• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کی زرہ ،عصا ، پیالہ اور انگوٹھی کی بابت کیا ذکر کیا گیا ہے ؟ اور آپﷺ کے بعد آپﷺ کے خلفاء نے ان میں سے کون کون سی چیزیں استعمال کیں ، ان کو تقسیم نہیں کیا اور آپﷺ کے بال مبارک اور آپﷺ کا جوتا اور آپﷺ کے برتنوں میں سے ، جن کو آپﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کے صحابہؓ اور دوسرے مسلمانوں نے متبرک سمجھا۔
(۱۳۱۹)۔ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے دو جوتے بغیر بال کے چمڑے کے صحابہ کرامؓ کے سامنے نکالے ، جن پر دو تسمے لگے ہوئے تھے ، اور بیان کیا کہ وہ نبیﷺ کے جوتے تھے۔

(۱۳۲۰)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ نے ایک چادر (جسے) ملبدہ (کہتے ہیں) نکالی اور کہا کہ اسی کو اوڑھے ہوئے رسول اللہﷺ نے وفات پائی۔

(۱۳۲۱)۔ ایک روایت میں ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک موٹا تہبند ، اس قسم کا جیسا کہ اہل یمن بناتے ہیں اور ایک چادر اسی قسم کی جس کو ملبدہ کہتے ہیں ، نکالی (کہ یہ رسول اللہﷺ کی ہے)۔

(۱۳۲۲)۔ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا پیالہ جب ٹوٹ گیا تو آپﷺ نے ٹوٹے ہوئے مقام پر چاندی کا ایک تار لگا لیا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا (سورۂ انفال میں یہ) فرمانا '' پس مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے ہے ''
(۱۳۲۳)۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ انصار نے کہا کہ ہم تجھے ابو القاسم (کبھی) نہ کہیں گے اور (اس مبارک کنیت سے) تیری آنکھ ٹھنڈی نہ کریں گے تو وہ شخص نبیﷺ کے پاس گیا اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو ا، میں نے اس کا نام قاسم رکھا تو انصار کہتے ہیں ہم تجھ کو ابو القاسم نہ کہیں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہ کریں گے تو نبیﷺ نے فرمایا :'' انصار نے اچھا کیا ، میرا نام رکھ لو مگر میری کنیت نہ رکھو کیونکہ قاسم تو میں ہی تو ہوں ، ''(قاسم کا مطلب ہیت تقسیم کر نے والا)۔

(۱۳۲۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' نہ میں تمہیں (کچھ) دیتا ہوں اور نہ تم سے روکتا ہوں ، میں تو تقسیم کرنے والا ہوں ، جہاں مجھے حکم دیا جاتا ہے میں صرف کر دیتا ہوں۔''

(۱۳۲۵)۔ سیدہ خولہ انصاریہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا :'' کچھ لوگ اللہ کے مال میں بغیر حق کے تصرف کرتے ہیں ، قیامت کے دن ان کے لیے دوزخ ہو گی۔ ''(یعنی وہ دوزخ میں جائیں گے۔ (اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارَ)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا فرمانا کہ تم لوگوں کے لیے غنیمت حلال کر دی گئی ہے
(۱۳۲۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' پہلے نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کیا تو انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جس نے کسی عورت سے نکاح کیاہو اور وہ اس سے زفاف کرنا چاہتا ہو اور ابھی تک اس نے زفاف نہ کیا ہو اور نہ وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور اس کی چھت نہ پاٹی ہو اور نہ وہ شخص جس نے بکریاں اور اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے جننے کا منتظر ہو۔ الغرض انھوں نے جہاد کیا۔ پس وہ اس بستی کے قریب نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب پہنچے ، پھر انھوں نے آفتاب سے کہا کہ تو بھی (اللہ کا) محکوم ہے اور میں (بھی اس کا) محکوم ہوں۔ اے اللہ ! اس کو ہمارے سامنے (غروب ہونے سے) روک لے۔ چنانچہ وہ روک لیا گیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح دی ، پھر انھوں نے غنیمتوں کو جمع کیا۔ آسمان سے آگ آئی تاکہ اس مال کو کھا جائے مگر اس نے نہیں کھایا تو نبی نے کہا کہ تم لوگوں میں (کسی نے) چوری کی ہے لہٰذا ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے۔ '' تو ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا تو نبی نے کہا :'' وہ چوری کرنے والا تمہیں میں ہے لہٰذا تمہارے قبیلے کے سب لوگ مجھ سے بیعت کریں۔ '' چنانچہ دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گئے۔ نبی نے کہا کہ چوری تمہیں نے کی ہے پس وہ سونے کا ایک سرمثل گائے کے سر کے لے آئے اور اس کو رکھ دیا ، تب آگ آ گئی اور اس نے کھا لیا۔ پھر اللہ نے ہماری کمزوری اور ہماری عاجزی دیکھی ، اس سبب سے غنیمتوں کو ہمارے لیے حلال کر دیا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورت کے لیے ہے۔
(۱۳۲۷)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک فوج نجد کی طرف روانہ کی جس میں عبداللہ بن عمرؓ بھی تھے تو انہوں نے بہت سے اونٹ مال غنیمت میں پائے تو ان سب کے حصے میں بارہ بارہ ،گیا رہ گیارہ اونٹ آئے اور ایک اونٹ انھیں حصہ سے زیادہ دیا گیا۔

