• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا

شمولیت
اگست 10، 2013
پیغامات
365
ری ایکشن اسکور
316
پوائنٹ
90
قرآن پاک میں ارشاد ہے :

سورہ بقرہ:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّـهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّـهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ ۗ وَلَوْ يَرَ‌ى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَ‌وْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّـهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ﴿١٦٥﴾ إِذْ تَبَرَّ‌أَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَ‌أَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ ﴿١٦٦﴾ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّ‌ةً فَنَتَبَرَّ‌أَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّ‌ءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِ‌يهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَ‌اتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِ‌جِينَ مِنَ النَّارِ‌ ﴿١٦٧﴾
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں) عذاب (الہیٰ) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے۔​
آیت نمبر 165۔167​
سورہ الانعام
آیت 70
وَذَرِ‌ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّ‌تْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ‌ بِهِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ لَهُمْ شَرَ‌ابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُ‌ونَ ﴿٧٠﴾

اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے۔

آیت 94

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَ‌ادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ وَتَرَ‌كْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَ‌اءَ ظُهُورِ‌كُمْ ۖ وَمَا نَرَ‌ىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَ‌كَاءُ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ﴿٩٤﴾

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

آیت ا64

قُلْ أَغَيْرَ‌ اللَّـهِ أَبْغِي رَ‌بًّا وَهُوَ رَ‌بُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَ‌بِّكُم مَّرْ‌جِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿١٦٤﴾

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کا جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔۔

سورہ یونس
وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْ‌هَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِنْ عَاصِمٍ ۖ كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ‌ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧﴾ وَيَوْمَ نَحْشُرُ‌هُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَ‌كَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَ‌كَاؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ ﴿٢٨﴾ فَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ ﴿٢٩﴾ هُنَالِكَ تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَّا أَسْلَفَتْ ۚ وَرُ‌دُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُ‌ونَ ﴿٣٠﴾
اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے۔ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے۔وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔۔۔​
آیت نمبر 27-30​
سورہ ابراہیم
وَبَرَ‌زُوا لِلَّـهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُ‌وا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّـهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْ‌نَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍ ﴿٢١﴾ وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ‌ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِ‌خِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِ‌خِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْ‌تُ بِمَا أَشْرَ‌كْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٢﴾
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے۔جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔​
آیت نمبر 21-22​
سورہ النحل
وَإِذَا رَ‌أَى الَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا شُرَ‌كَاءَهُمْ قَالُوا رَ‌بَّنَا هَـٰؤُلَاءِ شُرَ‌كَاؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُو مِن دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿٨٦﴾ وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّـهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُ‌ونَ ﴿٨٧﴾
ور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا۔​
آیت نمبر 86-87​
جزاک اللہ۔۔۔​
 
شمولیت
اگست 10، 2013
پیغامات
365
ری ایکشن اسکور
316
پوائنٹ
90
(CONTINUE)

سورہ الکھف
وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَ‌كَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا ﴿٥٢﴾
اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کے بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے۔​

آیت 52​
سورہ مریم
وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا ﴿٨١﴾ كَلَّا ۚ سَيَكْفُرُ‌ونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا ﴿٨٢﴾
اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں۔ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے۔​
آیت 81-82​
سورہ المؤمنون
فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ‌ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ ﴿١٠١﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں ہوں گی اور نہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔​
آیت 101​
سورہ الفرقان
وَيَوْمَ يَحْشُرُ‌هُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَـٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ ﴿١٧﴾ قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنبَغِي لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ وَلَـٰكِن مَّتَّعْتَهُمْ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا الذِّكْرَ‌ وَكَانُوا قَوْمًا بُورً‌ا ﴿١٨﴾ فَقَدْ كَذَّبُوكُم بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِيعُونَ صَرْ‌فًا وَلَا نَصْرً‌ا ۚ وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرً‌ا ﴿١٩﴾
اور جس دن (خدا) ان کو اور اُن کو جنہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے۔وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایان نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے۔ لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کو نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے۔ اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات میں جھٹلا دیا۔ پس (اب) تم (عذاب کو) نہ پھیر سکتے ہو۔ نہ (کسی سے) مدد لے سکتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔​
آیت 17-19​
سورہ الشعرآء
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿٨٨﴾
جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے۔۔۔​
جزاک اللہ ۔۔۔​
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
جب حضرت علی نے خوارج کا یہ نعرہ سنا کہ إن الحكم إلا لله " خدا کے علاوہ کسی کے لئے حکم نہیں ہے " تو فرمایا کہ " یہ کلمہ حق ہے " لیکن اس سے باطل معنی مراد لیے گئے ہیں ۔اور اسی ہی صورت حال اس دھاگے میں بھی نظر آرہی ہے کیونکہ صحیح بخاری میں بیان ہوا کہ کل قیامت کے دن جب کوئی کسی کے کام نہ آئے اس وقت صرف میرے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ ہی تمام مخلوق کے کام آئیں گے اور مدد فرمائیں گے
ما يزالُ الرجلُ يسأَلُ الناسَ ، حتى يأتي يومَ القيامةِ ليس في وجهِهِ مُزْعَةُ لحمٍ . وقال : إنَّ الشمسَ تدنو يومَ القيامةِ ، حتى يبلُغَ العَرَقُ نصفَ الأُذُنِ ، فبينا هم كذلكَ استغاثواْ بآدمَ ، ثم بموسى ، ثم بمحمدٍ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ .
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 1474


