ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 928
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
مادرِ وطن کی حقیقت
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
وطن کوئی شے نہیں ہوتی، اپنا وطن، اپنی مٹی، اپنا علاقہ، مادرِ وطن وغیرہ تمام الفاظ انسانی ذہن کے تراشیدہ بُت ہیں جن کو اس نے تقدیس کی چادر پہنائی ہے، جبکہ اہلِ عقیدہ اور اہلِ شعور لوگوں کی نظر میں یہ بے جان پتھر کے بُت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے جو بے شمار ہزار سالوں (یا نامعلوم مدت) سے قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گی۔ اس پر لوگ آتے ہیں، جاتے ہیں، اقوام آتی ہیں، جاتی ہیں، اُمتیں اس پر آباد ہوتی ہیں، پھر فنا ہو جاتی ہیں اور ان کی جگہ دوسری اُمتیں آ جاتی ہیں۔
ایک قوم ایک جگہ آباد ہو کر اس کو وطن وطن کہتی ہے، اس کے لیے لڑتی ہے، مرتی ہے، لیکن پھر زمانے کی گردش اس کو مٹا دیتی ہے اور کچھ صدیوں بعد اس وطن میں ان کا نام و نشان نہیں رہتا۔ اور جس کو وہ وطن کہتے تھے، وہاں کوئی اور قوم آباد ہو کر "وطن وطن" کر رہی ہوتی ہے۔ جس کو مادرِ وطن کہتے ہیں، ایک زمانے کے بعد وہ ماں ان بیٹوں کی قبریں بھی برداشت نہیں کرتی، اور کسی اور کی ماں بن گئی ہوتی ہے۔
آج تم جس زمین پر ہو، آج سے 100 سال پہلے یہ کسی اور کی تھی، اور 200 سال پہلے کسی اور کی، جبکہ آنے والے 100 سال بعد یہاں کوئی اور ہوگا اور تمہاری ہڈیاں اس کی مٹی میں پہچانی بھی نہیں جائیں گی۔
آج تم جس گھر میں آباد ہو، اور اس کو بڑی محنت اور فخر سے بنایا ہے، دہائیوں بعد یہاں کوئی اور رہ رہا ہوگا، اور کسی کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہاں کچھ دہائیاں پہلے کوئی اور رہتا تھا اور اس کو اپنا گھر کہتا تھا۔
اس کا اندازہ اس سے بھی لگاؤ کہ آج یہ لوگ جس کو وطن کہتے ہیں، ان کے آباء و اجداد کسی اور جگہ سے آ کر یہاں آباد ہوئے تھے، اور وہ اس پہلی والی جگہ کو وطن کہتے تھے۔ اور ان کی اولاد اگر کہیں اور جا کر آباد ہوئی تو وہ اس کو وطن کہیں گے۔ اگر وطن مقدس شے ہوتی تو ان کے آباء کبھی اس کو نہ چھوڑتے، اور آدم کے زمانے سے جو جہاں آباد تھا، وہی رہتا اور کبھی اپنی مقدس شے یعنی وطن کو دوسرے وطن سے نہ بدلتا۔
تمام انسانوں میں سب سے افضل انسان، انبیاء علیہم السلام نے جب اپنا وطن چھوڑا تو مڑ کر بھی نہیں دیکھا، اور جہاں جا کر آباد ہوئے، وہی آباد رہے۔ بلکہ بعض انبیاء نے تو کئی کئی بار اپنا وطن تبدیل کیا، جبکہ عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام نے تو مستقل وطن ترک کر دیا، اور اس کا وطن ہی نہیں تھا، بلکہ ساری زندگی یہاں سے وہاں سفر کرتا رہا، اور کسی علاقے کو اپنا وطن نہیں بنایا۔
یہ زمین کسی کی جاگیر نہیں، نہ کسی کی ماں کوئی خاص علاقہ اپنے ساتھ جہیز میں لائی ہے۔ یہ اللہ کی زمین ہے، اور اس میں جو جہاں جا کر آباد ہو جاتا ہے، وہی اس کا وطن ہے۔ اور جب اس کو چھوڑ کر کہیں اور آباد ہو جاتا ہے تو وہ اس کا وطن ہے۔ لیکن ہر وطن عارضی ہے، اور تم اس کو لاکھ مادرِ وطن، اپنا وطن یا گھر کہو، یوں سمجھو کہ یہ کرائے کا گھر ہے، اور یہ عارضی ہے۔ اصل وطن تمہارا وہی ہے جہاں تم حساب کتاب کے بعد پہنچو گے، اور وہی مستقل گھر ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ہر انسان سفر میں ہے اور اپنی سواری کی باگ تھامے ہوئے ہے، اور وہ اپنی سواری سے یا جنت میں جا کر اترے گا یا جہنم میں۔
اس لیے اپنے اصلی گھر اور اصل وطن کی فکر کرو۔ وہاں زیادہ سے زیادہ پلاٹ حاصل کرنے، اونچے عالی شان محل بنانے اور اپنا اکاؤنٹ بیلنس بڑھانے کی جستجو کرو، نہ کہ اس دنیا کی مٹی کی محبت میں گرفتار ہو جاؤ، جو اس کے خالق کی نظر میں بکری کے مرے ہوئے بدبودار بچے جتنی اوقات بھی نہیں رکھتی، اور جس کو سب سے ذہین، سب سے اعلیٰ انسانوں نے ہر دور میں طلاق دی ہے۔
يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ،
وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ
وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