(۱۳۲۸)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ اس حال میں کہ رسول اللہﷺ (مقام) جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص نے آپﷺ سے کہا '' انصاف کیجئے۔ '' آپﷺ نے فرمایا : ''تب تو میں بدبخت ہوں گا ، اگر میں انصاف نہ کروں (گا تو اور کون کرے گا)؟''

(۱۳۲۹)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطابؓ (ان کے والد) نے دو لونڈیاں حنین کے قیدیوں میں سے پائی تھیں اور ان کو مکہ میں کسی گھر میں رکھا۔ پھر رسول اللہﷺ نے حنین کے قیدیوں کو مفت چھوڑ دینے کا حکم دیا تو لوگ گلیوں میں دوڑنے لگے۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے عبداللہ ! دیکھو تو یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے حنین کے قیدی مفت چھڑوا دیے (یہ اس وجہ سے ہے)،سیدنا عمرؓ نے کہا جاؤ تم بھی ان دونوں لونڈیوں کو چھوڑ دو (یہ لونڈیاں خمس میں سے ان کو ملی تھیں)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس نے (مقتول کافروں کے) اسباب میں خمس نہ لیا (اس نے موفق سنت کیا) اور جو شخص کسی کافر کو قتل کرے تو اس کا سامان اسی کے لیے ہے بغیر خمس کے اور بغیر امام کے حکم کے۔
(۱۳۳۰)۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ اس حال میں کہ میں بدر کے دن صف میں کھڑ ہوا تھا ، میں نے اپنی دا ہنی جانب اور اپنی بائیں جانب نظر کی تو مجھے انصار کے دو کم سن لڑ کے دکھا ئی دیے تو میں نے تمنا کی کہ کا ش! میں ان (انصار) میں سے طاقتور (شہسواروں) کے درمیان ہوتا۔ خیر مجھے ان میں سے ایک نے دبایا اور کہا کہ اے چچا ! تم ابو جہل کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں۔ لیکن تمہیں اس سے کیا کام ہے ؟ اس نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے۔ کہ وہ رسول اللہﷺ کو برا بھلا کہتا ہے ، قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں تو پھر میرا جسم اس کے جسم میں ٹل نہیں سکتا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے جس کی موت مقدر ہے وہ مر جائے۔ تو میں نے اس بات سے تعجب کیا پھر مجھے دوسرے نے دبایا اوراسی قسم کی گفتگو کی۔ پھر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے ابوجہل کو دیکھا کہ وہ لوگوں میں دوڑ رہا ہے۔ میں نے کہا سنو ! یہی وہ شخص ہے جس کی بابت تم مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ پس وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف بڑھے اور اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ رسول اللہﷺ کے پاس لوٹ گئے اور آپﷺ سے بیان کیا۔ آپﷺ نے پوچھا :'' تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے ؟ '' ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے اس کو قتل کیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر دی ہیں ؟'' انھوں نے کہا نہیں۔ پس آپﷺ نے ان کی تلواروں کو دیکھا تو فرمایا :'' بے شک تم نے اسے قتل کیا ہے مگر اس کا اسباب معاذ بن عمر و بن جموح کو ملے گا اور وہ دونوں لڑ کے معاذ بن عفر اء اور معاذبن عمر و بن جموح کے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ تالیف قلب کے لیے نبیﷺ بعض نئے مسلمانوں اور پرانے مسلمانوں کو خمس سے مال و دولت وغیرہ دیا کرتے تھے (اور جس طرح چاہتے اور جس کو چاہتے دیتے)
(۱۳۳۱)۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے (ایک مرتبہ) فرمایا :'' میں قریش (کے نئے مسلمان ہونے والے لوگوں) کو ان کو تالیف قلب کرنے کیلئے دیتا ہوں کیونکہ ان کا دور جاہلیت سے قریب ہے۔

