• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ کے عذاب سے کسی کو عذاب نہ دیا جائے۔
(۱۲۹۴)۔ سیدنا ابن عباسؓ کو جب یہ خبر پہنچی کہ امیر المومنین علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا ہے تو انھوں نے کہا کہ اگر میں (خلیفہ) ہوتا تو ہر گز انھیں نہ جلاتا۔ اس لیے کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے :'' اللہ کے عذاب سے کسی کو عذاب نہ کر و۔ '' اور بے شک میں انھیں قتل کر دیتا جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے :'' جو شخص اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو۔ ''

(۱۲۹۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا تھا تو انھوں نے حکم دیا تو چیونٹیوں کا بل جلا دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا ، تم نے (اس کے عوض میں) ایک جماعت کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح پڑھتی تھیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ گھروں اور باغوں کا جلا دینا (کیسا ہے ؟)
(۱۲۹۶)۔ سیدنا جریر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا :'' تم ذی الخلصہ کو تباہ کر کے مجھے آرام کیوں نہیں دیتے ؟'' ذی الخلصہ قبیلۂ خثعم میں ایک بت خانہ تھا۔ اس کو یمن کا کعبہ کہتے تھے۔ سیدنا جریرؓ کہتے ہیں کہ پس میں قبیلۂ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ چلا اور ان سب کے پاس گھوڑے تھے اور میرے پاؤں گھوڑے پر جمتے نہ تھے۔ نبیﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کی انگلیوں کا نشان اپنے سینے پر دیکھا اور آپﷺ نے دعا کی :'' اے اللہ ! ان کو قائم رکھ اور ان کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ '' پس وہ وہاں گئے اور اسے توڑا اور اسے جلا دیا پھر رسول اللہﷺ کو اس کی خبر کی تو جریرؓ کے قاصد نے (نبیﷺ سے جا کر) بیان کیا کہ قسم ہے۔ اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ کہ میں آپﷺ کے پاس اس وقت آیا ہوں جب کہ میں نے اس کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ مثل کھو کھل اونٹ کے یا خارشی اونٹ کے ہے۔ جریرؓ کہتے ہیں پھر آپﷺ قبیلۂ احمس کے گھوڑوں اور سواروں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا کی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ لڑائی تو مکر اور فریب سے کی جاتی ہے۔
(۱۲۹۷)۔ سیدنا ابو ہریر ہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' کسریٰ ہلاک ہو گیا اب اس کے بعد کوئی کوئی کسریٰ نہ ہو گا اور قیصر بھی ہلاک ہو جائے گا ، اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہو گا اور بے شک تم قیصر وکسریٰ کے خزانے اللہ کی راہ میں تقسیم کرو گے۔ ''

(۱۲۹۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ہی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے لڑائی کا نام فریب رکھا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ لڑائی میں جھگڑنے اور اختلاف کرنے کی کراہت اور اس شخص کی سزا جو اپنے امام کی نافرمانی کرے۔
(۱۲۹۹)۔ سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے احد کے دن پیادوں پر (اور وہ بچاس آدمی تھے) عبداللہ بن جبیرؓ کو سردار مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا :'' اگر تم ہمیں اس حالت میں دیکھو کہ پرندے ہمارا گوشت کھار ہے ہیں (یعنی ہمیں شکست ہو جائے اور ہم مقتول ہو جائیں) تب بھی تم اپنے اس مقام کو نہ چھوڑنا جب تک میں تمہیں واپس نہ بلا لوں اور اگر تم ہمیں دیکھنا کہ ہم نے کافروں کو بھگا دیا اور انھیں پامال کر ڈالا تب بھی تم نہ ہٹنا جب تک میں تمہیں واپس نہ بلا لوں۔ '' چنانچہ آپﷺ نے کافروں کو شکست دی۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے ، پازیبیں پنڈلیاں کھولے بھاگے جا رہی تھیں۔ پس سیدنا عبداللہ بن جبیرؓ کے ساتھ والوں نے کہا کہ اے لوگو! غنیمت کا مال ، غنیمت کا مال ، تمہارے ساتھی غالب آ گئے ، اب تم کیا انتظار کر رہے ہو ؟ سیدنا عبداللہ بن جبیرؓ نے کہا کہ کیا تم رسول اللہﷺ کا ارشاد بھول گئے ؟ ان لوگوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم لوگوں کے پاس جائیں گے اور مال غنیمت لوٹیں گے۔ چنانچہ جب وہ لوگ وہاں گئے اور ان کا رخ بدل گیا تو کفار بھاگتے ہوئے سامنے گئے اور لڑائی پھر ہونے لگی۔ پس نبیﷺ کے ہمراہ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا۔ پس کافروں نے ہمارے ستر آدمی شہید کیے اور نبیﷺ ، صحابہ کرامؓ نے بدر کے دن ایک سو چالیس مشرکوں کا نقصان کیا تھا ، ستر قیدی اور ستر مقتول۔ ابوسفیان نے تین مرتبہ کہا کہ کیا محمد (ﷺ) لوگوں میں زندہ ہیں ؟ نبیﷺ نے جواب دینے سے منع فرما یا۔ اس کے بعد ابو سفیان نے تین مرتبہ کہا کہ کیا (ابوبکر صدیقؓ) ابو قحافہ کے بیٹے لوگوں میں زندہ ہیں ؟۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ کیا لوگوں میں خطاب کے بیٹے (سیدنا عمرؓ) زندہ ہیں ؟ تین مرتبہ (یہی کہا) اس کے بعد اپنے ساتھیوں کی طرف مخاطب ہو اور کہنے لگا کہ یہ لوگ تو مقتول ہو گئے۔ پس عمرؓ اپنے آپ کو نہ روک سکے اور بول اٹھے کہ اللہ کی قسم اے اللہ کے دشمن ! جن لوگوں کا تو نے نام لیا وہ سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ آج بدر کے دن کا بدلہ ہو گیا اور لڑائی تو ڈول کے مثل ہے اور تم ، لوگوں میں کچھ مثلہ پاؤ گے مگر میں نے اس بات کا حکم دیا اور نہ مجھے یہ بات ناگوار ہوئی۔ اس کے بعد ابوسفیان رجز پڑھنے لگا کہ '' اے ہبل ! بلند ہو جا ، اے ہبل ! بلند ہو جا۔ '' تو نبیﷺ نے فرمایا :'' اب تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے ؟'' صحابہؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم کیا جواب دیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا تم کہو:'' اللہ سب سے بلند مرتبہ اور بزرگ ہے۔ '' پھر ابوسفیان نے کہا کہ ہمارے لیے کوئی عزیٰ ہے۔ اور تمہارے لیے عزیٰ نہیں ہے۔ تو نبیﷺ نے فرمایا :'' تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے ؟'' صحابہؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! ہم کیا جواب دیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہو:'' اللہ ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی مولا نہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس شخص نے دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے پکارا کہ '' میں صبح کے وقت لٹ گیا '' تاکہ لوگوں کو سنا دے۔
(۱۳۰۰)۔ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ میں مدینہ سے غابہ کی طرف جا رہا تھا۔ جب میں غابہ کی پہاڑی پر پہنچا تو مجھے سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ کا ایک غلام ملا ، میں نے کہا ارے ! تو یہاں کیسے؟ اس نے کہا کہ نبیﷺ کی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں (میں ان کی تلاش میں ہوں) میں نے پوچھا کہ ان کو کس نے پکڑا ہے ؟ غلام نے کہا کہ غطفان اور فزارہ نے پس تین مرتبہ اس زور سے چلایا کہ میں نے مدینہ بھر کو سنا دیا '' یا صبا حاہ یا صباحاہ '' اس کے بعد میں دوڑا اور ڈاکوؤں کو پا لیا اور وہ اونٹنیاں پکڑ ے جار ہے تھے۔ پس میں نے انھیں تیر مارنا شروع کیا اور میں یہ کہتا جاتا تھا :
میں ہوں سلمہ بن اکوع جان لو
آج پاجی سب مریں گے مان لو
چنانچہ میں نے اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں ، قبل اس کے کہ وہ ان کا دود ھ پئیں۔ پھر میں ان کو ہانکتا ہوا لا رہا تھا کہ نبیﷺ مجھے ملے ، میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! وہ لوگ پیاسے تھے اور میں نے قبل اس کے کہ وہ ان کا دودھ پئیں جلدی سے یہ اونٹنیاں لے لیں۔ پس آپﷺ ان کے تعاقب میں فوج روانہ کر دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' اے ابن اکوع ! تم ان پر قابو پا چکے ، اب جانے دو (درگزر کر و) وہ تو اپنی قوم میں پہنچ گئے ، وہاں ان کی مہمانی ہو رہی ہو گی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قیدی کو رہا کروانا اور کر دینا (کیسا ہے ؟)
