• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ دوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس نے بالوں کو جما کر احرام باندھا۔
(۷۸۱)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس حالت میں دیکھا کہ آپﷺ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مسجد ذوالحلیفہ کے پاس (احرام باندھ کر) لبیک پکارنا منسون ہے
(۷۸۲)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے احرام باندھ کر تلبیہ (یعنی لبیک) نہیں پکارا مگر مسجد کے پاس سے یعنی ذوالحلیفہ کی مسجد (کے قریب) سے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ حج میں (تنہا) یا کسی کے ساتھ سوار ہونا
(۷۸۳)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ عرفہ سے مزدلفہ تک سیدنا اسامہؓ نبیﷺ کے ہم رکاب تھے۔ پھر آپﷺ نے مزولفہ سے منیٰ تک فضل بن ابی طالبؓ کو ہمرکاب کر لیا تھا۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ دونوں (صحابیوں) نے بیان کیا کہ نبیﷺ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپﷺ نے جمرۃ العقبہ کی رمی کی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ محرم کس قسم کے کپڑے اور چادر اور تہہ بند پہنے؟
(۷۸۴)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اور آپﷺ کے صحابہ، کنگھی کرنے اور تیل ڈالنے اور چادر اوڑھنے اور تہہ بند پہننے کے بعد مدینہ سے چلے، پھر آپﷺ نے کسی قسم کی چادر اور تہہ بند کے پہننے سے منع نہیں فرمایا سوائے زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کے جس سے بدن پر زعفران جھڑے۔ پھر صبح کو آپﷺ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب (مقام) بیداء میں پہنچے تو آپﷺ کے صحابہ نے لبیک کہا اور اپنے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالنے اور اس وقت ذیقعد مہینے کے پانچ دن باقی تھے۔ پھر آپﷺ چوتھی ذی الحجہ کو مکہ پہنچے اور آپﷺ نے کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور آپﷺ اپنی قربانی کے جانوروں کی وجہ سے احرام سے باہر نہیں ہوئے کیوں کہ آپﷺ ان کے گلے میں ہار ڈال چکے تھے۔ پھر آپﷺ مکہ کی بلندی (مقام) حجون کے پاس اترے اور آپﷺ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے، طواف کر نے کے بعد آپﷺ کعبہ کے قریب بھی نہ گئے یہاں تک کہ عرفہ سے لوٹ آئے۔ اور آپﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کا اور صفا مروہ کا طواف کریں، اس کے بعد اپنے بال کتر وا ڈالیں اور احرام کھول دیں۔ مگر یہ حکم اسی شخص کے لیے تھا جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو اور نہ اس نے اس جانور کے گلے میں ہار ڈالا ہو اور بال کتروانے کے بعد جس کے ہمراہ اس کی بیوی ہو اس سے صحبت کرنا، خوشبو لگا نا اور کپڑے پہنناسب جائز ہو گیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ تلبیہ یعنی لبیک کس طرح کہتے ہیں؟
(۷۸۵)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا تلبیہ یہ تھا :'' اے اللہ ! میں تیرے دروازہ پر بار بار حاضر ہوں اور تیرے بلانے کا جواب دیتا ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، ہر طرح کی تعریف اور احسان تیرا ہی ہے اور بادشاہی تیری ہی ہے کوئی تیرا شریک نہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ لبیک کہنے سے پہلے سواری پر سوار ہوتے وقت تحمید اورتسبیح اور تکبیر کہنا مسنون ہے
