• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ دوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ ایک مزدور اپنی مزدوری کا پیسہ چھوڑ کر چل دے اور جس نے مزدور لگایا تھا وہ اس پیسے میں محنت کر کے اس کو بڑھائے تو کیا حکم ہے؟
(۱۰۵۷)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' تم سے پہلے لوگوں میں تین آدمی (ایک ساتھ کسی کام کے لیے) چلے یہاں تک کہ وہ شب کے وقت ایک غار کے پاس پہنچے اور وہ تینوں اس میں داخل ہو گئے (اتفاقاً) ایک پتھر پہاڑ سے لڑھکا اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا تو انھوں نے کہا کہ اس پتھر سے کوئی چیز رہائی نہیں دے سکتی مگر یہ کہ تم اپنے اعمال کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ پس ان میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ '' اے اللہ ! میرے ماں باپ بوڑھے تھے اور میں ان سے پہلے نہ تو اپنے بچوں وغیرہ کو دودھ پلاتا تھا اور نہ ہی لونڈی غلاموں کو۔ ایک دن اتفاق سے کسی کام میں مجھ کو دیر ہو گئی یہاں تک کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ سو گئے تھے لہٰذا میں نے ان کے لیے شام کا دودھ دوہا اور اس کا برتن ہاتھ میں اٹھا لیا مگر میں نے ان کو سوتا ہوا پایا تو مجھے یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ میں ان سے پہلے اپنے گھر والوں کو اور لونڈی غلاموں کو کچھ پلاؤں پس میں ٹھہر گیا اور (دودھ کا بھرا ہوا) پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے بیدار ہو نے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی پس وہ دونوں بیدار ہوئے اور انھوں نے اپنا شام کا دود ھ اس وقت پیا۔ اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا ہو تو اس پتھر کی وجہ سے جس حال میں ہم ہیں، اس کو ہم سے دور کر دے۔ '' چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا مگر وہ اس سے نکل نہ سکتے تھے۔ ''
نبیﷺ نے فرمایا :'' دوسرے شخص نے کہا کہ '' اے اللہ ! میرے چچا کی بیٹی تھی جو تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب تھی، میں نے اس سے برے کام کی خواہش کی مگر وہ مجھ سے راضی نہ ہوئی یہاں تک کہ ایک سال جب قحط پڑا تو اس کو کچھ ضرورت پیش آئی تو وہ میرے پاس آئی اور میں نے اس کو ایک سو بیس اشرفیاں دیں اس شرط پر دینا منظور کیں کہ وہ مجھے اپنی ذات سے نہ روکے۔ اس نے (اس شرط کو منظور) کیا یہاں تک کہ جب مجھے اس پر قابو ملا تو وہ کہنے لگی کہ میں تیرے لیے اس بات کو جائز نہیں سمجھتی کہ تو مہر (پردۂ بکارت) کو ناحق توڑے پس میں نے یہ سن کر اس کے ساتھ ہم بستری کرنے کو گناہ سمجھا اور اس سے علیحدہ ہو گیا حالانکہ وہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب تھی اور میں نے جس قدر اشرفیاں اس کو دی تھیں، واپس نہیں لیں۔ اے اللہ ! میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا ہو تو جس مصیبت میں ہم ہیں اس کو ہم سے دور کر دے۔ '' چنانچہ وہ پتھر کچھ اور ہٹ گیا مگر ابھی وہ اس سے نکل نہیں سکے۔ '' نبیﷺ نے فرمایا :'' تیسرے شخص نے کہا کہ :'' اے اللہ ! میں نے کچھ لوگوں کو مزدوری پر لگایا تھا اور انھیں ان کی مزدوری دے دی تھی سوائے ایک شخص کے کہ اس نے اپنی مزدوری نہیں لی اور چلا گیا تو میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا یہاں تک کہ بہت مال اس سے حاصل ہوا پھر وہ ایک لمبے عرصے کے بعد میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے بندے ! مجھے میری مزدوری دے دے۔ میں نے اس سے کہا کہ جس قدر اونٹ اور گائے، بکری اور غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیری مزدوری کے ہیں۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے ! کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے؟ میں نے کہا کہ میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا تو اس نے وہ تمام چیزیں لے لیں اور ان کو ہانک کر لے گیا، ایک چیز بھی اس میں سے نہیں چھوڑی۔ اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا ہو تو جس مصیبت میں ہم ہیں اس کو ہم سے دور کر دے۔ '' چنانچہ وہ پتھر بالکل ہٹ گیا اور وہ اس سے باہر نکل کر چلے گئے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جھاڑ پھونک کر نے پر جو اجرت دی جائے
(۱۰۵۸)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے کچھ اصحاب کسی سفر میں گئے یہاں تک کہ عرب کے قبیلوں میں سے کسی قبیلہ میں جا کر اترے اور ان سے دعوت (مہمان نوازی) طلب کی مگر انھوں نے ان کی مہمانی کر نے سے انکار کر دیا پھر اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا تو لوگوں ہر قسم کی تدبیر کی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا ہو پھر کسی نے کہا کہ تم ان لوگوں (یعنی صحابہ کرامؓ) کے پاس جاؤ شاید ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو۔ چنانچہ وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ اے لوگو ! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے ہم نے ہر قسم کی تدبیر کی مگر کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہے؟ تو صحابہ (ﷺ) میں سے کسی نے (خود ابو سعیدؓ نے) کہا ہاں ۱ للہ کی قسم میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں مگر اللہ کی قسم ہم لوگوں نے تم سے دعوت طلب کی اور تم لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی لہٰذا میں تمہارے لیے جھاڑ پھونک نہ کروں گا یہاں تک کہ تم ہمارے لیے اجرت مقرر کرو۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ بکریوں پر ان کو رضا مند کر لیا پھر ان میں سے ایک شخص (ابو سعیدؓ) گئے اور ﴿اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِیْنَ ﴾ پڑھ کر پھونک دیا تو فوراً ہی وہ شخص تندرست ہو گیا،گویا اس کے بندھن کھول دیے گئے اور وہ اٹھ کر چلنے لگا (ایسا معلوم ہوا کہ) اسے کوئی بیماری نہ تھی۔ (ابو سعیدؓ) کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ان کی وہ اجرت جس پر ان کو راضی کیا تھا دے دی پھر بعض لوگوں نے کہا کہ (اس کو) بانٹ لو مگر جنہوں نے جھاڑ پھونک کی تھی انھوں نے کہا کہ ایسا نہ کرو یہاں تک کہ ہم نبیﷺ کے پاس پہنچ جائیں اور اس واقعہ کا آپﷺ سے ذکر کریں پھر دیکھیں کہ آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ چنانچہ جب وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' تم کو کیسے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ سے دم کیا جاتا ہے؟ '' اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا :'' تم نے اچھا کیا (اب جو کچھ ملا ہے اس کو) بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی لگاؤ۔ '' پھر نبیﷺ مسکرائے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نر جانور کا مادہ جانور سے ملاپ کرانے کی اجرت یا کر ایہ لینا
(۱۰۵۹)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے نر جانور کا مادہ جانور سے ملاپ کرانے کی اجرت یا کرایہ لینے سے منع فرمایا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
حوالہ کے مسائل کے بیان میں

