• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا سیدنا خالد بن ولیدؓ کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان۔
(۱۶۷۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کو نبی جذیمہ کی طرف روانہ کیا۔ سیدنا خالدؓ نے انھیں اسلام کی طرف بلایا۔ وہ اچھی طرح یوں نہ کہہ سکے کہ ہم اسلام لائے بلکہ گھبراہٹ میں کہنے لگے کہ ہم نے اپنا دین بدل ڈالا۔ سیدنا خالدؓ انھیں مارنے لگے اور بعض کو قید کر کے ہم میں سے ہر ایک کو ایک قیدی دے دیا۔ پھر ایک دن انھوں نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنے اپنے قیدی کو مار ڈالے۔ میں نے کہا کہ میں تو اپنے قیدی کو ہر گز نہ ماروں گا اور نہ میرا کوئی ساتھی اپنے قیدی کو مارے گا۔ جب ہم نبیﷺ کے پاس آئے تو آپ سے یہ قصہ بیان کیا تو نبیﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر کہا :'' اے اللہ ! میں خالد (رضی اللہ عنہ) کے فعل سے بری ہوں۔ '' دو بار آپﷺ نے یہی فرمایا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی اور سیدنا علقمہ بن مجز زمدلجیؓ کے سریہ کا بیان اور اسی کو سریۂ انصار بھی کہا جاتا ہے۔
(۱۶۷۵)۔ امیر المومنین سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا حاکم ایک انصاری کو بنایا اور سب کو اس کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ (راستے میں) اسے غصہ آیا تو کہنے لگا کہ کیا نبیﷺ نے تمہیں میری فرمانبرداری کرنے کا حکم نہیں دیا ؟ وہ بولے کہ ہاں ضرور دیا ہے۔ وہ انصاری بولا کہ تم میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ انھوں نے جمع کیں ، پھر کہا کہ آگ سلگاؤ ، انھوں نے آگ سلگائی ، پھر اس نے کہا کہ تم سب اس میں کود جاؤ۔ انھوں نے گھسنے کا ارادہ کیا اور بعض ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آگ (دوزخ) سے تو بھاگ کر نبیﷺ کے پاس آئے ہیں (اب اس میں کیونکر جل جائیں ؟) یونہی سب جھگڑتے رہے کہ اس عرصہ میں آگ بجھ گئی اور اس (انصاری) کا غصہ جاتا رہا۔ جب آپﷺ کو یہ خبر پہنچی تو فرمایا :'' اگر وہ اس آگ میں چلے جاتے تو قیامت تک اس میں سے نہ نکلتے کیونکر اطاعت کرنا اچھے کاموں میں لازم ہے (گناہ کے کام میں امام کی فرمانبرداری ضروری نہیں)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا سیدنا ابو موسیٰ اور سیدنا معاذؓ کو حجۃ الوداع سے پہلے یمن کی طرف روانہ کرنا۔
(۱۶۷۶)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انھیں سیدنا معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف روانہ کیا اور ہر ایک کو یمن کے ایک ایک حصے پر حاکم مقرر کیا اور یمن کے دو حصے ہیں۔ پھر فرمایا :'' تم لوگوں پر آسانی کرنا ، سختی نہ کرنا اور انھیں خوش رکھنا ، دین سے نفرت نہ دلانا۔ '' دونوں اپنے اپنے کام پر چلے گئے۔ (راوی ابو بردہ) کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو کوئی اپنے علاقے کا دورہ کرتے کرتے دوسرے ساتھی کے قریب آ جاتا تو ضرور ملاقات کر کے سلام کرتا تھا۔ ایک دفعہ سیدنا معاذؓ اپنی زمین میں گئے جو کہ ان کے ساتھی سیدنا ابو موسیٰؓ کے قریب تھی ، سیدنا معاذ بن جبل اپنے خچر پر سوار ہو کر سیدنا ابو موسیٰ کے پاس آئے ، (رضی اللہ عنہ) وہ بیٹھے ہوئے تھے اور بہت سے لوگ ان کے پاس جمع تھے ، وہاں ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے۔ تو سیدنا معاذؓ نے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! یہ کون ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ شخص اسلام لانے کے بعد پھر کافر ہو گیا ہے۔ سیدنا معاذ بن جبلؓ نے کہا کہ جب تک یہ قتل نہ کیا جائے میں خچر پر سے ہر گز نہ اتروں گا۔ سیدنا ابو موسیٰؓ نے کہا کہ یہ اسی لیے پکڑ کر لایا گیا ہے لہٰذا تم اتر آؤ۔ وہ بولے کہ میں تو اس قتل کیے جانے سے پہلے ہر گز نہ اتروں گا۔ پھر سیدنا ابو موسیٰؓ نے حکم دے کر اسے قتل کر وا دیا۔ تب وہ اترے اور کہا کہ اے عبداللہ ! تم قرآن کی تلاوت کس طرح کرتے ہو ؟ انھوں نے بتایا کہ میں تو تھوڑا تھوڑا ہر وقت پڑھتا رہتاہوں۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ اے معاذ! تم قرآن کی تلاوت کس طرح کرتے ہوَ؟ وہ بولے کہ میں اول شب سو جاتا ہوں پھر حسب معمول سو کر اٹھتا ہوں اور جس قدر اللہ کو منظور ہوتا ہے ، پڑ ھ لیتا ہوں اور میں سونے کا بھی ، عبادت کے برابر ثواب شمار کرتا ہوں۔ؓ

(۱۶۷۷)۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انھیں یمن کی طرف بھیجا تو انھوں نے رسول اللہﷺ سے شرابوں کے بارے میں دریافت کیا جو وہاں بنتی تھیں ، آپﷺ نے پوچھا۔ :'' وہ کون کون سی شرابیں ہیں ؟'' تو انھوں نے بتایا کہ شہد اور جو کی شرابیں۔ نبیﷺ نے فرمایا :'' ہر نشہ پیدا کرنے والی چیز حرام ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:نبیﷺ کا سیدنا علیؓ بن ابی طالب اور سیدنا خالد بن ولیدؓ کو حجۃ الوداع سے پہلے یمن بھیجنا
(۱۶۷۸)۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں سیدنا خالد بن ولیدؓ کے ساتھ یمن کی طرف روانہ کیا۔ پھر ان کی جگہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ کو بھیجا اور فرمایا :'' سیدنا خالدؓ کے ساتھ جو لوگ گئے تھے ان سے کہنا کہ ان میں سے جو تمہارے ساتھ جانا چاہے وہ یمن چلا جائے اور (جہاد کرے اور) جو چاہے مدینہ واپس چلا آئے تو میں بھی انہی میں سے تھا جو سیدنا علیؓ کے ساتھ یمن کی طرف چلے گئے تھے۔ پھر غنیمت سے بہت سے اوقیہ حصہ میں ملے تھے۔

(۱۶۷۹)۔ سیدنا بریدہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے سیدنا علیؓ کو سیدنا خالدؓ کے پاس خمس لینے کے لیے بھیجا اور میں نے انھیں برا سمجھا (کیونکہ انھوں نے ایک لونڈی سے صحبت کی اور) انھوں نے وہاں غسل کیا۔ میں نے سیدنا خالدؓ سے کہا کہ تم ان کو دیکھتے نہیں ؟ جب ہم نبیﷺ کے پاس آئے تو میں نے آپﷺ سے یہ قصہ بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اے بریدہ ! کیا تم علیؓ سے عداوت رکھتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں تو آپﷺ نے فرمایا:'' اے تو ان سے عداوت مت رکھ کیونکہ ان کا خمس میں سے اس سے بھی زیادہ حصہ ہے۔ (پھر وہ میرے محبوب بن گئے)۔ ''

