثنا أبو نصر التمار، ثنا سعيد بن عبد العزيز، ثنا سليمان بن موسى، عن عبد الرحمن بن أبي حسین، عنه، به . رواه الإمام أحمد عن أبي المغيرة وأبى اليمان، عن سعيد بن عبد العزيز، عن سليمان بن موسى عنه، به . [إتحاف المهرة لابن حجر : ٢٤/٤] -
یہاں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے (حم) یعنی مسند احمد کی منقطع روایت نقل کیا اور اس کے ساتھ میں ( حب ) یعنی ابن حبان کی موصول روایت ذکر کی ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ مسند احمد کی منقطع روایت کے ساتھ جس موصول روایت کو پیش نظر رکھتے تھے وہ ابن حبان والی موصول روایت ہی ہے۔
بہر حال معاملہ کچھ بھی ہو لیکن یہ بات متعین ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس موصول روایت کے رجال کو ثقہ کہا ہے اس میں عبد الرحمن بن ابی حسین موجود ہے۔
اس پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ عبد الرحمن بن ابی حسین کو ابن حبان کے ساتھ ساتھ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ثقہ کہا ہے اور اس کے برخلاف ان سے متعلق جرح کا ایک حرف بھی منقول نہیں ہے، پس ثابت ہوا کہ عبدالرحمن بن ابی حسین ثقہ راوی ہیں ۔
آپ صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے رجال میں سے ہیں اس کے ساتھ ساتھ آپ بہت بڑے فقیہ اور امام ہیں ، امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں الامام الکبیر یعنی بہت بڑے امام اور مفتی دمشق کہا ہے ۔ [اسیر أعلام النبلاء للذهبي : ٤٣٣/٥]-
امام ابن سعد رحمہ اللہ (المتوفی : ۲۳۰ھ) نے کہا:
كان ثقة.
یہ ثقہ تھے [الطبقات لابن سعد: ۳۱۸/۷]۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ (المتوفی : ۳۶۵ھ) نے کہا:
وهو عندى ثبت صدوق.
یہ میرے نزدیک ثبت اور صدوق ہیں [ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدى: ٢٦٢/٤] -
امام دار قطنی رحمہ اللہ (المتوفی: ۳۸۵ھ) نے کہا:
سلیمان بن موسی ، من الثقات الحفاظ.
سلیمان موسیٰ حفاظ اور ثقہ لوگوں میں سے ہیں [ علل الدار قطنی : ١٤/١٥]۔
اس کے علاوہ اور بھی متعدد محدثین نے انہیں ثقہ کہا ہے بعض سے معمولی جرح منقول ہے لیکن صریح اور واضح توثیق کے بالمقابل اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے مزید تفصیل کے لئے دیکھئے : [ غاية التحقيق في تضحية ايام التشريق : ص: ٤١ تا ٥٤ ، از علامہ و محدث محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ]-
- سعيد بن عبد العزيز بن ابي يحيى التنوخي
آپ مسلم اور سنن اربعہ کے راوی اور بہت بڑے امام ہیں حتیٰ کی امام احمد رحمہ اللہ نے ان کے اور امام اوزاعی کے بارے میں کہا:
هما عِنْدِي سَوَاء .
یہ دونوں میرے نزدیک برابر ہیں [العلل و معرفة الرجال لأحمد: ٥٣/٣]-
بلکہ ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی، (المتوفی : ۲۷۷ھ) نے کہا:
كان أبو مسهر يقدم سعيد بن عبد العزيز على الأوزاعي.
ابو مسهر عبد الا علی غسانی ( متوفی : ۲۱۸ ھ ) انہیں امام اوزاعی پر مقدم کرتے تھے [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: ٤٢/٤]-
اور امام احمد رحمہ اللہ نے یہاں تک کہا:
لَيْسَ بِالشَّام رجل أصح حديثا من سعيد بن عبد العزيز التنوخي.
شام میں سعید بن عبدالعزیز تنوخی سے زیادہ صحیح حدیث والا کوئی نہیں ہے (العلل و معرفة الرجال لأحمد: ٥٣/٣]
امام حاکم رحمہ اللہ (المتوفی : ۴۰۵ ھ ) نے کہا:
سعيد بن عبد العزيز التنوخي لاهل الشام كمالک بن انس في التقدم والفضل والفقه والامانة.
سعید بن عبدالعزیز تنوخی اہل شام کے لئے فضل و منزلت اور فقہ و امانت میں امام مالک کی طرحہیں [ سؤالات السجزى للحاكم: ص: ۲۰۸]۔
اب جنہیں امام اوزاعی اور امام مالک کے مثل قرار دیا گیا ہے اور امام مسلم نے جن سے صحیح میں روایت لی ہوان کے بارے میں مزید تفصیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں حالانکہ اس زبردست تعدیل و توثیق کے علاوہ بھی اور بھی کئی محدثین نے ان کی صریح توثیق کی ہے مثلاً :
امام ابن معین رحمہ اللہ (المتوفی : ۲۳۳ھ) نے کہا:
ثقة.
یہ ثقہ ہیں [ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: ٤٣/٤ و سنده صحيح]۔
ان پر بعض معمولی جرح منقول ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔
- عبد الملك بن عبد العزيز القشيري النسائي
آپ مسلم اور نسائی کے راوی ہیں ، آپ بالا تفاق ثقہ فاضل ہیں کسی بھی محدث نے آپ پر جرح نہیں کی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ آپ کے بارے میں محدثین کے اقوال کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں :
ثقة عابد
آپ ثقہ عابد ہیں تقریب التهذيب لابن حجر: رقم: ٤١٩٤] -
- احمد بن الحسن بن عبد الجبار البغدادي
آپ صحیح ابن حبان وغیرہ کے رجال میں سے ہیں اور بالا تفاق ثقہ ہیں کسی بھی محدث نے آپ پر کوئی جرح نہیں کی ہے اور کئی ایک محدث نے آپ کو صراحة ثقہ کہا ہے مثلاً :
امام حاکم رحمہ اللہ (المتوفی ۴۰۵ھ) نے کہا:
ثقة.
یہ ثقہ ہیں [سؤالات السجزي للحاكم: ص: ١٣٤]-
خطیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفی : ۴۶۳ھ) نے کہا:
كان ثقة.
آپ ثقہ تھے [ تاريخ بغداد، مطبعة السعادة: ٨٢/٤]۔
(
انتهى النقل من کفایت اللہ سنابلی)