• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ "انشاءاللہ اور ان شاءاللہ" میں فرق

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
اس عبارت کا اردو ترجمہ کر دیں جزاک اللہ خیر
السلام علیکم
محترم بھائی !
جو عربی عبارت آپ نے پوسٹ کی ہے ایک تو اس کی کتابت میں غلطیاں ہیں ؛ دوسرے ابن ھشام کی شذور الذہب سے بعینہ یہ الفاظ نہ مل سکے ،
بہرحال آپ کی مقصود صحیح عبارت درج ذیل ہے ترجمہ کے ساتھ :
فقد جاء في كتاب شذور الذهب لابن هشام ..أنّ إنشاء من الفعل أنشأ - يُنشئ؛ أي إيجاد ..
عربی لغت کے مشہور امام ابن ھشام کی کتاب (شذور الذهب) میں ہے کہ :لفظ (إنشاء )عربی زبان کے فعل ( أنشأَ - يُنْشِئ ، )سے ہے ، جس کے معنی ’’ ایجاد کیا ‘‘ کے ہیں ۔
فمن هذا .. لو كتبنا [ إنشاء الله ].. يعني كأننا نقول أننا أوجدنا الله - تعالى الله علوا كبيرا - وهذا غير صحيح ..
تو اس معنی کے لحاظ سے اگر ہم [ إنشاء الله ]. لکھیں گے تو اس کا معنی ہوگا ،ہم نے اللہ کو پیدا کیا ،جبکہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے ۔اس لئے ایسے لکھنا صحیح نہیں،
أما الصحيح هو أن نكتب [ إن شاء الله ].. فبهذا اللفظ نحقق هنا إرادة الله عز وجل؛ فقد جاء في معجم لسان العرب أن معنى الفعل شاء هو أراد ، فالمشيئة هنا هي الإرادة ..
فعندما نكتب [ إن شاء الله ] كأننا نقول ..إن أراد الله نفعل كذا ..

صحیح یہ ہے کہ ہم اس طرح لکھیں ۔[ إن شاء الله ] اس طرح ہم اللہ کے ارادے کا تحقق یعنی اس کو ثابت کر رہے ہونگے ،جیسا کہ ’’ معجم لسان العرب ‘‘ میں ہے کہ :
کہ عربی فعل ’’ شاء ‘‘ کا معنی ہے ۔۔اس نے ارادہ کیا ۔۔تو مطلب یہ کہ یہاں ’’مشیت ‘‘ سے مراد ارادہ ہے ،تو جب ہم [ إن شاء الله ] لکھیں گے تو ہمارا مطلب ہوگا
کہ ۔۔اگر اللہ کا ارادہ ہوا تو ہم ایسا کریں گے ۔۔
فهناك فرق بين الفعلين ( أنشأ أي أوجد ) والفعل ( شاء أي أراد ) ..
اور دونوں فعلوں میں فرق ہے یعنی ( أنشأَ ) کا معنی ہے پیدا کرنا ۔۔اور ’’ شاء ‘‘ کا معنی ہے ارادہ کرنا ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
شیخ ان کا ترجمہ بھی کر دیں ۔
قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا ، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا ، قَالَ : وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.
جناب اسید بن حضیر ؓ فرماتے ہیں :میری قوم کے دو گھروں کے لوگ میرے آئے ،اور مجھے کہا کہ :ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت عرض کیجئے کہ بیت المال میں آنے والی کھجوریں ہم میں تقسیم فرمائیں ، تو میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ان کی عرضی پیش کی ،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ہاں ٹھیک ہے ،ہم اپنے پاس آنے والی کھجوریں ان میں برابر آدھی ،آدھی تقسیم کردیتے ہیں، اور اگر مزید کھجوریں آگئیں تو ہم انہیں مزید دیں گے ،تو میں کہا : اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے ،اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اور تمہیں بھی اے انصار ۔۔اللہ جزائے خیر عطا فرمائے ،
میں نے تم انصار کو خود دار و عفیف ،اور صابر ہی پایا ہے (کہ اگر تمہیں کچھ نہ بھی ملے تو بھی سوال اور اعتراض نہیں کرتے ) میرے بعدتم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی ،تو تم صبر کرنا ،حتی کہ مجھ سے آن ملو ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ اسحاق! حفظک اللہ!
کیا "فجزاکم اللہ خیرا" بھی کفایت کرے گا۔۔؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم بھائی ۔۔"فجزاکم اللہ خیرا" بھی کفایت کرے گا۔ان شاء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور صرف "وإياك" بھی مقصد پورا کرے گا ؛
علامہ احسان الہی ظہیر ؒ کے استاذ محترم ۔اور شیخ ابن باز ؒ کے نامور شاگرد ’’ عبد المحسن بن حمد العباد ‘‘ کا یہی فتوی ہے :

السؤال: ما حكم قول القائل: "وإياك"، لمن قال له: "جزاك الله خيراً"؟

الإجابة:
هذا لا بأس به، فقوله: "وإياك"، معناه: وأنت جزاك الله خيراً. فهو كلام صحيح لا بأس به.
 

