ہدایت اللہ فارس
رکن
- شمولیت
- فروری 21، 2019
- پیغامات
- 61
- ری ایکشن اسکور
- 13
- پوائنٹ
- 56
لغة واصطلاحا
یہ دونوں اعراب میں کیا واقع ہیں اس سلسلے میں کئی آراء ملتے ہیں، دونوں کے منصوب ہونے پر تو اتفاق ہے پر نصب کیوں دیا جاتا ہے اس معاملے میں درج ذیل مختلف آراء پائے جاتے ہیں؛
اکثر ان پر نصب کی وجہ "منصوب بنزع الخافض" بتایا جاتا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ منصوب بنزع الخافض سماعی ہے قیاسی نہیں اور یہ اصطلاح قلیل الاستعمال ہے جبکہ مذکورہ اسلوب کثیر الاستعمال ہے
(کہیں کہیں ایسے لکھا ملتا ہے؛ "الإيمان في اللغة وفي الاصطلاح" تو ایسی صورت میں جار "أعني" مقدرہ کے ساتھ متعلق ہوتا ہے، اور مبتدا وخبر کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہوتا ہے۔
لہذا اس پر قیاس کرنا درست نہیں ہوگا)
دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں لفظ بطور نکرہ استعمال ہوتا ہے جبکہ نزع خافض کا معاملہ معرفہ کے ساتھ ہوتا ہے
جیسے کہا جاتا ہے: تمرون الديار
يعني: تمرون على الديار
تو یہاں "الدیار" منصوب بنزع الخافض ہے
ایک رائے یہ بھی ملتی ہے کہ انھیں نصب تمیز کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔
لیکن یہ بھی درست نہیں کیوں کہ اس سے پہلے کوئی ایسا مبہم لفظ نہیں ہے جس کی تفسیر تمیز کے ذریعے کی جا رہی ہو۔
کچھ لوگ دونوں کو مفعول مطلق قرار دیتے ہیں لیکن یہ بھی صواب کے درجے کو نہیں پہنچتا کیوں کہ "لغة" مصدر نہیں ہے بلکہ یہ ایک لفظ مسموع ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی صفت الفاظ کے ذریعے لائی جاتی ہے
جیسے: لغة فصيحة
البتہ اصطلاحا کو مفعول مطلق مانا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ مصدر ہے۔
ایک رائے کے مطابق ان دونوں کو نصب مفعول لاجلہ کی بنا پر ہوتا ہے، لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے، کیوں کہ مفعول لاجلہ میں مصدریت کی شرط لگائی جاتی ہے، جو یہاں مفقود ہے۔
سب سے قوی اور درست رائے جسے ابن ہشام نے بھی ترجیح دی ہے، وہ یہ کہ ان دونوں کو نصب "حال" کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، البتہ ایسی صورت میں پہلے مضاف کو مقدر ماننا ضروری ہوگا۔
یہ بالختصار ہے تفصیل کے لیے دیکھیں؛ ثلاث رسائل فی النحو لابن هشام ص٣٠
(ہدایت اللہ فارس)
یہ دونوں اعراب میں کیا واقع ہیں اس سلسلے میں کئی آراء ملتے ہیں، دونوں کے منصوب ہونے پر تو اتفاق ہے پر نصب کیوں دیا جاتا ہے اس معاملے میں درج ذیل مختلف آراء پائے جاتے ہیں؛
اکثر ان پر نصب کی وجہ "منصوب بنزع الخافض" بتایا جاتا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ منصوب بنزع الخافض سماعی ہے قیاسی نہیں اور یہ اصطلاح قلیل الاستعمال ہے جبکہ مذکورہ اسلوب کثیر الاستعمال ہے
(کہیں کہیں ایسے لکھا ملتا ہے؛ "الإيمان في اللغة وفي الاصطلاح" تو ایسی صورت میں جار "أعني" مقدرہ کے ساتھ متعلق ہوتا ہے، اور مبتدا وخبر کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہوتا ہے۔
لہذا اس پر قیاس کرنا درست نہیں ہوگا)
دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں لفظ بطور نکرہ استعمال ہوتا ہے جبکہ نزع خافض کا معاملہ معرفہ کے ساتھ ہوتا ہے
جیسے کہا جاتا ہے: تمرون الديار
يعني: تمرون على الديار
تو یہاں "الدیار" منصوب بنزع الخافض ہے
ایک رائے یہ بھی ملتی ہے کہ انھیں نصب تمیز کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔
لیکن یہ بھی درست نہیں کیوں کہ اس سے پہلے کوئی ایسا مبہم لفظ نہیں ہے جس کی تفسیر تمیز کے ذریعے کی جا رہی ہو۔
کچھ لوگ دونوں کو مفعول مطلق قرار دیتے ہیں لیکن یہ بھی صواب کے درجے کو نہیں پہنچتا کیوں کہ "لغة" مصدر نہیں ہے بلکہ یہ ایک لفظ مسموع ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی صفت الفاظ کے ذریعے لائی جاتی ہے
جیسے: لغة فصيحة
البتہ اصطلاحا کو مفعول مطلق مانا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ مصدر ہے۔
ایک رائے کے مطابق ان دونوں کو نصب مفعول لاجلہ کی بنا پر ہوتا ہے، لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے، کیوں کہ مفعول لاجلہ میں مصدریت کی شرط لگائی جاتی ہے، جو یہاں مفقود ہے۔
سب سے قوی اور درست رائے جسے ابن ہشام نے بھی ترجیح دی ہے، وہ یہ کہ ان دونوں کو نصب "حال" کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، البتہ ایسی صورت میں پہلے مضاف کو مقدر ماننا ضروری ہوگا۔
یہ بالختصار ہے تفصیل کے لیے دیکھیں؛ ثلاث رسائل فی النحو لابن هشام ص٣٠
(ہدایت اللہ فارس)