محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
لیلۃ القدر اپنی برکتوں اور عبادت کے اجرو ثواب کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر: 3)
’’قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔‘‘
جب رمضان کا آخری عشرہ ہوتا تونبی ﷺ (عبادت کے لیے)کمر بستہ ہو جاتے، شب بیداری فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی بیدار رکھتے تھے۔ (صحیح البخاري: 2024)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (صحیح البخاري: 1901)
’’جس شخص نے شب قدر میں ایمان ویقین کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘
لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے، طاق راتوں میں ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔(صحیح البخاري: 2017، صحیح مسلم: 1169)
اگر انسان لیلۃ القدر کو پالے تو یہ دعا مانگے:
اللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عنِّي (صحیح سنن ابن ماجه: 3850)
لیلۃ القدر کی علامت
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَهَا (صحیح مسلم: 762)
’’اس کی (لیلۃ القدر کی) علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح کو سورج سفید طلوع ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر: 3)
’’قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔‘‘
جب رمضان کا آخری عشرہ ہوتا تونبی ﷺ (عبادت کے لیے)کمر بستہ ہو جاتے، شب بیداری فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی بیدار رکھتے تھے۔ (صحیح البخاري: 2024)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (صحیح البخاري: 1901)
’’جس شخص نے شب قدر میں ایمان ویقین کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘
لیلۃ القدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے، طاق راتوں میں ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔(صحیح البخاري: 2017، صحیح مسلم: 1169)
اگر انسان لیلۃ القدر کو پالے تو یہ دعا مانگے:
اللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عنِّي (صحیح سنن ابن ماجه: 3850)
لیلۃ القدر کی علامت
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَهَا (صحیح مسلم: 762)
’’اس کی (لیلۃ القدر کی) علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح کو سورج سفید طلوع ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔‘‘
والله أعلم بالصواب.