• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ دوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اس شخص کے گناہ کا بیان جو آزاد آدمی کو فروخت کر دے
(۱۰۴۶)۔ سیدنا ابو ہریر ہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :''تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن میں ان کا دشمن ہوں گا :وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد کرے مگر پھر اس کے خلاف کرے (۲) وہ شخص جو کسی آزاد آدمی کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھا جائے (۳)وہ شخص جو کسی مزدور کو اجرت پر لے کر اس سے پورا کام کر ائے اور پھر مزدوری نہ دے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
با ب۔ مردہ جانور اور بتوں کی خرید فروخت کیسی ہے؟
(۱۰۴۷)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے فتح مکہ کے سالِ رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :''بے شک اللہ نے اور اس کے رسول اللہﷺ نے شراب، مردہ جانور اور بتوں کو فروخت کرنا حرام کر دیا ہے۔ '' لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ : مردہ جانور کی چربی کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ کشتیوں میں لگائی جاتی ہے اور بھی حرام ہے۔ ''اس کے بعد اس وقت رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اللہ یہود کو غارت کرے جب اللہ نے چربی ان پر حرام کر دی تو انھوں نے چربی کو پگھلا کر فروخت کیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کتے کی قیمت (وصول کرنا کیسا ہے؟)
(۱۰۴۸)۔ سیدنا ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کتے کی قیمت، زنا کی اجرت اور کہانت کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
بیع سلم کے بیان میں

باب۔ ایک معین پیمانہ میں سلم کرنا کیسا ہے؟
(۱۰۴۹)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے اوراس وقت لوگ کھجوروں میں ایک سال اور دو سال کے لیے سلم کیا کرتے تھے تو آپﷺ نے فرمایا :''جو شخص کھجور میں سلم کرے اس کو چاہیے کہ ایک معین پیمانہ اور معین وزن کے حساب سے کرے۔ دوسری ایک روایت میں ابن عباسؓ سے ہی منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''معین پیمانہ میں مدت معین تک کے لیے (سلم) کرے۔ ''(اگر نقد رقم کچھ مدت پہلے ادا کر دی جائے اور جنس (فصل یا کوئی چیز) اس مدت کے بعد حا صل کی جائے تو اس کو ''سلم ''کہتے ہیں)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اس شخص سے سلم کرنا جس کے پاس اصل مال نہ ہو
(۱۰۵۰)۔ سیدنا ابن ابی اوفیؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے عہد اور ابو بکر صدیقؓ و عمر فاروقؓ کے دور میں گیہوں، جوار، انگور اور کھجور میں سلم کیا کرتے تھے۔ ''

(۱۰۵۱)۔ سیدنا ابن ابی اوفیؓ کہتے ہیں کہ ہم شام کے کسانوں سے گیہوں اور جو اور زیتون میں ایک معین پیمانہ کے حساب سے ایک معین مدت کے لیے سلم کیا کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ جس کے پاس اصل مال موجود ہوتا تھا اس سے (معاملہ) کرتے تھے تو سیدنا ابن ابی اوفیٰؓ نے جواب دیا کہ ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے (کہ تمہارے پاس اصل جنس ہے یا نہیں)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
شفعہ کے بیان میں

باب۔ بیع ہونے سے قبل شفعہ کو شفعہ کا حق رکھنے والے پر پیش کرنا
(۱۰۵۲)۔ سیدنا ابو رافعؓ نبیﷺ کے غلام سے روایت ہے کہ وہ فاتح ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ اے سعد !مجھ سے میرے وہ دونوں مکان جو آپ کے محلہ میں ہیں خرید لیجئیے۔ سیدنا سعدؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم !میں تو انھیں نہیں خریدوں گا۔ اس پر سیدنا مسورؓ (جن کو ابو رافعؓ نے ہی کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں میری مدد کریں) نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ تمھیں خریدنا ہو گا۔ تو سعدؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں ! تمھیں چار ہزار درہم سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی قسط وار۔ سیدنا ابو رافعؓ نے کہا کہ مجھے تو پانچ سو اشرفیاں ان دونوں کے عوض ملتی ہیں اور اگر میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو تا کہ پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے تو آپ کو چار ہزار درہم میں نہ دیتا کیوں کہ مجھ کو پانچ سو اشرفیاں ان دونوں کے عوض مل رہی ہیں۔ پس وہ دونوں مکان انھوں نے سیدنا سعدؓ کو دے دیے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کون سا پڑوسی شفعہ کا زیادہ حق دار ہے؟
(۱۰۵۳)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں،میں ان میں سے پہلے تحفہ تحائف کس کو بھیجا کروں؟ تو آپﷺ نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
فائدہ:شفعہ کہتے ہیں شریک یا ہمسائے کا حصہ، وقت بیع کے اس شریک یا ہمسائے کو جبراً منتقل ہونا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
اجرتوں کے بیان میں