(۱۶۸۰)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے رسول اللہﷺ کے پاس یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا صاف کیے ہوئے چمڑے میں رکھ کر بھیجا ، ابھی وہ سونا مٹی سے جدا نہیں کیا گیا تھا۔ اسے رسول اللہﷺ نے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا ، عینیہ بن بدر اور اقرع بن حا بس اور زید (عرف) خیل اور چوتھا علقمہ یا عامر بن طفیل (رضی اللہ عنہ)۔ آپﷺ کے صحابہؓ میں سے کسی نے کہا کہ ہم اس مال کے ان سے زیادہ مستحق ہیں۔ نبیﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا :'' کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ میں اس کا امانتدار ہوں جو آسمانوں میں ہے اور میرے پاس آسمان کی خبر صبح و شام آتی ہے۔ '' پھر کہتے ہیں کہ ایک شخص دھنسی ہوئی آنکھوں والا ، جس کے رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں ، اونچی ، پیشانی ، گھنی ڈاڑھی ، سرمنڈا ہوا ، اونچی ازار باندھے ہوئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! اللہ سے ڈرو۔ آپﷺ نے جواب دیا :'' اللہ تجھے ہلاک کر ے کیا میں ساری زمین والوں میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا نہیں ہوں ؟'' (پھر) کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص چلا گیا۔ سیدنا خالد بن ولیدؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ سیدنا خالدؓ بولے کہ بہت سے نمازی ایسے (منافق ہوتے ہیں) ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جوان کے دل میں نہیں ہوتی۔ آپﷺ نے فرمایا :'' اللہ نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں نقب لگا کر دیکھوں اور نہ یہ (حکم دیا) کہ میں ان کے پیٹ چیروں۔ '' پھر آپﷺ نے اس کی طرف دیکھا جب کہ وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا ، پھر کہا :'' اس شخص کی نسل سے وہ قوم نکلے گی جو قرآن کو مزے سے پڑھیں گے ، حالانکہ وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ لو گ دین سے ایسے خارج ہو جائیں گے جیسے تیر شکار (کے جسم) سے پار نکل جاتا ہے۔ ''(راوی کہتا ہے) میں گمان کرتا ہوں کہ آپﷺ نے یہ بھی کہا :'' اگر وہ قوم مجھے ملے تو میں انھیں قوم ثمود کی طرح قتل کر دوں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جنگ ذی الخلصہ کا بیان۔
(۱۶۸۱)۔ سیدنا جریرؓ کی حدیث اس بیان میں کہ '' نبیﷺ نے فرمایا :'' کیا تو مجھے ذی الخلصہ سے آرام نہ دے گا ؟'' پہلے گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث ۱۲۹۶)اس روایت میں سیدنا جریرؓ کہتے ہیں کہ ذی الخلصہ یمن میں قوم خثعم اور بجیلہ کا ایک مکان (بت خانہ) تھا ، جس میں بت رکھے تھے ، جن کی عبادت کی جاتی۔ (راوی نے) کہا کہ جب سیدنا جریرؓ یمن میں پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال کھولتا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ رسول اللہﷺ کا قاصد یہاں پر (موجود) ہے ، اگر اس کے تو ہتھے چڑھ گیا تو وہ تیری گردن اڑا دے گا۔ (راوی نے) کہا کہ اتفاقاً ایک دن وہ فال رہا تھا کہ اس کے پاس سیدناجریرؓ پہنچ گئے اور کہا کہ انھیں توڑ کر کلمہ شہادت۔۔ ''لا الہٰ الا اللہ '' پڑھ لے ورنہ میں تیری گردن اڑا دوں گا۔ راوی کہتا ہے کہ اس شخص نے انھیں توڑ کر کلمہ شہادت پڑھ لیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا جریرؓ کا یمن کی طرف جانا۔
