باب: قرآن کتنی مدت میں مکمل پڑھنا چاہیے ؟
(۱۸۲۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر وؓ کہتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا عمرو بن عاص) رضی اللہ عنہ نے ایک اچھے خاندان کی عورت سے مرا نکاح کر دیا تھا اور وہ اپنی بہو سے (اکثر اوقات) اس کے شوہر کا (میرا) حال پوچھتے رہتے ، وہ جواب دیتی ہاں ہاں اچھا اور نیک آدمی ہے مگر جب سے میں آئی ہوں کہ میرے تو بچھو نے پر کبھی قدم بھی نہیں رکھا اور نہ میرے قریب آیا۔ جب ایک عرصہ گزر گیا تو (میرے والد نے) نبیﷺ سے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اسے میرے پاس لاؤ ؟ '' میں (آپ کے بلانے سے) آپﷺ کے پاس گیا تو آپﷺ نے پوچھا تو روزے کس طرح رکھتا ہے ؟ '' میں نے کہا روزانہ (رکھتا ہوں) پھر فرمایا :'' تو قرآن کیونکر مکمل کرتا ہے ؟ '' میں نے کہا ہر رات۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور مہینے بھر میں قرآن مکمل پڑھا کر و۔ '' میں نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ طاقت حاصل ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ایک ہفتہ میں تین روزے رکھ لیا کر۔ '' میں نے کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت حاصل ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ہمیشہ دو دن افطار کیا کہ اور ایک دن روزہ رکھا کر۔ '' میں نے کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت حاصل ہے تو آپﷺ نے فرمایا :'' اچھا ! سب روزوں سے افضل روزہ داؤدؑ کا اختیار کر یعنی ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر اور سات راتوں میں قرآن مکمل کر۔ ''(سیدنا عبداللہ بن عمر وؓ کہتے ہیں) کا ش! میں رسول اللہﷺ کی رخصت منظور کر لیتا کیونکہ اب میں بوڑھا اور ضعیف ہو گیا ہوں (مجھ میں وہ طاقت نہ رہی) پھر وہ قرآن کا ساتواں حصہ (ایک منزل) اپنے گھر والوں سے کسی کو دن میں سنا دیا کرتے تھے۔ جو منزل رات کو پڑھنا ہوتی وہ دن میں دہرا لیتے تا کہ رات کو اس کا پڑھنا آسان ہو جائے اور جب کمزور ہو جاتے اور طاقت حاصل کرنا چاہتے تو کئی روز تک مسلسل روزہ رکھتے پھر (وہ دن) شمار کر کے اتنے روزے رکھ لیتے ، انھیں یہ برا معلوم ہوتا کہ کہیں کوئی امر ایسا رہ جائے جو وہ رسول اللہﷺ کے سامنے کیا کرتے تھے۔