باب۔ مرد صالح کو مزدوری پر لگانا (جائز ہے)
(۱۰۵۴)۔ ابوموسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا اور میرے ہمراہ دو اشعری (قبیلے کے) آدمی تھے (انھوں نے نبیﷺ سے کسی عہدہ کی خواہش کی)۔ میں نے عرض کی کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ کو ئی منصب چاہتے ہیں تو نبیﷺ نے فرمایا :'' جو کوئی عہدہ مانگے ہم اس کو ہر گز عہد نہیں دیتے۔ (یعنی عامل نہیں بناتے، نوکری نہیں دیتے)۔
بالعموم عہدہ کی طلب کو اچھا نہیں سمجھا گیا البتہ اس خوف کے پیش نظر کے پیش نظر کہ کوئی نا اہل اس مقام پر آ کر قوم کا نقصان نہ کر دے، اپنے آپ کو خدمت خلق کے جذبے سے پیش کرنا جائز ودرست ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ چند قیراط کی مزدوری پر بکریاں چرانا
(۱۰۵۵)۔ سیدنا ابو ہریرہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ ''تو صحابہؓ نے عرض کی کہ آپﷺ نے (بھی بکریاں چرائی ہیں؟) فرمایا :'' ہاں ! میں بھی کچھ قیراطوں کے عوض مکہ والوں کی بکریاں چرایا کر تا تھا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عصر کے وقت سے رات تک کے لیے کسی کو مزدوری پر لگانا
(۱۰۵۶)۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' مسلمانوں کی اور یہود و نصاریٰ کی حالت مثل اس شخص کے ہے جس نے کچھ لوگوں کو مزدوری پر لگایا کہ وہ دن پھر رات تک ایک معینہ اجرت کے اوپر اس شخص کا کام کریں۔ چنانچہ ان لوگوں نے دوپہر تک اس کا کام کیا اور کہنے لگے کہ ہمیں تیری مزدوری کی جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی کچھ حاجت نہیں اور جو کام ہم نے کیا وہ بھی رائیگاں ہے۔ اس شخص نے ان سے کہا کہ تم ایسا نہ کرو بلکہ اپنا باقی کام پورا کر و اور اپنی مزدوری پوری لو مگر انھوں نے انکار کیا اور اس شخص نے ان کے بعد دوسرے لوگوں کو اجرت پر لگا لیا کہ تم باقی دن پورا کر دو اور جو کچھ میں نے ان کے لیے مقرر کیا تھا وہ تمہیں ملے گا۔ چنانچہ انھوں نے کام کرنا شروع کیا یہاں تک کہ جب نماز عصر کا وقت آیا تو کہنے لگے کہ ہم نے جو کام کیا وہ بالکل بیکار رہا اور جو مزدوری اس کام کی تو نے مقرر کی تھی وہ تجھی کو مبارک (اب ہم تیرا کام نہ کریں گے) اس شخص نے کہا کہ اپنا باقی کام پورا کر دو اس لیے کہ اب دن تھوڑا ہی باقی رہ گیا ہے مگر ان لوگوں نے انکار کیا پھر اس شخص نے باقی دن میں کام کرانے کے لیے دوسرے لوگوں کو مزدوری پر لگایا۔ انھوں نے باقی دن میں کام کیا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا اور ان لوگوں نے دونوں فریقوں کی پوری مزدوری لے لی پس یہی مثال ہے ان لوگوں کی (بعض مسلمانوں کی) اور اس نور (ہدایت) کی جس کو انھوں نے قبول کیا۔
 
Top