(۱۶۸۲)۔ سیدنا جریرؓ کہتے ہیں کہ میں یمن میں تھا کہ یمن کے دو آدمیوں ذوکلاع اور ذوعمر و سے ملا اور میں ان سے رسول اللہﷺ کے بارے میں باتیں کرنے لگا۔ ذو عمر و نے مجھ سے کہا کہ جو کچھ تو بیان کرتا ہے اگر تیرے صاحب کے بارے میں درست ہے تو اسے تو وفات پائے ہوئے تین روز ہو گئے اور پھر دونوں میرے ہمراہ مدینہ آئے ، رستے میں کچھ سوار مدینہ کی طرف سے آتے ہوئے دکھائی دیے تو ہم نے ان سے پوچھا تو وہ بولے کہ رسول اللہﷺ نے وفات پائی اور سیدنا ابو بکرؓ برضا مندی عام خلیفہ ہو گئے اور باقی سب خیریت ہے۔ ان دونوں (ذو کلاع اور ذو عمرو) نے کہا کہ اپنے صاحب کو خبر کر دینا کہ ہم یہاں تک کہ آئے تھے ، اگر اللہ نے چاہا تو ہم پھر آئیں گے اور وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: جنگ سیف البحر (کنارۂ دریا) اس کا بیان۔
(۱۶۸۳)۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک لشکر سمندر کے کنارے روانہ کیا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ کو سپہ سالا ر مقرر کیا اور یہ تین سو (آدمی) تھے۔ ہم روانہ ہوئے۔ جب تھوڑی دور پہنچ گئے تو زاد راہ ختم ہو گیا۔ سیدنا ابو عبیدہؓ نے سب کے تو شے ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا تو وہ جمع کیے گئے ، میرا توشہ صرف ایک کھجور تھا ، وہ ہمیں روز تھوڑا تھوڑا دیتے رہے۔ پھر وہ بھی ختم ہو گیا تو ہمیں روزانہ صرف ایک ایک کھجور ملا کرتی۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے پوچھا کہ تمہارا ایک کھجور سے کیا پیٹ بھرتا ہو گا ؟ تو سیدنا جابرؓ نے کہا کہ جب وہ بھی ختم ہو چکی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی پھر ہم سمندر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مچھلی مثل پہاڑ کے موجود ہے پس لوگوں نے اس میں سے اٹھارہ راتوں تک کھایا پھر سیدنا ابوعبیدہؓ نے حکم دیا تو اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں ، وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ رکھ کر ان کے نیچے سے گزارا گیا تو وہ ان کے نیچے سے صاف صاف نکل گیا۔

(۱۶۸۴)۔ سیدنا جریرؓ دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ سمندر نے اللہ کے حکم سے ایک (مچھلی) جانور نکال پھینکا جسے عنبر کہتے ہیں ، آدھا مہینہ تک ہم اس کا گوشت کھاتے رہے اور اس کی چربی بدن پر لگاتے رہے تو ہمارے جسم پہلے جیسے موٹے تازے ہو گئے ، ایک اور روایت میں کہتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہؓ نے (ہم سے) کہا تم اسے کھاؤ۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو نبیﷺ سے بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا:'' کھالو ، یہ اللہ کا بھیجا ہوا رزق تھا ، اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ ''کسی نے آپﷺ کو لا کر دیا تو آپﷺ نے بھی کھایا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ غزوۂ عُیینہ بن حصن۔
(۱۶۸۵)۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ بنی تمیم کے سوار نبیﷺ کے پاس آئے۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا (یا نبی اللہ !) ان کاامیر قعقاء بن معبد بن زرارہ (رضی اللہ عنہ) کو بنا دیجیے ، سیدنا عمرؓ بولے (نہیں) بلکہ اقرع بن حابس (رضی اللہ عنہ) کو امیر بنائیے۔ سیدنا ابو بکرؓ بولے تم محض میری مخالفت کرنا چاہتے ہو (اور کوئی غرض نہیں)۔ سیدنا عمرؓ بولے کہ میری غرض تمہاری مخالفت کرنا نہیں۔ چنانچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ،اسی دوران یہ آیت نازل ہو ئی :'' اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسولﷺ سے آگے نہ بڑھو ''پوری آیت۔ (الحجرات :۱)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ بنی حنیفہ کے ایلیچیوں کا بیان اور سیدنا ثمانہ بن اثالؓ کا قصہ۔