(۷۸۶)۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور ہم لوگ آپﷺ کے ہمراہ تھے اور عصر کی ذوالحلیفہ میں پہنچ کر دو رکعتیں پڑھیں پھر آپﷺ رات بھر ذوالحلیفہ میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر آپﷺ سوار ہوئے یہاں تک کہ جب آپﷺ کی سواری بیداء میں پہنچی تو آپﷺ نے اللہ کی حمد بیان کی اور تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی۔ اس کے بعد آپﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کی لبیک پکاری اور لوگوں نے بھی حج و عمرہ دونوں کی لبیک کہی پھر جب ہم لوگ (مکہ میں) پہنچے تو آپﷺ نے لوگوں کو (احرام کھولنے کا) حکم دیا چنانچہ وہ احرام سے باہر ہو گئے یہاں تک کہ ترو یہ کا آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے کئی اونٹ، کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ سے نحر (قربان) کیے اور مدینہ میں سینگوں والے دو مینڈھے رسول اللہﷺ نے قربان کیے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قبلہ روہو کے احرام باندھنا مسنون ہے
(۷۸۷)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ ذوالحلیفہ سے تلبیہ (لبیک) کہنا شروع کر دیتے اور حرم میں پہنچ کر رک جاتے،ذی طویٰ مقام پر پہنچ کر صبح ہونے تک رات بسر کر تے، پھر جب نماز فجر پڑھ لیتے تو غسل فرماتے اور کہتے کہ رسول اللہﷺ اسی طرح کرتے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ وادی میں اترتے ہوئے تلبیہ کہنا
(۷۸۸)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا :'' گویا میں (اس وقت) ان کو دیکھ رہا ہوں جب کہ وہ نشیب میں لبیک کہتے ہوئے اتر رہے تھے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس شخص نے نبیﷺ کے عہد میں نبیﷺ کے مثل احرام باندھا
(۷۸۹)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ مجھے نبیﷺ نے میری قوم کی طرف یمن بھیجا تھا پس میں (لو ٹ کر ایسے وقت) آیا کہ آپﷺ بطحاء میں تھے، آپﷺ نے (مجھ سے) دریافت کیا کہ تم نے کونسا احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں نے نبیﷺ کے احرام کے مثل احرام باندھا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' کیا تمہارے ہمراہ قربانی کا جانور ہے؟ '' میں نے عرض کی نہیں۔ پس آپﷺ نے حکم دیا کہ میں کعبہ کا طواف کروں چنانچہ میں نے کعبہ کا اور صفا مروہ کا طواف کیا پھر آپﷺ نے مجھے (احرام کھولنے کا) حکم دیا چنانچہ میں احرام سے باہر ہو گیا پھر میں اپنی قوم کی کسی عورت کے پاس گیا اور اس نے مجھے کنگھی کی یا میرا سردھو یا پھر جب سیدنا عمرؓ خلیفہ ہوئے (اور یہ حدیث میں نے ان سے بیان کی تو) انہوں نے کہا کہ (یہ حدیث ہم نہیں جانتے کہ کیسی ہے) اگر ہم اللہ کی کتاب پر عمل کریں تو وہ ہمیں (حج و عمرہ کے) پورا کر نے کا حکم دیتی ہے اللہ تعالیٰ نے (سورۂ بقرہ آیت نمبر ۱۹۶میں) فرمایا ہے :'' اور حج اور عمرہ کو پورا کر و اللہ کی رضا مندی حاصل کر نے کے لیے '' اور اگر ہم رسول اللہﷺ کی سنت پر عمل کریں تو آپﷺ بھی احرام سے باہر نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپﷺ نے قربانی کر لی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا (سورۂ بقرہ میں یہ) فرمانا کہ '' حج کے چند معین مہینے ہیں ''
(۷۹۰)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کی حج کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے (دیکھئیے حدیث : ۲۰۳)اور یہاں اس روایت میں کہتی ہیں کہ ہم حج کے مہینے میں حج کی راتوں میں حج کے احرام کے ساتھ (مدینے سے) نکلے پھر ہم (مقام) سرف میں اترے۔ پھر آپﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :'' تم میں سے جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو اور وہ چاہے کہ اس احرام سے عمرہ کر ے تو وہ ایسا کر لے اور جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کرے۔ ام المومنین فرماتی ہیں تو آپﷺ کے اصحاب میں سے بعض نے اس حکم پر عمل کیا اور بعض نے نہ کیا۔ مزید کہتی ہیں کہ نبیﷺ اور آپﷺ کے چند صحابہ استطاعت و حوصلہ کے مالک تھے اور جن کے ہمراہ قربانی بھی تھی وہ عمرہ پر قادر نہ ہوئے (یعنی عمرہ کے احرام نہ کھول سکے) اور پھر بقیہ حدیث بیان کی۔
 
Top