حسیب

رکن
شمولیت
فروری 04، 2012
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
85
پوائنٹ
75
السلام علیکم
محترم بھائی !
جو عربی عبارت آپ نے پوسٹ کی ہے ایک تو اس کی کتابت میں غلطیاں ہیں ؛ دوسرے ابن ھشام کی شذور الذہب سے بعینہ یہ الفاظ نہ مل سکے ،
بہرحال آپ کی مقصود صحیح عبارت درج ذیل ہے ترجمہ کے ساتھ :
فقد جاء في كتاب شذور الذهب لابن هشام ..أنّ إنشاء من الفعل أنشأ - يُنشئ؛ أي إيجاد ..
عربی لغت کے مشہور امام ابن ھشام کی کتاب (شذور الذهب) میں ہے کہ :لفظ (إنشاء )عربی زبان کے فعل ( أنشأَ - يُنْشِئ ، )سے ہے ، جس کے معنی ’’ ایجاد کیا ‘‘ کے ہیں ۔
فمن هذا .. لو كتبنا [ إنشاء الله ].. يعني كأننا نقول أننا أوجدنا الله - تعالى الله علوا كبيرا - وهذا غير صحيح ..
تو اس معنی کے لحاظ سے اگر ہم [ إنشاء الله ]. لکھیں گے تو اس کا معنی ہوگا ،ہم نے اللہ کو پیدا کیا ،جبکہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے ۔اس لئے ایسے لکھنا صحیح نہیں،
أما الصحيح هو أن نكتب [ إن شاء الله ].. فبهذا اللفظ نحقق هنا إرادة الله عز وجل؛ فقد جاء في معجم لسان العرب أن معنى الفعل شاء هو أراد ، فالمشيئة هنا هي الإرادة ..
فعندما نكتب [ إن شاء الله ] كأننا نقول ..إن أراد الله نفعل كذا ..

صحیح یہ ہے کہ ہم اس طرح لکھیں ۔[ إن شاء الله ] اس طرح ہم اللہ کے ارادے کا تحقق یعنی اس کو ثابت کر رہے ہونگے ،جیسا کہ ’’ معجم لسان العرب ‘‘ میں ہے کہ :
کہ عربی فعل ’’ شاء ‘‘ کا معنی ہے ۔۔اس نے ارادہ کیا ۔۔تو مطلب یہ کہ یہاں ’’مشیت ‘‘ سے مراد ارادہ ہے ،تو جب ہم [ إن شاء الله ] لکھیں گے تو ہمارا مطلب ہوگا
کہ ۔۔اگر اللہ کا ارادہ ہوا تو ہم ایسا کریں گے ۔۔
فهناك فرق بين الفعلين ( أنشأ أي أوجد ) والفعل ( شاء أي أراد ) ..
اور دونوں فعلوں میں فرق ہے یعنی ( أنشأَ ) کا معنی ہے پیدا کرنا ۔۔اور ’’ شاء ‘‘ کا معنی ہے ارادہ کرنا ۔
وعلیکم السلام
جزاک اللہ خیر
شیخ یہ بات گرائمر کی رو سے درست ہے؟؟
انشاء کے معنی اس میں اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ پہلے اور آخری ہمزہ پہ زبر اور شین کے بعد والے الف کے بغیر پڑھا جائے۔ اس وقت اس کے معنی ہوں گے کہ "اللہ نے تخلیق کی"۔
یا آخری ہمزہ پر پیش ہو تو اس وقت یہ معنی ہو گے کہ "اللہ کی تخلیق"
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
وعلیکم السلام
جزاک اللہ خیر
شیخ یہ بات گرائمر کی رو سے درست ہے؟؟
انشاء کے معنی اس میں اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ پہلے اور آخری ہمزہ پہ زبر اور شین کے بعد والے الف کے بغیر پڑھا جائے۔ اس وقت اس کے معنی ہوں گے کہ "اللہ نے تخلیق کی"۔
یا آخری ہمزہ پر پیش ہو تو اس وقت یہ معنی ہو گے کہ "اللہ کی تخلیق"
أَنشأَ:( فعل )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیدا کیا ، فعل ماضی۔۔۔پہلے ہمزہ پر زبر،نون ساکن ،شین کے بعد ہمزہ اور اس پر زبر۔
إنشاءً ــپیدا کرنا،یعنی مصدر ۔۔۔پہلے ہمزے کے نیچے زیر ،نون ساکن ،شین کے بعد الف اور اس کے بعد ہمزہ
أنشأَ يُنْشِئ ، إنشاءً ، فهو مُنْشِئ ، والمفعول مُنشَأ ۔۔
أَنشأَ: اس نے بنایا (ماضی ) ۔۔۔يُنْشِئ ، وہ پیدا کرتا ہے (مضارع )۔۔۔مُنْشِئ بنانے والا (فاعل )
أَنْشَأَ يفعل كذا : شَرَع أَو جعل ۔۔أَنْشَأَ ۔۔شروع کیا ،
أَنْشَأَ الشيءَ : أَحدثَه وأَوجده ۔۔۔کسی شئے کو ایجاد کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,096
پوائنٹ
412
کیا ماشاءاللہ کے بارے میں بھی کچھ ھے؟
کس طرح لکھیں الگ یا ملا کر؟
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,633
ری ایکشن اسکور
740
پوائنٹ
290
بہائی الف میں ش کسی طرح نہیں مل پائے گا ، خصوصا اس طرح جسطرح نون ، شین سے مل جاتا ہے دوسرے آپ معنی پر توجہ دیں حروف کی ترکیب سے ۔ مثلا ان شاء اور انشاء ۔
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,096
پوائنٹ
412
بہائی الف میں ش کسی طرح نہیں مل پائے گا ، خصوصا اس طرح جسطرح نون ، شین سے مل جاتا ہے دوسرے آپ معنی پر توجہ دیں حروف کی ترکیب سے ۔ مثلا ان شاء اور انشاء ۔
محترم جناب!
جب رومن میں لکھتے ھیں تو مسئلہ ھو جاتا ھے.
Masha allah لکھیں Mashaallah
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,633
ری ایکشن اسکور
740
پوائنٹ
290
A few ideas if u like;
In-sha-Allah
Ma-sha-Allah
,
In Sha Allah
Like wise.
There an English word, cooperation, to avoid reader's confusion dome they wite co-operation too.
Allah try the starting A always capital, to make the word distinguished among normal text.
 
Top