(۱۶۸۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے نجد کی طرف کچھ سوار روانہ فرمائے تو وہ ایک شخص کو پکڑ لائے جو قوم بنی حنیفہ میں سے تھا اور اسے ثمامہ بن اثال کہتے تھے ، پھر اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبیﷺ نے اس کے پاس جا کر کہا :'' اے ثمامہ ! تیرا کیا خیال ہے ؟''(کہ میں تیرے ساتھ کیا کروں گا)وہ بولا کہ اے محمد ! میرا خیال بہتر ہے ، اگر آپ مجھے مار ڈالیں گے تو بھی کوئی قباحت نہیں کیونکہ میں نے بھی جنگ میں مسلمانوں کو مارا ہے اور اگر آپ احسان کر کے مجھے چھوڑ دیں گے تو میں آپ کا شکر گزار ہوں گا اور اگر آپ مال و دولت چاہتے ہوں تو وہ بھی حاضر ہے ، جتنا آپ چاہیں۔ یہ سن کر آپﷺ چلے گئے ، دوسرے دن پھر آپﷺ نے پوچھا :'' اے ثمامہ! تیرا کیا خیال ہے ؟'' وہ بولا کہ میرا خیال وہی ہے جو میں عرض کر چکا کہ اگر آپ احسان کر کے چھوڑ دیں گے تو میں شکر گزار ہوں گا۔ آپﷺ نے اس کو ویسا ہی بندھا رہنے دیا۔ پھر تیسرے دن پوچھا :'' اے ثمامہ! تیرا کیا گمان ہے ؟'' وہ بولا کہ وہی جو میں عرض کر چکا۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ثمامہ کو آزاد کر دو۔ '' لوگوں نے تعمیل کر کے چھوڑ دیا۔ ثمامہ ایک تالاب پر جو مسجد کے قریب تھا ، گیا اور غسل کر کے مسجد میں آیا اور کہنے لگا کہ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمدﷺ کے رسول ہیں ،اے محمد ! اللہ کی قسم مجھے تمام روئے زمین پر کسی کا چہرہ دیکھ کر اتنا غصہ نہیں آتا تھا جتنا آپ کا چہرہ دیکھ کر آتا تھا۔ اب آج کے دن آپ کا چہرہ مبارک سب سے زیادہ مجھ کو پسند ہے اور اللہ کی قسم آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین مجھے برا معلوم نہ ہوتا تھا اور اب آپ کا دین مجھے سب سے بھلا معلوم ہوتا ہے اور اللہ کی قسم ! میرے نزدیک آپ کے شہر سے برا کوئی شہر نہ تھا او راب آپ کا شہر میرے نزدیک سب شہروں سے بہتر ہو گیا ، آپ کے سواروں نے مجھ گرفتار کیا ، جب کہ میں عمرہ کے ارادہ سے جا رہا تھا ، اب آپ کیا فرماتے ہیں ؟ تو رسول اللہﷺ نے اسے مبارکباد دی اور اسے عمر ے کا حکم دیا۔ جب وہ مکہ میں آئے تو کسی نے اس سے کہا کہ تم بے دین ہو گئے ہو ؟ وہ بولے نہیں اللہ کی قسم بلکہ محمد رسول اللہﷺ کے ساتھ مسلمان ہو گیا ہوں اور اللہ کی قسم ! تمہارے پاس یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی نہ آنے پائے گا جب تک کہ نبیﷺ حکم نہ دیں گے۔

(۱۶۸۷)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں مسیلمہ کذاب نبیﷺ کے عہد میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد (ﷺ)اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ بنا دیں تو میں ان کی اطاعت کروں گا اور وہ اپنی قوم (بنی حنیفہ) کے اکثر لوگوں کو ہمراہ لایا تھا۔ رسول اللہﷺ ، خطیب انصار سیدنا بن قیس بن شماسؓ کے ہمراہ اس کے پاس تشریف لے گئے ، اس وقت آپﷺ کے دست مبارک میں شاخ خرما کی چھڑی تھی ، پھر آپﷺ مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں کے پاس ٹھہرے اور فرمایا :''اگر تو مجھ سے یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں گا اور اللہ نے جو تیری تقدیر میں لکھ دیا ہے ، تو اس سے بچ نہیں سکتا اور اگر تو مجھ سے منہ موڑے گا تو اللہ تجھے ہلاک کر دے گا اور میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو وہی ہے جس کا حال خواب میں مجھ سے بیان کیا گیا اور یہ ثابت بن قیس ہے جو تجھے میری طرف سے جواب دے گا۔ '' پھر آپﷺ تشریف لے آئے۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے اس قول کا مطلب دریافت کیا کہ '' تو وہی ہے جس کا حال خواب میں مجھ سے بیان کیا گیا ''تو سیدنا ابو ہریرہؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے :''ایک بار میں سویا ہوا تھا تو میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں میں دو کنگن دیکھے ، میں اس سے فکر مند ہوا۔ پھر خواب ہی میں بذریعہ وحی مجھے اشارہ ہوا کہ ان دونوں کو پھونک ماردو۔ میں نے ان دونوں کو پھانکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔ ان کی تعبیر میں نے یہ لی کہ دو جھوٹے شخص میرے بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے ، ایک اسود عنسی اور دوسرا مسیلمہ۔ ''

(۱۶۸۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' میں سو رہا تھا کہ اسی حالت میں زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے۔ مجھے یہ برا معلوم ہوا تو مجھے بذریعہ وحی کہا گیا کہ میں انھیں پھونک ماروں۔ تب میں نے انھیں پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ ان کنگنوں سے وہ دونوں کذاب مراد ہیں جن کے درمیان میں میں ہوں ، وہ دونوں صاحب صنعاء (یعنی اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) ہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اہل نجران (نصاریٰ) کا قصہ۔
(۱۶۸۹)۔ سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ دوسردار ان مجران عاقب (عبدالمسیح) اور سید (ایہم) رسول اللہﷺ کے پاس مباہلہ کرنے کے ارادے سے آئے۔ (راوی) کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ مباہلہ نہ کر کیونکہ اگر وہ نبی ہے اور ہم نے اس سے مباہلہ کیا تو اللہ کی قسم ہم اور ہماری اولاد ہمارے بعد کبھی فلاح نہ پائے گی۔ پھر ان دونوں نے عرض کی کہ جو آپ ہم سے طلب فرمائیں وہ ہم ادا کرتے رہیں گے ، لہٰذا آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار کو روانہ کر دیجیے اور ہمارے ساتھ امین کے علاوہ کسی اور (خائن) کو روانہ نہ کیجیے گا۔ آپﷺ نے جواب دیا :'' میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار شخص کو روانہ کروں گا جو واقعی امانت دار ہے۔ ''اصحاب رسول اللہﷺ دیکھنے لگے (کہ کون جاتا ہے) پھر آپﷺ نے فرمایا :'' اے ابو عبیدہ ابن جراح !کھڑا ہوا جا۔ '' جب وہ کھڑے ہو گئے تو آپﷺ نے فرمایا :''اس امت کا امین (معتبر اور دیانت دار) شخص یہ ہے۔ ''

(۱۶۹۰)۔ ایک روایت میں سیدنا انسؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''ہرامت کا ایک امین (معتمد) ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ جراح (رضی اللہ عنہ) ہے۔ ''
 
Top