• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۂ ہود
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' اور اس کا عرش پانی پر تھا۔۔۔ ''(ہود :۷) کا بیان
(۱۷۴۷)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو خرچ کر ، میں بھی تجھ پر خرچ کروں گا (تجھ کو دوں گا)۔ '' اور آپﷺ نے فرمایا :'' اللہ کا ہاتھ ٹھہرا ہوا ہے ، رات اور دن کا خرچ کرنا اسے خالی نہیں کر سکتا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب سے اس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے ، کتنا خرچ کر دیا ہو گا ؟ لیکن اس کے ہاتھ میں جو (خزانہ) تھا وہ کچھ کم نہیں ہوا اور (آسمان اور زمین کے بننے سے پہلے) اللہ کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں (عدل کا) ترازو ہے جس کے لیے چاہتا ہے جھکا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اٹھا لیتا ہے (رزق میں کمی زیادتی کرتا ہے)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' تیر رب کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وہ بستیوں کے رہنے والے ظالموں کو پکڑ تا ہے۔ ''(ھود :۱۰۲)
(۱۷۴۸)۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعر یؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اللہ ظالموں کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ '' اس کے بعد رسول اللہﷺ نے یہ آیت پڑھی :'' تیرے رب کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وہ بستیوں کے رہنے والے ظالموں کا پکڑتا ہے ، بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک اور نہایت سخت ہے۔ ''(سورۂ ھود: ۱۰۲)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۂ حجر
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' ہاں مگر چوری چھپے سننے کی کوشش کرے۔۔۔ ''(سورۂ حجر :۱۸)
(۱۷۴۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب اللہ تعالیٰ آسمانوں میں احکام صادر فرماتا ہے تو فرشتے اس کے حکم پر عاجزی سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں ، جیسے کہ زنجیر صاف پتھر پر چلا ؤ تو آواز آتی ہے۔ جب ان فرشتوں کے دلوں سے خوف کی حالت جاتی رہتی ہے تو ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ پروردگار نے کیا حکم فرمایا ؟ دوسرا کہتا ہے جو کچھ فرمایا حق ہے اور وہ بڑا بلند و برتر ہے۔ فرشتوں کی یہ باتیں چور ی سے بات اڑانے والے (شیطان) بھی سن لیتے ہیں اور وہ (زمین سے آسمان تک) اوپر تلے ہوتے ہیں۔ پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فرشتے خبر پا کر آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں ، وہ بات سننے والے کو اس سے پہلے جلا دیتا ہے کہ وہ اپنے نیچے والے کو بات پہنچائے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا اور وہ اپنے نیچے والے (شیطان) کو وہ بات پہنچا دیتا ہے (وہ اس سے نیچے والے کو) اس طرح وہ بات زمین تک پہنچا دیتے ہیں یا زمین تک آ پہنچتی ہے۔ پھر وہ بات نجومی کے منہ پر ڈالی جاتی ہے پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے۔ کوئی کوئی بات اس کی سچ نکلتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو اس نجومی نے ہمیں فلاں دن یہ خبر دی تھی کہ آئندہ ایسا ایسا ہو گا اور ویسا ہی ہوا ، اس کی بات سچ نکلی اور یہ (سچی بات) وہ ہوتی ہے جو (براہ راست) آسمان سے چرائی گئی تھی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۃ النحل
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اور تم میں ایسے بھی ہیں جو بد ترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔۔۔۔ ''(نحل : ۷۰)
(۱۷۵۰)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے :'' اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور سستی اور بد ترین عمر اور قبر کے عذاب اور دجال کے فتنے اور موت و حیات کے دیگر فتنوں سے (کہ مجھ کو ان سے بچا)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۃ بنی اسرائیل
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اے ان لوگوں کی اولاد ! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کر دیا تھا ، وہ ہمارا بڑی ہی شکر گزار بندہ تھا۔ ''(الا سراء :۳)
