• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
فضائل قرآن کے بیان میں

وحی کیونکر اتری اور پہلے کیا نازل ہوا؟
(۱۸۰۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' جتنے پیغمبر گزرے ہیں ان میں سے ہر ایک کو ایسے ایسے معجزے دیے گئے جن کو دیکھ کر لوگ ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ دیا گیا وہ وحی (قرآن) ہے جس کو اللہ نے مجھ پر وحی (کے ذریعے نازل) کیا ہے (پہلے تمام معجزوں کا اثر وقت کے ساتھ ختم ہو گیا اور یہ معجزہ (قرآن دائمی ہے پس مجھے امید ہے کہ میری امت کے لوگ قیامت کے روز تمام انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوں گے۔

(۱۸۰۷)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ اللہ نے اپنے رسول اللہﷺ پر (ان کی) وفات سے پہلے پے درپے وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ وفات کے قریب تو بکثرت وحی نازل ہوئی پھر اس کے بعد رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قرآن مجید سات لغتوں (قرأتوں) پر نازل ہوا ہے
(۱۸۰۸)۔ امیر المومنین عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی حیات مبارکہ میں سیدنا ہشام بن حکیمؓ کو سورۂ فرقان پڑھتے ہوئے سنا ، میں نے غور سے سنا تو دیکھا کہ وہ ایسے کئی دوسرے طریقوں سے پڑھ رہے ہیں جن طریقوں سے رسول اللہ نے یہ سورت نہیں پڑھائی تھی (مجھے غصہ آگیا) قریب تھا کہ میں نماز ہی میں ان پر حملہ کرتا لیکن میں نے صبر کیا ، یہاں تک کہ جب انھوں نے سلام پھیر لیا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال لی اور کہا کہ یہ سورت تمہیں کس نے پڑھائی ہے جو میں نے تمہیں پڑھتے ہوئے سنا؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ نے سکھائی ہے۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو مجھے تو خود رسول اللہﷺ نے یہ سورت دوسرے طریقوں سے سکھائی ہے پھر میں انھیں کھینچتا ہوا رسول اللہﷺ کے پاس لے آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں نے انھیں سورۂ فرقان اور ہی طریقہ سے پڑھتے سنا ہے جس سے آپ نے مجھے نہیں پڑھائی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''اسے چھوڑ دو (اور کہا کہ)اے ہشام !پڑھو تو سہی۔ ''
انھوں نے اس اسی طریقے سے پڑھا جیسے میں نے انھیں پڑھتے ہوئے سنا تھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ '' پھر فرمایا :'' اے عمر ! اب تم پڑھو۔ '' میں نے اس طریقے سے جو آپﷺ نے مجھے سکھایا تھا ، پڑھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :''اسی طرح نازل ہوئی ہے ، بے شک یہ قران سات طریقوں (لغتوں) پر اترا ہے پس تم اسی طریقے سے پڑھو جو تمہیں آسان معلوم ہوا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جبریلؑ نبیﷺ سے قرآن کا دور کیا کرتے (یعنی قرآن پڑھایا کرتے تھے)۔
(۱۸۰۹)۔ سیدہ فاطمہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے آہستہ (آواز) سے فرمایا :' جبریل ؑہر سال قرآن کا ایک بار دور میرے ساتھ کیا کرتے تھے اور اس سال دو بار دور کیا ، میں سمجھتاہوں کہ میری موت کا وقت آن پہنچا ہے۔ ''

(۱۸۱۰)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے قرآن کی ستر سے زیادہ سورتیں خود رسول اللہﷺ کے دہنِ مبارک سے سیکھی ہیں۔

(۱۸۱۱)۔ سیدنا ابن مسعودؓ ہی روایت ہے کہ وہ (شام کے شہر) حمص میں تھے ، وہاں انھوں نے سورۂ یوسف پڑھی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ سورت اس طرح نہیں اتری (جس طرح تم نے پڑھی) سیدنا ابن مسعودؓ نے کہا کہ میں نے یہ سورت رسول اللہﷺ کے سامنے پڑھی تو آپﷺ نے فرمایا :'' بہت اچھی پڑھی۔ '' اور (سیدنا ابن مسعودؓ نے) اس کے منہ سے شراب کی بو محسوس کی تو فرمایا :'' کیا ادھر تو کتاب اللہ کو جھٹلاتا ہے اور ادھر شراب کے مزے اڑاتا ہے ؟ پھر اس کو حد لگائی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
(۱۸۱۲)۔ سید نا ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی کو ﴿قُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَدٌ﴾(سورۂ اخلاص) بار بار پڑھتے ہوئے سنا، پس وہ صبح کو رسول اللہﷺ کے پاس آیا ور یہ بیان کیا ، گو یا کہ وہ شخص ﴿قُلْ ھُوَاﷲُ اَحَدٌ﴾ کو (بوجہ قلتِ الفاظ کے ثواب میں) قلیل جانتا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بے شک یہ سورۃ ﴿قُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَد﴾ تہائی قرآن کے برابر ہے۔ ''