(۱۳۰۱)۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' قیدی کو رہائی دو اور بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور بیمار کی عیادت کرو۔ ''(اور مسلمان قیدی کو جس طرح بھی ممکن ہو سکے رہا کرانا واجب ہے)۔

(۱۳۰۲)۔ سیدنا ابو حجیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علیؓ سے پوچھا کہ کتاب اللہ کے سوا کچھ اور وحی بھی آپ کے پاس ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں ، قسم ہے اس کی جس نے دانہ کو پھاڑ ا(اور اس میں سے درخت نکالا) اور روح کو پیدا فرمایا :'' میں اس بات سے واقف بھی نہیں ، ہاں ایک سمجھ مجھے ملی ہے جو اللہ کسی شخص کو قرآن (کے معافی سمجھنے) میں دیتا ہے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ دیت ، عاقلہ اور قیدی کے رہا کرنے کا بیان ہے اور یہ کہ کوئی مسلمان کا فر کے بد لے قتل نہ کیا جائے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مشرکوں سے فد یہ لینا (کیسا ہے ؟)
(۱۳۰۳)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے اس بات کی اجازت طلب کی ، کہا یارسول اللہ ! آپ ہمیں اجازت دیجیے تاکہ ہم اپنے بھانجے عباس بن عبد المطلبؓ کو ان کا فدیہ معاف کر دیں تو آپﷺ نے فرمایا :'' ایک درہم بھی ان سے نہ چھوڑو۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ حربی کا فر جب دار السلام میں بغیر امان کے آ جائے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟
(۱۳۰۴)۔ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیا اور آپؐ (اس وقت) سفر میں تھے پس وہ آپﷺ کے صحابہؓ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ اس کے بعد وہ چلا تو نبیﷺ نے فرمایا :'' اسے پکڑ لو اور اس کو قتل کر دو۔ '' اور آپﷺ نے اس کا سامان قاتل کو دلا دیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ دوسرے ممالک کے کافر سفیروں سے سلوک کرنا۔
کیا ذمی کافروں کی سفارش کر سکتے ہیں ؟ اور کافروں ، ذمیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے ؟
(۱۳۰۵)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا جمعرات کا دن ، ہائے جمعرات کا دن۔ پھر رونے لگے اتنا روئے کہ زمین کی کنکریوں کو تر کر دیا۔ پھر کہنے لگے کہ جمعرات کے دن رسول اللہﷺ کا مرض بڑھ گیا تھا تو آپﷺ نے فرمایا :'' میرے پاس لکھنے کی کوئی چیز لاؤ تا کہ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں کہ پھر میرے بعد تم گمراہ نہ ہو گے۔ '' مگر لوگوں نے اختلاف کیا ، حالانکہ نبی (ﷺ) کے پاس اختلاف کرنا زیبا نہیں۔ پھر لوگوں نے کہا کہ (رسول اللہﷺ بیمار ی کی شدت سے) جدائی کی باتیں کر رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو۔ '' اور آپﷺ نے اپنی وفات کے وقت تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ (۱) یہ کہ مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا (۲) اور سفیروں سے ایسے ہی سلوک کرنا جیسا میں کیا کرتا تھا اور تیسری بات میں بھول گیا(یاد رہے کہ آج کل کے سفیر جو مستقل طور پر دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں ، حدیث میں یہ سفیر مراد نہیں کیونکہ یہ تو سب کے سب جاسوس ہیں اور مسلمان ملکوں کی اسلامی تہذیب ختم کر رہے ہیں۔ صرف وہ سفیر مراد ہیں جو کسی خاص مسئلے اور ضرورت کے تحت پیغام پہنچانے کے لیے آتے جاتے ہیں)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے ؟
(۱۳۰۶)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور آپﷺ نے اللہ کی تعریف کی جیسی کہ اس کو سزا وار ہے اس کے بعد آپﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا :'' میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے مگر میں تم سے ایک ایسی بات کہتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی۔ تم یہی سمجھ لو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ عزوجل کا نا نہیں۔ '' (پوری حدیث ۶۷۸نمبر کے تحت گزر چکی ہے۔ اس میں یہ حصہ نہیں لہٰذا دونوں ساتھ ملا کر پڑھیں)
 
Top