(۱۳۳۲)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی جب اللہ نے اپنے رسول کو ہوازن کے اموال جس قدر غنیمت میں دلانے تھے، دلا دیے تو آپﷺ قریش کے بعض لوگوں کو سو سواونٹ دینے لگے۔ بعض انصاری لوگ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نبیﷺ کو معاف کر ے ، آپﷺ قریش کو اتنا دے رہے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے ، حالانکہ ہماری تلواروں سے کافروں کا خون ٹپک رہا ہے۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے ان کی یہ گفتگو بیان کی گئی تو آپﷺ نے انصار کو بلایا اور انھیں چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور آپﷺ نے ان کے ساتھ کسی اور کو نہیں بلایا۔ پھر جب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہﷺ تشریف لائے اور فرمایا :'' یہ کیسی بات ہے جو مجھ کو تمہاری طرف سے معلوم ہوئی ؟ان کے سمجھ دار لوگوں نے آپﷺ سے عرض کی کہ یارسول اللہ ! ہم میں سے عقلمند لوگوں نے کچھ نہیں کہا بلکہ ہم میں سے کم عمر لوگوں نے یہ کہا۔۔۔ اس حدیث کا بقیہ حصہ آگے آئے گا۔ (دیکھیے حدیث :۱۶۷۳)

(۱۳۳۳)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ اس حال میں کہ وہ رسول اللہﷺ کے ہمراہ تھے اور آپﷺ کے ہمراہ اور وہ لوگ بھی تھے جو حنین سے واپس آ رہے تھے ، اعرابی لوگ رسول اللہﷺ سے مانگنے لگے یہاں تک کہ آپﷺ کو دھکیل کر ایک ببول کے درخت کے نیچے لے گئے یہاں تک کہ آپﷺ کی چادر اس میں اٹک کر رہ گئی تو رسول اللہﷺ کھڑے ہو گئے اور فرمایا :'' میری چادر مجھے دے دو۔ اگر میرے پاس ان درختوں کے برابر اونٹ ہوں تو میں ان (اونٹوں) کو تمہارے درمیان تقسیم کر دوں اور تم مجھے بخیل ، جھوٹ بولنے والا اور تھوڑے دل والا ہر گز نہ پاؤ گئے۔ ''

(۱۳۳۴)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے ہمراہ جا رہا تھا اور آپﷺ کے جسم پر (اس وقت) ایک موٹے حاشیہ کی نجرانی چادر تھی تو ایک اعرابی نے آپﷺ کو پکڑ لیا اور زور سے آپﷺ کو دبایا ، یہاں تک کہ میں نے نبیﷺ کی گردن مبارک کے ظاہری حصے پر دیکھا کہ بوجہ اس کے زور سے دبانے کے ،چادر کے حاشیہ کا نشان پڑ گیا تھا۔ اس کے بعد اس اعرابی نے کہا کہ مجھے بھی اللہ کے اس مال میں سے جو آپﷺ کے پاس ہے دلوا دیجئے تو آپﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرائے اس کے بعد اسے کچھ دے دینے کا حکم فرما دیا۔