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔''
صحیح بخاری کی ہی ایک دوسری روایت میں بیان ہوا کہ جب قیامت کے دن لوگ رسول اللہﷺ سے مدد مانگنے آئیں گے تو اس کے جواب میں رسول اللہﷺ ارشاد فرمائیں گے کہ أنا لها یعنی ہاں میں تمہاری مدد کرنے کے لئے ہی ہوں
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7510
صحیح بخاری کی ان روایات سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا لیکن رسول اللہﷺ سب مخلوق کے کام آئیں گے
والسلام
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قیامت والے دن مختلف مواقع پر یا مختلف لوگوں کی شفاعت کریں گے ۔
اور شفاعت قرآن وسنت سے ثابت ہے ۔ لیکن شفاعت اسی وقت ہوگی جب اللہ تعالی اس کی اجازت دیں گے ۔
من ذالذی یشفع عندہ إلا بإذنہ
گویا شفاعت اللہ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے ایک اعزاز اور تکریم کا ذریعہ ہے اس کو غلط رنگ میں پیش نہیں کرنا چاہیے ۔
ورنہ كلمة حق أريد بها الباطل کا مصداق ہوگا ۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
جب حضرت علی نے خوارج کا یہ نعرہ سنا کہ إن الحكم إلا لله " خدا کے علاوہ کسی کے لئے حکم نہیں ہے " تو فرمایا کہ " یہ کلمہ حق ہے " لیکن اس سے باطل معنی مراد لیے گئے ہیں ۔اور اسی ہی صورت حال اس دھاگے میں بھی نظر آرہی ہے کیونکہ صحیح بخاری میں بیان ہوا کہ کل قیامت کے دن جب کوئی کسی کے کام نہ آئے اس وقت صرف میرے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ ہی تمام مخلوق کے کام آئیں گے اور مدد فرمائیں گے
ما يزالُ الرجلُ يسأَلُ الناسَ ، حتى يأتي يومَ القيامةِ ليس في وجهِهِ مُزْعَةُ لحمٍ . وقال : إنَّ الشمسَ تدنو يومَ القيامةِ ، حتى يبلُغَ العَرَقُ نصفَ الأُذُنِ ، فبينا هم كذلكَ استغاثواْ بآدمَ ، ثم بموسى ، ثم بمحمدٍ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ .
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 1474