(۱۷۵۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس پکا ہوا گوشت لایا گیا تو دستی کا گوشت آپﷺ کو اٹھا کر دیا گیا ، وہ آپﷺ کو پسند تھا ، آپﷺ نے اس کو دانتوں سے پکڑا اور تناول فرمانے لگے ، پھر فرمایا :'' میں قیامت کے دن سب کا سردارہوں ، آیا تم جانتے ہو کہ کس وجہ سے ؟ اس لیے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلے پچھلے آدمیوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا اور (وہ میدان ایسا ہموار ہو گا کہ) پکارنے والا اپنی آواز ان کو سنا سکے اور دیکھنے والا ان سب کو دیکھ سکے گا ، سورج بہت قریب ہو گا ، اس وقت لوگوں کو ایسی ناقابل برداشت تکلیف اور غم ہو گا کہ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔ اس وقت لوگ آپس میں کہیں گے کہ دیکھو کیسی تکلیف ہو رہی ہے ، کوئی سفارشی شفیع تلاش کروجو پروردگار کے پاس تمہاری کچھ سفارش کرے۔ بعض کہیں گے کہ آدمؑ کے پاس چلو تو سب کے سب ان کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام آدمیوں کے باپ (ابو لبشر) ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے مبارک ہاتھوں سے بنایا ہے اور اپنی روح آپ میں پھونکی ہے اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ہے ، آپ ہماری شفاعت کیجیے۔ دیکھیے ہمیں کیسی تکلیف ہو رہی ہے اور ہمارا کیا حال ہو رہا ہے۔ آدمؑ کہیں گے کہ آج میرا رب اتنے غصہ میں ہے کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا غصہ ہوا ہو گا اور نہ اس کے بعد ایسا غصے میں آئے گا اور مجھے اس درخت کے پھل سے منع کیا تھا لیکن میں نے (کھا لیا اور) نافرمانی کی اور نفسی نفسی نفسی (مجھے تو خود اپنی پڑی ہے) کہیں گے اور پھر کہیں گے کہ تم کسی اور کے پاس جاؤ ، نوح کے پاس جاؤ۔ پھر وہ لوگ نوحؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم سب سے پہلے زمین پر نبی بن کر آئے ہو ، اللہ نے تمہارا نام عبداً شکوراً (شکر گزار بندہ) رکھا ہے ، ہماری شفاعت کرو ، ہمارا حال نہیں دیکھتے کہ کس تکلیف میں مبتلا ہیں ؟ وہ کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ اتنا غصے میں ہے کہ نہ تو ایسا پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد ہو گا اور میرے واسطے ایک دعا کا حکم تھا کہ وہ مقبول ہو گی وہ میں اپنی امت کے لیے مانگ چکا (وہ مقبول دعا اپنی قوم پر بد دعا کی شکل میں کر چکا ہوں جس سے وہ ہلاک ہو گئی تھی) اور نفسی نفسی (مجھے تو اپنی بھی فکر ہے) کہیں گے اور کہیں گے کہ کسی اور کے پاس جاؤ ، ابراہیمؑ کے پاس جاؤ تو سب ابراہیمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور ساری زمین والوں میں اس کے خلیل (جانی دوست) ہیں آپ پروردگار کے ہاں ہماری شفاعت کیجیے ہمارا حال نہیں دیکھتے کیسا خراب ہو رہا ہے ؟ وہ کہیں گے کہ آج کے دن اللہ تعالیٰ بہت غصے میں ہے اتنا غصے میں کہ نہ تو اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور میں نے تین جھوٹ بولے تھے (پھر کہیں گے) نفسی نفسی نفسی (مجھے تو اپنی پڑی ہے)، تم میرے علاوہ کسی دوسرے کے پاس جاؤ ، اچھا موسیٰ کے پاس جاؤ تو وہ لوگ موسیٰؑ کے پاس آئیں گے۔ اور کہیں گے کہ اے موسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت اور کلام سے تمام لوگوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے ، آپ پروردگار سے ہماری سفارش کیجیے ، دیکھیے ہماری کیسی (بری) حالت ہے تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ آج تیرا رب بہت غصے میں ہے ، اتنا غصے میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا اور (مجھ سے ایک گناہ ہوا تھا) میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا ، جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں ملا تھا ، پھر کہیں گے نفسی نفسی نفسی (مجھے تو اپنی پڑی ہے) ، تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ (ایسا کرو کہ) تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ تو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ ! آپ اللہ کے رسول اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو اس نے مریمؑ کی طرف ڈالا تھا اور اس کی روح ہیں اور آپ نے گود