(۱۸۱۳)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ ہی سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اپنے اصحاب سے (بطور استفہام انکاری)کہا کہ کیا یہ مشکل ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک رات میں تہائی قرآن پڑھے ؟ ان (اصحابہؓ)کویہ دشوار معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ہم میں سے کس کو اتنی طاقت حاصل ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' سورۂ اخلاص جس میں '' اللہ واحدصمد ''کی صفات مذکور ہیں ، تہائی قرآن (کے برابر) ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ معوذات (سورۂ فلق اور الناس) کی فضیلت کا بیان
(۱۸۱۴)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ ہر رات کو ، جب (سونے کے لیے) اپنے بستر پر جاتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر قُلْ ھُوَ اﷲُ أَ حَدٌ ، قُلْ أَعُوْ ذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعْوذُ بِرَ بّ النَّاس پڑھ کر (پھونک مارتے) دم کرتے تھے پھر انھیں اپنے تمام بدن پر جہاں تک ہو سکتا پھیرتے تھے۔ پہلے اپنے سر مبارک اور چہرۂ مبارک پر پھیرتے اور بعد ازاں اپنے تمام اگلے تمام جسم پر پھرتے اور آپﷺ تین مرتبہ ایسا ہی کرتے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت سکینت اور فرشتوں کا نازل ہو نا
(۱۸۱۵)۔ سیدنا اسید حضیرؓ کہتے ہیں کہ وہ ایک رات سورۂ بقرہ پڑھ رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے قریب بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بد کنے لگا ، وہ خاموش ہو گئے تو گھوڑا ٹھہر گیا ، انھوں نے پھر پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر بدکنے لگا وہ پھر خاموش ہو گئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا ، وہ پھر پڑھنے لگے تو گھوڑا پھر بدکنے لگا ، پھر وہ رک گئے (تلاوت چھوڑ دی) اور ان کا بیٹا یحییٰ گھوڑے کے قریب (لیٹا ہوا) تھا انھیں ڈر ہوا کہ گھوڑا اسے کچل نہ ڈالے۔ جب اسے وہاں سے ہٹا لیا اور آسمان کی طرف نگاہ کی تو آسمان دکھائی نہ دیا۔ انھوں نے صبح کو نبیﷺ سے آ کر بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اے ابن حضیر ! تو پڑھتا رہتا ، اے ابن حضیر ! تو پڑھتا رہتا۔ '' وہ بولے کہ یا رسول اللہ ! یحییٰ گھوڑے کے قریب لیٹا تھا ، مجھے خوف ہوا کہ کہیں گھوڑا یحییٰ کو کچل نہ دے پس میں نے سر اٹھا یا اور اس (یحییٰ) کی طرف لوٹ گیا پھر میں نے اپناسر آسمان کی طرف اٹھایا تو ایک عجیب سی چھتری نما بادل جس میں بہت سے چراغ روشن تھے ، مجھے دکھائی دی ، پھر میں باہر نکل آیا یہاں تک کہ وہ میری نظر سے غائب ہو گیا ، آپﷺ نے فرمایا :'' تجھے معلوم ہے کہ وہ کیا تھا ؟'' انھوں نے کہا '' جی نہیں '' تو آپﷺ نے فرمایا :'' وہ فرشتے تھے تیری آواز سن کر تیرے پاس آ گئے تھے ، اگر تو صبح تک پڑھتا رہتا تو دوسرے لوگ بھی انھیں (کھلم کھلا) دیکھ لیتے اور وہ ان کی نظر سے غائب نہ ہوتے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قرآن پڑھنے والے والے پر رشک کرنا
(۱۸۱۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' رشک صرف دو چیزوں میں جائز ہے ایک تو اس شخص پر کہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اسے رات اور دن میں پڑھتا رہتا ہو تو اس کا پڑوسی سن کر کہے کہ کاش ! مجھے بھی اس کے مثل (قرآن) نصیب ہوتا تو بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح وہ کرتا ہے اور دوسرے اس شخص پر کہ جسے اللہ نے مال عطا کیا اور وہ اس کو راہ حق میں خرچ کرتا ہو پھر کوئی شخص (بطور رشک) کہے کہ کا ش ! مجھے بھی اسی طرح مال و دولت ملتی جس طرح فلاں کو دی گئی تو میں بھی اسی کی طرح (راہ حق میں) خرچ کرتا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ تم میں سے بہتر ین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
(۱۸۱۷)۔ سیدنا عثمانؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔

(۱۸۱۸)۔ سیدنا عثمانؓ ہی دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' تم میں افضل (بزرگی والا) وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قرآن مجید کو حفظ کرنا اور ہمیشہ تلاوت کرتے رہتا۔
(۱۸۱۹)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' قرآن (حفظ کر نے اور پڑھنے) والے کی مثال رسی میں بندھے ہوئے اونٹوں کے مالک کی سی ہے کہ اگر وہ ان کی حفاظت کرے گا تو وہ انھیں روکے رکھے گا اور اگر (حفاظت کرنا) چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائیں گے۔ ''

(۱۸۲۰)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' یہ بات بری ہے کہ تم میں سے کوئی کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ (یہ کہے کہ) وہ آیت مجھے بھلا دی گئی اور قرآن کو پڑھتے رہو کیونکہ وہ آدمیوں کے سینے سے نکل جانے میں اونٹوں سے بھی زیادہ تیز (بھاگنے والا) ہے۔''

(۱۸۲۱)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' قرآن ہمیشہ پڑھتے رہو ، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے ! قرآن آدمیوں کے سینے سے رسی تڑوا کر بھاگنے والے اونٹ سے بھی زیادہ تیز بھاگتا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: قرآن کو شدومد کے ساتھ (کھینچ کر) پڑھنا۔
(۱۸۲۲)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے پوچھا گیا کہ نبیﷺ کی قرأت کیسی تھی ؟ انھوں نے کہا کہ کھینچ کر (لمبا کر کے) پڑھتے تھے پھر (سیدنا انسؓ نے) بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی (اس میں) بسم اللہ کو کھینچا اور الرحمن اور الرحیم کو بھی کھینچ کر (لمبا کر کے) پڑھا۔
 
Top