(۱۳۳۵)۔ سیدنا عبداللہ (بن مسعود)ؓ کہتے ہیں کہ جب حنین کے دن رسول اللہﷺ نے (مال غنیمت میں سے) کچھ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ دیا ، جیسے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے ، عینیہؓ کو بھی اسی قدر دیے اور اشراف عرب میں سے چند لوگوں کو بھی زیادہ دیا،تو ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم ! یہ تقسیم ایسی ہے کہ اس میں انصاف نہیں کیا گیا یا (یہ کہا کہ) اس میں اللہ کی رضا مندی مقصود نہیں رکھی گئی تو میں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نبیﷺ کو(اس کی) خبر دوں گا۔ چنانچہ میں آپﷺ کے پاس گیا اور آپﷺ سے بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا :'' اگر اللہ اور اس کا رسول (ﷺ) انصاف نہ کریں گے تو اور کون انصاف کرے گا ؟ اللہ ، موسیٰؑ پر رحم کرے انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی اور انھوں نے صبر کیا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ دارالحرب میں اگر کھانے کی کوئی چیز ملے
(۱۳۳۶)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم اپنے جہاد ی معرکوں میں شہد اور انگور پاتے تھے اور اس کو اسی وقت کھا لیتے اور اس کو (تقسیم کرنے کے لیے) باقی نہ رکھتے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
جزیہ وغیرہ کے بیان میں

ذمی کافروں سے جزیہ لینا اور حربی کافروں سے (کسی مصلحت سے)کچھ تعرض نہ کرنا۔
(۱۳۳۷)۔ امیر المومنین عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی وفات سے ایک سال قبل اہل بصری کی طرف ایک خط لکھا کہ اگر کسی مجوسی (پارسی) نے اپنی محرم عورت کو اپنی بیوی بنایا ہو تو ان دونوں کو جدا کر دو اور امیر المومنین عمرؓ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نے اس امر کی شہادت دی کہ سول اللہﷺ نے (مقام) ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔

(۱۳۳۸)۔ سیدنا عمرو بن عوف انصاریؓ جو بنی عامر بن لؤی کے حلیف تھے اور بدر میں شریک ہو چکے تھے ، نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوعبیدہ ابن جراحؓ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جزیہ لے آئیں اور رسول اللہﷺ نے بحرین والو ں سے صلح کر لی تھی اور سیدناعلاء بن حضرمیؓ کو وہاں کا حاکم مقرر کیا۔ چنانچہ وہ (ابوعبیدہؓ) بحرین کا مال لے آئے تو انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو انھوں نے صبح کی نماز رسول اللہﷺ کے ہمراہ پڑھی۔ پھر جب آپﷺ فجر کی نماز پڑھ کر لوٹے تو انصار آپﷺ کے سامنے آ گئے۔ پس رسول اللہﷺ نے جب انھیں دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا :'' میں سمجھتا ہوں کہ تم نے سنا ہے کہ ابو عبیدہ (رضی اللہ عنہ) کچھ مال لائے ہیں۔ '' انھوں نے کہا '' جی ہاں یا رسول اللہ ! '' آپﷺ نے فرمایا :'' تم خوش رہو اور خوشی کی امید رکھو ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم محتاج ہو جاؤ گے بلکہ تم پر اس بات کا خوف رکھتا ہوں کہ دنیا تمہارے لیے کشادہ کر دی جائے گی (یعنی لگژری سہولتوں کی فراوانی ہو گی) ، جس طرح پہلے لوگوں کے لیے کشادہ کر دی گئی تھی پھر تم اس میں حسد وہ بغض کرنے لگو ،نا اتفاقی سے جھگڑا کرنے لگو ، جس طرح انھوں نے کیا تھا اور وہ (جھگڑا) تم کو بھی ہلاک کر دے جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ''

