Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول'' اور اس عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اب شک اس کا مرد جھوٹا ہے ''(النور :۸) کے بیان میں
(۱۷۵۷)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا ہلال بن امیہؓ نے رسول اللہﷺ کے سامنے اپنی عورت پر شریک بن سحماء سے (زنا کرنے کے بارے میں) تہمت لگائی تو نبیﷺ نے فرمایا :'' گواہ لا ورنہ تیری پیٹھ پر حد قذف (یعنی ۸۰کوڑے) لگے گی۔ '' اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی عورت سے کسی کو برا کام کرتے دیکھ لے تو وہ گواہ کس کو بنائے (اور کس کو گواہی کے واسطے بلاکر دکھائے ؟) آپﷺ یہی فرماتے رہے :'' گواہ لاؤ ورنہ تم پر حد لگے گی۔ '' تو ہلال نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ سزا سے بچا دے گا۔ اسی وقت جبریلؑ اترے اور یہ آیت نازل ہوئی'' اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بد کاری کی تہمت لگائی '' نبیﷺ نے پڑھا ، جب اس آیت پر پہنچے ''اگر اس کا شوہر سچا ہے ''(النور :۶۔ ۹)تو رسول اللہﷺ لوٹے اور سیدنا ہلال کی بیوی کو بلوایا اور ہلال بھی آئے اور انھوں نے لعان کی گواہیاں دیں۔ نبیﷺ فرماتے تھے :'' بلا شبہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کرے ؟پھر وہ عورت اٹھی ، اس نے (چار) گواہیاں دیں (یعنی چار مرتبہ یوں کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتی ہوں کہ میں سچی ہوں) اور جب پانچویں مرتبہ یہ کہنے کو ہوئی (کہ اگر میں جھوٹی ہو ں تو مجھے پر اللہ کی لعنت ہو) تو لوگوں نے اسے ٹھہرا دیا اور کہا یہ گواہی (اگر جھوٹ ہے) تو تجھے عذاب میں مبتلا کر ے گی۔ سیدنا ابن عباسؓ نے کہا کہ وہ ہچکچائی اور گردن جھکائی۔ جس سے ہم نے سمجھا کہ یہ اقرار کر لے گی (لیکن) پھر اس نے کہا کہ میں ہمیشہ کے لیے اپنی قوم کو رسوا نہیں کر سکتی اور پانچویں مرتبہ بھی یہ جملہ کہہ ہی دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا :'' دیکھو ! اگر اس کے سیاہ سرمگیں آنکھ ، موٹے سرین ، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہوا تو شریک بن سحماء کا نطفہ ہے۔ '' چنانچہ ایسا ہی بچہ پیدا ہوا ، تو اس وقت نبیﷺ نے فرمایا :'' اگر اللہ کا حکم نہ آیا ہوتا دیکھتے کہ میں اس عورت کا کیا حال کرتا۔ ''
(۱۷۵۷)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا ہلال بن امیہؓ نے رسول اللہﷺ کے سامنے اپنی عورت پر شریک بن سحماء سے (زنا کرنے کے بارے میں) تہمت لگائی تو نبیﷺ نے فرمایا :'' گواہ لا ورنہ تیری پیٹھ پر حد قذف (یعنی ۸۰کوڑے) لگے گی۔ '' اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی عورت سے کسی کو برا کام کرتے دیکھ لے تو وہ گواہ کس کو بنائے (اور کس کو گواہی کے واسطے بلاکر دکھائے ؟) آپﷺ یہی فرماتے رہے :'' گواہ لاؤ ورنہ تم پر حد لگے گی۔ '' تو ہلال نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ سزا سے بچا دے گا۔ اسی وقت جبریلؑ اترے اور یہ آیت نازل ہوئی'' اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بد کاری کی تہمت لگائی '' نبیﷺ نے پڑھا ، جب اس آیت پر پہنچے ''اگر اس کا شوہر سچا ہے ''(النور :۶۔ ۹)تو رسول اللہﷺ لوٹے اور سیدنا ہلال کی بیوی کو بلوایا اور ہلال بھی آئے اور انھوں نے لعان کی گواہیاں دیں۔ نبیﷺ فرماتے تھے :'' بلا شبہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کرے ؟پھر وہ عورت اٹھی ، اس نے (چار) گواہیاں دیں (یعنی چار مرتبہ یوں کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتی ہوں کہ میں سچی ہوں) اور جب پانچویں مرتبہ یہ کہنے کو ہوئی (کہ اگر میں جھوٹی ہو ں تو مجھے پر اللہ کی لعنت ہو) تو لوگوں نے اسے ٹھہرا دیا اور کہا یہ گواہی (اگر جھوٹ ہے) تو تجھے عذاب میں مبتلا کر ے گی۔ سیدنا ابن عباسؓ نے کہا کہ وہ ہچکچائی اور گردن جھکائی۔ جس سے ہم نے سمجھا کہ یہ اقرار کر لے گی (لیکن) پھر اس نے کہا کہ میں ہمیشہ کے لیے اپنی قوم کو رسوا نہیں کر سکتی اور پانچویں مرتبہ بھی یہ جملہ کہہ ہی دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا :'' دیکھو ! اگر اس کے سیاہ سرمگیں آنکھ ، موٹے سرین ، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہوا تو شریک بن سحماء کا نطفہ ہے۔ '' چنانچہ ایسا ہی بچہ پیدا ہوا ، تو اس وقت نبیﷺ نے فرمایا :'' اگر اللہ کا حکم نہ آیا ہوتا دیکھتے کہ میں اس عورت کا کیا حال کرتا۔ ''