Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ نبیﷺ کا سیدنا خالد بن ولیدؓ کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان۔
(۱۶۷۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کو نبی جذیمہ کی طرف روانہ کیا۔ سیدنا خالدؓ نے انھیں اسلام کی طرف بلایا۔ وہ اچھی طرح یوں نہ کہہ سکے کہ ہم اسلام لائے بلکہ گھبراہٹ میں کہنے لگے کہ ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔ سیدنا خالدؓ انھیں مارنے لگے اور بعض کو قید کر کے ہم میں سے ہر ایک کو ایک قیدی دے دیا۔ پھر ایک دن انھوں نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنے اپنے قیدی کو مار ڈالے۔ میں نے کہا کہ میں تو اپنے قیدی کو ہر گز نہ ماروں گا اور نہ میرا کوئی ساتھی اپنے قیدی کو مارے گا۔ جب ہم نبیﷺ کے پاس آئے تو آپ سے یہ قصہ بیان کیا تو نبیﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر کہا :'' اے اللہ ! میں خالد (رضی اللہ عنہ) کے فعل سے بری ہوں۔ '' دو بار آپﷺ نے یہی فرمایا۔
(۱۶۷۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کو نبی جذیمہ کی طرف روانہ کیا۔ سیدنا خالدؓ نے انھیں اسلام کی طرف بلایا۔ وہ اچھی طرح یوں نہ کہہ سکے کہ ہم اسلام لائے بلکہ گھبراہٹ میں کہنے لگے کہ ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔ سیدنا خالدؓ انھیں مارنے لگے اور بعض کو قید کر کے ہم میں سے ہر ایک کو ایک قیدی دے دیا۔ پھر ایک دن انھوں نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنے اپنے قیدی کو مار ڈالے۔ میں نے کہا کہ میں تو اپنے قیدی کو ہر گز نہ ماروں گا اور نہ میرا کوئی ساتھی اپنے قیدی کو مارے گا۔ جب ہم نبیﷺ کے پاس آئے تو آپ سے یہ قصہ بیان کیا تو نبیﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر کہا :'' اے اللہ ! میں خالد (رضی اللہ عنہ) کے فعل سے بری ہوں۔ '' دو بار آپﷺ نے یہی فرمایا۔