باب۔ جب کسی مالدار پر حوالہ کیا جائے تو اس مالدار کو (حوالہ قبول کر لینے کے بعد) واپس کر دینے کا حق نہیں ہے۔
(۱۰۶۰)۔ سیدنا ابوہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' مالدار کا ادائے حق (یعنی قرض وغیرہ) میں دیر کرنا ظلم ہے اور جس شخص کو پیچھے لگا دیا جائے کسی مالدار کے (یعنی قرض اس کی طرف منتقل کر دیا جائے) تو اسے چاہیے وہ اسے قبول کر لے یعنی پیچھے لگ جائے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جب کوئی شخص کسی میت کے ذمہ قرض کو دوسرے (زندہ) کے حوالے کر دے تو جائز ہے
(۱۰۶۱)۔ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' کیا اس پر کچھ قرض ہے؟ '' لوگوں نے عرض کی کہ نہیں تو آپﷺ نے فرمایا :'' کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ ''لوگوں نے عرض کی کہ نہیں۔ پھر آپﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ! اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' کیا اس پر کچھ قرض ہے؟ ''عرض کی گئی کہ ہاں تین اشرفیاں ہیں۔ پس آپﷺ نے اس کی نماز پڑھا دی۔ پھر تیسرا جنازہ لیا گیا اور لوگوں نے عرض کی کہ اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ ''لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا :''کیا اس پر کچھ قرض ہے؟ '' لوگوں نے عرض کی کہ ہاں ! تین اشرفیاں قرض ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تم لوگ اپنے دوست کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا)۔ '' تو سیدنا ابو قتادہؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپﷺ اس کی نماز پڑھا دیجئیے اس کا قرض میں ادا کروں گا۔ پس آپﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
کفالت کے مسائل کا بیان

باب۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان '' جن سے تم نے قسم کھا کر قول و اقرار کیا ان کا حصہ ان کو دے دو''
(۱۰۶۲)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :'' حلف کی دوستی اسلام میں نہیں ہے؟ '' تو سیدنا انسؓ نے جواب دیا کہ بے شک نبیﷺ نے قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر کے اندر حلف کی دوستی کرائی تھی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص کسی میت کے قرض کی ضمانت دے تو اب اس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اپنی بات سے پھر جائے

