محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,080
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
بلاشبہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن تاریخِ اسلام میں نہایت دردناک اور عظیم سانحہ ہے، لیکن اسلام میں ہر سال اس غم کو تازہ کرنا، ماتم کرنا، سینہ پیٹنا اور نوحہ خوانی کرنا ہرگز جائز نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مصیبت کے وقت صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾(سورۃ البقرۃ: 155-157)
’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے، جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: "بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔" یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایتیں اور رحمت ہے، اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
لہٰذا جب کسی مسلمان کو مصیبت پہنچے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے اور "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" پڑھنا چاہیے۔ شریعت نے ماتم، نوحہ خوانی، سینہ کوبی اور غم کی تجدید سے منع فرمایا ہے۔
والله أعلم بالصواب.
اللہ تعالیٰ نے مصیبت کے وقت صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾(سورۃ البقرۃ: 155-157)
’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے، جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: "بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔" یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایتیں اور رحمت ہے، اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
لہٰذا جب کسی مسلمان کو مصیبت پہنچے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے اور "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" پڑھنا چاہیے۔ شریعت نے ماتم، نوحہ خوانی، سینہ کوبی اور غم کی تجدید سے منع فرمایا ہے۔
والله أعلم بالصواب.