میں رہ کر بچپن میں لوگوں سے باتیں کی ہیں ، آپ ہمارے لیے شفاعت کیجیے (کہ اللہ ہم کو اس میدان حشر کی ہولناکیوں سے نجات دے) دیکھیے ہم کیسی (بری) حالت میں ہیں تو عیسیٰؑ کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غصے میں ہے ، اتنا غصے میں کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا ، پھر وہ اس کے بعد اپنا کوئی گناہ بیان نہ کریں گے ، وہ بھی نفسی نفسی نفسی (مجھے تو اپنی فکر دامن گیر ہے) کہیں گے اور کہیں گے کہ تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ (میرے خیال میں) تم محمدﷺ کے پاس جاؤ تو وہ لوگ محمد کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے محمد ! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الابنیاء ہیں ، اور بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے ہیں ، اللہ سے ہماری شفاعت کیجیے ، دیکھیے تو سہی کہ ہمیں کیسی تکلیف ہے۔ (رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ) :'' میں یہ سنتے ہی (میدان حشر سے) چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر سجدے میں گر پڑوں گا ، اللہ تعالیٰ اپنی تعریف اور خوبی کی وہ وہ باتیں میرے دل میں ڈال دے گا (میری زبان سے نکلوائے گا) جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں بتلائیں ، پھر حکم ہو گا کہ اے محمد ! سر اٹھا اور مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا جس کی سفارش کرے گا قبول کی جائے۔ میں سر اٹھا کر عرض کروں گا اے میرے رب ! میری امت پر رحم فرما ، اے میرے رب میری امت پر رحم فرما، اے رب ! میری امت پر رحم فرما۔ حکم ہو گا کہ اے محمد ! اپنی امت میں سے جن لوگوں پر کوئی حساب کتاب نہیں ان کو جنت کے داہنے دروازے سے داخل کرو اور انھیں یہ بھی اختیار ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح اس دروازے کے علاوہ باقی دروازوں سے بھی جاسکتے ہیں۔ ''پھر آپﷺ نے فرمایا :'' جنت کے ایک دروازے کی چوڑائی ایسی ہے۔ جیسے مکہ اور حمیر (یعنی صنعا جو یمن کا دارالحکومت ہے) کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ او ربصریٰ (ملک شام) کے درمیان کا فاصلہ۔ (راوی کا شک ہے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم کو (روز قیامت) مقام محمود (قابل تعریف مقام) پر کھڑا کر ے گا۔ '' کا بیان (الا سراء :۸۹)
(۱۷۵۲)۔ سیدنا ابن عمرؓ نے کہا تمام آدمی قیامت کے دن گر وہ گروہ ہو جائیں گے اور ہر گروہ کے لوگ اپنے اپنے نبی کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے فلاں نبی ! ہماری شفاعت کر و ، اے فلاں نبی ! ہماری شفاعت کرو اور آخر کا رسفارش رسول اللہﷺ پر آن ٹھہر ے گی (باقی سب پیغمبر جواب دے دیں گے) یہی وہ دن ہے جس دن کہ اللہ آپﷺ کو مقام محمود پر اٹھائے گا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول ''تو اپنی نماز نہ بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل ہی آہستہ۔ '' (الا سراء ۱۱۰)
(۱۷۵۳)۔ سیدنا ابن عباسؓ نے کہا یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبیﷺ مکہ میں (کافروں کے) خوف سے پوشیدہ تھے ، آپﷺ جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تو بلند آواز سے قرآن پڑھتے تو جب مشرک لوگ اس کو سنتے تو قرآن کو اور اس کو نازل کرنے والے اور جو اسے لے کر آیا ، سب کو برا کہتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو یہ حکم دیا کہ '' تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے نہ پڑھ '' یعنی (قرآن) ایسی آواز سے نہ پڑھو جو مشرک لوگ سن کر برا کہیں ' ' اور نہ بالکل ہی آہستہ '' کہ تیرے اصحاب (مقتدی) بھی نہ سن سکیں '' بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کر لے۔ ''(یعنی درمیانی آواز سے پڑھا کرو)۔ (الاسراء:۱۱۰)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۃ الکہف
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی نشانیوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا۔۔۔ ''(الکہف :۱۰۵)کا بیان