(۱۰۶۳)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ مجھ سے) نبیﷺ نے فرمایا :’’ اگر بحرین کا مال آگیا تو میں تمہیں اس قدر (روپیہ) دوں گا مگر بحرین کا مال آنے نہ پایا تھا کہ نبیﷺ کی وفات ہو گئی پھر جب بحرین کا مال آیا تو امیر المومنین ابو بکر صدیقؓ نے اعلان کر و ا دیا کہ جس شخص سے نبیﷺ کا کچھ وعدہ ہو یا آپﷺ پر کسی کا کچھ قرض ہو وہ میرے پاس آئے چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ نبیﷺ نے مجھ سے ایسا فرمایا تھا تو امیر المومنین ابو بکر صدیقؓ نے مجھے ایک مٹھی بھر کر درہم دے دیے۔ میں نے ان کو گنا تو وہ پانچ سو تھے۔ پھر صدیق اکبرؓ نے کہا کہ اس کا دو گنا اور لے لو۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
وکالت کے بیان میں

باب۔ ایک شریک کا دوسرے شریک کے لیے تقسیم وغیرہ میں وکیل ہو جانا
(۱۰۶۴)۔ سیدنا عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انھیں کچھ بکریاں دیں تا کہ وہ صحابہؓ میں تقسیم کر دیں تو (تقسیم کے بعد) بکری کا ایک بچہ باقی رہ گیا۔ انھوں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اس کی قربانی تم کر لو۔ ''(وکیل کا مطلب نائب یا قائم مقام)۔
جب چرواہا یا وکیل کسی بکری کو دیکھے کہ مر رہی ہے یا دیگر کسی چیز کو دیکھے کہ وہ خراب ہو رہی ہے تو کیا جائز ہے کہ بکری کو ذبح کر دے اور جس چیز کے خراب ہو جانے کا خوف ہے اس کو درست کر دے؟

(۱۰۶۵)۔ سیدنا کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جو سلع (نامی پہاڑ) پر چرا کر تی تھیں تو ہماری ایک لونڈی نے ہماری کسی بکری کو مرتے ہوئے دیکھا تو اس نے ایک پتھر کو توڑ کراس بکری کو اس پتھر سے ذبح کر دیا تو سیدنا کعبؓ نے کہا کہ اس کو نہ کھاؤ جب تک میں نبیﷺ سے نہ پوچھ لوں یا (یہ کہا کہ) نبیﷺ کے پاس کوئی آدمی بھیجا ہے کہ (اس بارے میں) پوچھ کر آئے چنانچہ اس نے خود نبیﷺ سے اس کی بابت دریافت کیا یا کوئی قاصد بھیجا تو آپﷺ نے اس کے کھانے کا حکم فرما دیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قرض کے ادا کر نے میں وکیل کرنا جائز ہے
(۱۰۶۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس ایک شخص اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے آیا اور اس نے آپﷺ سے سخت کلامی کی تو صحابہ کرامؓ نے اس کو مارنے کا ارادہ کیا مگر رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اسے چھوڑ دو کیوں کہ صاحب حق کی گفتگو ایسی ہی ہوتی ہے۔ '' اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا :'' اسے اسی عمر کا اونٹ دے دو جس عمر کا اس کا اونٹ تھا۔ لوگوں نے عرض کی کہ اس عمر کا تو نہیں اس سے بہتر ہے تو آپﷺ نے فرمایا :'' اس کو وہی دے دو، اس لیے کہ تم میں اچھا شخص وہ ہے جو قرض کو اچھے طور پر ادا کرے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اگر کسی وکیل کو یا کسی قوم کے حق شفعہ رکھنے والے کو کوئی چیز دے دے تو جائز ہے
(۱۰۶۷)۔ سیدنا مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس جب قبیلہ ہوازن کے لوگ مسلمان ہو کر آئے تو آپﷺ کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے آپﷺ سے درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی انھیں واپس کر دیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' مجھے وہ بات پسند ہے جو سچی ہو، پس تم لوگ ایک بات اختیار کر لو یا قیدیوں کو واپس لے لو یا مال کو اور میں نے تو تمہارے انتظار میں مال غنیمت کی تقسیم دیر سے کی مگر تم اس وقت تک نہ آئے (جب آپﷺ طائف سے لوٹے تو دس روز سے بھی کچھ زیادہ دن تک ان کا انتظار کیا) پس انھیں معلوم ہو گیا کہ رسول اللہﷺ انھیں صرف ایک ہی چیز واپس دیں گے تو انھوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں کو واپس لیتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ مسلمانوں کی جماعت میں کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جس طرح اسے سزا وار ہے اس کے بعد فرمایا :'' اما بعد ! تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس دے دوں،لہٰذا جو خوشی سے دینا چاہے وہ خوشی سے دے دے اور جو اپنا حصہ قائم رکھنا چاہے اس طرح کہ اب جو پہلی فتح، اللہ ہم کو دے گا اس میں سے اس کا بدلہ لے لے تو وہ اسی شرط پر دے دے۔ ''لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم بلا معاوضہ اس کو منظور کرتے ہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کس نے منظور کیا اور کس نے نامنظور کیا، لہٰذا تم لوگ لو ٹ جاؤ اور تمہارے سر دار تمہارا پیغام میرے پاس لائیں۔ '' پس سب لوگ واپس ہو گئے اور ان سے ان کے سرداروں نے گفتگو کی۔ اس کے بعد وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ سے بیان کیا کہ سب لوگ خوشی سے منظور کرتے ہیں۔
 
Top