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔''
صحیح بخاری کی ہی ایک دوسری روایت میں بیان ہوا کہ جب قیامت کے دن لوگ رسول اللہﷺ سے مدد مانگنے آئیں گے تو اس کے جواب میں رسول اللہﷺ ارشاد فرمائیں گے کہ أنا لها یعنی ہاں میں تمہاری مدد کرنے کے لئے ہی ہوں
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7510
صحیح بخاری کی ان روایات سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا لیکن رسول اللہﷺ سب مخلوق کے کام آئیں گے
والسلام
پہلے بھی اس کا جواب دے چکا ہوں، لیکن ہر تھریڈ میں اپنے غلط نظریات کا پرچار آپ کا پسندیدہ مشغلہ ہے شاید، پوری تفصیل ایک بار دوبارہ بیان کر دیتا ہوں
((یہاں تو کسی ایسی مافوق الاسباب طریقے سے فریاد کا ذکر نہیں ہے، ہاں البتہ شفاعت کا ذکر ہے، کہ قیامت کے دن لوگ آدم علیہ السلام ، پھر نوح علیہ السلام ، پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام پھر عیسی علیہ السلام اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر تمام انبیاء یہ کہیں گے۔(لست هناكم) جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی بارگاہ میں سفارش کریں گے تو پہلے اللہ سے اجازت طلب کریں گے۔ (فيأتوني فأنطلق حتى أستأذن على ربي فيؤذن ‏ {‏ لي‏}‏) اور یہی بات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے (مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ)۔۔۔ سورۃ البقرۃ) اور جب اجازت لے لیں گےاس وقت کیا کیفیت یہ ہو گی (فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے سفارش کرنے سے پہلے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے اور فرمایا (فيدعني ما شاء الله) یہاں سے علم الغیب کی بھی نفی ہوتی ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب پتہ ہے ان کو جان لینا چاہئے کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے گا قیامت کے دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہی حمد بیان کریں گے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دنیا میں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ وہ حمد کیا ہو گی ، کیونکہ اگر معلوم ہوتی تو یہ نا کہتے (فيدعني ما شاء الله) اور اللہ کا حکم بھی قرآن میں یہ ہے ( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ۔۔۔سورۃ المائدہ) تب اللہ کا حکم ہو گا (ثم يقال ارفع رأسك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وسل تعطه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وقل يسمع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ واشفع تشفع) تو اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سب اللہ کے محتاج ہوں گے جس طرح دنیا میں سب اللہ کے محتاج ہیں۔ کسی نبی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں دنیا یا آخرت میں مافوق الاسباب طریقے سے دینے کی قدرت رکھتا ہوں۔ ایسا دعویٰ میں نے کبھی نہ پڑھا ، نہ سنا، کیونکہ یہ انبیاء کا منہج نہیں (مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّـهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ ﴿٧٩﴾۔۔۔سورۃ آل عمران) بلکہ انبیاء و رسولوں کی دعوت تو یہ ہے کہ (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ۔۔۔سورۃ النحل)) اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقیدہ توحید سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
پہلے بھی اس کا جواب دے چکا ہوں، لیکن ہر تھریڈ میں اپنے غلط نظریات کا پرچار آپ کا پسندیدہ مشغلہ ہے شاید، پوری تفصیل ایک بار دوبارہ بیان کر دیتا ہوں
رسول اللہﷺ سے قیامت کے دن لوگ جو مدد مانگے گے اس کے جواب میں رسول اللہﷺ ارشاد فرمائیں گے کہ أنا لها "ہاں میں اسی کام کے لئے ہوں "رسول اللہﷺ کو اس طرح فرمانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ نے رسول اللہﷺ کو شفاعت کا اذن عطاء فرمادیا ہے لیکن بعض لوگ اب بھی اس شک میں مبتلاء ہیں کہ قیامت کے دن رسول اللہﷺ شفاعت کا اذن ملے گا یا نہیں اللہ ایسی سوچ سے بچائے کیونکہ یہ خوارج کی طرح کی سوچ ہے
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حقِ شفاعت اور (بغير حساب) میری نصف امت کے جنت میں داخل کئے جانے کا اختیار دیا گیا؟ پس میں نے شفاعت کو اختیار کرليا کیونکہ یہ زیادہ عام اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے،
صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 3766
الراوي: عوف بن مالك الأشجعي المحدث: الألباني - المصدر: تخريج كتاب السنة - الصفحة أو الرقم: 819
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح على شرط مسلم