(۱۳۳۹)۔ امیر المومنین عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے بڑے بڑے شہروں میں لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ مشرکوں سے لڑیں۔ چنانچہ (مدائن کا حاکم) ہر مزان مسلمان ہو گا تو سیدنا عمرؓ نے اس سے کہا کہ میں تیری رائے لینا چا ہتا ہوں کہ پہلے ان (تین) مقاموں (فارس ، اصفہان اور آذر بئیجان) میں سے کہاں سے لڑائی شروع کی جائے۔ ہر مزان نے کہا کہ ہاں اس کی مثال اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مثال جو یہاں رہتے ہیں ، مثل اس پرندے کی ہے جس کا ایک سر ، دو بازو اور اس کے دو پاؤں ہوں کہ اگر ایک بازو توڑ دیا جائے تو اس کے دونوں پاؤں ایک بازو سے اور سر سے کھڑے ہو جائیں گے اور اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور سر کھڑا ہو جائے گا اور اگر سر توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں بھی بیکار ہو جائیں گے اور دونوں بازو بھی اور سر بھی پس سر تو کسریٰ (شاہ ایران) ہے اور ایک بازو قیصر (شاہ روم) ہے اور دوسرا بازو فارس ہے۔ لہٰذا آپ مسلمانوں کو حکم دیجیے کہ کسریٰ پر حملہ کریں۔ پس سیدنا عمرؓ نے ہمیں بلایا اور نعمان بن مقرنؓ کو ہم پر سردار مقرر کیا ، یہاں تک کہ جب ہم دشمن کے ملک میں پہنچے اور کسریٰ کا عامل چالیس ہزار فوج لے کر ہمارے سامنے آیا۔ اس کا ایک ترجمان کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ تم میں سے ایک آدمی مجھ سے گفتگو کر ے۔ سیدنا مغیرہؓ نے کہا جو تیرا جی چاہے پوچھ۔ اس نے کہا تم کون لوگ ہو ؟ سیدنا مغیرہؓ نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں ؟ ہم سخت بد بختی اور سخت مصیبت میں تھے ، مارے بھوک کے چمڑے اور کھجور کی گٹھلیوں کو چوسا کرتے تھے اور ہم چمڑے اور بال کی پوشاک پہنتے تھے اور درختوں اور پتھروں کی پرستش کیا کرتے تھے ، پس ہم اسی حال میں ، اسی طرح تھے کہ اچانک آسمانوں کے مالک اور زمینوں کے مالک نے ہماری طرف ایک نبیﷺ ہماری قوم میں سے بھیجا ، جن کے باپ کو اور جن کی ماں کو ہم جانتے تھے۔ پس ہمارے نبی ، ہمارے رب کے رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تم سے لڑیں ، یہاں تک کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو یا جزیہ دو اور ہمارے نبیﷺ نے ہمارے پروردگار کا یہ پیغام پہنچایا کہ جو شخص ہم میں مقتول ہو گا وہ جنت میں ایسے آرام میں جائے گا کہ اس کا مثل کبھی دیکھا نہیں گیا اور جو شخص ہم میں سے باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک ہو جائے گا۔ (سیدنا مغیرہؓ نے یہ گفتگو تمام کر کے سیدنا نعمانؓ سے کہا کہ لڑائی شروع کرو) تو سیدنا نعمانؓ نے کہا کہ تم تو اکثر رسول اللہﷺ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوئے اور تمہیں کچھ ندامت و ذلت نہیں ہوئی (یعنی شکست نہیں ہوئی اس کے باوجود کے آپ کو جنگ کا قاعدہ معلوم نہیں ؟) مگر میں اکثر آپﷺ کے ساتھ شریک جنگ ہوا ہوں ، آپﷺ دن میں اول وقت جنگ شروع نہ کرتے تو انتظار فرماتے ، یہاں تک کہ ہوائیں چلنے لگتیں اور نماز کا وقت آ جاتا ، اس وقت جنگ کرتے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جب امام کسی بستی کے بادشاہ سے صلح کر لے تو کیا یہ صلح وہاں کے تمام لوگوں سے ہو ؟
(۱۳۴۰)۔ سیدنا ابو حمید ساعدیؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ہمراہ تبوک میں جہاد کیا اور ایلہ کے بادشاہ نے نبیﷺ کو ایک سپید خچر دیا تھا اور آپﷺ نے اسے ایک چادر دی تھی اور اس کا ملک اسی کے نام لکھ دیا یعنی اسی کو وہاں کا حاکم رہنے دیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کسی ذمی کا فر کو نا حق قتل کرنے والے کا کیسا گناہ ہے ؟
(۱۳۴۱)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر وؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جو شخص کسی ذمی کا فر کو نا حق قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے معلوم ہوتی ہے۔ ''
 
Top