(۱۷۵۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' قیامت کے دن ایک بڑا فربہ آدمی آئے گا لیکن وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی نہ ہو گا۔ '' پھر فرمایا :'' یہ آیت (مذکورہ بالا) پڑھو '' پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ ''(اس کا یہی مطب ہے ، سورۃ الکہف آیت :۱۰۵)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۃ مریم
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' آپﷺ ان لوگوں کو اس حسرت وافسوس کے دن سے ڈرایئے۔۔۔ ''(مریم :۳۹)
(۱۷۵۵)۔ سیدنا ابوسعید خدریؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' قیامت کے دن موت ایسے مینڈھے کی صورت میں لائی جائے گی ، جو چت کبرا ہو گا ، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اے بہشت والو ! وہ گردن اٹھائیں گے اور ادھر دیکھیں گے تو وہ (فرشتہ) کہے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے اور سب نے اسے (اپنے مرتے وقت) دیکھا تھا (اس لیے پہچان لیں گے) پھر وہ پکارے گا کہ اے دوزخ والو ! وہ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھیں گے تو وہ (فرشتہ) کہے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے ، ان سب نے بھی (مرتے وقت) اسے دیکھا تھا پھر اسی وقت موت ذبح کر دی جائے گی او ر وہ (فرشتہ) کہے گا کہ اے اہل جنت ! تم اب ہمیشہ جنت میں رہو گے ، کسی کو موت نہ آئے گی اور اے اہل دوزخ ! تم اب ہمیشہ دوزخ میں رہو گے کسی کو موت نہ آئے گی (تب اس وقت دوزخی حسرت کریں گے)۔ '' پھر (رسول اللہﷺ نے) یہ آیت پڑھی۔ '' (اے محمد !) ان لوگوں کو اس حسرت وافسوس کے دن سے ڈرائیے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت ہی میں رہ جائیں گے۔ ''یعنی دنیا کے لوگ غفلت میں پڑ ے ہوئے ہیں۔ '' اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ ''(سورۂ مریم : ۳۹)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۃ النور
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور سوائے ان کی اپنی ذات کے اور کوئی ان کا گواہ نہ ہو۔ ''(النور :۸)کے بیان میں
(۱۷۵۶)۔ سیدنا سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عویمر ، سید نا عاصم بن عدی کے پاس آئے (رضی اللہ عنہ) اور کہا کہ جو شخص اپنی عورت کے پاس کسی غیر آدمی کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لے تو کیا وہ اس کو مار ڈالے ؟ (اگر مار ڈالا تو) پھر تم لوگ بھی اس کو (قصاص میں) مار ڈالو گے ، نہ مارے تو پھر کیا کرے ؟ یہ (مسئلہ) میرے لیے رسول اللہﷺ سے پوچھو۔ سیدنا عاصمؓ نبیﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ سے پوچھا لیکن رسول اللہﷺ نے ایسے مسائل کو پوچھنا پسند نہ کیا اور اسے برا سمجھا ، پھر سیدنا عویمرؓ نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ نبیﷺ نے ایسی باتوں کے پوچھنے کو ناپسند فرمایا ہے۔ سیدنا عویمرؓ نے کہا کہ واللہ میں ہر گز باز نہ آؤں گا جب تک کہ مسئلہ کو رسول اللہﷺ سے نہ پوچھ لوں اور نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو (بدکاری کرتے ہوئے) دیکھے تو کیا وہ اس کو قتل کر دے ؟ (اگر قتل کر دے) تو آپ اس کے قاتل کو (قصاص) میں قتل کر دیں گے۔ تو اب بتلایئے کہ وہ شخص اب کیا کرے ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیر ی بیوی کے بارے میں قرآن اتارا۔ سیدنا عویمرؓ نے اپنی بیوی سے ملاعنہ کیا اور پھر کہا کہ یارسول اللہﷺ اگر میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھوں تو گویا کہ میں نے اس پر ظلم کیا یعنی جھوٹا الزام لگایا۔ پس سیدنا عویمرؓ نے اسے طلاق دے دی۔ (راوی کہتے ہیں کہ) اس قصہ کے بعد ایسے شوہر اور بیوی میں ، جو ملاعنہ کریں یہی طریقہ قائم ہو گیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' دیکھو ! اگر اس عورت (عویمر کی بیو ی) کے کالا ، بڑی بڑی سیاہ آنکھ ، بڑے سرین ، موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو تو میں سمجھوں گا کہ بے شک عویمرؓ نے اپنی بیوی پر جھوٹی تہمت لگائی (کیونکہ یہ صفتیں عویمرؓ میں تھیں) ''آخر اس عورت کا بچہ اس شکل کا ہوا جس میں رسول اللہﷺ نے سیدنا عویمرؓ کی تصدیق کی تھی (یعنی سانولا ، کالی آنکھوں ، بڑے سرین اور موٹی پنڈلیوں والا) تو وہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب کیا گیا (باپ کے نام سے کوئی نہ پکارتا)۔
 
Top