اب بھی میں نہ مانو کی تکرار مناسب نہیں
والسلام
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
ہے لیکن بعض لوگ اب بھی اس شک میں مبتلاء ہیں کہ قیامت کے دن رسول اللہﷺ شفاعت کا اذن ملے گا یا نہیں اللہ ایسی سوچ سے بچائے کیونکہ یہ خوارج کی طرح کی سوچ ہے
کون لوگ ۔۔؟ کوئی حوالہ ؟
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
رسول اللہﷺ سے قیامت کے دن لوگ جو مدد مانگے گے اس کے جواب میں رسول اللہﷺ ارشاد فرمائیں گے کہ أنا لها "ہاں میں اسی کام کے لئے ہوں "رسول اللہﷺ کو اس طرح فرمانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ نے رسول اللہﷺ کو شفاعت کا اذن عطاء فرمادیا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اہل ایمان کی اللہ کی اجازت اور مرضی سے سفارش کریں گے، یہ بات احادیث سے ثابت ہے، ہمارا اس بات پر یقین ہے، ایک حدیث جو شفاعت کے متعلق ہے، ملاحظہ فرمائیں:
حدثنا مسلم بن إبراهيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا قتادة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أنس ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد عن قتادة عن أنس ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ يجتمع المؤمنون يوم القيامة فيقولون لو استشفعنا إلى ربنا فيأتون آدم فيقولون أنت أبو الناس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعلمك أسماء كل شىء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا‏.‏ فيقول لست هناكم ـ ويذكر ذنبه فيستحي ـ ائتوا نوحا فإنه أول رسول بعثه الله إلى أهل الأرض‏.‏ فيأتونه فيقول لست هناكم‏.‏ ويذكر سؤاله ربه ما ليس له به علم فيستحي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيقول ائتوا خليل الرحمن‏.‏ فيأتونه فيقول لست هناكم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ائتوا موسى عبدا كلمه الله وأعطاه التوراة‏.‏ فيأتونه فيقول لست هناكم‏.‏ ويذكر قتل النفس بغير نفس فيستحي من ربه فيقول ائتوا عيسى عبد الله ورسوله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكلمة الله وروحه‏.‏ فيقول لست هناكم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ائتوا محمدا صلى الله عليه وسلم عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر‏.‏ فيأتوني فأنطلق حتى أستأذن على ربي فيؤذن ‏ {‏ لي‏}‏ فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيدعني ما شاء الله ثم يقال ارفع رأسك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وسل تعطه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وقل يسمع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ واشفع تشفع‏.‏ فأرفع رأسي فأحمده بتحميد يعلمنيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أشفع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيحد لي حدا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأدخلهم الجنة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أعود إليه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا رأيت ربي ـ مثله ـ ثم أشفع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيحد لي حدا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأدخلهم الجنة ‏ {‏ ثم أعود الثالثة‏}‏ ثم أعود الرابعة فأقول ما بقي في النار إلا من حبسه القرآن ووجب عليه الخلود ‏"‏‏.‏ قال أبو عبد الله ‏"‏ إلا من حبسه القرآن ‏"‏‏.‏ يعني قول الله تعالى ‏ {‏ خالدين فيها‏}‏‏.‏
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سندی) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مومنین قیامت کے دن پر یشان ہو کر جمع ہوں گے اور (آپس میں) کہیں گے۔ بہتر یہ تھا کہ اپنے رب کے حضور میں آج کسی کو ہم اپنا سفارشی بناتے۔ چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونگے اور عرض کریں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعا لی نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں سفارش کر دیں تاکہ آج کی مصیبت سے ہمیں نجات ملے۔ آدم علیہ السلام کہیں گے، میں اس کے لائق نہیں ہوں، وہ اپنی لغزش کو یاد کریں گے اور ان کو پرور دگار کے حضور میں جانے سے شرم آئے گی۔ کہیں گے کہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (میرے بعد) زمین والوں کی طرف مبعوث کیا تھا۔ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں اور وہ اپنے رب سے اپنے سوال کو یاد کریں گے جس کے متعلق انہیں کوئی علم نہیں تھا۔ ان کو بھی شرم آئے گی اور کہیں گے کہ اللہ کے خلیل علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا اور تورات دی تھی۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی عذر کر دیں گے کہ مجھ میں اس کی جرات نہیں۔ ان کو بغیر کسی حق کے ایک شخص کو قتل کرنا یاد آ جائے گا اور اپنے رب کے حضور میں جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہو گی۔ کہیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں لیکن عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے کہ مجھ میں اس کی ہمت نہیں، تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ نے ان کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤ ںگا اور اپنے رب سے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی، پھر میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا میں سجدہ میں رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ اور جو چاہو مانگو، تمہیں دیا جائے گا، جو چاہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی۔ شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ حمد بیان کروں گا جو مجھے اس کی طرف سے سکھائی گئی ہو گی۔ اس کے بعد شفاعت کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں داخل کراؤں گا چوتھی مرتبہ جب میں واپس آؤں گا تو عرض کروں گا کہ جہنم میں ان لوگوں کے سوا اور کوئی اب باقی نہیں رہا جنہیں قرآن نے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ضروری قرار دے دیا ہے ابوعبداللہ حضرت امام بخاری نے کہا کہ قرآن کی رو سے دوزخ میں قید رہنے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے خالدین فیھا کہا گیا ہے۔ کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
سرخ الفاظوں پر غور کیجئے
لیکن بعض لوگ اب بھی اس شک میں مبتلاء ہیں کہ قیامت کے دن رسول اللہﷺ شفاعت کا اذن ملے گا یا نہیں اللہ ایسی سوچ سے بچائے کیونکہ یہ خوارج کی طرح کی سوچ ہے
نجانے آپ کن لوگوں کی باتیں کر رہے ہیں، احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کرنے کی اجازت طلب کرنا اور اجازت کا مل جانا اور اہل ایمان کے حق میں سفارش کرنا یہ سب ثابت ہے، اور اہل حدیث کا یہ مسلک ہے کہ جو بات قرآن اور صحیح حدیث سے ثابت ہو، وہی دین ہے ، کسی تیسرے شخص کی رائے دین نہیں بن سکتی، امت میں اگر کسی شخص کی بات قرآن و حدیث کے مطابق ہو گی تو ٹھیک ورنہ ترک کر دی جائے گی۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حقِ شفاعت اور (بغير حساب) میری نصف امت کے جنت میں داخل کئے جانے کا اختیار دیا گیا؟ پس میں نے شفاعت کو اختیار کرليا کیونکہ یہ زیادہ عام اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے،
صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 3766
الراوي: عوف بن مالك الأشجعي المحدث: الألباني - المصدر: تخريج كتاب السنة - الصفحة أو الرقم: 819
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح على شرط مسلم
جی بالکل! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل ایمان کی اللہ کی اجازت کے بعد سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ اس شفاعت سے اہل ایمان کو جہنم سے نکال لے گا، وہ اہل ایمان جو اپنے گناہوں کے سبب جہنم میں جائیں گے، لیکن یہاں ایک بات یاد رہے کہ یہ سفارش صرف ان اہل ایمان کے لئے ہو گی جنہوں نے ایمان لانے کے بعد گناہ تو کئے ہوں گے لیکن شرک نہیں کیا ہو گا، مشرک ہونے کی صورت میں کسی بھی شخص کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی۔اب دیکھئے کہ جن لوگوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے آلودہ کیا ان کو انبیاء کی سفارش بھی نہیں بچا سکتی۔
انبیاء سے پوچھ گوچھ
يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّ‌سُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴿١٠٩﴾
"جس روز اللہ تعالیٰ سب رسولوں کو مخاطب کر کے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں ،غیب کی باتیں تو آپ کے علم میں ہیں"(سورہ مائدہ،آیت نمبر 109)
عیسی علیہ السلام سے عیسائیوں کے کفر کے بارے میں پوچھ گوچھ اور ان کا مشرکین سے اظہار بیزاری
وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْ‌يَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴿١١٦﴾ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْ‌تَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَ‌بِّي وَرَ‌بَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّ‌قِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿١١٧﴾
"(قیامت کے دن)جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسی ابن مریم کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟تو وہ جواب دیں گے کہ سبحان اللہ !میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے حق ہی نہ تھا ،اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو تجھے ضرور علم ہوتا تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے دل میں ہے بے شک تو ساری پوشیدہ باتوں سے واقف ہے ۔میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا وہ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ،میں اس وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا جب تو نے مجھے واپس بلا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ساری ہی چیزوں پر نگران ہے۔(سورہ مائدہ ،آیت نمبر 116-117)
سچے اللہ کے ولیوں سے قیامت کے دن پوچھ گوچھ
وَيَوْمَ يَحْشُرُ‌هُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَـٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ ﴿١٧﴾ قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنبَغِي لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ وَلَـٰكِن مَّتَّعْتَهُمْ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا الذِّكْرَ‌ وَكَانُوا قَوْمًا بُورً‌ا ﴿١٨﴾
"اور جس روز اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں)کو بھی اکٹھا کر لائے گا اور ان کو بھی جن کی اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے پھر ان (معبودوں)سے پوچھا جائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے؟وہ عرض کریں گے پاک ہے تیری ذات ہماری تو مجال بھی نہ تھی کہ تیرے سوا کسی کو اپنا مولی بنا لیتے مگر تو نے ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتی کہ یہ (تیرے)ارشادات کو بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہ گئے۔"(سورہ فرقان،آیت 17-18)
وَيَوْمَ نَحْشُرُ‌هُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَ‌كَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَ‌كَاؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ ﴿٢٨﴾ فَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ ﴿٢٩﴾
"اور جس روز ہم ان سب (یعنی شریک ٹھرائے گئے اور شریک ٹھرانے والے لوگوں )کو ایک ساتھ اکٹھا کریں گے تو ان لوگوں سے جنہوں نے شریک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جاؤ تم سبھی اور ٹھہرائے ہوئے شریک بھی ،پھر ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ اٹھا لیں گے (یعنی وہ مشرک اور ان کے ٹروئائے ہوئے شریک بھی ایک دوسرے کو پہچان لیں گے)تب ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک نہیں گے تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے (اور اس بات پر)ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے (اگر تم ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو )ہم تمہاری اس عبادت سے بے خبر تھے۔"(سورہ یونس،آیت نمبر 28-29)
ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کے حق میں سفارش رد
يلقى إبراهيم أباه آزر يوم القيامة وعلى وجه آزر قترة وغبرة، فيقول له إبراهيم: ألم أقل لك لا تعصني؟ فيقول له أبوه: فاليوم لا أعصيك. فيقول إبراهيم: يا رب أنت وعدتني أن لا تخزني يوم يبعثون، وأي خزي أخزى من أبي الأبعد؟ فيقول الله عز وجل: إني حرّمت الجنة على الكافرين، ثم يقال: انظر ما تحت رجليك فينظر، فإذا هو بذيخ متلطخ فيؤخذ بقوائمه فيلقى في النار
''نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر کو قیامت کے دن دیکھیں گے کہ اس کے منہ پر سیاہی اور گردوغبارہوگی،ان سے کہیں گے کہ میں نے (دنیا میں) تم سے نہیں کہا تھا میری نافرمانی نہ کرنا آزرکہے گا آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کرونگا اس وقت ابراہیم علیہ السلام (اللہ تعالیٰ سے) عرض کریں گے پروردگار تونے (میری دعا قبول کی تھی ،جو سورہ شعراء 87/26میں ہے )مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ قیامت کے دن تجھ کو رسو ا نہیں کرونگا اس سے زیادہ کونسی رسوائی ہوگی ۔میرا باپ ذلیل ہوا جو تیری رحمت سے محروم ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے بہشت تو کافروں پر حرام کردی ہے پھر ابراہیم علیہ السلام کوکہا جائے گا ذرا اپنے پاؤں کے تلے تو دیکھو وہ دیکھیں گے تو ایک بجّو نجاست سے لتھڑا ہواہے اور (فرشتے) اس کے پاؤں پکڑ کردوزخ میں ڈال دیں گے'' ۔
(صحیح بخاری۔کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراھیم خلیلارقم الحدیث3350)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش مشرکین کے لئے نہیں ہو گی
« لِكُلِّ نَبِىٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِىٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّى اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِى شَفَاعَةً لأُمَّتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِىَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِى لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا »
'' ہر نبی کی ایک دعا ہے جسے شرف قبولیت بخشا جاتا ہے،چنانچہ ہر نبی نے اپنی دعوت کو عجلت میں کرلیا ہے، لیکن میں نے اپنی دعا کو روز قیامت کو اپنی امت کےلیے بطور سفارش چھپایا ہے پس وہ ان شاء اللہ میری امت میں سے ہراس شخص کو پہنچے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔(صحیح مسلم:199).
تو اس سے ثابت ہوا کہ سفارش بھی صرف ان لوگوں کو فائدے دے گی جو موحدین ہوں گے، انبیاء سفارش ضرور کریں گے لیکن انبیاء کے مقام و مرتبہ اور فضیلت کے باوجود ان کی سفارش کسی مشرک کے حق میں قبول نہیں ہو گی۔
اللہ تعالیٰ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
آپ کی جس پوسٹ کا اقتباس لیا گیا ہے اس سے اگلی پوسٹ ملاحظہ فرمالیں آپ کے علم میں آجائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں
والسلام
اپنی زبانوں کو تلواریں اور اپنی قلموں کو بندوقیں مت بناؤ دلیل سے بات کرو (علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ)
 
Top